سپورٹس سے متعلقہ راہ نمائیاں۔حافظ محمد نعمان فاروقی

عام قارئین کرام کے لیے شاید یہ عنوان دلچسپی نہ رکھتا ہو مگرممکن ہے نوجوان نسل کے لیے یہ عنوان پرکشش اور دلچسپ ہو۔ انھیں یہ جان کر خوشی ہو کہ ہمارے پیغمبرﷺ اس میدان میں بھی ہمارے مکمل راہ نما ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ آپﷺ کو جس فیلڈ میں دیکھا کامل و اکمل پایا۔ اسی لیے تو ہم کہتے ہیں کہ ’’راہنمائے کاملﷺ‘‘ صرف آپ ہی ہیں۔

ایک جائزہ لیا جائے تو نبیﷺ کی اس حیثیت کو پس پشت ڈال کر آج امت عمومی طور پر اور علمائے امت خصوصی طور پر بڑے بے ڈھبے، بیماریوں کے شکار اور اضافی وزن لیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ہر فرد کے سامنے آپﷺ کی اس حیثیت کو رکھنا بھی وقت کا تقاضا ہے۔ امت کے علماء جو عوام کے سامنے نبی کریمﷺ کی اس صفت کا اظہار کرتے ہیں کہ آپﷺ دوسروں کے بوجھ اٹھایا کرتے تھے، ان صلحا کی اکثریت خود اپنا وزن اٹھانے سے بھی قاصر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس حوالے سے آپﷺ کے فرمودات عالیہ کو اپنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ آئیے! سیرت مبارکہ کے اس پہلو کا مطالعہ کرتے ہیں۔

فطرت انسانی اور کھیل کود

فطرتِ انسانی کھیل کود، بھاگ دوڑ، جسمانی ورزش، سیر و سیاحت اور اس قسم کے مختلف مشاغل کا تقاضا کرتی ہے۔ انسانیت کی معلوم تاریخ، تہذیب اور ثقافت میں سپورٹس کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور نظر آتا ہے، مثلاً سیدنا یوسف﷤ کے بھائیوں نے انھیں اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت اپنے والد گرامی سیدنا یعقوب﷤ سے ان الفاظ سے مانگی:

﴿أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ ’’اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ یہ کھائے پیے اور کھیلے کودے اور بے شک ہم اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘ (سورةیوسف: 12)

اور بعد میں کہنے لگے: ﴿يَا أَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ﴾’’اے ہمارے ابا جان! ہم گئے (اور) آپس میں دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور ہم نے یوسف (﷤) کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا تو اسے بھیڑیا کھا گیا ہے۔‘‘ (سورة یوسف : 17)

اسی طرح فرعون نے موسیٰ﷤ سے کہا تھا کہ مقابلے کے لیے کوئی وقت مقرر کر لیں اور جگہ بھی مناسب ہو۔ موسیٰ﷤ نے جواب دیا:

﴿مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى﴾’’زینت (جشن) کے دن کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔‘‘ (سورة طہٰ : 59)

ان آیات سے واضح ہے کہ کھیل کود، دوڑ کے مقابلے اور جشن کے دن قدیم دور سے چلے آ رہے ہیں۔ اولمپکس کھیلوں کا آغاز بھی 700 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ اور یہ 400 قبل مسیح تک جاری رہیں اور بعد ازاں 18 ویں صدی میں ان کا دوبارہ آغاز ہوا۔ یاد رہے اولمپکس یونانیوں کے دیوی اور دیوتاؤں کے نام سے منسوب ہے مگر اولمپکس گیمز میں حصہ لینے والوں کو یہ طعنہ نہیں ملتا کہ یہ دقیانوسیت ہے، جبکہ نبی کریمﷺ کی سیرت پر عمل کرنے والوں کو یہ باقاعدہ طعنہ ملتا ہے کہ پرانی باتیں، دقیانوسیت اور پتھر کے دور کے ضابطے… وغیرہ وغیرہ، بہرکیف وقت کے ساتھ ساتھ سپورٹس میں ترقی بھی ہوتی رہی۔ ان کی شکلیں بھی بدلتی رہیں۔ بعض پرانی کھیلیں ناپید ہو گئیں اور ان کی جگہ نئی کھیلوں نے لے لی۔ بعض کھیلیں علاقائی سطح تک محدود رہیں جبکہ بعض کھیلیں عالمی سطح تک پھیل گئیں اور عالمی سطح پر ان کے مقابلے ہونے لگے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہادی عالمﷺ نے اس بارے میں کوئی راہ نمائی نہیں کی؟ اور آپﷺ نے امتیوں کو سپورٹس کے سلسلے میں ویسے ہی چھوڑ دیا ہے؟ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے۔

