صفات باری تعالیٰ؛ چند بنیادی اصول۔فضیلۃ الشیخ عبد الصمد رفیقی حفظہ اللہ

اس دنیا میں رہتے ہوئے حالت بیداری میں جسمانی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ آپﷺ نے خواب میں اپنے رب کو دیکھا۔ فرمایا:

«رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» ’’ میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔‘‘ (جامع ترمذی: 3234)

صحابہ کرام میں سے کسی سے بھی یہ ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ صرف سیدنا عبد اللہ بن عباس اس کے قائل ہیں مگر وہ کبھی یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: 455)

’’سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ جو تم سے بیان کرے کہ محمد (ﷺ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے یقیناً جھوٹ کہا۔‘‘ (صحیح بخاری: 4855)

قیامت کے دن انبیائے کرام﷩کے علاوہ مؤمنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا۔ ارشاد باری ہے:

﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ *‏ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾

’’ کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔‘‘

(سورة القيامۃ: 22-23)

اللہ تعالیٰ کی حقیقت وکیفیت کو پا لینا کسی کے لیے ممکن ہے نہ اس دنیا میں نہ آخرت میں کیونکہ مخلوق محدود ہے اور خالق لامحدود ہے اور محدود مخلوق لا محدود خالق کی حقیقت کو کیسے پا سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے اور ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے موجود ہے کوئی لمحہ بھی اس کی موجودگی سے خالی نہیں ہے۔ اس کی موجودگی پر ایمان لانے سے دیگر موجودات کے ساتھ اس کی مشابہت لازم نہیں آتی کیونکہ وہ اپنی شان کے مطابق موجود ہے، اس پر عدم اور زوال نہیں ہے، جبکہ کائنات کی ہرچیز پہلے موجود نہیں تھی پھر خالق کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی۔

کوئی جگہ بھی اس کے علم، اس کی قدرت اور اس کے کنٹرول سے باہر نہیں ہے۔ ذرے ذرے پر اس کی حکومت ہے ہر چیز اس کی ملکیت میں ہے۔

جب ہم کسی چیز پر غور کرتے ہیں تو لامحالہ طور پر اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ اسے پیدا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت وکاری گری کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ دل میں اس کی عظمت کا احساس پختہ ہوتا ہے اور بندہ پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے لگتا ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی توہین ہے کہ وہ نیچے ہو اور اس کی بنائی ہوئی کوئی چیز اس کے اوپر ہو، لہٰذا حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے ساری مخلوقات سے حتیٰ کہ عرش سے بھی اوپر ہے۔ اس سے اس کا محدود ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ کوئی چیز اس کا احاطہ نہیں کر سکتی لہٰذا وہ اپنی شان کے مطابق عرش کے اوپر بلند وبالا ہے، اپنی شان کے مطابق ہی رات کےآخری حصے میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اپنی شان کے مطابق ہی میدانِ حشر میں فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا بلکہ آج بھی وہ اپنی شان کے مطابق اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہے، اس کی ساری خبریں سچی ہیں، واجب الایمان ہیں۔ ان میں تضاد نہیں ہے۔ تضاد صرف بیمار ذہنوں کو محسوس ہوتا ہے کیونکہ پہلے وہ اللہ تعالیٰ کے معاملات کو مخلوق کے معاملات پر قیاس کرتے ہیں، پھر کچھ لوگ تو مختلف شبہات کا شکار ہو کر اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی سچی خبروں کو متشابہ قرار دیتے ہیں۔ نہ صاف اقرار کرتے ہیں نہ انکار اور کچھ لوگ واقعتاً انکار کی جسارت بھی کر بیٹھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کے اندر داخل نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب سے بڑا ہے اور جو سب سے بڑا ہو وہ چھوٹی چیزوں میں کیوں داخل ہو گا؟ پھر اس کی کیا مجبوری ہے کہ کسی جیز میں داخل ہو؟ جب وہ لامحدود ہے اور ہر مخلوق محدود ہے تو پھر لامحدود خالق محدود مخلوق میں کیوں داخل ہو گا؟

یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ﴿عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ ہے ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ ہر کام بخوبی کر سکتا ہے مگر اس کی آڑ میں من گھڑت کام تو اس کے ذمے نہیں لگائے جا سکتے۔ اس کا وہی کام مبنی برحقیقت ہے جس کی اس نے اجمالی یا تفصیلی طور پر خبر دی ہے اور جس کام کی اس نے خبر ہی نہیں دی خواہ مخواہ اسے فرض کر کے اس کے نام لگا دینا کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ مشابہت سے پاک ذات ہے، لہٰذا کسی مخلوق کو اس کا سایہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کوئی چیز اور اس کا سایہ ایک دوسرے کے مشابہہ ہوتے ہیں اور کوئی جیز اللہ تعالیٰ کے مشابہہ ہے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کے مشابہہ ہے۔ لہٰذا اگر اس خاص معنیٰ میں کسی بادشاہ کو بھی ظل الٰہی کہا جائے گا تو غلط ہو جائے گا۔

جس طرح اللہ تعالیٰ کسی چیز میں داخل نہیں ہوتا اسی طرح کوئی مخلوق بھی اللہ تعالیٰ میں داخل نہ ہوتی ہے نہ ہوسکتی ہے کیونکہ وہ ’الصمد‘ ہے جس کا ایک معنیٰ ہے، ٹھوس ذات جس کے لیے اندر خلال نہیں ہے۔ لہٰذا گر کسی شخص کو اس مخصوص مفہوم کے ساتھ ’فنا فی اللہ‘ کہا جاتا ہے یا سمجھا جاتا تو یہ قطعی طور پر غلط ہے۔

بعض لوگ ایسی ریاضتیں کرتے ہیں جن کے نتیجے میں ان کے دماغ میں خشکی اور خرابی پیدا ہو جاتی ہے پھر جو چیز ان کے وہم وگمان اور خیالوں میں چھا جاتی ہے وہ انہیں ’نظر‘ آنے لگتی ہے ان ریاضتوں کے نتیجے میں وہ کبھی مرشد کا تصور ہر وقت اپنے دل ودماغ پر جمائے رکھتے ہیں گویا وہ عدم موجودگی کے باوجود انہیں نظر آ رہا ہوتا ہے کبھی وہ رسول اللہ ﷺ کے دیدار کا دعویٰ کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ ہم خود اللہ تعالیٰ کا دیدار کرسکتے ہیں بلکہ کر لیتے ہیں۔ ہم اس سے کلام کرتے اور ڈائریکٹ کال ملاتے ہیں اور اس کی آڑ میں وہ کتاب وسنت کی تعلیمات سے بے نیاز ہو کر اپنی من مانیوں کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور جب انہیں کتاب وسنت کی روشنی میں کسی غلطی پر ٹوکا جاتا ہے تو وہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسی ریاضتوں کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے شیخ محترم حافظ عبد السلام بن محمد ﷾ نے اس موضوع پر تفصیل سے قلم اٹھایا ہے، پھر فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت،قرآن وحدیث، میں قرب الٰہی کے لیے ان ریاضتوں، سلسلوں اور ذریعوں کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے وہم وگمان اور خواہش نفس کا اتباع کہہ کر بت پرستی قرار دیا ہے۔ (دیکھیے: سورۂ نجم 19 تا 25) اگر اللہ تعالیٰ کے قرب اور دیدار کا طریقہ یہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ہمیں ضرور بتا دیتے۔ جب سیدنا موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر دنیا میں رب تعالیٰ کا دیدار برداشت نہیں کر سکے تو کسی اوربے چارے کی کیا مجال ہے۔ (تفسیر القرآن الکریم: 1؍ 674، سورۃ الاعراف: 128، حاشیہ نمبر 7)

اللہ تعالیٰ کو جسم اور روح کا مرکب کہنا درست نہیں ہے وہ اجزاء اور مرکب ہونے سے پاک ہے۔ لہٰذا عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث (ایک خدا کو تین کہنا یا تینوں کے مجموعے کو ایک قرار دینا) کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ اسی طرح یہ جو ہم آج کل دیکھتے ہیں کہ لفظ ’ اللہ‘ لکھا ہوتا ہے اور اس کے اندر پانچ جلیل القدر ہستیوں کا نام لکھنا ہوتا ہے۔ دور سے دیکھیں تو لفظ اللہ ہی پڑھا جاتا ہے قریب جا کر دیکھیں تو پانچ ہستیوں کے اسماء گرامی لکھے ہوتے ہیں جیسے کہا جا رہا ہو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہو کر بھی پانچ ہے اور پانچ ہو کر بھی ایک ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ

جس طرح انسان کا باپ بھی انسان ہوتا ہے، انسان کی ماں بھی انسان ہوتی ہے، انسان کا بیٹا بھی انسان ہوتا ہے، انسانوں کا بادشاہ بھی انسان ہوتا ہے، انسان کا بھائی بھی انسان ہوتا ہے، اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کا ماں باپ ہوتا یا اولاد ہوتی یا اس کے بھائی بہن ہوتے یا اس کا کوئی وزیر اور مشیر ہوتا تو اس نے بھی اللہ ہی کہلانا تھا۔ اس لیے بھی وہ جنس سے پاک ہے کوئی اس کا ہم جنس نہیں ہے نہ اس کے ماں باپ ہیں نہ بیوی بچے، نہ بہن بھائی ہیں، نہ وزیر مشیر، وہ تنہا ہی ہے حتیٰ کہ اس کا نام ہی ’ اللہ‘ ہے جس کا نہ کوئی تثنیہ ہے نہ جمع ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ہم مثل کوئی ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد، لہٰذا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اس نے آقا کو اپنے خاص الخاص ذاتی اور بے مثال نور سے پیدا کیا۔ جب وہ خود اور اس کا نور پیدائش سے پاک ہے تو پھر اس کے نور سے کوئی چیزکیسے پیدا ہو گئی؟لہٰذا نبی اکرمﷺ کے اللہ کا نور ہونے کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت ہیں اور چونکہ ان کا ایمان سب سے زیادہ تھا اس لیے ان کا نور ایمان بھی سب سے زیادہ تھا اور چونکہ وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے مقرب ہیں اس لیے عالم برزخ اور عالم آخرت میں انہیں حاصل ہونے والا نور بھی سب سے زیادہ ہے لیکن یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتی کہ ان کی ذات بابرکات اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس سے جدا ہو کر معرضِ وجود میں آئی تھی یا اللہ تعالیٰ خود بنفس نفیس ان کے روپ میں مدینہ تشریف لایا تھا۔ یہ محض عشق ہے اور جہاں عشق کا زور ہو وہاں پر معقول دلیل بھی بے جا ہو جاتی ہے۔

خالق اور مخلوق کا ایک ہونا بھی امر محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عدم، پیدائش موت اور فنا سے پاک ذات ہے جبکہ ہر مخلوق اس کے فیصلے اور فرمان کے نتیجے میں وجود میں آئی پھر ہر وجود کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی ضروریات سے پاک ذات ہے۔

مختلف جہتوں کا وجود ہماری معلومات کے لحاظ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عُلُوّ (بلندی) کی صفت ہے یعنی اسے ہر قسم کا علو حاصل ہے طاقت اور غلبے کا لحاظ سے بھی۔ مقام ومرتبہ کے لحاظ سے بھی اور ذات اقدس کے لحاظ سے بھی۔ اگر یہ زمین واقعی گول ہے تو پھر بندہ اس کے کسی بھی حصے میں مقیم ہو اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہی ہو گا بہت اوپر عرش سے بھی اوپر حتیٰ کہ وہ اتنا اوپر ہے کہ اس سےاوپر اور کوئی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اپنے بندوں کے اس حد تک قریب ہے کہ کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ دیکھتا تو کسی رکاوٹ کے بغیر، سنتا ہے تو کسی رکاوٹ کے بغیر، جانتا ہے تو کسی رکاوٹ کے بغیر، پکڑنا چاہے تو رکاوٹ کوئی نہیں، چھوڑنا چاہے تو رکاوٹ کوئی نہیں۔

اس لحاظ سے اگر کوئی شخص جوشِ عقیدت میں اپنے کسی مرشد کو ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود اپنے قریب سمجھتا ہے تو وہ اس کے بارے میں شانِ الٰہی کی رِیس کرتا ہے۔

جب عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ اور سیدنا عیسیٰ کے ایک ہونے کا دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ انہیں صاف الفاظ میں کافر قرار دیا اور بتایا کہ ہر چیز کا مالک ومختار ہوں چاہوں توہر چیز کو آناً فاناً فنا کر دوں جو شخص اپنی والدہ کو وفات سے نہیں بچا سکا اور نہ اپنے آپ کو وفات سے بچا سکے گا وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے۔ میں جس چیز کو چاہوں پیدا کر سکتا ہوں۔ جب میں نے سیدنا آدم کو ماں باپ کے بغیر پیدا کر دیا تھا تو سیدنا عیسیٰ بن مریم کو باپ کے بغیر پیدا کرنا کون سا بندگی کی، لوگوں کو بھی اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی اور کبھی بھی اپنے اللہ ہونے یا اللہ کا بیٹا ہونے یا تین خداؤں میں ایک خدا ہونے کا، اس نے دعویٰ نہیں کیا پھر تم نے اپنی خواہشات نفس کو دینی عقیدے کا درجہ کیسے دے دیا ہے؟ سورۃ المائدۃ: 15۔17، 72-76 میں یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

مشکل کام تھا؟ اور اگر ماں باپ کے بغیر پیدا ہونے والا خدا نہیں ہو سکتا تو صرف باپ کے بغیر پیدا ہونے والا خدا کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر میرے پیغمبر نے ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہا، خود بھی اللہ کی

کتاب وسنت میں صاف صریح الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے چہرے، آنکھوں، سماعت، پنڈلی، پاؤں اور دیگر صفات کا ذکر جمیل ہوا ہے۔ سلف صالحین میں سے کسی نے بھی صراحت نہیں کی کہ یہ اس کے جسم کے اعضاء ہیں بلکہ انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ یہ اس کی صفات ہیں جو اس کی ذات اقدس سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہم ان کا ظاہری معنی تبدیل کیے بغیر انہیں برحق جانتے اور مانتے ہیں لیکن اس کی یہ صفات مخلوق کی صفات کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتیں۔ جب مخلوقات کے ہاتھ ایک دوسرے سےمختلف ہیں تو خالق تو زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی صفات اس کی مخلوق کی صفات سے مختلف ہوں۔

شہادت سیدنا حسین

لکھنے کو جب بھی بیٹھا ہوں مدحت حسینؓ کی                                                                           آئی ہے یاد مجھ کو نجابت حسینؓ کی

جس کے بھی دل میں ہو گی محبت حسینؓ کی                                                                            حاصل اسی کو ہو گی رفاقت حسینؓ کی

دشمن ہے وہ خدا کا، خدا کے رسولؐ کا                                                                            رکھتا نہیں جو دل میں عقیدت حسینؓ کی

اے ارضِ کر بلا! ترے پہلو میں دل نہیں؟                                                                            دیکھی ہے تو نے کیسے شہادت حسینؓ کی

ڈاکٹر تابش مہدی دہلی

تبصرہ کریں