سنن ترمذی اختلافات کی دھوپ میں اعتدال کی چھاؤں۔ محمد عبد الہادی عمری مدنی

ہندوستان کے مشہور عالم دین، کہنہ مشق اُستاد، بے باک خطیب اور صاحب طرز مضمون نگار مولانا حافظ حفیظ الرحمٰن اعظمی﷫ کا 26 مئی مختصر علالت کے بعد چینائی میں انتقال ہو گیا۔

مولانا اعظمی مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والی پہلی بیج میں شامل تھے، اکتوبر 1961ء کو جب الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیمی سال کا آغاز ہوا، پہلے سال انڈیا کے 22 طالب علموں کو داخلہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس وقت ایک فیکلٹی کلیۃ الشریعہ اور کچھ ابتدائی تعلیمی شعبے قائم کیے گئے تھے۔یونیورسٹی کے ابتدائی اساتذہ میں نامی گرامی اہل علم تھے، مفتی سعودی عرب علامہ الشیخ عبد العزیز بن باز عقیدہ، علامہ الشیخ محمد الامین الشنقیطی تفسیر اور علامہ الشیخ محمد ناصر الدین البانی﷭ حدیث پڑھایا کرتے تھے، ان اسماء گرامی پر ایک نظر ڈالی کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان سے پڑھنے والے شاگردوں کی علمی پختگی کا عالم کیا ہو گا، خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را، اس اہم یونیورسٹی سے 1965ء میں پہلا گروپ فارغ ہوا، ان فارغین میں محترم مولانا حفیظ الرحمٰن اعظمی بھی شامل تھے، شیخ بن باز﷫ کے مشورہ کے مطابق 4 سال نائجیریا میں بطور داعی کے اور 4 سال ملیشیاء میں خدمات انجام دیں اور باقی ساری زندگی مادر علمی جنوبی ہند کی مشہور درسگاہ جامعہ دار السلام عمر آباد میں تدریسی اور ادارتی خدمات انجام دیتے رہے، آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث جامعہ کے ناظم بنا دیے گئے اور اخیر تک اس عہدہ جلیلہ پر فائز رہے، اپنے پیچھے شاگردوں کی کثیر تعداد چھوڑی جو ان کے لیے ان شاء اللہ صدقہ جاریہ ثابت ہو گی۔

غالباً یہ 1975ء کے اواخر کی بات ہے کہ ہم جامعہ دارالسلام عمرآباد کی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے یعنی فضیلت سال اول ،نئے تعلیمی سال میں درسی کتابیں جن اساتذہ کے ذمہ ہوتیں ،دروس کے آغاز میں اساتذہ اپنے مضمون کا تعارف کرواکر درس شروع کیا کرتے ،عموماً یہ تعارف مختصر اور واجبی سا ہوتا ،پہلے دن کے درس کے ابتدائی حصہ میں طالب علم کو مضمون اور کتاب کے متعلق ضروری باتیں بتائی جاتیں پھر سبق شروع ہوجاتا ،حدیث کی مشہور کتاب سنن ترمذی اس وقت مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی﷾ پڑھایا کرتے تھے لیکن ہماری حرماں نصیبی کہ استاذ محترم جو اس وقت ’’حفیظ بھائی ‘‘ کہلاتے تھے ،اور اس لقب میں اتنی حلاوت اور اپنائیت تھی کہ طلبہ اور استاذ محترم کے درمیان القاب کے پردے حائل نہیں تھے ،شاید اس لیے استفادہ کے دریچے بھی زیادہ کھلے تھے ،جب ہم ساتویں جماعت میں پہنچے تو اس وقت حفیظ بھائی سفر نائیجیریا کے لیے پابہ رکاب تھے اور سفری تاریخ تک ہی اس کلاس میں ہم آپ سے استفادہ کرسکتے تھے ،یوں تو ابتدائی درجات سے ہم نے استاذ محترم سے بھر پور استفادہ کیا ،لیکن جب عقل وخرد کی پختگی اور شعور کی بالیدگی کی دہلیز پر پہنچے تو استفادہ کا موقع نکل گیا ،تاہم ذمہ داران جامعہ نے سوچا ہوگا کہ “مالا یؤخذ کله لایترکه جله” جتنے دن بھی استاذ محترم عمرآباد میں موجود ہیں ان سے استفادہ جاری رہے ،یوں ہم نے سنن ترمذی اور امام ترمذی﷫ کا تعارف استاذ محترم سے سنا گویا مضمون حدیث کا مقدمہ آپ سے سیکھا اور پھر اس کے ساتھ ہی وہ سفر پر روانہ ہوگئے ، اور واپس اس وقت تشریف لائے جب ہم آخری سال کے آخری حصہ میں داخل ہوچکے تھے اور جامعہ میں پچاس سالہ تقریبات جشن طلائی کی گہماگہمی تھی ،پھر کتاب ہم نے مشہور استاذ حدیث مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی﷫ سے پڑھی ۔