نبیﷺ کی سپورٹس سے متعلقہ راہ نمائیاں

فرمان نبوی ﷺ ہے:

«اَلْـمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْـمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ»’’طاقتور مومن کمزور مومن سے زیادہ بہتر ہے، جبکہ دونوں بھلائی پر ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم: 2664)

اس فرمان میں نبیﷺ نے امتیوں کو ابھارا ہے کہ وہ جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیں تبھی وہ طاقتور اور قوی ہو سکتے ہیں۔ آپﷺ کا یہ ارشاد عالی محض خبر نہیں کہ طاقتور مومن بہتر ہے بلکہ اس میں مومنوں کو ابھارا گیا ہے کہ وہ ایسے ذرائع اختیار کریں جس سے وہ قوی ہوں۔ اور اس سلسلے میں آپﷺ نے حفظانِ صحت کے اصول بھی بتائے جو طب نبوی کے عنوان کے تحت آتے ہیں۔ وہ زادالمعاد از امام ابن القیم﷫ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جس کا اُردو ترجمہ طب نبوی کے نام سے موجود ہے۔ آپﷺ نے جسمانی مشقوں کی طرف راہ نمائی بھی فرمائی۔ اس موضوع پر تحقیقی کام نہ ہونے کے برابر ہے خصوصاً اُردو میں۔

عہد نبوت کے کھیل اور جسمانی سرگرمیاں

نبی کریمﷺ نے اپنے عہد مبارک میں جن کھیلوں کا اہتمام کیا، ہم ان کھیلوں کا اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کا تذکرہ کرتے ہیں:

1۔ گھڑ دوڑ (Riding)

نبیﷺ کی گھڑدوڑ میں مہارت: نبی کریمﷺ خود بھی بڑے اچھے انداز سے گھڑ سواری کر لیتے تھے۔ ایک رات مدینہ منورہ کی ایک جانب شور سا بلند ہوا۔ نبی کریمﷺ نے ابو طلحہ﷜ کا گھوڑا لیا اور خوب بھگایا۔ لوگ بھی آپﷺ کے بعد اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ اس دوران نبی کریمﷺ مطلوبہ ہدف سے ہو کربھی آگئے تھے اور فرمانے لگے: ’’گھبراؤنہیں۔‘‘ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا: ’’یہ گھوڑا تو ہمیں (تیز رفتاری میں) سمندر کی طرح لگ رہا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری: 2757)

جنگ حنین کے موقع پر میدان کارزار میں آپﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ (صحیح بخاری: 2864)

گھڑدوڑ کے مقابلے: اسی طرح آپﷺ گھڑدوڑ کے مقابلے بھی کرواتے تھے۔ تضمیر شدہ گھوڑوں کا علیحدہ اور غیر تضمیر شدہ گھوڑوں کا علیحدہ۔ تضمیر شدہ گھوڑے وہ ہوتے ہیں جنھیں پہلے خوب خوراک دے کر موٹا تازہ کیا جاتا ہے، پھر خوراک کو مسلسل کم کیا جاتا ہے۔ اس دوران انھیں کمرے میں یا کپڑوں کے ذریعے گرمائش مہیا کی جاتی ہے جس سے ان میں قوت برداشت بڑھ جاتی ہے، پھر انھیں خوب بھگایا جاتا ہے۔ جب آپﷺ نے تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ کرانا تھا تو آپﷺ نے ان کی حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ لگوائی (یہ فاصلہ تقریباً چھ میل تھا) اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں ہوئی تھی ان کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک لگوائی یہ فاصلہ کم و بیش ایک میل کا تھا۔ (صحیح بخاری: 2870)

اور گھڑ دوڑ کا یہ مقابلہ عبداللہ بن عمر﷠ جیت گئے تھے۔ (صحیح بخاری: 2869؛ سنن ابو داؤد: 2575)

سیدنا عبداللہ بن عمر﷠ اگر اتباع سنت میں ضرث المثل تھے تو جسمانی طور پر بھی بڑے چست تھے تبھی تو وہ اس گھڑدوڑ میں سب سے سبقت لے گئے۔

دوڑ لگوانے والے رسولِ کائناتﷺ اور شرکائے مقابلہ صحابۂ کرام﷢!!

عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھڑ دوڑ میں سارا زور گھوڑے کا لگتا ہے مگر عمدہ گھوڑا ایک بہترین چست و چالاک اور پھریرے بدن کے شہسوار کا متقاضی ہوتا ہے۔ گھوڑا اپنی نزاکت اور طبعی نفاست سے اپنے اوپر سواری کرنے والے کی مہارت اور عدم مہارت کو پہچان لیتا ہے۔ اور جسمانی طاقت اور ہوشیاری کے بغیر گھڑسواری کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ جو شخص اس صلاحیت سے محروم ہو تو اس کے لیے گھوڑے پر بیٹھنا ہی مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ وہ ایک اچھا شہسوار بن سکے۔ الغرض! گھڑ سواری کے لیے گھڑسوار کو بھی چاق چو بند رہنا اور اپنے آپ کو فٹ رکھنا پڑتا ہے۔ اس دور میں رائڈنگ کلب یا ریس کورس میں اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ بڑی کالونیوں میں اس کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور بڑے عمدہ اور قیمتی گھوڑے رکھے جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کرنبی کریمﷺ کی پیش گوئی پوری ہوتی نظر آتی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ’’گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے خیر و برکت رکھ دی گئی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 2852)

زبانِ نبوت پر گھوڑوں کی اقسام کا تذکرہ: زبانِ نبوت سے گھوڑوں کی کچھ اقسام اور اصطلاحیں جاری ہوئیں جو یہ ہیں:

1۔ کُمَیْتٌ: سرخی مائل سیاہ گھوڑا۔ (سنن ابو داؤد: 2543)

2۔ أَدْھَمْ: سیاہ گھوڑا ۔ (سنن ابو داؤد: 2543)

3۔ أَغَرّ: سیاہ گھوڑا مگر پیشانی سفید۔ (سنن ابوداؤد: 2543)

4۔ مُطْلَقُ الْیُمْنٰی: تین یا چار ٹانگیں سفید ہوں اور اس کے علاوہ جسم پر سفیدی نہ ہوں۔ (السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث: 3449)

5۔أَرْثَمْ: جس گھوڑے کی ناک پر یا اوپر والے ہونٹ پر سفید نشان ہو۔ (سنن البیہقي: 6؍3306)

6۔ أَشْقَرْ: سرخی مائل سفید گھوڑا۔ (سنن ابوداؤد: 2543)

گھوڑوں کے متعلق معلومات سے آپﷺ کو خصوصی دلچسپی تھی۔ حتی کہ بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھوڑا خریدتے وقت پوچھتے کہ کون سا گھوڑا خریدیں۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ معلومات فراہم کیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کی: میں گھوڑا خریدنا چاہتا ہوں تو میں کس قسم کا گھوڑا خریدوں؟ فرمایا:

«إِذَا أَرَدْتَّ أَنْ تَغْزُوَ اِشْتَرِ فَرَسًا أَدْھَمَ، أَغَرَّ، مُحَجَّلًا، مُطْلَقَ الْیُمْنٰی فَإِنَّكَ تَغْنَمُ وَتَسْلَمُ» ’’جب تم نے جنگ کے لیے گھوڑا خریدنا ہو تو سیاہ فام مگر سفید پیشانی والا، اور وہ جس کی چاروں ٹانگیں سفید ہوں اس کے علاوہ سفیدی نہ ہو تمھیں غنیمت بھی حاصل ہو گی اور محفوظ بھی رہو گے۔‘‘  (السلسلۃ الصحیحۃ: 3449)

نبیﷺ کی بہت زیادہ مصروفیات اور ذمہ داریاں تھیں۔ اس کے باوجود گھڑدوڑ کا یہ اہتمام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شرکت۔ اور گھوڑوں کی دیکھ بھال کے مختلف انداز اور گھوڑوں کی قسموں اور رنگوں کے بارے میں آپﷺ کی معلومات بتاتی ہیں کہ آپ ان کاموں کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ نبی کریمﷺ نے خود بھی گھوڑا رکھا ہوا تھا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہماری حویلی میں آپﷺ کا ایک گھوڑا تھا جسے لُحیف کہا جاتا تھا۔ (صحیح بخاری: 2855)

2۔ کشتی (Wrestling)

رکانہ بن زید مشہور پہلوان تھا اور وہ کشتی میں کسی سے ہارتا نہیں تھا۔ اس نے قبول اسلام کے لیے اپنے پچھاڑے جانے کی شرط لگا دی۔ رسول اللہﷺ نے اس کا چیلنج قبول کیا اور اسے پچھاڑ دیا۔ اور کئی بار اسے ہرایا اس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آئے۔ (تہذیب الکمال:6؍225؛ صحیح السیرۃ النبویۃ للألبانی:1؍ 217)

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپﷺ انصاری نوجوانوں کا جائزہ لے رہے تھے کہ ان میں سے جو جوان ہو چکے ہیں انھیں جہاد کے لیے روانہ فرمائیں۔ اس دوران آپﷺ کے پاس ایک نوجوان گزرا تو آپ نے اسے لشکر میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد سمرہ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا گیا مگر آپﷺ نے انھیں واپس بھیج دیا۔ سمرہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس نوجوان کو اجازت دے دی ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کشتی کرے تو میں اسے ہرا دوں گا۔ فرمایا: ’’تو چلو پھر اس سے کشتی کرو۔‘‘ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے کشتی میں ہرا دیا تو آپﷺ نے مجھے بھی جہاد میں شرکت کی اجازت دے دی۔ (السنن الکبرٰی للبیہقي:10؍31؛ المعجم الکبیر:7؍211)

ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کشتی کے فن سے آشنا تھے اور ایسی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہتے تھے۔ کشتی کرنا (Wrestling) کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے اچھی خاصی طاقت اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ اور مسلسل مشق کے بغیر اس میں حصہ نہیں لیا جا سکتا۔

3۔ اونٹ دوڑ (Camel Race)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی ’عضباء‘ نامی اونٹنی تھی۔ وہ کبھی مقابلے میں پیچھے نہیں رہتی تھی۔ ایک دفعہ ایک اعرابی جوان اونٹ لایا تو وہ عضباء اونٹنی سے آگے نکل گیا۔ صحابہ کرام پر یہ بات گراں گزری، بالکل ایسے ہی جیسے یہ پڑھ کر ہم پر گراں گزر رہی ہے۔ بہرکیف نبی کریمﷺ یہ بات سمجھ گئے کہ مسلمانوں پر میری اونٹنی کا پیچھے رہ جانا شوار گزرا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: «حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ أَنْ لَّا یَرْتَفِعَ شَیْئٌ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا وَضَعَهُ»’’اللہ کا حق ہے کہ جو بھی چیز اس دنیا میں عروج حاصل کرتی ہے اللہ ضرور اسے نیچا کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخارى: 2872)

اس حدیث میں اشارہ موجود ہے کہ آپﷺ کی اونٹنی کے کئی مقابلے ہو چکے تھے۔ اسی لیے تو کہا گیا کہ ’’وہ کبھی مقابلے میں پیچھے نہیں رہتی تھی۔‘‘ دراصل یہ عہد نبوت میں سپورٹس تھیں۔ ظاہر ہے آپﷺ کی اونٹنی کو آپ کی اجازت ہی سے مقابلے میں لایا جاتا ہوگا۔ پھر آپ کو اس مقابلے کے نتائج کی اطلاع بھی دی جاتی ہو گی اور کبھی آپﷺ خود بھی شریک ہوتے ہوں گے۔ اس حدیث میں اللہ کے رسولﷺ نے اللہ کے قانون ’’ہر عروج کو زوال ہے‘‘ کو بیان کرکے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم اپنی کسی طاقت و صلاحیت پر ناز نہ کریں بلکہ یہ جان لیں کہ اگر آج عروج ہے تو زوال بھی ہوگا۔ لازوال محض ایک ہی ذات ہے۔

