سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: ایک جوڑے کے ہاں 17 سال کی شادی کے بعد بھی اولاد نہیں ہوئی۔ وہ اب ایک بچے کو گود لینا چاہتے ہیں تو کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں؟

جواب: یہ مسئلہ متبنی یا (Adoption) کے نام سے معروف ہے۔ اس میں تین باتوں کا سمجھنا ضروری ہے:

1۔ محرم یا نامحرم ہونے کا مسئلہ

اگر ایک شیر خوار بچے کو اپنایا جائے اور خاتون خانہ اسے دودھ پلانے پر قادر ہو اور وہ اسے پانچ مختلف اوقات میں اپنا دودھ پلا دے تو وہ اس کی رضاعی ماں کہلائے گی اور ایسے ہی اس کا شوہر اس کا رضاعی باپ کہلائے گا اور یوں چاہے وہ بچہ ہو یا بچی دونوں کا محرم ہو گا۔

اور اگر وہ خاتون خود اس کی رضاعت پر قادر نہ ہو اور اس کی بہن اسے دودھ پلا دے تو یہ خاتون اس کی خالہ متصور ہو گی اور اگر یہ بچہ لڑکا ہے تو پھر اس کی محرم متصور ہو گی۔

لیکن اگر 2 سال سے زیادہ عمر کے بچے کو اپنایا جائے تو پھر یہ مسئلہ حل نہ ہو سکے گا۔

اور اگر بچی بالغ ہو گئی تو مرد کے لیے اور اگر بچہ ہے تو خاتون کے لیے اجنبی متصور ہو گا یعنی حجاب لینے اور خلوت میں نہ بیٹھنے کی ضرورت ہو گی۔

2۔ بچے کے نام کا مسئلہ

یعنی کیا اس بچے کو گود لینے والا شخص ایک باپ کی حیثیت سے اپنا نام دے سکتا ہے؟

چونکہ قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بچے کو اس کے صلبی باپ ہی کے نام سے پکارا جائے اس لیے اسے اپنا نام بحیثیت باپ کے نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اگر کسی خاص وجہ کی بنا پر بچے کو اس کے اصلی باپ کا نام دینے سے کوئی مشکل لاحق ہوتی ہو تو کیا ایسی صورت نکالی جا سکتی ہے جس سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے؟

ہماری اپنی معلومات کے مطابق برطانوی قانون میں اس بات کی گنجائش ہے کہ بچہ چاہے کسی دوسرے شخص کی کفالت میں دے دیا جائے، اس کے باپ کا اصلی نام برقرار رکھا جا سکتا ہے، ایک دوسری صورت بھی اپنائی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ بچے کی ولادت کے سرٹیفکیٹ میں اس کے اصلی والد کا نام ہی لکھا جائے لیکن عام بول چال میں تین اسماء پر مشتمل اسے ایک نام دیا جائے یعنی بچے کا نام، پھر اس کے اصلی والد کا نام اور پھر گود لینے والے شخص کا خاندانی نام جیسے خالد سعید شیخ:

خالد بچے کا نام ہے، سعید اس کے اصلی والد کا نام ہے اور شیخ گود لینے والے شخص کا خاندانی نام ہے۔

روایت حدیث کے باب میں بعض ایسے نام ملتے ہیں جو والد کے علاوہ کسی اور شخص کی طرف نسبت رکھتے ہیں جیسے المقداد بن الاسود، ان کے باپ کا نام عمرو بن ثعلبہ الکندی ہے لیکن الاسود بن عبد یغوث الزہری نے انہیں گود لے لیا تھا اور اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ اس لیے اسی کی طرف منسوب کیا گیا۔ (بحوالہ مقدمہ ابن الصلاح: من نسب الی غیر ابیہ)

3۔ وراثت کا مسئلہ

لے پالک بچہ اس شخص کا وارث نہیں ہو گا جس نے اسے گود لیا ہے۔ البتہ یہ شخص اس کے لیے اپنے مال کے ایک تہائی یا اس سے کم کی وصیت کر سکتا ہےاور وہ اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے غیر وارث کے لیے ایک تہائی مال تک بطور وصیت اجازت عطا کی ہے۔

اگر ان تین باتوں کا لحاظ رکھا جائے تو بچے کو متبنی بنانا جائز ہو گا۔ اصل میں ہر اصطلاح کے الفاظ کو نہیں، معانی کو دیکھا جاتا ہے۔ متبنی یا (Adoption) اس صورت میں ناجائز ہے کہ آدمی ایسے بچے کو اپنی ولدیت عطا کرے لیکن اگر اس مشکل کو مندرجہ بالا طریقوں سے دور کر لیا جائے اور باقی 2 باتوں کا خیال رکھا جائے تو پھر بچے کو گود لینا جائز ہو گا۔

بچیوں کے ختنہ کے بارے رہنمائی

سوال: برطانیہ کے ایک قصبے کی مسجد کے امام سوال کرتے ہیں کہ بچی کے ختنے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیونکہ افریقہ کے بعض ممالک سے آنے والے مہاجرین کے ہاں لڑکیوں کا ختنہ معروف ہے لیکن اس ملک میں اس عمل کے خلاف کافی زور شور سے مہم جاری ہے؟

جواب: بچیوں کے ختنہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ عمل ان کے لیے باعث اکرام وعزت ہے، اسے وجوب یا سنت مؤکدہ کا درجہ نہیں دیا گیا، گویا اسے عرف کے درجہ میں رکھا گیا ہے جو کہ قابل قبول ہے، اگر واقعی یہ عمل وجوب یا سنت مؤکدہ کے درجہ میں ہوتا تو ہر جگہ مسلمانوں میں اسے پذیرائی حاصل ہوتی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں میں چاہے ان کا تعلق حنفی فقہ سے ہو یا اہل حدیث مکتب فکر سے، کوئی اس بات کو سرے سے جانتا ہی نہیں۔ برطانیہ کے مسلمان بھی زیادہ تر انہی دو جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ عمل برطانیہ کے مسلمانوں کے عرف میں شامل ہے، اس لیے امام صاحب کو اس مسئلہ میں وہی رائے اختیار کرنی چاہیے جو یہاں کی عمومی فضا کو دیکھتے ہوئے مصلحت کا تقاضا ہو۔

ملاحظہ ہو کہ لڑکوں کے ختنہ کے بارے میں یہاں کوئی مہم نہیں چلائی گئی اور وہ اس لیے کہ یہود کے ہاں بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہاں تو اس کی اہمیت سب پر واضح ہے۔

برطانوی قانون اور اسلامی قانون وراثت

سوال: کیا برطانوی قانون اسلامی قانون وراثت کو قابل عمل قرار دیتا ہے، اگر متوفی نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی ہے، تو کیا وارثین اسلامی طریق وراثت کے مطابق ترکہ کو تقسیم کرنے کے پابند ہیں؟

جواب: برطانوی قانون میں وصیت کا بڑا عمل دخل ہے۔ اگر کوئی شخص تحریری وصیت چھوڑ جاتا ہے تو وہ قابل عمل متصور ہوتی ہے، لیکن اگر وصیت نہیں چھوڑتا تو اس کی وراثت بیوی، بچوں تک محدود ہو جاتی ہے اور بچوں کی عدم موجود موجودگی میں ماں باپ یا بھائی بہن کو بھی حقدار ٹھہراتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ وراثتی ٹیکس کے نام سے متوفی کی دولت کا ایک بڑا حصہ ریاست کو دلواتی ہے جسے ایک خاص مالیتی اثاثہ جات کے بعد متعین کیا جاتا ہے۔

اس لیے ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسی تحریری وصیت چھوڑ کر جائے جس میں تمام وارثین کے نام اور شریعت کے مطابق ان کا حصہ لکھا جائے۔ اس کی یہ وصیت قانونی طور پر قابل عمل متصور ہو گی۔

لیکن اگر وصیت نہیں چھوڑتا ہے اور اس کی جائیداد بیوی کو یا بیٹے بیٹی کو منتقل ہو جاتی ہے تو پھر ان حضرات کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس جائیداد کو ان تمام وراثین میں تقسیم کریں جو شریعت کے اعتبار سے حصہ لینے کے مجاز ہوں اور اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو پھر وہ ایک گناہ کبیرہ کے مرتکب شمار ہوں گے۔

نکاح سے پہلے حاملہ عورت کے بچے کا حکم

سوال: ایک صاحب اپنے دوست کے بارے میں استفسار کرتے ہیں کہ انہوں نے نکاح سے قبل اپنی ہونے والی بیوی سے زنا کیا تھا لیکن نکاح کے بعد دونوں نے توبہ کی۔ عورت حاملہ ہو گئی لیکن دونوں اس بات کا تعین نہ کر سکے کہ آیا یہ حمل نکاح سے قبل ہوا تھا یا بعد میں۔ اس لیے انہوں نے حمل ظاہر ہونے کے ایک ماہ اندر اندر اسقاط کرا لیا تھا، اب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کا نکاح جائز تھا یا نہیں۔ یہ دونوں توبہ کرنے کے بعد اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہو چکے ہیں۔

جواب: بہتر تویہی تھا کہ وہ زنا سے ہونے والے حمل کے ختم ہو جانے کے بعد نکاح کرتے لیکن چونکہ انہوں نے بالآخر نکاح کر ہی لیا تو یہ نکاح جائز تصور ہو گا کیونکہ اسی عورت سے نکاح کیا گیا ہے جس سے مرد نے زنا کیا تھا، البتہ بچے کا اسقاط کرنا ان کے لیے جائز نہیں تھا۔ عین ممکن ہے کہ حمل نکاح کے بعد ہوا ہو۔ اگر بالفرض نکاح سے قبل بھی حمل ہوا تھا تو بچے کو ماں کے نام سے پکارا جاتا اور ایک رائے کے مطابق بقاعدہ ’استلحاق‘ اسے مرد کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اس کے نطفے سے پیدا ہوا ہے، البتہ وہ باپ کی وراثت کا پھر بھی مستحق نہ ہو گا، صرف ماں سے وراثت پائے گا۔

اگر بچے کا اسقاط حمل کے پہلے چار ماہ کے اندر اندر کرا لیا گیا تھا تو دونوں میاں بیوی کو اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔ وہ کثرت سے استغفار کریں لیکن اگر چار ماہ کے بعد (یعنی نفخ روح کے بعد) اسقاط کرایا گیا ہے تو پھر انہیں قتل خطا کا کفارہ بھی دینا ہو گا جو ایک مقتول کی دیت کا دسواں حصہ بنتا ہے جس کی مقدار آج کل کے حساب سے 213 گرام سونا بنتی ہے۔علاوہ ازیں انہیں 60 دن کے روزے بھی رکھنا ہوں گے تاکہ ان کا کفارہ مکمل ہو سکے۔

ترکش ڈراموں کو دیکھنے کا حکم

سوال: امریکہ سے دو سوال موصول ہوئے ہیں۔ دونوں ٹرکش ڈراموں میں استعمال ہونے والی عبارتوں سے تعلق رکھتے ہیں:

ایک ڈرامے میں ٹرکش زبان میں کہا گیا ہے کہ ’’نوح پیغمبر نہیں ہیں۔‘‘

اور ایک دوسرے سیریز میں مسیح دجال دکھایا گیا ہے اور عیسیٰ بھی

اور ایک انگریزی کہاوت کو بھی دہرایا گیا ہے جس میں نعوذ باللہ محمد ﷺ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ اگر پہاڑ تمہارے بلانے پر نہیں آتا ہے، تو تم پہاڑ کی طرف چلے جاؤ۔‘‘ یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں:

کیا ایسے ڈراموں کو دیکھنا، ان میں کام کرنا، ناجائز ہے، کیا وہ ایکٹر جس نے یہ الفاظ کہے ہیں کفر کا مرتکب ہوا ہے؟

جواب: سیدنا نوح بلاشبہ رسول ہیں، بلکہ اولو العزم رسولوں میں سرفہرست ہیں۔ قرآن میں ان کا جابجا تذکرہ آیا ہے اور ان کے پیغمبر ہونے کا انکار کرنا قرآن کا انکار کرنا ہے جو صریح کفر ہے۔

﴿لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ﴾ (سورة البقرة: 285) کا تقاضا ہے کہ ہم انبیاء کے درمیان تفریق روا نہ رکھیں کہ بعض سر ایمان لائیں اور بعض کو ٹھکرا دیں۔ اب رہا ٹرکش ڈراموں میں ایسے ڈائیلاگ کا بولا جانا جن سے قرآن کا، اسلام کا یا نبیﷺ کا بطور مذاق (استہزاء) ذکر کیا جائے تو سورۃ التوبہ کی آیت 65 کے مطابق یہ بھی کفر کے زمرے میں آتاہے۔ ارشاد فرمایا:

﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ‎ 0‏ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۚ إِن نَّعْفُ عَن طَائِفَةٍ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ﴾ (سورة التوبه: 65-66)

’’اور اگر تم ان سے پوچھو گے تو وہ کہیں گے، ہم تو صرف گپ شپ کر رہے تھے اور کھیل اڑا رہے تھے۔ اب عُذر نہ تراشو! تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے اور اگر ہم ان میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تو ایک (دوسرے) گروہ کو عذاب بھی دیں گے اور وہ اس لیے کہ وہ جرم کا ارتکاب کر چکے تھے۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں چند واقعات سبب نزول کی حیثیت سے لکھے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کا ذکر کیا جاتا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ عزوۂ تبوک کے موقع پر ایک آدمی نے ایک مجلس میں یہ الفاظ کہے:

میں نے ان قراء (قارئ قرآن) سے بڑھ کر کوئی شخص نہیں دیکھا جو سب سے زیادہ پیٹو ہو، سب سے جھوٹا ہو اور جنگ کے دوران سب سے زیادہ بزدل ہو، تو مسجد میں حاضر ایک شخص نے کہا: تو خود جھوٹا ہے اور منافق بھی ہے، میں یہ بات رسول اللہﷺ کو ضرور بتاؤں گا۔

اور پھر یہ بات ان تک پہنچ گئی اور یہ آیات نازل ہوئیں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ہے کہ وہ نبیﷺ کی اونٹنی کے کجاوے کی پیٹی سے لپٹ کر دوڑ رہا تھا اور پتھر آ آ کر اسے لگ رہے تھے اور وہ کہتا جاتا تھا:

﴿إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ﴾ ’’اے اللہ کے رسول! اور پھر اللہ کے رسول یہ کہتے جاتے:

﴿أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ 0 لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ (بحوالہ تفسیر ابن کثیر)

اسلامی عقیدے کے مطابق سیدنا عیسیٰ دوبارہ تشریف لائیں گے ۔ ان کی جگہ کوئی اور شخص نہیں آئے گا۔

وہ ایکٹر جو اس ڈرامے میں کام کرتے ہیں، اگر وہ خود ان مزاقیہ محاوروں پر یقین رکھتے ہیں تو انہوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے اور اگر لاعلمی میں ایسا کہہ گئے ہیں تو انہیں توبہ واستغفار کرنا چاہیے، کسی بھی مسلمان کو ایسی کمپنی یا ایسے ادارے میں کام نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایسے ڈرامے دیکھنے چاہئیں۔

٭٭٭

علامہ ابن ابی العز﷫فرماتے ہیں:

وَنَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيَ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ، فَبُعِثَ بِالْعُلُومِ الْكُلِّيَّةِ وَالْعُلُومِ الأولية والأخروية عَلَى أَتَمِّ الْوُجُوهِ، وَلَكِنْ كُلَّمَا ابْتَدَعَ شَخْصٌ بِدْعَةً اتَّسَعُوا فِي جَوَابِهَا، فَلِذَلِكَ صَارَ كَلَامُ الْمُتَأَخِّرِينَ كَثِيرًا، قَلِيلَ الْبَرَكَةِ، بِخِلَافِ كَلَامِ الْمُتَقَدِّمِينَ، فَإِنَّهُ قَلِيلٌ، كَثِيرُ الْبَرَكَةِ، [لَا] كَمَا يَقُولُهُ ضُلَّالُ الْمُتَكَلِّمِينَ وَجَهَلَتُهُمْ: إِنَّ طَرِيقَةَ الْقَوْمِ أَسْلَمُ، وَإِنَّ طَرِيقَتَنَا أَحْكَمُ وَأَعْلَمُ! وَلا كَمَا يَقُولُهُ مَنْ لَمْ يُقَدِّرْهُمْ مِنَ الْمُنْتَسِبِينَ إِلَى الْفِقْهِ: إِنَّهُمْ لَمْ يَتَفَرَّغُوا لاستنباط الفقه وَضَبْطِ قَوَاعِدِهِ وَأَحْكَامِهِ اشْتِغَالًا مِنْهُمْ بِغَيْرِهِ! وَالْمُتَأَخِّرُونَ تَفَرَّغُوا لِذَلِكَ، فَهُمْ أَفْقَهُ!

فَكُلُّ هَؤُلَاءِ مَحْجُوبُونَ عَنْ مَعْرِفَةِ مَقَادِيرِ السَّلَفِ، وَعُمْقِ عُلُومِهِمْ، وَقِلَّةِ تَكَلُّفِهِمْ، وَكَمَالِ بَصَائِرِهِمْ, وَتَاللَّهِ مَا امْتَازَ عَنْهُمُ الْمُتَأَخِّرُونَ إِلَّا بِالتَّكَلُّفِ وَالِاشْتِغَالِ بِالْأَطْرَافِ الَّتِي كَانَتْ هِمَّةُ الْقَوْمِ مُرَاعَاةَ أُصُولِهَا، وَضَبْطَ قَوَاعِدِهَا، وَشَدَّ مَعَاقِدِهَا، وَهِمَمُهُمْ مشمَّرة إِلَى الْمَطَالِبِ الْعَالِيَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ, فَالْمُتَأَخِّرُونَ1 فِي شَأْنٍ، وَالْقَوْمُ فِي شَأْنٍ آخَرَ، وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا.(شرح العقیدة الطحاوية: 76ص)

’’ہمارے نبی اکرمﷺ کو جامع،کامل اور واضح کلمات عطا فرمائے گئے اور آپﷺ کو کلی اور کامل ترین شکل میں دنیاوی واخروی علوم دےکر مبعوث فرمایا گیا۔ متاخرین نے جب کسی شخص کو کسی بدعت کا مرتکب دیکھا تو اس بارے میں لمبے تڑنگے رُدُود شروع کردیے، اس طرح متاخرین کی کلام مقدار میں بہت تھوڑی اور برکت میں بہت زیادہ تھی۔ گمراہ اور جاہل متکلمین کی یہ بات یکسر غلط ہے کہ سلف صالحین کا منہج زیادہ سلامتی والاہے ،جبکہ ان کا اپنا منہج زیادہ علم پر مبنی ٹھوس ہے۔ اسی طرح نام نہاد فقیہوں ،جن کو سلف صالحین کی قدرمعلوم نہیں ہوسکی، ان کی یہ بات بھی صحیح نہیں کہ سلف صالحین کو فقہی استنباطات کرنے اور فقہی قواعد واحکام کی تشکیل کرنے کی اتنی فرصت نہیں ملی جتنا وہ اور کاموں میں مشغول رہے جبکہ متاخرین نے ان کاموں کے لیے وقت نکالا، چنانچہ وہی زیادہ فقہ والے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والے تمام لوگ سلف صالحین کی صحیح قدر وقیمت ،ان کے علوم کی گہرائی ان کےعدم تکلف اور ان کی کمال بصیرت سے لاعلم ہیں۔ اللہ کی قسم! متاخرین کو متقدمین سے اگر کسی چیز میں امتیاز حاصل ہے تو وہ تکلف کرنے اور ان چیزوں کی فروعات میں مشغول ہونے میں حاصل ہے کہ سلف کا اہتمام جن کے اصول میں مصروف ہونے ان کے قواعد کو مرتب کرنے اور ان کے ضوابط کو مقرر کرنے کا تھا، سلف صالحین ہر چیز کے بارے میں بلند مقاصد حاصل کرنے کے ارادے رکھتے تھے یوں متقدمین اور متاخرین کی مصروفیات جداجداہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔‘‘

تبصرہ کریں