صلہ رحمی اور صلح کرانا۔خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بعیجان

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے وہی صاحبِ ہدایت ہے۔ اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، امت کو نصیحت کی اور اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کیا، یہاں تک کہ وہ رفیق اعلیٰ سے جا ملے۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، صحابہ کرام پر، اور قیامت تک آپ ﷺ کی ہدایت پر عمل کرنے والوں اور سنت کے پیروکاروں پر۔

بعدازاں! بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ محمد بن عبد اللہ ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لےجاتی ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ کے احکام کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ جن چیزوں سے اس نے منع کیا اور ڈانٹا ہے ان سے بچ جاؤ۔

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (سورۃ النساء: 1)

’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘

اے مسلمانو! صلہ رحمی، مودت، اچھا ساتھ اور محبت، ساتھ نبھانا، وفا داری کرنا اور اخوت کا خیال کرنا، یہ سب عبادتیں ہیں، اللہ کا قرب کمانے کے ذرائع ہیں، بلکہ ایسے حقوق ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے، اور جن پر اجر وثواب کا وعدہ کیا ہے، انہیں چھوڑنے پر گناہ اور سزا کی وعید سنائی ہے۔ ان احکام کی ابتداء والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے ہوتی ہے، پھر حقوق الزوجین ہیں، پھر صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا تعلق ہے، پھر ہمسایوں اور دوستوں کے حقوق ہیں، اور پھر اجنبی مسلمانوں کے حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (سورۃ الْحجرات: 10)

’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾

’’تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔‘‘ (سورۃ الانفال: 1)

سیدنا انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لا يُؤْمِنُ أحدُكم حتَّى يُحِبَّ لأخيه ما يُحِبُّ لِنَفْسِهِ” (متفق علیہ)

’’تم میں سے کوئی شخص صحیح معنوں میں مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرنے لگے جو خود کے لیے کرتا ہے۔‘‘

اسی طرح سیدنا نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

“مثل المؤمنين في توادهم، وتراحمهم، وتعاطفهم مثلُ الجسدِ إذا اشتكى منه عضوٌ تداعى له سائرُ الجسدِ بالسَّهَرِ والحُمَّى” (صحیح مسلم)

’’اہلِ ایمان کی مودت، رحم دلی، اور باہمی شفقت کی مثال ایک جسم کی سی ہے، جس کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں رہتا ہے۔‘‘

سنو! اس مودت، رحم دلی اور شفقت کے سب سے بڑے حقدار قریب ترین تعلق دار ہیں، جن کا آپ سے تعلق رحمِ مادر سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام نے ایسے لوگوں میں اتحاد واتفاق اور یکسانیت قائم رکھنے کی بہت کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (سورۃ الروم: 38)

’’قرابت دار، مسکین اور غربت زدہ مسافر کو اس کا حق دے دو کہ یہ ان لوگوں کے حق میں خیر ہے جو رضائے الہٰی کے طلب گار ہیں اور وہی حقیقتا نجات حاصل کرنے والے ہیں۔‘‘

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ كان يؤمِنُ باللهِ واليومِ الآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ” (صحیح بخاری)

’’جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘

اے لوگو! لڑائی، جھگڑے اور نفرت، قطع تعلقی، ناراضگی اور دوری، کینہ اور کدورتیں، دشمنی اور بغض اور دل میں رنجشوں کو بڑھانے والا حسد اور کینہ وغیرہ، یہ سب چیزیں خرابی اور فساد کی جڑ سمجھی جاتی ہیں، ان ہی کی وجہ سے قطع رحمی کی جاتی ہے اور رشتہ داروں سے تعلق ٹوٹتے ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے زوجین میں اور پیاروں میں جدائیاں ہوتی ہیں، ان ہی کی وجہ سے بھائیوں اور دوستوں کے تعلق خراب ہوتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لَا ‌تَحَاسَدُوا، ‌وَلَا ‌تَنَاجَشُوا، ‌وَلَا ‌تَبَاغَضُوا، ‌وَلَا ‌تَدَابَرُوا، ولا تَجَسَّسُوا، ولا تَحَسَّسُوا، وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا كما أمَركم اللهُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا -وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-، بِحَسْبِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ”

’’ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو، ایک دوسرے سے نفرت نہ کرو، ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہ کرو، ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو، ایک دوسرے کی ٹوہ نہ لگاؤ، کوئی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسوا کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے، تقویٰ یہاں ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کر کے یہ جملہ دھرایا۔ انسان کی اتنی برائی کیا کم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنے لگے، مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لیے محترم ہے۔ اس کا خون، اس کا مال، اور اس کی عزت آبرو۔‘‘ (صحیح مسلم)

اے مسلمانو! سخت پریشانی لاحق ہوتی ہے اور دل پھٹنے لگتا ہے، جب ہم دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ایک ہی خاندان کے لوگوں میں قطع تعلقی اور دوری آ گئی ہے۔ شیطان نے ان کے درمیان آ کر انہیں بکھیر دیا، ان کی وحدت کو پاش پاش کر دیا۔

“وما مِنْ ذنبٍ أحرى أن يُعجِّلَ اللهُ العقوبةَ لصاحبِه في الدنيا، مع ما يدخِرُ له في الآخرة، مِنَ البغيِ، وقطيعةِ الرحمِ”.

’’کوئی گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس کے بارے میں سب سے زیادہ یہ خیال کیا جا سکتا ہو کہ اللہ اس کی سزا دنیا میں بھی دے گا اور آخرت کی سزا بھی تیار رکھے گا، سوائے ظلم اور قطع رحمی کے۔‘‘

سنو! تعلق بحال کرنے اور حال چال پوچھنے کو غیر اہم سمجھنے سے الفت ومحبت جاتی رہتی ہے، اس کی وجہ سے اولاد کی تربیت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ تو اللہ کے بندو! تعلق بحال رکھا کرو، رابطہ رکھنے اور زیارت کرنے میں پہل کیا کرو، تعلق توڑنے سے گریز کرو، محبت ومودت کے جذبات کو زندہ رکھو۔

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ (سورۃ آل عمران: 103)

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘

اللہ کے بندو! لوگوں کو معاف کرنا اور ان سے درگزر کرنا، غصہ پی جانا اور ان کی اذیتوں کو برداشت کرنا اللہ کا قرب دلانے والی بہترین عبادت ہے، اس کے سب سے بڑے حقدار قریبی رشتہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾

’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی * جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 133-134)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ (سورۃ الشورى: 43)

’’اوریقینا جو صبر کرے اور معاف کردے تو اس کایہ عمل بڑے حوصلے کا کام ہے۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ ’’برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘(سورۃ الشورى: 40)

تو اپنے نفس کو عفو ودرگزر کی عادت ڈالو اور اللہ سے اجر کی امید رکھو۔ ایک دوسرے کو صبر اور رحمت کی تلقین کرو۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے اختلافات دور کرو، اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ اسی نے انسان کو پانی سے پیدا کیا اور پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔ اسی نے صلہ رحمی کا حکم دیا اور اس پر اجر عظیم کو مترتب کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں گواہی کا اقرار کرتا ہے اور اسے ذخیرہ سمجھتا ہوں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ لوگوں سب سے زیادہ قدر والے ہیں۔ بلند ترین نام والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور بیش بہا سلامتی ہو آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔

اے لوگو! صلح ہی اچھی ہے۔ یہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ صلح کے ذریعے اللہ تعالیٰ کتنی جانوں، کتنے اموال اور کتنی عزتوں کو بچاتا ہے، کتنے فتنوں سے حفاظت عطا فرماتا ہے، کتنے جھگڑوں کا خاتمہ فرماتا ہے، کنتی دوریوں اور دل کی کدورتوں کا ازالہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نےصلح کرنے اور کرانے کا حکم دیا ہے، فتنوں، جھگڑوں اور تنازعوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا کہا ہے، دراڑوں کو پر کرنے، کینہ کو بھول جانے اور کدورتوں کو پس پشت ڈالنے کا کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (سورة الحجرات: 10)

’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [الْأَنْفَالِ: 1]

’’تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ (سورة النساء: 114)

’’لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اُسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے۔‘‘

تو بہت عظیم اجر والی عبادت، پاکیزہ ترین کاموں اور نیکیوں میں صلح کرانا بھی شامل ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

“كُلُّ ‌سُلَامَى ‌مِنَ ‌النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ وَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ” (متفق علیہ)

’’ہر جوڑ کے بدلے انسان کے لیے صدقہ دینا لازمی ہے، وہ بھی ہر طلوعِ آفتاب کے ساتھ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دو بندوں کے درمیان عدل کر دینا بھی صدقہ ہے، کسی کی مدد کر کے اسے سواری پر بیٹھا دینا بھی صدقہ ہے، اس کا سامان سواری پر رکھوا دینا بھی صدقہ ہے، اچھا بول بھی صدقہ ہے، نماز کی طرف اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔‘‘

اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

“أفضلُ الصدقةِ إصلاحُ ذاتِ البينِ” (رواه الطبراني).

’’بہترین صدقہ لوگوں میں صلح کرانا ہے۔‘‘

بعدازاں! اللہ کے بندو! صلح سے امت کو وحدت ملتی ہے، یہ یکجان ہو جاتی ہے، نفس پاکیزہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ دلوں کو جوڑتا ہے، اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ جدائی، تنازعہ اور دوری سے بچاتا ہے، اسی کے ذریعے درپیش مصیبتوں کا خاتمہ بھی کرتا ہے، اسی کی بدولت امت اسلامیہ ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند بن جاتی ہے، ایک جسم کی طرح بن جاتی ہے، جس کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں رہتا ہے۔ سیدنا ابو درداء بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

“أَلَا ‌أُخْبِرُكُمْ ‌بِأَفْضَلَ ‌مِنْ ‌دَرَجَةِ ‌الصِّيَامِ ‌وَالصَّلَاةِ ‌وَالصَّدَقَةِ”

’’کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں جس کا درجہ روزہ، نماز ارو صدقے سے بھی زیادہ ہے؟

صحابہ کرام نے عرض کیا: جی بالکل، ضرور بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“صَلَاحُ ذَاتِ البَيْنِ، ‌فَإِنَّ ‌فَسَادَ ذَاتِ البَيْنِ هِيَ الحَالِقَةُ”

’’لوگوں میں صلح قائم رہنا۔ کیونکہ لڑائی تو مونڈ دینے والی چیز ہے۔‘‘

موڈ دینے والی چیز سے مراد دین اور اجر کو ختم کرنے والی چیز ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور حقداروں کو ان کے حقوق دو۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“‌لَتُؤَدُّنَّ ‌الْحُقُوقَ ‌إِلَى ‌أَهْلِهَا ‌يَوْمَ ‌الْقِيَامَةِ، ‌حَتَّى ‌يُقَادَ ‌لِلشَّاةِ ‌الْجَلْحَاءِ مِنَ الْقَرْنَاءِ”

’’قیامت کے دن تم سب کے حقوق ادا کرو گے، یہاں تک کہ بے سینگ والی بھیڑ بکریوں کا بدلہ سینگ والی بھیڑ بکریوں سے لیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم)

تو اللہ کے بندو! اپنے نفس کا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے، موت سے پہلے اپنی ذمہ داریاں ادا کر دو، حقداروں کے حقوق ادا کر دو۔ مظلوموں کو ان کا حق لوٹا دو، ہر حقدار کو اس کا حق دے دو۔

﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ (سورة المائدة: 8)

’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔‘‘

اے اللہ! ہمیں حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، صلح رحمی میں ہماری مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے اختلافات دور فرما دے! ہمارے دلوں کو کدورت، حسد اور دھوکے سے پاکیزہ فرما۔ اے اللہ! زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے نجات کا سبب بنا۔ اے اللہ! حقوق کی ادائیگی میں ہماری مدد فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم اٹھا نہ سکیں، ہمیں وفا دار اور پرہیز گار بنا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہمیں معاف فرما اور ان لوگوں کو بھی معاف فرما جن کا ہم پر کوئی حق ہے۔

اے اللہ! ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا اور ہمارے دلوں میں اسے مزین فرما۔ کفر، گناہ اور نافرمانی کو ہمارے دلوں میں ناپسند فرما۔ ہمیں راست باز لوگوں میں شامل فرما۔

اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدمی نصیب فرما!

اے اللہ! اے دلوں حا حال بدلنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین کی طرف لے آ!

﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾

’’پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔‘‘(سورة آل عمران: 8)

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب، سنت رسول ﷺ کی نصرت فرما۔

اے اللہ! دنیا میں بھی ہمیں بھلائی دے، آخرت میں بھی ہمیں بھلائی دے۔ اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!

اے اللہ! ہمارے حکمران، خادم حرمین کو اپنی توفیق عطا فرما! اس کی تائید فرما!

اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے دعا سننے والے!

اے اللہ! اس ملک کو امن وسلامتی نصیب فرما! اسی طرح سارے اسلامی ممالک کو بھی محفوظ فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

اے اللہ! ہمارے سرحدوں کی حفاظت فرما! ہمارے پہرہ دار جوانوں کی مدد فرما۔ اے قوت اور عزت والے!

اے اللہ! ہمارے نفس کو پرہیز گار بنا۔ اسے پاکیزہ فرما! تو ہی اسے بہترین طریقے سے پاک کرنے والا ہے۔ تو ہی ان کا ولی اور مولیٰ ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ عظیم وجلیل کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔

﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾ (سورة الْعَنْكَبُوتِ: 45)

’’اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘

٭٭٭

شيخ الإسلام الامام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:

’’متقی ہونے کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ ان سے کبھی کوئی گناہ ہی سرزد نہ ہو، یا وہ خطا و معصیت سے معصوم پیدا کیے گئے ہوں، اگر ایسی کوئی شرط ہوتی تو پوری امت میں کوئی بھی متقی نہ ہوتا۔ متقی تو وہ ہے جو اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے اور جو گناہوں کو مٹا دینے والی نیکیاں کرتا ہے ۔‘‘

( منہاج السنۃ النبویہ: 7؍82)

٭٭٭

امام ملک﷫ فرماتے ہیں:

’’اگر کسی شخص کے گناہ ساری کائنات کے برابر بھی ہوں مگر جب وہ اللّٰہ سے ملے تو سنت (رسولﷺ) کے ساتھ ملے تو وہ شخص جنت میں نبیین ، صدیقین شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا اور یہ بہت اچھی رفاقت ہے۔‘‘

(ذم الکلام واہلہ: 5؍76)

٭٭٭

تبصرہ کریں