اس حدیث میں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ آپﷺ نے اسی دوڑ کے موقع پر یہ بات سمجھا دی۔ اور بتا دیا کہ سپورٹس دین کے تحت ہیں۔ کوئی ایسا لباس، کوئی ایسی صورت، یا کوئی ایسا کھیل جس کی اسلام اجازت ہی نہیں دیتا، وہ مسلم معاشرے میں کیونکر کھیلا جا سکتا ہے…؟

عورتوں کی اونٹ سواری کے متعلق فرمان نبوی ہے: «خَیْرُ النِّسَاءِ نِسَاءُ قُرَیْشٍ، رَکِبْنَ الْإِبِلَ…» ’’قریش کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں جو اونٹ پر سواری کر لیتی ہیں…‘‘ (صحیح مسلم: 2527)

یاد رہے! اونٹ اس وقت بطور سواری استعمال ہوتا تھا، لہٰذا شرعی حدود میں رہ کر خواتین کا ڈرائیونگ میں ماہر ہونا ایک مستحب امر ہے۔

4۔ پیدل دوڑ

نبی کریم ﷺ پیدل دوڑ بھی لگا لیا کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپﷺ نے اپنے آپ کو جسمانی لحاظ سے فٹ رکھا ہوا تھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی عنایت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آپﷺ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے دو دفعہ دوڑ لگائی۔ دوڑ کے ان دو واقعات کا درمیانی وقفہ چند سالوں پر محیط تھا کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں وضاحت کرتی ہیں… ’’پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ جسم کو بھاری ہونے سے چند سال تو لگے ہی ہوں گے۔ اس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کم و بیش 12 سے 17 سال کے درمیان ہو گی اور آپﷺ کی عمر مبارک 55 سے 62 سال کے درمیان۔ اتنی عمر میں دوڑ لگانا جسمانی صحت کی عمدہ دلیل ہے۔ اب آئیے اس موضوع کی حدیث پڑھتے ہیں:

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریمﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھیں۔ فرماتی ہیں: میں نے نبی کریمﷺ سے دوڑ لگائی تو میں آپﷺ سے آگے گزر گئی۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا میں نے پھر آپﷺ سے دوڑ لگائی تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے۔ اس دوران آپﷺ نے فرمایا: «هٰذِهِ بِتِلْكَ» ’’یہ اس پہلے مقابلے کا بدلہ ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 2578)

یاد رہے! کہ آپﷺ نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑ لگائی۔ آپ سفر پر تھے آپ نے شرکائے قافلہ سے کہا کہ وہ سب آگے نکل جائیں۔ اور دونوں دفعہ ایسا ہی فرمایا۔ (مسند أحمد: 6؍264) نبی ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوڑ کو کوئی تیسرا شخص دیکھنے والا نہیں تھا۔ اس لیے اس حدیث کی راویہ بھی وہ خود ہی ہیں۔ اس میں کس قدر واضح دلیل ہے کہ خواتین جسمانی سرگرمیوں میں حصہ ضرور لیں مگر کسی اوٹ کے پیچھے اور پردے کے اہتمام کے ساتھ۔

مگر ہمارے اسلامی معاشرے کی مغربی تہذیب کی دلدادہ خواتین اور لڑکیاں اپنی جسمانی سرگرمیوں اور حسن کو میڈیا پر لانے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں… کیا انھیں جنت میں ایسی بلند پایہ خواتین کا ساتھ درکار نہیں ہے؟

