سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچنے کے لیے 5 مفید تجاویز۔ڈاکٹر عمران اسلم

نبی کریمﷺ نے ہمیں میسر وقت سے فائدہ اٹھانے کی نصیحت کی ہے، اس سے پہلے کہ ہم مصروف ہو جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں ایک الگ طرح کی مشکل کا سامنا ہے۔

کوئی بڑی مصروفیت نہ ہونے کے باوجود بھی ہم نے خود کو مصروف کر لیا ہے۔ ہم میں سے اکثریت سوشل میڈیا سے متعلق روزانہ کی ایک لگی بندھی روٹین سے گزرتی ہے۔ روزانہ اپنے کام کے دوران ہم نے فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب کے چکر ضرور ہی کاٹنے ہوتے ہیں۔ اور ہم ان سائیٹس کو وزٹ کرتے ہوئے سوچتے بھی نہیں ہم کیا دیکھ رہے ہیں، اصل میں ہماری پروگرامنگ ہی اس طرح کی ہو جاتی ہے کہ بے اختیار ہم انہیں بے سوچے کھولتے چلے جاتے ہیں۔ ہم موبائل فون پکڑتے ہیں اور وہی طریقہ کار دہرانے لگتے ہیں جو ہمارے دماغوں میں راسخ ہو چکا ہوتا ہے۔

ٹیکسٹ، فیس بک، ٹویٹر، ای میل، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ اور جانے کیا کیا۔

پورا دن بِتانے کے بعد جب ہم گھر لوٹتے ہیں تو ذہنی طور پہ تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ کوئی پوچھے تو ہمارا جواب ہوتا ہے:

’’بہت مصروف دن گزرا۔‘‘

حقیقت یہ ہوتی ہے حقیقی معنوں میں کچھ نہ کرنے کے باوجود بھی ہم نے ایک مصروف دن گزارا ہوتا ہے۔ یہ ایک طرح کا خود کو مطمئن کرنے اور دوسروں کے سامنے یہ شو کروانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ میں بڑا مصروف بندہ ہوں۔ اور انداز ہوتا ہے کہ جیسے میں کوئی کارنامہ سرانجام دے رہا ہوں، حقیقت چاہے یہی ہو کہ کوئی گیم کھیل کے وقت گزارا جا رہا ہو۔

اس کے بعد گھر میں ہم ٹی وی کےسامنے ٹانگیں پسارے براجمان ہو جاتے ہیں۔ ہماری فیملیز بھی اسی پریکٹس کو دہرانے لگتی ہیں۔

ایسی صورت میں ہمیں اب کیا کرنا ہے؟

یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ہم اُن چیزوں کو ایک دم سے چھوڑ دیں جو ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ ہم آپ کو کچھ ایسی تجاویز بتانے جا رہے ہیں جو سوشل میڈیا کے تعلق سے آپ کو اپنا رویہ بہتر بنانے اور وقت کے بہتر استعمال میں مدد دیں گی:

سارے نوٹیفیکیشنز (Notifications)بند کر دیجئے:

ایک زمانہ تھا کہ کسی دور بیٹھے شخص سے بات کرنے کے لیے سو جتن کرنے پڑتے تھے کبھی خط بھیجو تو کبھی کچھ اور۔ اب ہم میں سے ہر ایک ضرورت سے زیادہ ’دستیاب‘ ہو گیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے آپ فیس بک یا انسٹاگرام وغیرہ کو فوراً ڈیلیٹ کر دیں۔ لیکن اس حوالے سے آپ کو اپنے رویہ پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔

نوٹیفیکیشن(Notifications) آپکو ان ایپس (Apps) کے بارے میں اس وقت سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے جب آپ کچھ اور سوچ رہے ہوتے ہیں۔ نوٹیفیکیشن بند کرنے سے آپ ان ایپس کو اپنی شرائط پہ تب ہی استعمال کریں گے جب آپ ان کے بارے میں سوچنا پسند کریں گے۔

ان ایپس کے نوٹیفیکشنز (Notifications) بند کر دیجیے:

 فیس بک میسنجر

 واٹس ایپ گروپس

 فیس بک

 ٹوئیٹر

 ای میل وغیرہ

ایسے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے میں کوئی اہم چیز مِس (Miss) کر دوں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے پاس موبائل فون ہے نا!! اگر کوئی چیز ارجنٹ ہو گی تو وہ بندہ خود آپ سے کال پہ رابطہ کر سکتا ہے۔

پروڈکٹو ایپس کو سوشل ایپس کی جگہ رکھیے

اگر ایک دن میں آپ فیس بک کو 60 سے زائد بار وزٹ کرتے ہیں تو آپ کو خود پہ کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا درست طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ خود کو مجبور کریں کہ میں نے فیس بک کو کھولنا کم کرنا ہے، یا اسے عارضی طور پہ ڈی ایکٹیویٹ کرنا ہے۔اس کے لیے اچھی خاصی انرجی چاہیے ہو گی، اور اس سب کے سامنے بہت ممکن ہے کہ آپ ہار جائیں۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ دل پہ ہاتھ رکھ کے اُس ایپ کو ڈیلیٹ کر دیجئے جس پہ آپ زیادہ ٹائم بتِاتے ہیں۔ مثال کے طور پہ اگر وہ فیس بک ایپ ہو تو اسے ڈیلیٹ کر دیجئے۔ فیس بک استعمال ضرور کیجئے لیکن اپنے فون سے نہیں۔

اور جہاں فیس بک کا آئیکن تھا اسی جگہ پہ کسی مفید ایپ کو رکھ دیجئے۔ اب عادتاً جب آپ اسی جگہ پہ کلک کریں گے تو وقت کے ضیاع کے بجائے کچھ اچھا کھلے گا۔

اَن فرینڈ(Unfriend)، اَن فالو(Unfollow)، اَن سبسکرائب(Unsubscribe)

اپنی لسٹ پہ نظر دوڑائیے۔ ایسے کئی لوگ ہوں گے جو آپ کے دماغ پہ بلاوجہ کا بوجھ بنے ہوں گے۔ اور آپ کا اچھا خاصا وقت کھا جاتے ہوں گے۔ ان سے فوراً چھٹکارا پائیے۔ ایک انجانا خوف ہمیں کسی کو ان فالو(Unfollow) کرنے سے روکتا ہے۔ لیکن بے دھڑک ہو اس بارے میں قدم اٹھائیے۔ ایک وقت تھا کہ میں 100 بلاگز کو فالو(Follow) کیا کرتا تھا لیکن اب وہ تعداد گھٹ کر 15 ہو گئی ہے۔ پھر بھی میں 95 فیصد بے مقصد پوسٹس پڑھے بغیر ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔

یہ ایک دفعہ کی کوشش آپ کو دماغ کو درست اور مفید چیزوں پر فوکس کرنے میں بہت مدد دے گی۔

فیس بک فرینڈز کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارئیے:

آپ نے بہت دفعہ دیکھا ہو گا کہ کسی ریسٹورنٹ میں کچھ دوست بیٹھے کھانا کھا رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے موبائل نے ان پہ قبضہ جمایا ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انھوں نے اسی طرح کی مجلس کرنی تھی تو یوں ملنے کی زحمت ہی کیوں کی؟

اگلی دفعہ یوں کر کے دیکھیے کہ جب آپ کچھ لوگ اکٹھے ہوں تو سب کے فون لے کے کسی ایک جگہ رکھ دیجئے۔ حقیقت کو انجوائے کرنے پہ توجہ مرکوز کیجئے اور کھانے اور مجلس کا لطف دوبالا کیجئے۔ یہ بات بھی طے کر سکتے ہیں کہ جس نے پہلے فون پکڑا اسے بل ادا کرنا پڑے گا۔

فیملی ڈیوائیسز (Devices)سے کچھ وقت کے لیے دوری

اپنے گھر میں کم از کم کوئی ایک گھنٹہ ایسا رکھیے جس میں کسی کو بھی کوئی بھی سکرین استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو۔ اس ایک گھنٹے میں سب کی ڈیوائیسز(Devices) لے کے کسی ایک جگہ رکھ دیں۔ اور ایک دوسرے سے گپ شپ کریں۔ اس کے بعد دیکھیے گا آپ کے اہل خانہ کا باہمی تعلق کتنا مضبوط ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

اپنی زندگی کو جانچنے کا بہترین آلہ وقت ہے۔ جتنا زیادہ ہم اپنی زندگی کا کنٹرول میڈیا کے ہاتھ میں دیں گے اتنا ہی زندگی ہمارے کنٹرول سے نکلتی جائے گی۔تو ان ٹپس پہ ضرور عمل کیجئے۔

٭٭٭

علماء ربانیین کی فضیلت کے سلسلے میں

امام آجری ﷫ کا ایک بہترین قول

امام محمد بن الحسين الآجری ﷫ فرماتے ہیں:

علماء کیلیے تمام صورتوں میں بھلائی ہے۔

طلب علم کے لیے نکلنے میں ان کیلیے فضیلت ہے۔

ان کا علماء کے ساتھ بیٹھنا فضیلت والا کام ہے۔

ایک دوسرے کے ساتھ مل کر علم کا مراجعہ کرنے میں ان کے لیے فضیلت ہے۔

جن سے انہوں نے علم سیکھا ان سے سیکھنے میں ان کیلیے فضیلت ہے۔

جن طلاب کو انہوں نے علم سکھایا ہے ان کے سکھانے میں ان کےلیے فضیلت ہے۔

اس طرح سے اللہ رب العالمین نے علماء کیلیے کئی ایک اعتبار سے فضیلتیں جمع کر رکھی ہے۔

اللہ رب العالمین ہمیں اور ان علماء کے لیے اس علم کو نفع بخش بنائے۔

(اخلاق العلماء للآجری)

٭٭٭٭

توبہ بہترین دن

علامہ ابن القیم ﷫ نے فرمایا:

“خير أيام العبد على الاطلاق وتفصلها يوم توبته إلى الله.”

’’بندے کا سب سے بہترین دن وہ ہے جس میں وہ اللہ سے توبہ کرتا ہے۔‘‘

(زاد المعاد: 3؍585)

تبصرہ کریں