صلہ رحمی۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

صلہ ٔرحمی کے معنی ہیں رحمی رشتوں کو جوڑ نا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کے حقوق ادا کرنا، رحمی رشتوں کا مطلب وہ رشتے ناطے ہیں جن کا تعلق رحم مادر سے ہے، جیسے ماں باپ اور بیٹے بیٹیاں اور ہر وہ رشتہ جو ان سے متعلق ہے، جیسے ماں سے متعلق رشتوں میں نانا نانی، پرنانا پر نانی اور ان سے اوپر جہاں تک یہ سلسلہ جائے، اسی طرح بھائی اور بہنیں، خالائیں اور ماموں، بھانجے اور بھانجیاں۔ باپ سے متعلق رشتے جیسے دادا، دادی، پر دادا، پردادی اور او پر جہاں تک یہ سلسلہ جائے، اسی طرح تایا اور چچا، بھتیجے اور بھتیجیاں۔ بیٹوں سے متعلق رشتے جیسے پوتے، پر پوتے، پوتی، پر پوتی اور ان سے نیچے جہاں تک یہ سلسلہ جائے۔ بیٹیوں سے متعلق رشتے جیسے نواسے، نواسیاں،پرنواسے،پرنواسیاں اور نیچے جہاں تک یہ سلسلہ جائے۔

اردو میں صلہ ٔرحمی کے الفاظ کا استعمال عام ہے، رحمی رشتہ داروں کے لئے بھی اور غیر رحمی رشتہ داروں کے لئے بھی بلکہ رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کو صلہ ٔرحمی کہا جاتا ہے، مگر عربی زبان میں صلۃ الرحم (صلہ ٔرحمی ) کے الفاظ رحمی رشتوں کے لئے خاص ہیں، چنانچہ اس مناسبت سے ہم یہاں انسان کے سب سے قریب ترین ذوی الارحام یعنی رحمی رشتہ داروں کے مسائل ذکر کررہے ہیں۔

قرآن وحدیث میں صلہ رحمی کا حکم

صلہ ٔرحمی کرنے سے جہاں نیک نامی ہوتی ہے، وہیں یہ بہت ہی بڑے اجر و ثواب کا کام ہے اور یہ جنت میں داخلہ کا سبب ہے اور صلہ ٔرحمی کرنے والوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اللہ کے ساتھ تعلق استوار ہو جاتا ہے، جیسے ارشادربانی ہے:

﴿إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ 0‏ الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ الْمِيثَاقَ 0 وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ0 وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ 0 جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ﴾ (سورۃ الرعد: 19 تا 23)

’’نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں، جواللہ کے عہد (و پیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول واقرار کوتوڑتے نہیں اور اللہ نے جن چیزوں کا جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتی ہیں، اور وہ اپنے رب کی رضا مندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں، ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے، ہمیشہ رہنے کے باغات، جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ داداؤں اور بیویوں اور اولادوں میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے۔‘‘

مذکورہ بالا آیات میں جنت میں داخلہ کی مختلف صفات میں ایک اہم صفت : وَالَّذِينَ يَصِلُونَ …. اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں۔۔۔۔ یعنی صلہ ٔرحمی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اس لئے اس کا پورا کرنا اور اس سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا کہ کہیں اس میں کمی کوتاہی نہ ہو جائے اور ہم اللہ کے غضب میں گرفتار نہ ہوجائیں۔

اس سلسلہ میں اللہ کے رسول کریم ﷺکی حدیث ملاحظہ ہو:

سیدنا ابوایوب انصاری روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! آپ مجھے وہ بات بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے اور جہنم سے دور کرے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :

’’تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔ جب وہ شخص واپس ہوا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگروہ میری ان باتوں پرعمل پیرا ہوگا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

صلہ ٔرحمی کے فوائد

صلہ ٔرحمی کرنا عمر کی درازی اور رزق کی فراوانی کا سبب ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)

اس لئے کہ جب کوئی شخص صلہ ٔرحمی کرتا ہے تو اس میں اس کا وقت بھی صرف ہوتا ہے اور مال بھی۔ اس کا بدلہ اللہ پاک دنیا میں یوں دیتے ہیں کہ اس کی عمر اور مال و دولت دونوں میں برکت اور وسعت عطا فرماتے ہیں اور آخرت میں جنت……

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صلہ ٔرحمی کرنے سے رشتہ داروں میں محبت، مال و دولت میں وسعت اور عمر میں برکت نصیب ہوتی ہے۔(جامع ترمذی)

رحم کا لفظ رحمن سے مشتق ہے، جیسا کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

الرحم شجنة من الرحمن……

’’رحم کا لفظ رحمن سے مشتق ہے، اس لئے رحمن (اللہ) نے رحم مادر سے فرمایا کہ جو تجھے جوڑے گا میں بھی اسے جوڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا میں بھی اسے کاٹوں گا۔‘‘ (صحیح بخاری)

اس لفظی اشتراک کے ساتھ ساتھ اس میں معنوی اشتراک بھی پایا جاتا ہے، یعنی جس طرح رحمن کے معنی بہت زیادہ مہربان کے ہیں، اس کی یہ رحمانیت عام ہے، دنیا والوں پر بھی اور آخرت والوں پر بھی، نیک لوگوں پر بھی اور بُرے لوگوں پر بھی، مومنوں پر بھی اور کافروں پر بھی، اہل حق پر بھی، اہل باطل پر بھی، اسی طرح رحمی رشتوں کے ساتھ پیار و محبت اور رحمت و شفقت کا عنصر غالب ہونا چاہئے،حتیٰ کہ رحمی رشتہ دار کا فر و مشرک بھی ہوں تو ان کے ساتھ بھی رحمت و محبت کا جذبہ باہم موجود ہونا چاہئے، جیسا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں، جبکہ وہ مشرکہ اور کافرہ ہیں، تو آپﷺ نے جواب دیا کہ ہاں ان کے ساتھ بھی صلہ ٔرحمی کرو۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :’’ رحم مادر، عرش کو پکڑے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ جو مجھے ملائے (صلہ رحمی) کرے، اللہ اسے ملائے اور جو مجھے کاٹے (قطع رحمی کرے)اللہ اسے کاٹے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

کسی لونڈی یا غلام کو آزاد کر دینے سے زیادہ اجر وثواب صلہ ٔرحمی کرنے میں ہے، جیسا کہ ام المؤمنین حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبیﷺ سے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺمیں نے اپنی باندی کو آزاد کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :

’’ کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں! آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو تم بڑے اجر کی مستحق ہوتیں۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ مخلوق کی تخلیق سے فارغ ہوئے تو رحم، رحمٰن کی کمر سے چمٹ گیا، رحمٰن نے کہا، کیا بات ہے؟ تو رحم نے کہا کہ قطع رحمی سے تیری پناہ لینے کی یہی جگہ ہے، رحمٰن نے کہا کہ کیا تو اس پر خوش نہیں ہے کہ جو تجھ کو ملائے گا، میں بھی اسے اپنے سے ملاؤں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں بھی اسے اپنے سے کاٹ دوں گا،تو رحم نے اس پر خوشی و رضامندی کا اظہار کیا اوررحمٰن نے اسی پر اپنافیصلہ فرمادیا۔ ‘‘ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

صلہ ٔرحمی کے تعلق سے ایک واقعہ

امین اور مامون دونوں ہارون الرشید کے بیٹے تھے، امین ملکہ زبیدہ کے بطن سے تھا اور مامون ایک لونڈی کے بطن سے، جس کا نام مراجل تھا۔ ہارون الرشید کی وفات پر امین تخت پر بیٹھا جو بڑا عیش پسند تھا، پھر اس نے اپنے دودھیے بچے کو ولی عہد بنانا چاہا، حالانکہ بموجب تحریر ہارون الرشید، اس کا ولی عہد مامون تھا، اس پر دونوں بھائیوں میں سخت لڑائی ہوئی، جس میں امین مقتول ہوا اور مامون تخت خلافت پر بیٹھا تو زبیدہ (والدۂ امین مقتول) نے مامون کے نام یہ خط لکھا:

’’اے امیر المؤمنین! ہر ایک قصور اگر چہ وہ بڑاہی ہو تیری بخشش کے سامنے چھوٹا ہے اور ہر ایک لغزش خواہ وہ کتنی بڑی ہو، تیری درگزر کے مقابلے میں بالکل حقیر ہے۔ اور یہ ایسی با تیں ہیں جن کا خدا نے تجھے خوگر بنایا ہے۔ پس خدا تیری عمر دراز کرے اور تیری نعمت عام کرے اور بھلائی کو تیرے ذریعہ ہمیشہ رکھے اور برائی کو تجھ سے دور کرے۔ یہ اس غمگین کا رقعہ ہے جو زندگی میں مصائب زمانہ کو دور کرنے کے لئے تیری امیدوار ہے اور مرنے کے بعد تجھ سے اچھے ذکر کی امید رکھتی ہے۔ پس تم اگر میری ضعیفی، عاجزی اور قلت ِحیلہ پررحم کرنا مناسب سمجھتے ہو اور اس بات کو اچھا خیال کرتے ہو تو مجھ سے صلہ ٔرحمی کرو اور برضا و رغبت اس چیز میں ثواب کی امید رکھو کہ جس کے لئے تمہیں خدا نے بنایا ہے تو کرو اور اس شخص کو یاد کرو جو اگر زندہ ہوتا تو تجھ سے میری شفاعت کرتا۔‘‘

جب مامون اس رقعہ پر مطلع ہوا تو اپنے سوتیلے بھائی پر رویا اور اپنی سوتیلی والدہ زبیدہ کے لئے نہایت نرم ہوا اور اس کی طرف یہ خط لکھا:

رشتۂ عمر آمد شاید بدست آوردہ است

ہر کسے بر مرگ دشمن شادمانی می کنند

’’اے والدہ! خدا تیری نگہبانی کا متولی ہو، تیرا رقعہ ملا اور میں اس پر مطلع ہوا۔ خدا شاہد ہے کہ وہ تمام باتیں جو تو نے اس میں لکھی ہیں، مجھے بھی بری معلوم ہوئی ہیں،مگر کیا کروں، تقدیر یں نافذ ہوتی ہیں اور مامور تصرف کرتے رہتے ہیں اور احکام جاری ہوتے ہیں اور تمام خلقت ان کے قبضے میں ہے اور کوئی ان کے دفع کرنے پر قادر نہیں، سب دنیا پراگندہ ہے اور ہر زندہ موت کی طرف جانے والا ہے۔ غدر و بغاوت انسان کی موت کا باعث ہیں اور شکر کا فائدہ شاکر کی طرف لوٹتاہے۔ میں نے ان تمام چیزوں کو واپس کرنے کا حکم دیا ہے، جو تجھ سے لی گئی تھیں اور اب تو سوائے مرنے والے یعنی امین تو ہاتھ نہیں آسکتا مگر باقی تمام اشیاء جو اس وقت تیرے پاس تھیں ویسی ہی مہیا کی جائیں گی اور میں بعد از یں تیرے لئے ان چیزوں سے بھی زیادہ کا ذمہ دار ہوں جو تو پسند کرے گی۔‘‘ (مخزن اخلاق، تالیف رحمت اللہ سبحانی، ناشر کتب خانہ حمید یہ، دہلی)

تبصرہ کریں