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی دوڑ بہت تیز تھی۔ وہ دوڑتے ہوئے سواروں سے آگے گزر جاتے تھے۔ اور ماہر تیر انداز بھی تھے۔ ایک دفعہ بنو غطفان نے رسول اللہﷺ کے اونٹ چُرا لیے تو یہ اکیلے پیدل ہی ان کے تعاقب میں نکلے اور اس معرکے کو سر کیا۔ یہ معرکہ غزوۂ ذی قرد کے نام سے معروف ہے۔ اس کی تفصیل صاحبِ واقعہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ یوں بیان کرتے ہیں: میں فجر کی اذان سے پہلے نکلا۔ اس وقت آپﷺ کی اونٹنیاں ذی قرد میں چر رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد مجھ سے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ملے۔ اور کہنے لگے: رسول اللہﷺ کی اونٹنیاں چوری ہو گئی ہیں۔ میں نے کہا: کس نے چرائی ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ غطفان نے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تین بار زور دار آواز سے ’یا صبا حاہ‘ پکارا۔ پھر میں غطفان کے تعاقب میں چل نکلا اور میں نے ذی قرد میں انھیں جا لیا۔ وہ وہاں پانی پینے ہی لگے تھے۔ میں تیر انداز بھی تھا۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیے۔ اور میں یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا:

أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ       وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ

’’میں اکوع کا سپوت ہوں۔ آج پتہ چل جائے گا کس نے ماں کا دودھ پیا ہے۔‘‘

بعد ازاں میں نے وہ اونٹنیاں اُن سے چھڑوائیں اور ان سے تیس چادریں بھی چھینیں، پھر واپس آیا۔ آپﷺ کو رووداد سنائی… پھر جب مدینہ داخل ہوئے تو رسول اللہﷺ نے اپنی مبارک اونٹنی پر اپنے پیچھے مجھے سوار کیا ہوا تھا۔(صحیح مسلم: 1806، 1807)

5۔ پیدل چلنا (Walking)

رسول اللہﷺ کی پیدل چلنے کی رفتار بھی قدرے تیز ہوا کرتی تھی جو بجائے خود ایک عمدہ ورزش ہے، خاص کر جب وقار اور تیزی سے چلا جائے۔ حدیث میں آتا ہے: ’’رسول اللہﷺ ایسے چلتے تھے جیسے ڈھلان سے اُتر رہے ہوں۔‘‘ (السلسلۃ الصحیحۃ:5؍ 120)

اور آپﷺ عیدگاہ بھی پیدل تشریف لے جاتے، اسی طرح میت کے ساتھ پیدل چلتے اور صحابہ کو مسجد کی طرف چل کر آنے کی ترغیب بھی دیتے۔ آپﷺ کے سفر طائف کی بہت سی تفصیلات تو موجود ہیں مگر سواری کا تذکرہ نہیں ملتا، اسی طرح راہِ ہجرت میں بہت سا سفر پیدل طے فرمایا۔ الغرض! تعلیمات نبویہ میں پیدل چلنے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ جدید تحقیق میں چہل قدمی (Walk) کو جسمانی صحت میں بڑی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ اور ڈاکٹر اس کی بڑی تاکید کرتے ہیں۔ صحت مند رہنے کے لیے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

6۔ نشانہ بازی

سیدنا عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، جبکہ آپﷺ منبر پر جلوہ افروز تھے، فرما رہے تھے: ’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ ’’اور ان (دشمنوں) کے لیے تم مقدور بھر قوت تیار رکھو۔‘‘ (سورۃ الأنفال: 60) متنبہ ہو جاؤ! (یہاں) قوت سے مراد ’رمی‘ ہے۔‘‘ یہ آپﷺ نے تین مرتبہ فرمایا۔ (صحیح مسلم: 1917)

’’رمی‘‘ کے معنی عربی زبان میں پھینکنے کے ہیں۔ اور جو بھی چیز دشمن کی طرف پھینکی جائے، خواہ وہ تیر ہو، گولی ہو، گولہ ہو، میزائل ہو وہ اس میں آجاتی ہیں۔ اور پھینکنے کے لیے قوت اور نشانے کا ہونا ضروری ہے۔ بڑی قوت سے کوئی چیز پھینکی جائے مگر ہدف تک نہ پہنچے تو بھی بے مقصد اور اگر ہدف تک پہنچ جائے مگر اس میں زور اور رفتار نہ ہو تو بھی بے مقصد۔ غرضیکہ ایسی ساری سرگرمیاں جسم کو چست رکھنے کے لیے تھیں۔ نشانہ بازی آج بھی ہماری سپورٹس اور خصوصاً عسکری تربیت کا اہم حصہ ہے۔ قدیم دور میں زیادہ تر تیر اندازی ’’پھینکنے‘‘ کے مفہوم میں آتی تھی۔ اس وجہ سے ’’رمی‘‘ کے معنی تیر اندازی کے بھی ہیں۔

7۔ تیر اندازی

نبی کریمﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین تیر اندازی کے مقابلے کرواتے تھے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اسلم قبیلے کے چند افراد کے پاس سے گزرے۔ وہ آپس میں تیر اندازی کر رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: «إِرْمُوا بَنِي إِسْمَاعِیلَ فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا، اِرْمُوا فَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ» ’’اسماعیل علیہ السلام کے فرزندو! تیر اندازی کیا کرو۔ تمھارے باپ اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے۔ تم تیر اندازی کرو اور میں فلاں قبیلے کی ٹیم کی طرف ہوں۔‘‘

مدمقابل ٹیم نے تیر پھینکنے ہی روک دیے۔ نبیﷺ نے ان سے فرمایا: «مَالَکُمْ لَا تَرْمُونَ» ’’تمھیں کیا ہوا ہے کہ تم تیر نہیں چلا رہے؟‘‘

وہ کہنے لگے: ہم کیسے تیر چلائیں، جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں؟ نبیﷺ نے فرمایا

: «إِرْمُوا فَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ» ’’تم تیر اندازی کرو! میں تم سب کے ساتھ ہوں۔‘‘

8۔ اپنی اہلیہ کے ساتھ کھیل کود

نبی کریمﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوڑ کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے۔ ایک حدیث میں نبیﷺ نے فضول کھیلوں اور اللہ کے ذکر سے غفلت کے جرم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ آدمی اپنی اہلیہ کے ساتھ کھیل کود کرے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ: 315)

بعض لوگ بڑے اچھے سپورٹس مین ہوتے ہیں مگر اپنی اہلیہ یا گھر والوں سے سنجیدہ سنجیدہ، کھچے کھچے، بجھے بجھے اور غصے غصے رہتے ہیں۔ گھر والوں کے ساتھ کھیل کود مستحب اقدام ہے۔ اس سے ان کی صحت پر اور خود اپنی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِهِ»

’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 1977)

یعنی کسی کا اعلیٰ اخلاق دیکھنا ہے تو گھر میں دیکھا جائے۔ باہر تو اچھا نظر آنے کے لیے لوگ بناوٹی اخلاق بھی اختیار کر لیتے ہیں۔

9۔ تیرا کی (Swimming)

سابقہ ہیڈنگ میں جس حدیث کی طرف اشارہ ہے، اس میں ’’تیراکی‘‘ کو بھی نبیﷺ نے ممنوع کھیلوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ اور امت کو شوق دلایا ہے کہ وہ تیراکی سیکھیں۔ نبیﷺ نے تیراکی کا ذکر فرمایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اس سے آگاہ تھے اور یہ ان کے ہاں رائج تھی۔ اس لیے آپﷺ نے فرمایا کہ تیراکی بھی ذکر اللہ سے غفلت کے زمرے میں نہیں آتی۔ تیراکی میں انسان کو جس قوت اور سٹیمنے کی ضرورت ہے وہ سب پر واضح ہے۔

10۔ نیزہ بازی

عید کا موقع تھا۔ مسجد نبوی میں اہل حبشہ اپنے نیزوں کے ساتھ کرتب دکھا رہے تھے۔ نبی کریمﷺ حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کھڑے ان کی سرگرمیاں دیکھ رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا تو میں نے عرض کی یا آپﷺ نے فرمایا کہ تم یہ دیکھنے کا شوق رکھتی ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور اپنی چادر مبارک سے مجھے اوٹ میں لے لیا۔ (میں پیچھے اسطرح کھڑی تھی کہ) میرا رخسار آپﷺ کے رخسار پر تھا۔ آپﷺ فرما رہے تھے:  «دُونَکُمْ یَا بَنِي أَرْفِدَةَ» ’’بنو ارفدہ! لگے رہو!‘‘ پھر جب میں تھک گئی تو آپﷺ پوچھنے لگے: ’’بس!!‘‘ میں نے عرض کی: جی ہاں! فرمایا: تو تم چلی جاؤ۔‘‘ (صحیح بخارى: 950، 454)

نبی کریمﷺ کی اس موقع پر موجودگی بلکہ مشاہدہ اور اپنی اہلیہ محترمہ کو مشاہدہ کرانا عید کے موقع پر ایک اچھی انٹرٹینمنٹ تھی۔ آپﷺ ان امور کو بھی وقت دیا کرتے تھے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے ذاتی جذبات کی بنا پر ایسی سرگرمیوں کو جائز نہ سمجھتا ہو جیساکہ مسجد نبوی میں حبشیوں کے اس کھیل کے دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو انھوں نے زمین سے کچھ کنکریاں لے کر ان کی طرف پھینکیں اور انھیں روکنا چاہا۔ آپﷺ  نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انھیں کچھ نہ کہو۔ اور حبشیوں سے فرمایا: «أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ» ’’بلاخوف و خطر جاری رکھو اے بنی ارفدہ‘‘ (صحیح بخارى: 944)

اس قدر اہم ذمہ داریوں اور مصروفیات کے باوجود جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور وقت کے رائج جائز کھیلوں کو وقت دینا بتاتا ہے کہ آپﷺ راہنمائے کاملﷺ ہیں۔

صفائی ستھرائی کا اہتمام

ان سب جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نظافت اور صفائی کا خیال رکھنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔ صفائی کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔(مسند أحمد:5؍ 344)

مسواک کے ذریعے دانتوں کی صفائی کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔ پھر ہر نماز کے لیے وضو کا حکم ہے۔ یہ سب اقدامات بھی صحت مندانہ سرگرمیوں کا ثبوت ہیں۔ خصوصاً کرونا جیسی وباؤں میں اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے اور وضو سے بہتر کوئی سنیٹائزر نہیں۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا:

«لِلّٰہِ تَعَالیٰ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ حَقٌ أَنْ یَّغْتَسِلَ فِي کُلِّ سَبْعَةِ أَیَّامٍ یَوْمًا»

’’مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی خاطر ہفتے میں ایک بار ضرور غسل کرے‘‘ (صحیح بخارى: 898)

نبی کریمﷺ کے اس فرمان کو اگر ہم آج کے حساب سے دیکھیں گے تو اس کی انفرادیت و اہمیت کو نہیں سمجھیں گے مگر اس تناظر میں دیکھیں کہ اس دور میں یہ فرمان جاری ہوا جب غسل کی طرف لوگوں کا مطلق رجحان نہ تھا اور صفائی ستھرائی کا کوئی شعور تک نہ تھا تو تب اس فرمان مبارک کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ لوگوں کے اندر اس موجودہ زمانے میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے باقاعدہ شعور اجاگر ہوا ہے اس سے پہلے تو قرون وسطیٰ (پانچویں صدی سے سولہویں صدی تک) یورپ کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔ اس بات کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ سسلی اور جرمنی کے بادشاہ فریڈرک ثانی (1212ء تا 1250ء) پر پاپائے روم نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ الزامات کی فہرست میں یہ بھی تھا کہ وہ مسلمانوں کی طرح ہر روز غسل کرتا ہے۔ اسی طرح فلپ روم (1556ء تا 1598ء) نے سپین میں تمام حمام حکماً بند کرا دیے کیونکہ ان سے مسلمانوں کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ اسی بادشاہ نے اشبیلیہ کے گورنر کو محض اس لیے معزول کر دیا تھا کہ وہ روزانہ ہاتھ منہ دھوتا تھا۔ (یورپ پر اسلام کے احسان، ص: 76۔77)

یہ تھیں سپورٹس کے متعلق نبی کریمﷺ کی چند راہنمائیاں جن سے مسلم معاشرے کی سپورٹس سے متعلقہ سرگرمیوں اور ان کے مقاصد کا اندازہ ہوتا ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں