عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 2)۔فضل الرحمٰن خطیب وامام محمد مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر 2:

عن أَبِي هُرَيْرَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ -إذَا أَحْدَثَ- حَتَّى يَتَوَضَّأَ»

حدیث مبارکہ  کا سلیس ترجمہ: ’’سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کرتا ہے جب وہ بے وضو ہو جائے، یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔

حدیث سے اخذ ہونے والے مسائل

اس سے نماز کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے کہ یہ ایسا عمل ہے جس سے پہلے طہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔

وضو نماز کے لیے شرط ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے۔

اگر نماز شروع کرنے کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو نماز بھی ٹوٹ جاتی ہے، ایسی صورت میں نیا وضو کرنا اور نئے سرے سے نماز پڑھنا ضروری ہے۔

نیک اور افضل ترین عمل کرنے کے باوجود غیر مقبول بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی عمل صالح کی شرعی شرائط اور آداب کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

حدیث نمبر 3:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالُوْا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»

حدیث مبارکہ  کا سلیس ترجمہ: ’’حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ویل یعنی خرابی ہے، ایڑیوں  کے لیے آگ سے۔

حدیث کی مختصر تشریح: بعض صحیح روایات میں آتا ہے کہ نبیﷺ اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکہ سے مدینہ جا رہے تھے  تو راستے میں پانی نظر آیا اور عصر کا وقت تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے وضو کرنے میں جلدی کی (تاکہ نماز میں دیر نہ ہو جائے) اور پاؤں دھوتے وقت جلدی میں بعض لوگوں کی ایڑیوں کا بعض حصہ خشک رہ گیا جس پر نبی رحمتﷺ نے بلند آواز سے دو یا تین بار فرمایا کہ ’’ خرابی ہے ان ایڑیوں کے لیے  دوزخ کی آگ سے۔‘‘ یعنی جو خشک رہ گئیں یا ان کا بعض حصہ خشک رہ گیا۔

حدیث سے اخذ ہونے والے مسائل:

سفر میں بھی نماز کا اہتمام کرنا۔

نماز کو اول وقت میں پڑھنے کی حرص رکھنا۔

عمل کو سر انجام دینے میں بہت زیادہ جلدی نہ کرنے کی ترغیب تاکہ عمل کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔

عصر کی نماز کی اہمیت، جس کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وضو کرنے میں جلدی کی تاکہ نماز کو جلد اپنے  وقت پر ادا کر لیا جائے۔

پانی ملنے تک نماز کو مؤخر کرنے کا جواز، بشرطیکہ اس کا آخری وقت ختم ہونے کا ڈر نہ ہو۔

جب نماز کا وقت شروع ہو جائے اور پانی بھی مل جائے تو پھر پہلی فرصت میں وضو کر کے نماز ادا کرنے کی ترغیب۔

وضو میں پاؤں کے دھونے کی فرضیت کیونکہ رسول اللہﷺ نے پاؤں پر دھونے کی صورت میں بھی ایڑیوں کے کچھ حصے کے خشک رہ جانے کی صورت میں دوزخ کی آگ سے ڈرایا۔

وضو کے تمام اعضاء تک اچھی طرح پانی پہنچانا اور وضو کے اعضا کو مَل کر اچھی طرح سے دھونا ضروری ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے پاؤں کی ایڑیوں تک اچھی طرح پانی پہنچانے کا حکم دیا۔

اہم مسئلہ سمجھانے کے لیے یا کسی عمل پر متنبہ کرنے کے لیے آواز کو بلند کرنا، بات کو دو یا تین بار دہرانا اور سخت بات کرنے کا جواز جیسا کہ رسول اللہﷺ نے کیا۔

ہر دفعہ سخت بات اپنے حقیقی مفہوم پر نہیں ہوتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خشک رہ جانے والی ایڑیوں کے لیے دوزخ کی آگ سے خرابی بیان فرمائی۔

حدیث نمبر 4:

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَل فِيْ أَنْفِهِ مَاءً، ثُمَّ لِيَنتَنْثِر، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَليُوتِر، وإذا اسْتَيقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَّوْمِهِ فَلْيَغْسِل يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلهُما في الإِنَاء ثلاثًا، فَإِنَّ أَحدَكُم لَا يَدرِي أين بَاتَتْ يَدَهُ». وَفِيْ رِوَايَةٍ: «فَليَستَنشِق بِمِنْخَرَيه من الماء». وَفِي لَفْظٍ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَليَسْتَنشِق».

حدیث مبارکہ  کا سلیس ترجمہ: ’’سیدنا  ابو ہریرہ﷜ بیان فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب  تم میں سے کوئی وضو کرے تو اس کو چاہیے کہ پانی اپنی ناک میں ڈالے اور پھر اس کو جھاڑے اور جو کوئی ڈھیلوں سے استنجا کرے تو وہ طاق کرے اور جب تم میں سے  کوئی نیند سے بیدار ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے  ہاتھ کسی برتن میں ڈالنے سے پہلے تین بار دھو لے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے، ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ پس وہ اپنے ناک کے دونوں نتھنوں میں پانی داخل کرے (یعنی  ناک کو اچھی طرح صاف کرے) اور ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جو وضو کرے اس کو چاہیے کہ وہ استنشاق یعنی ناک میں پانی ڈالے۔ (یعنی ناک کو صاف  کرے۔)

حدیث کی مختصر تشریح اور اس سے حاصل  ہونے  والے بعض مسائل

یہ حدیث بظاہر ایک حدیث لگتی ہے مگر یہ تین احادیث دو متفق علیہ ہیں اور ایک صحیح مسلم کی ہے، پہلی  حدیث  إِذَا تَوَضَّأَ سے  أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہ تک ہے اور یہ متفق علیہ  ہے اور فَلْیَسْتَنْشِق سے مِنَ الْـمَاءِ تک صحیح مسلم کے الفاظ ہیں اور آخری الفاظ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِق متفق  علیہ کے الفاظ ہیں۔

متفق علیہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسی حدیث جس کو  بخاری اور مسلم دونوں نے ایک ہی راوی سے بیان کیا ہو۔

اس حدیث سے حدیث کی اہمیت اور حجیت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ قرآن مجید میں چہرے کو دھونے کا حکم جبکہ حدیث میں ناک کے دونوں نتھنوں کو بھی اچھی طرح  دھونے کا حکم ہے۔

استنشاق اور استنثار دو الگ الگ عمل ہیں اور یہ  دونوں عمل کرنے  ضروری ہیں، استنشاق یعنی ناک میں پانی داخل کرنا اور استنثار یعنی پانی کو ناک  سے جھاڑنا، باہر نکالنا۔

اور مسلم کی حدیث میں منخرین کے الفاظ ہیں جو کہ منخر کا تثنیہ ہے اور منخر ناک کے  ایک نتھنے کو کہتے ہیں۔

صفائی اور ستھرائی کا اہتمام کرنا اور اس میں مبالغہ کرنا مشروع اور مستحب ہے۔

ایک ہی عمل کے بعض اجزاء کا بعض احادیث میں ذکر ہونا اور بعض کا ذکر نہ ہونا عام ہے جیسا کہ اس حدیث  میں وضو کی بعض چیزوں کو بیان کیا گیا ہے، مکمل وضو کو بیان نہیں کیا گیا ہے، اس میں ان لوگوں کی بھی اصلاح ہے جو کسی حدیث میں مکمل بات یا عمل نہ ہونے پر تنقید کرتے ہیں اور ایک پورے عمل کا ایک ہی حدیث  میں ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

استنجا میں مٹی کے ڈھیلوں کا کفایت کرنا ثابت ہے یعنی اگر کوئی شخص صرف مٹی کے ڈھیلوں سے استنجا کرے اور پانی نہ بھی  استعمال کرے تو اس کے استنجے  سے مکمل طہارت حاصل ہو گی البتہ پانی کا استعمال افضل ہے کیونکہ پانی سے صفائی مٹی کی بہ نسبت زیادہ  بہتر ہے اور اسلام میں بہتر صفائی کی ترغیب ہے۔

جو شخص مٹی کے ڈھیلوں سے استنجا کرے، اس کو چاہیے کہ کم از کم تین ڈھیلے استعمال کرے اور اگر تین ڈھیلوں سے صفائی نہ ہو تو زیادہ استعمال کرے اور  صفائی مکمل ہونے پر ڈھیلوں کی تعداد کو طاق کر دے مثلاً کسی کو صفائی کرنے میں  چھ ڈھیلے استعمال کرنے پڑ گئے اس کو چاہیے کہ ساتواں ڈھیلا  بھی استعمال کر لے  تاکہ حدیث کے مطابق  طاق پر عمل ہو سکے۔

جو شخص نیند سے بیدار ہو اس کو چاہیے کہ اپنے ہاتھوں کو دھوئے بغیر کسی برتن میں داخل نہ کرے اور نہ ہی کسی  تر چیز کو لگائے، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں  کو تین  بار دھو نہ لے۔

اس سے مراد رات کی نیند ہے جو کہ لمبی اور گہری  ہوتی ہے کیونکہ سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں إِذَا  سْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ (جب تم میں سے کوئی رات  کو بیدار ہو) کے الفاظ ہیں۔ البتہ افضل یہ ہے کہ دن اور رات کے وقت مختصر نیند کے بعد بھی ہاتھوں کو دھوئے بغیر  کسی برتن میں داخل نہ کرے اور نہ کسی تر چیز کو لگائے۔

ید، یعنی ہاتھ جب مطلقاً استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد کف یعنی ہتھیلی ہوتا ہے جیسا کہ اس حدیث میں لفظ  ید (ہاتھ) مطلق استعمال ہوا ہے۔

گہری نیند ناقض الوضو یعنی وضو توڑنے والی  چیزوں میں سے ہے، البتہ معمولی نیند یا اونگھ یا کسی سہارے سے لگ کر معمولی نیند وضو کو نہیں توڑتی ہے  جیسا کہ سنن ابی داؤد اور سنن الترمذی کی حدیث جس کو امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے صحیح کہا  ہے:

كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ

سیدنا انس‎ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز عشاء کا انتظار کرتے یہاں تک کہ ان کے سر جھک جاتے (اونگھ اور ہلکی نیند کی وجہ سے) پھر وہ نماز پڑھتے اور  (اس کے لیے نیا) وضو نہیں کرتے تھے۔

گہری نیند سے انسان ہوش و حواس میں نہیں رہتا ہے۔

نیند سے جسم کے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور ہوا کے خارج ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

نیند کے علاوہ بے ہوشگی سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ یعنی بے ہوشگی ناقض الوضو ہے۔

اگر انسان کو وضو کرنے کا یقین نہ ہو تو اس کو نیا وضو کرنا ضروری ہے۔

امام یا مربی وغیرہ کا بظاہر چھوٹی چھوٹی چیزوں کی بھی راہنمائی کرنے کا اہتمام کرنا۔

دوسرے کو خیر اور نفع پہچانے کا حریص رہنا۔

حدیث نمبر 5:

عن أبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عنهُ أنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم قالَ:«لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي المَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ».

ولِمسلمٍ «لاَ يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي المَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ»

حدیث مبارکہ  کا سلیس ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  ہے کہ تم  میں کوئی بھی ہرگز کھڑےپانی جو چلتا نہیں ہے اس میں پیشاب نہ کرے، کہ پھر اس میں غسل کرے۔ اور صحیح مسلم کی  حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ تم میں سے کوئی جنبی شخص کھڑے پانی میں  غسل نہ کرے۔

حدیث کی مختصر تشریح اور اس سے حاصل ہونے والے مسائل

اہم مسئلہ بتانے کے لیے تاکید سے بات کرنا۔ لَا يَبُوْلَنَّ میں لا نہی کا ہے اور یَبُوْلَنَّ فعل کے آخر  پر نون ثقیلہ ہے جو تاکید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ حدیث انسانی پیشاب کے پلید ہونے پر دلیل ہے۔

کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے خاص طور پر منع کیا گیا، کیونکہ کھڑے پانی میں گندگی سے تعفن وبدبو اور بیماریاں وغیرہ پیدا ہوتی  ہیں حالانکہ جاری پانی میں بھی پیشاب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اچھے اخلاق کے  منافی ہے اور جاری پانی میں پیشاب کرنا غیر اخلاقی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری بھی ہے۔

جب کسی چیز سے ایک فرد کا فائدہ ہو اور اسی چیز سے جماعت کا یا عامۃ الناس کا نقصان وغیرہ ہو تو  جماعت اور مفاد عامہ کا لحاظ رکھا جائے گا۔

رسول اللہ ﷺ کا خود بھی بلند اخلاق کا مالک ہونا اور اپنی امت کو بھی اعلیٰ اور افضل اخلاق  سکھانا۔ یہی طریقہ اور طرز ایک داعی،  عالم اور مربی وغیرہ کاہونا چاہیے۔

صحیح مسلم کی ہی ایک حدیث میں اَلْـمَاءُ الرَّاكِدُ کے الفاظ بھی آئے ہیں:

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ، أنَّهُ نَهَى أنْ يُبَالَ فِي المَاءِ الرَّاكِدِ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ  بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اَلْـمَاءُ الرَّاکِدُ یعنی کھڑے پانی میں پیشاب سے منع کیا ہے۔ اَلْـمَاءُ الدَّائِمُ اور   اَلْـمَاءُ الرَّاکِدُ  بظاہر ایک ہی معنی ومفہوم کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر اہل علم نے ان دونوں میں فروق بھی بتائے ہیں، ان فروق میں سے  ایک فرق یہ ہے کہ اَلْـمَاءُ الدَّائِمُ اس  پانی کو کہتے ہیں جو غذا کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور  اَلْـمَاءُ الرَّاکِدُ اس پانی کو کہتے ہیں جو غذا کے علاوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس حدیث میں یَغْتَسِلُ مِنْهُ کے الفاظ ہیں جبکہ ایک دوسری حدیث جو صحیح بخاری کی ہی ہے اس میں یَغْتَسِلُ فِیْهِ کے الفاظ ہیں۔

یَغْتَسِلُ مِنْهُ  کا معنیٰ یہ ہے کہ اس پانی سے چلو یا کسی برتن وغیرہ کے ذریعے  سے پانی  لے کر نہانا اور یَغْتَسِلُ فِیْهِ کا معنیٰ یہ ہے کہ اس پانی میں داخل ہو کر نہانا۔ یہ دونوں طریقے ممنوع ہیں یعنی جس پانی میں پیشاب  ہو جائے اس پانی سے چلو یا کسی برتن سے باہر نکال کر نہانا بھی منع ہے اور اس پانی میں داخل ہو کر نہانا بھی منع  ہے۔ اگر پانی نجاست وپلیدگی کی وجہ سے متغیر ہو گیا ہے تو وہ پانی بالاتفاق پلید کے حکم میں ہے چاہے وہ پانی  تھوڑا  ہو یا زیادہ۔  اور اگر پانی زیادہ ہے اور پلیدگی کی وجہ سے متغیر نہیں ہوا تو اس پانی کے پاک ہونے پر اتفاق ہے اور اگر پانی تھوڑا ہے اور نجاست کے گرنے سے متغیر  نہیں ہوا۔ ایسا بعض اہل علم کے نزدیک پلید نہیں ہے ، ان اہل علم میں حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور حضرت الحسن البصری، عبد اللہ بن  المسیب، سفیان ثوری، داؤد ظاہری، امام مالک اور امام بخاری رحمہما اللہ وغیرہ ہیں اور بعض اہل علم کے نزدیک  ایسا پانی پلید کے حکم میں ہے اور ان اہل علم میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  اور مجاہد اور احناف، شوافع اور حنابلہ وغیرہ ہیں۔

ان دونوں آراء میں پہلی رائے زیادہ راجح ہے کیونکہ ابو داؤد اور ترمذی کی حسن درجے کی حدیث «اَلْـمَاءُ طَهُوْرٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْئٌ» کہ پانی پاک ہے اور اس کو کوئی چیز  پلید نہیں کرسکتی ہے۔ یہ حدیث فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ واللہ أعلم

حدیث کے مطابق تھوڑے اور زیادہ پانی کی مقدار قلتین  ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

عَن ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِذَا كَانَ المَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الخَبَثَ»   وَفِيْ  لَفْظٍ : «لَمْ يَنْجُسْ»، أَخْرَجَهُ الْأَرْبَعَةُ وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْـحَاكِمُ، وَابْنُ حِبَّان

کہ جب پانی کی مقدار دو قلے ہوں تو وہ پانی پلید نہیں  ہوتا یعنی جب تک نجاست کے گرنے سے وہ متغیر نہ ہو اور ایک قلہ تقریباً پانچ من کا ہوتا ہے۔ اس حدیث کے  مطابق جب پانی 10 مَن ہو تو وہ کثیر یعنی زیادہ پانی  شمار ہو گا اور اگر 10 مَن سے کم ہے تو وہ قلیل یعنی تھوڑا پانی شمار ہو گا۔  والله أعلم بالصواب

کھڑے پانی میں استنجا وغیرہ کرنا بھی منع ہے کیونکہ استنجے میں بھی نجاست کو دور کیا جاتا ہے۔

کھڑے پانی میں پیشاب کر کے اس سے وضو کرنا اور پینا بھی اسی طرح ممنوع ہے جس طرح کہ غسل۔ ابن خزیمہ کی روایت میں يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَوْ يَشْرب (یعنی اس  سے وضو کرنا یا اس سے پینا)  کے الفاظ بھی ہیں۔ والله أعلم

تبصرہ کریں