اس وقت حفیظ بھائی کے درس کی شان کچھ ایسی تھی کہ گویا علم کا دریا بہہ رہا ہے جو جتنا چاہے استفادہ کر لے، الفاظ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں جیسے چاہیں علم وادب کی لڑی میں پروتے چلے جائیں اور سحر بیانی کچھ ایسی کہ ایک سال ترجمہ وتفسیر قرآن کا مضمون آپ کے پاس مقرر تھا،جامعہ کی قدیم عمارت معہد القرآن کے درمیانی ہال میں کلاس ہواکرتی ،اس وقت کے مشہور قاری محترم حافظ عبید اللہ﷫ شعبہ حفظ اور تجوید کے استاذ تھے ،ان کا کمرہ ہال کے مغربی جانب تھا اور کلاس مشرقی جانب ،انہیں اپنی کلاس کے لیے ہال سے ہی گزرکر جانا ہوتا ،درمیان میں حفیظ بھائی کی ترجمہ وتفسیر کی کلاس جو بن پر ہوتی، محترم حافظ﷫ عموماً پارٹیشن کے عقب میں ٹہرے کافی دیر تک درس سنا کرتے ،یہ کسی بھی صاحب ذوق کے لیے آسان نہیں ہوتا کہ علم وفکر کے اس بہتے دریا سے ویسے ہی خشک گذر جائے اور ہم طلبہ کی محویت کا عالم یہ ہوتا کہ کسی اہم واقعہ کی تفصیل جاری ہے کہ گھنٹی ختم ہوگئی ہم منہ بسور کر رہ جاتے کہ اتنی جلدی وقت ختم ہو گیا، حالانکہ طالب علمانہ زندگی میں طلبہ عموماً گھنٹی ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں ،استاذ محترم کی کوشش ہوتی کہ طلبہ کو قرآن کے مفہوم اور روح واقعہ سے قریب تر کیا جائے ،اس اسلوب کا راقم کو فراغت کے بعد کی میدانی زندگی میں بہت فائدہ ہوا ، ان شاء اللہ یہ بھی اساتذہ کرام کے حسنات میں عند اللہ اضافہ کا سبب ہی بنے گا ۔

استاذ محترم نے جامع ترمذی اور امام ترمذی﷫ کا تعارف کچھ اس انداز میں کروایا کہ ایک طویل عرصہ گذرنے کے باوجود کلاس میں کہے ہوئے کئی جملے ابھی تک یاد ہیں،گوکہ فراغت کے بعد مجھے مدینہ منورہ میں کلیۃ الحدیث میں ہی داخلہ کا شرف حاصل ہوا، حدیث سے وابستگی میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا گیا اور آج قرآن وحدیث کے کئی پروگرام مختلف ٹی وی چینلز اور مساجد میں الحمدللہ کامیابی سے جاری ہیں، استاذ محترم نے اپنی تمہیدی گفتگو میں طلبہ کو حدیث سے اتنا قریب کردیا تھااس موضوع کی اہمیت اور ائمہ حدیث کی عظمت دل میں گھر کر گئی خصوصاً سنن ترمذی سے تو محبت سی ہوگئی پھر اس پر اضافہ مولانا ظہیر الدین رحمانی﷫ کے درس کا انداز دوران درس اپنے استاذ گرامی علامہ عبد الرحمن مبارکپوری﷫ تحفۃ الاحوذی کے حوالہ سے جب گفتگو کرتے تو گویا یہ معاملہ دو آتشہ ہوگیا ،کامیاب استاذ کا کمال ہوتا ہے کہ وہ طالب علم کے ذہن میں موضوع کی محبت بٹھائے۔

راقم کے ترمذی کے سلسلہ واری دروس برمنگھم، انگلینڈ کی مرکزی مسجد جس میں سامعین کی غالب اکثریت احناف کی ہوتی ہے ،الہجرہ مسجد جن میں ملے جلے پس منظر کے لوگ شریک ہوتے ہیں ،یوکے اسلامک مشن جماعت اسلامی کی مشہور مسجد میں ہفتہ واری سلسلہ جاری ہے ،ہر مسجد کے نمازی اور ان کا پس منظر بھی مختلف ہے جس وقت ہم عمرآباد میں زیر تعلیم تھے ،اس وقت تو یہ تصور کرنا بھی محال تھا کہ کبھی انگلستان کی مساجد اور ٹی وی چینلز کے ذریعہ قرآن وسنت کی شمع روشن کرسکیں گے ،اللہ عزوجل قبول فرمائے ،اساتذہ اور جملہ معاونین ومنتظمین کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔استاذ محترم حفیظ بھائی لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حقیقی محبت پیدا کرنے اور طرز صحابہ کرام سے قریب لانے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ان میں حدیث کی محبت بٹھائی جائے، عموماً دیکھا گیا کہ لوگ روزمرہ کی زندگی میں حدیث کے مطابق عمل کرنا ہی زیادہ پسند کرتے ہیں ،مختلف مسائل میں کوئی رہنمائی درکار ہوتو حدیث کی روشنی میں جواب تلاش کرتے ہیں یہ بھی میں نے تجربہ کیا کہ آپ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے مختلف رجحانات رکھنے والوں کے ساتھ دینی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں جس کی آج کل شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

جو کچھ تمہیدی کلاس میں فرمایا اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے :

امام ترمذی﷫ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے استاذ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری﷫ کا یہ جملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ “لقد استنفدت منك أکثر ما استفدت منی” نیز اصول حدیث کا یہ قاعدہ کہ “روایة الأکابر عن الأصاغر” یعنی بڑے معزز علماء کی چھوٹے علماء سے روایت عموماً چھوٹے بڑوں سے لیتے ہیں ،لیکن امام ترمذی﷫ کی ایک حدیث خود امام بخاری﷫ نے بھی لی اور تحسین کی اور دوسری کی سماعت کی ،یہ بات جہاں امام ترمذی﷫ کی قدرومنزلت سمجھنے کے لیے اہمیت رکھتی ہے وہیں علماء کبار کی علم کے آگے کسر نفسی اور تواضع کا پتہ دیتی ہے بعض مشاہیر اہل علم وفن نے سنن ترمذی کی افادیت کو بخاری اور مسلم پر ترجیح دی ہے ،اس لحاظ سے کہ بخاری اور مسلم کا مقام اور معیار اتنا اونچا ہے کہ عام طالب علم اس سے جلد استفادہ نہیں کرسکتا ،جبکہ ترمذی کا اسلوب سہل اور واضح ہے یوں معمولی علمی پس منظر رکھنے والے بھی اس سے بھر پور استفادہ کرسکتے ہیں ۔

ترمذی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ حدیث کے ذکر کرنے کے ساتھ اس کا درجہ حدیث بھی بتادیتے ہیں جس سے حدیث کی استنادی حیثیت کا بھی پتہ چل جاتا ہے اگر چیکہ اس میں کہیں کہیں جھول بھی واقع ہوا ہے،ترمذی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے جو دراصل ان سطور کی تحریر کا محرک بنا وہ یہ کہ حدیث ذکر کرنے کے بعد اس کے متعلق اہل علم کا تذکرہ کرتے ہیں ،اس سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اگر کچھ لوگوں نے اس سے اختلاف بھی کیا ہے تو کیوں ؟! بلکہ امام ترمذی﷫ نے یہاں تک کہا کہ میں نے اس کتاب میں وہی حدیث ذکر کی ہے جس کے مطابق مشہور علماء نے بھی اپنی رائے یا فتوی دیا ہو ،پوری کتاب میں صرف دو حدیثوں کا ذکر کیا ہے کہ اس کے مطابق فتوی دینے والوں کا مجھے نام نہیں مل سکا ،لیکن بعد میں آنے والوں نے اس کی بھی نشاندھی کردی ،گویا امام ترمذی﷫ نے سند کی حیثیت پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کے مطابق عمل کرنے اور رائے دینے والے مشہور علماء کی بھی تلاش کی اور ایسی ہی احادیث اپنی کتاب میں درج فرمائی جن کے مطابق معروف علماء کرام نے بھی رائے دی اور عمل کیا ہو ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے امام ترمذی﷫ کے ہاں اہل علم کا کیا مقام ہے اور کتنی اہمیت ہے ۔اگر علمی امانت اور غایت درجہ خلوص نہ ہو تو اختلاف رائے رکھنے والوں کا تذکرہ آسان نہیں ہوتا ،لیکن جگہ جگہ سنن ترمذی میں یہ بات دیکھی جاسکتی ہے اس سے ایک طرف حدیث رسول ﷺ سے ٹوٹ کر محبت بھی ثابت ہورہی ہے کہ سند کے لحاظ سے کسی حدیث کی نبی ﷺ کی طرف نسبت ثابت ہوجائے تو سر اور آنکھوں پر ہونا چاہئے ،لیکن میدان علم میں کمال کا دعوی نہیں کیا جاسکتا ،اس کے سوا بھی رائے ہے اور مذکورہ حدیث سے مختلف رائے رکھنے والوں کے پاس اپنے دلائل ہیں ۔

احادیث کا ذکر کرنے سے پہلے باب کا عنوان اس طرح باندھا گیا کہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو حدیث کی روشنی میں حل کرنے کی عملی شکل دکھائی دے سکے ،گویا حدیث کو عملی زندگی سے قریب تر لانے کی سعی مشکور،یہ اسلوب وہی ہے جو صحیح بخاری میں پایا جاتا ہے ،صرف احادیث صحیحہ کو ایک جگہ جمع کرنا نہیں بلکہ زندگی سے قریب تر کرنا اور براہ راست ان سے مسائل استنباط کرنا حتی کہ کہا گیا: “فقه البخاری فى تراجمه” کہ امام بخاری﷫کی فقہی دسترس اور کمال کو سمجھنے کے لیے کتاب میں مذکور ابواب کے عنوانات پر نظر ڈالنی کافی ہے۔

راقم کو تعجب ہوتا ہے ان بعض فارغین مدارس اور علماء پر جو سنن ترمذی جیسی کتاب پڑھنے کے باوجود جو تقریباً تمام مشہور دینی مدارس اور جامعات میں داخل نصاب ہے ،علمی مسائل میں انتہاء پسندی اور ہٹ دھرمی پر اتر آتے ہیں ،اور بعض محدثین اور فقہاء پر ایسے رکیک جملے کستے ہیں جیسے کہ امام ابوداؤد﷫ یا امام شافعی﷫ ان کی کلاس کے ہمجولی اور ہم سبق تھے یا زیادہ سے زیادہ دو ایک درجے اونچے،ترمذی اور بدایۃ المجتہد درسگاہوں میں پڑھنے کے باوجود طبیعت میں اعتدال اور فکر ونظر میں توسع پیدا نہ ہوتو یہ بہت ہی غور طلب ہے ،اساتذہ کے لیے بھی اور طلبہ کے لیے بھی ۔

محدثانہ اسلوب کہ صحیح حدیث کو تاویلات اور حیلے بہانوں کے ذریعہ رد کرنے یا پیچھے کرنے کے بجائے اسے قبول کرنے کا جذبہ اور اختلافی رائے رکھنے والوں کو بھی اس کا حق دینے کی رواداری یہ محدثین اور فقہاء کا طرز ہے ،امام ذہبی ﷫نے سیر اعلام النبلاء میں امام شافعی﷫ کی عظمت کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ یونس الصدفی فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی﷫ سے زیادہ اعلی ظرف کس کو نہیں دیکھا، میں نے ایک مرتبہ کسی مسئلہ میں ان کے ساتھ مناظرہ کیا ،مجلس ختم ہوگئی ،جب دوبارہ ہماری ملاقات ہوئی تو امام شافعی﷫ نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ تھامے ہوئے کہا کہ ائے ابو موسیٰ ! کیا یہ ممکن نہیں کہ ہمارے درمیان اخوت اسلامی باقی رہے چاہے کسی مسئلہ کے متعلق ہم میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو، یعنی اختلاف رائے رکھنے کے باوجود اخوت اور مودت باقی رکھی جاسکتی ہے ،ائمہ ،خطباء اور علماء کرام کو اس پر غور کرنا چاہئے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں