سورۂ حشر کے تناظر میں امریکہ کا حشر افغانستان میں۔محمد عبد الہادی العمری

30؍31 اگست کی درمیانی شب جب دنیا کے سوپر پاور کا آخری فوجی جرنل افغانستان سے روانہ ہوا تو افغانی سرزمین سے انخلاء کا عمل سرکاری طور پر مکمل ہو گیا اور ملک 20 سال کے امریکی قبضہ کے بعد اصلی باشندوں کے ہاتھوں میں واپس آ گیا، یوں افغان سرزمین دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیے موت کا کنواں ثابت ہوئی، نہتے افغانیوں نے اپنی بے سروسامانی کے باوجود طاقت ور ترین ممالک کو دھول چٹا دی:

﴿كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ﴾ (سورة البقرة: 249)

اس ذلت آمیز شکست اور بدترین رسوائی پر دانشور حیران ہیں۔ مختلف ماہرین عالمی اخبارات اور میڈیا پر جو تبصرے اور اظہار خیال کرر ہے ہیں، ان سب کے درمیان اس نکتہ پر تقریباً اتفاق پایا جاتا ہے کہ امریکہ کے لیے یہ رسوا کن شکست ہے اور پھر یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ امریکہ وہاں گیا کیوں تھا؟! جس مقصد کے لیے گیا اگر واقعی کوئی مقصد تھا تو کیا وہ حاصل ہو سکا!!

یہ سوال خود اپنے آپ میں جواب بھی ہے، کیونکہ فتح وکامرانی کے متعلق استفسار واستفہام کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘

طالبان جو خالص مشرقی وضع قطع، جبہ، شلوار، عمامہ اور بھرپور داڑھی جن کا شمار عموماً قدامت پسند، غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ، لوگوں میں کیا جاتا ہے، ان ہی اوصاف سے متصف افغانیوں نے دور حاضر کی نہایت ترقی یافتہ، سپر پاور دو ممالک کو شکست فاش دے کر ثابت کر دیا ہے کہ

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانہ سے ہم نہیں

امریکی صدر نے اس مناسبت سے جو بیانات دیے وہ باہمی تضادات اور ان کی بے بسی کی تصویر پیش کر رہے تھے، ان کی کچھ باتیں ملاحظہ فرمائیں:

انہوں کہا: میں اپنی فوج اور خفیہ اداروں اینٹلی جنس سروز کی شاندار خدمات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

دوسری طرف خود ہی کہہ رہے ہیں کہ دنیا کی انتہائی تربیت یافتہ فوج، اعلیٰ ترین جنگی ٹیکنالوجی، سامان حرب وضرب کی ریل پیل اور مخابرات خفیہ سروس کے اعلیٰ ترین انتظامات کے باوجود افغانستان کے حالات اس تیزی سے بدلیں گے،ہمیں اندازہ نہیں تھا، ہم نے 3 لاکھ افعانی فوج کو تربیت دی، لیکن وہ طالبان کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

ہم وہاں حکومت کرنے یا طویل مدت کے لیے قیام کی غرض سے نہیں گئے تھے بلکہ ہمارا مقصدمقامی جنگجوؤں کو ختم کرنا ، داعش اور آئی یس آئی یس، القاعدہ تنظیموں کا صفایا اور اسامہ بن لادن کو کیفرکردار تک پہنچانا تھا، یہ ہم نے حاصل کر لیا۔ اگر یہ سب کچھ حاصل کر لیا تو پھر یہ پریشانی کیوں کہ کہیں دوبارہ القاعدہ یا داعش جیسی تنظیموں کو موقع نہ ملے اور کہیں انتہاء پسند افغانستان کو پھر سے اپنا بیس کیمپ نہ بنا لیں۔ ہم نے صدر اشرف غنی پر اعتماد کیا، یہ جانے بغیر کے وہ امریکی مقاصد کو بروئے کار لانے میں کتنا مخلص ہے، شاید اسی کو کہتے ہیں ، کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔

صدر موصوف مزید فرماتے ہیں کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان اپنے وعدوں میں کتنے سچے ثابت ہوں گے، اپنے مخالفین کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

آپ نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا، گوانتاناموبے اور بگرام جیلوں میں اس سے وہ برا نہیں کریں گے، حالانکہ وہ بھی انسان تھے جنہیں جانوروں سے زیادہ بری حالت میں رکھا گیا اور اذیت ناک سزائیں دی گئیں جس کی دنیا شاہد ہے۔

پھر کہتے ہیں کہ مجھ سے پہلی حکومت اور صدر نے افغانستان سے انخلاء کی تاریخ مقرر کر دی تھی ، مجھے اس پر عمل کرنا تھا، ویسے بھی اس جنگ کو طول دینے کا مطلب امریکی معاشی تباہی اور قومی خزانہ پر ناقابل برداشت بوجھ کا تسلسل، کیونکہ اس جنگ پر تین سو ملین ڈالر یومیہ خرچ ہو رہا تھا۔

یہاں بجا طور پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بھاری رقم کہاں خرچ ہوتی رہی، ملکی تعمیر میں تو اس کے اثرات دکھائی نہیں دیتے، ان کی تہذیب اور مذہبی رجحانات کو کمزور کرنے کی مہم پر اس کا زیادہ حصہ شاید خرچ ہوا ہو گا، آخری دنوں میں کابل ہوائی اڈہ پر جو انسانی ہجوم ٹوٹ پڑا، ان میں بیشتر وہ لوگ تھے جو غیر ملکی افواج کے لیے مترجمین یا سہولت کار کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان ہی کے متعلق صدر صاحب نے کہا کہ ہم نوے فیصد وفاداروں کو نکالنے میں کامیاب رہے، باقی ماندہ 10 فیصد کے ساتھ امید کرتے ہیں کہ طالبان ہمدردی کا مظاہرہ کریں گے۔

فتح وکامرانی کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے یہی کچھ افغانی چہرے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوئے جو امریکی قبضہ کے دوران اعلیٰ عہدوں سے مستفید ہوتے رہے، لیکن ان خرقہ پوش مجاہدین نے ان موسمی سیاستدانوں کو درخور اعتناء ہی نہیں سمجھا گویا ان کی حیثیت بن بلائے مہمان سے زیادہ نہیں، لہٰذا ہمیں آپ کے تجربات نوازشات اور ہمدردیوں کی چنداں ضرورت نہیں، ایسے ہی ابن الوقتوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

مزید تفصیلات میں گئے بغیر کہ انہوں نے ملک کو کتنا بنایا اور بگاڑا، یہ بات غور طلب ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے اعلیٰ ترین فوجی کابل سے روانہ ہوتے ہوئے انہوں نے ایئرپورٹ کو بھی اپنے ہاتھوں سے ایسے برباد کیا کہ از سرنوتعمیر کے بغیر وہ قابل استعمال بھی نہ رہے، تباہی وبربادی کے اس منظر کو دیکھ کر سورۃ الحشر کا پس منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔

جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف واکناف میں یہودیوں کی کچھ بستیاں بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ وغیرہ آباد تھیں جو مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی ریشہ دوانیاں کرتے رہتے، ان کا سردار کعب بن اشرف جو ایک شاعر اور صاحب اثر ورسوخ دولتمند شخص تھا، اس نے ہر موقع پر رسول اللہﷺ کے خلاف ایذا رسانی کی کوشش کی حتیٰ کہ آپﷺ کو جان سے مار ڈالنے کی بھیانک سازش رچی، اور مسلمانوں کے خلاف دھوکہ دہی اور عہد شکنی کے مرتکب ہوئے۔ جو معاہدہ کیا گیا تھا، اس کی خلاف ورزی کی، اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ہجرت کے چوتھے سال جب وہاں تشریف لے کئے یہودی اپنے علاقہ کے قلعوں میں محصور ہو گئے تاکہ یکبارگی مقابلہ اور حملہ سے محفوظ رہیں، آپﷺ نے ان کے اس پلان کو ناکام بنانے کی غرض سے علاقہ کا محاصرہ کرتے ہوئے ناکہ بندی کر دی جو ان کے لیے سخت پریشانی کا سبب بن گئی۔ محاصرہ کے چند دن بعد صحابہ کرام نے جنگی مصلحت سے ان کے کھجور کے کچھ درختوں کو آگ لگا دی اور یہی کھجور کے باغات ان کا سرمایہ تھے اور یہودی نفسیاتی طور پر جان جائے جہاں نہ جائے کے قائل رہے ہیں، شاید اسی لیے آج بھی انگریزی بول چال اور عرف عام میں بخیل کو جیو کہا جاتا ہے، بہرحال یہ جنگی حکمت عملی کامیاب رہی وہ مصالحتی گفتگو کیلئے تیار ہو گئے، آپﷺ نے ان کے لیے یہ بنیادی شرط رکھی کہ وہ بدعہدی کے مرتکب ہوئے، لہٰذا علاقہ چھوڑ کر خیبر کی طرف کوچ کر جائیں، ان کے جرائم اور کرتوت کے لحاظ سے اس کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے چارہ نہیں تھا، وہ آمادہ ہو گئے، آپﷺ نے ان کے ساتھ یہ ہمدردی فرمائی کہ گھر بار چھوڑتے ہوئے اپنا ضروری سامان جو لے جا سکتے ہیں لے جائیں، اس کے لیے یہ پیمانہ مقرر کر دیا گیا کہ

ایک اونٹ جتنے بوجھ کا متحمل ہو سکتا ہے وہ اپنے ساتھ لے جائیں، اس رعایت کے مطابق اونٹوں پر جس قدر سامان لادا جا سکتا تھا وہ تو انہوں نے رکھ لیا یہاں تک کہ بعض لوگوں نے گھروں کے دروازے اور چھتوں کی لکڑیاں بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کی اور جو چیزیں نہیں لے جا سکتے تھے اس کی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے اپنے ہی گھر بار کو اپنے ہاتھوں سے ایسے اجاڑنے لگے کہ بعد میں کسی کے کام نہ آ سکے، پہلے وہ خیبر کی طرف گئے پھر عہد فاروقی میں وہاں سے آگے شام کی جانب انہیں دھکیل دیا گیا۔ پڑھیے سورۃ الحشر کے ایک ایک جملہ پر غور کرتے ہوئے:

﴿هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا ۖ وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا ۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ﴾ (سورة الحشر: 2)

’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں اُن کے گھروں سے نکال باہر کیا تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اُن کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی مگر اللہ ایسے رخ سے اُن پر آیا جدھر اُن کا خیال بھی نہ گیا تھا اُس نے اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینا رکھنے والو!۔‘‘

قرآن کریم سرچشمہ ہدایت اور کتاب رہنما ہے، قیامت تک یہ کتاب رہنمائی فراہم کرتی رہے گی، جب ہم اس ہدایت نامہ ربانی کو پڑھیں تو اپنے حالات پر بھی اس کو چسپاں کریں، کیونکہ کل کے لوگوں کے مسائل کا حل جس کتاب مبین سے رشتہ استوار کرنے میں مضمر تھا، آج پیاسی دنیا کو اسی چشمۂ صافی سے سیرابی ہو سکتی ہے۔

سورۃ الحشر کی آیت مذکورہ کے بعد آیت نمبر 14 بہت غور طلب ہے:

﴿ بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ﴾ (سورة الحشر: 14)

’’ بظاہر یہود مسلم دشمنی میں متحد دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دل پھٹے ہوئے اور منتشر ہیں، یہودیوں کی باہمی منافرت مشہور تھی اور آج ناٹوNatoمیں شامل مختلف مغربی ممالک کی یہی کیفیت ہے، بظاہر اسلام دشمنی میں متحد دکھائی دیتے ہیں لیکن آپس میں منقسم امریکہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ ان کی غلط پلاننگ اور ایک طرفہ فیصلہ کے باعث سب کو اس ذلت وہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ہے اور مزید افغانیوں کا بوجھ ہمیں برداشت بھی کرنا پڑے گا اور دوسری طرف امریکی صدر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انخلاء کا فیصلہ اور تاریخ کا تعین پچھلی حکومت میں کیا گیا ، مجھے اس فیصلہ کو صرف نافذ کرنا تھا۔

ایک طرف امریکی فوجیوں کے ہاتھوں اجڑے ہوئے کابل کا دنیا نے مشاہدہ کیا اور دوسری طرف طالبان جنہوں نے اپنی کامیابی کا علم بلند کرتے ہوئے جو مثبت اعلانات کیے اس سے اچھی امیدیں وابستہ ہو گئیں کہ انہوں نے عام معافی کا اعلان کر کے بہترین شروعات کیں، اپنے بیانات میں عفو و درگزر کے علاوہ خواتین کے حقوق، اظہار رائے اور شخصی آزادی کے متعلق بھی مناسب باتیں کیں، اسی کے پیش نظر بجا طور پر ہم امید کرتے ہیں کہ مسلکی رجحانات میں تعصب سے بالاتر ہو کر وسعت ظرفی کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ اس خطہ میں فقہ حنفی کے حق میں تعصب کی فضا اتنی مسموم ہے کہ عموماً وہ دوسرے نقطہ نظر کو ناقابل معافی جرم سمجھتے ہیں یہی وہ جغرافیائی پٹی ہے جہاں سے فقہ حنفی کے پیروکاروں میں شدید تنگ نظری اور مسلکی سختی کے رجحانات پروان چڑھتے رہے، یہی وہ ذہن ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ’’مارا از حدیث چہ کارگر قول امام داری بیا‘‘ کہ ہمیں حدیث سے کیا سروکار اگر امام کا قول ہو تو بطور دلیل پیش کرو، ہم امید کرتے ہیں کہ فقہی مسائل میں بھی طالبان رواداری کی پالیسی اپنائیں گے، اس فتح و کامرانی کو ملکی تعمیر وترقی کا ذریعہ بنائیں گے، سیکولر اور لادین تہذیب کے مقابلہ میں اعلیٰ ترین اسلامی اقدار کا نمونہ پیش کریں گے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ماہرین فن سے استفادہ کریں گے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العالمین حقیقی کامیابی نصیب فرمائے اور قرآن وسنت کی تعلیمات پر ثابت قدمی کی توفیق بخشے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں