شکر اس کی اہمیت اور ثمرات- محمد احسن شفیق

﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾

’’ جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کردیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے ۔‘‘

شکر کی تعریف

شکر ایک جذبہ ہے جو کسی نے کسی کے ساتھ خیر یا بھلائی کی ہو یا اس کے ساتھ احسان کیا ہو کسی تکلیف سے بچایا ہو تو اس سے ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے انسان کے قلب کی گہرائی سے اسے ہم جذبہ شکر کہتے ہیں اور شکر فطرت صحت کی علامت ہے اگر فطرت صحیح ہے تو شکر لازما ہوگا اگر شکر نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ فطرت مسخ ہو چکی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا :

«من لا يشكر الناس لا يشكر الله .»

”جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرے گا۔ “ ( جامع ترمذی : 1954)

اور جب تک نعمت کا ادراک نہ ہو تب تک انسان صحیح طور پر شکر ادا نہیں کر سکتا۔

شکر کی اقسام

شکر کی تین اقسام ہیں :

1۔شکر بالقلب یعنی دل سے شکر ادا کرنا۔

2۔شکر باللسان یعنی زبان سے شکر ادا کرنا۔

3۔شکر بالجوارح یعنی اعضاء کے ساتھ شکر ادا کرنا ۔

سب سے پہلے قسم شکر بالقلب اس سے کیا مراد ہے اس سے مراد دل میں یہ احساس پیدا ہو کہ اللہ رب العزت نے میرے ساتھ کتنی بڑی بھلائی کی ہے کہ مجھے ایک اچھی صورت میں پیدا جیسا کہ اللہ رب العزت نے قران مجید میں فرمایا :

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴾

’’اور بےشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کر اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بےشک اللہ بے پرواہ ہے تعریف کیا گیا ہے ۔‘‘ (سورہ لقمان: 12)

اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شکر کی ادائیگی اللہ سے مضبوط تعلق بناتی ہے۔

دوسری قسم زبان سے شکر ادا کرنا جیسے قران مجید میں اللہ نے ارشاد فرمایا:

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا ﴾(سورة الکہف: 1)

’’تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔ ‘‘

اور تیسری قسم ہے شکر اعضاء و جوارح کے ساتھ مطلب کہ اللہ کی عبادت کر کے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا کیونکہ کچھ عبادات ایسی ہیں جن کا تعلق جسم کے اعضا کے ساتھ ہے اگر انسان اللہ کا صحیح طرح شکر ادا کرنا چاہتا ہے تو اس کے دیے ہوئے احکامات کو عمل میں لائے اس طرح اس کا رب اس سے راضی ہو جائے گا اور اس کا نعمتوں کا شکر ادا کرنا اللہ کو بہت پسند ائے گا اور اس کے بدلے میں اللہ اسے اور نعمتوں سے نوازیں گے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شکر بہت ضروری ہے شکر کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے اور انسان ایک نامکمل ہے کیونکہ اس کی زندگی پر شکر کے اثرات نظر اتے ہیں ۔

صبح کا اغاز شکر گزاری کہ اظہار سے کیا جائے

حدیث مبارک میں آتا ہے:

الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور

’’ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘( صحیح بخاری)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صبح اٹھ کر اللہ کی حمد و ثنا کر کے اس کا شکر ادا کیا جائے اس سے اللہ راضی ہوتا ہے ۔

عبادت کیجئے دن کا اغاز نماز کے ساتھ کرنا یہ شکر کی علامت ہے اس لیے ہمیں اللہ نے ایک نیا دن دیا ہے اور اس دن کا اغاز اللہ کے شکر سے کرنے کا سب سے بڑا فائدہ دن کے تمام کام بہتر ہو جاتے ہیں اور اللہ سے شکوہ کبھی بھی نہ کیجئے کیونکہ اللہ اپنے بندے کو جو کچھ عطا کرتا ہے وہ اس کا فضل واحسان ہوتا ہے اور مزید یہ کہ شکوہ کرنے سے شکر کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہےاور انسان کو چاہیے کہ وہ غور و فکر کرتا رہے کہ اللہ نے مجھے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے اور میں کیا کر رہا ہوں کہیں ان نعمتوں کا غلط استعمال تو نہیں کر رہا ، میں غلط کاموں میں کہیں ان کو صرف تو نہیں کر رہا اگر ایسا ہے تو رک جائیں اور اللہ سے معافی مانگ لیں کیونکہ قران مجید میں سورۃ الاعراف میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

﴿ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴾

’’ جن کے دل ایسے ہیں جن سے (حق) نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے (حق) نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے (حق) نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں۔‘‘

آئیں نبی کریمﷺ کی احادیث دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ کا شکر کیسے ادا کرتے تھے:

1۔سیدنا انس بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی ہوتے ہیں کہ بندہ کھانا کھا کر اور پانی پی کر اس کا شکر ادا کرے ۔‘‘ ( صحیح مسلم)

2۔ سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’جو لوگ لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتے وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتے ۔‘‘ (سنن ابو داؤد : 484)

3۔سیدنا مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ اس قدر نفل نماز پڑھا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جایا کرتے تھے آپ ﷺ سے کہا گیا کہ آپ اس قدر مشقت کیوں کہ اٹھا رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دی ہے، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں۔‘‘ (صحیح مسلم)

4۔ سیدنا ابوبکر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جب بھی کوئی خوشی کی خبر یا خوشی کا واقعہ پیش آتا تو نبی کریم ﷺ اللہ کا شکر ادا کرتے اور سجدہ ریز ہو جاتے ۔ (سنن ابو داؤد: 2723)

صبر اور شکر عموماً دو لفظ ہیں لیکن ایک ساتھ سننے کو ملتے ہیں آزمائشوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر ادا کرنا انسان کی زندگی کو آسان بنا دیتے ہیں۔

شکر کے فوائد

1۔ شکر اپ کی خوشیوں کے ذائقے کو بڑھاتا ہے۔

2۔ شکر بہتر اور پرسکون نیند کی وجہ بنتا ہے۔

3۔شکر اپ کے جسم کو طاقت اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔

4۔ Anxiety یعنی بے چینی کو دور کرتا ہے

5۔ لوگوں کا شکریہ ادا کرنے سے لوگوں کے ساتھ تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔

نعمتوں پر شکر ادا کرنا یہ مومن کا طریقہ ہے اور ناشکری کرنا یہ کفار اور منافقین کا طریقہ ہے شکر کرنے سے جنت حاصل ہوتی ہے اور ناشکری کرنے سے اللہ کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے۔

انبیاء کرام﷩ پر جو اللہ نے انعام کیے ہیں وہ ان کے شکر کی بدولت کیا ہیں جس طرح شکر کرنے پر نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اس طرح ناشکری کرنے پر اللہ سخت عذاب دیتا ہے اور عذاب سے بچنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کا مکمل شکر ادا کریں اور جتنا ہو سکے اللہ کے دیے ہوئے احکامات کو اپنی زندگی کے اندر لایا جائے اللہ سے دعا ہے اللہ تعالی ہمیں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭٭٭

صحابہ کرام کی فضیلت

صحابہ کرا م ناقلین شریعت ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی اکرم محمد ﷺ کی صحبت ورفاقت کے لیے منتخب فرمایا ۔

انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔

اللہ اور رسول ﷺ کی شہادت اور تعدیل کےبعد کسی اور شہادت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ اور نہ ہی کسی بدبخت منکوس القلب کی ہرزہ سرائی ان کی شان کو کم کرسکتی ہے۔

صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی فضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔

٭٭٭

خطیب بغدادی﷫لکھتے ہیں:

’’ متصل حدیث کی قبولیت میں بھی راویوں کا عادل ہونا شرط ہے۔ صحابہ کرام کے علاوہ باقی راویانِ حدیث پر بحث ضروری ہے تاکہ رواۃ حدیث کی عدالت ثابت ہوسکے، لیکن صحابہ کرام کے حالات کی چھان بیان ضروری نہیں، اس لیے اس کی عدالت وامانت اور طہارت و رفعت منزلت خود ربِ کائنات کی طرف سے ثابت ہے۔‘‘

ان کلماتِ فاضلہ کے بعد خطیب بغدادی نے صحابہ کرام کی فضیلت و عظمت میں بعض آیات و احادیث کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی شان یوں بیان کی:

’’اگر اللہ تعالیٰ اور سول مکرمﷺ سے صحابہ کرام کی فضیلت سے متعلق کچھ منقول نہ بھی ہوتا تب بھی ان کے اپنے ایمانی حالات، ہجرت، جہاد اور دین کی سربلندی کے لیے جان و مال اور اولاد کی قربانی ان کی عدالت و امانت اور عقیدہ و عمل کی پاکیزگی و طہارت ان کےمابعد عظمت و شان کا اعتراف کرنےوالوں سےکہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔ابو زرعہ کہتے ہیں کہ جب آپ کسی کو صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے دیکھیں تو جان لیں کہ وہ زندیق ہے۔ اس لیے کہ رسولِ اکرمﷺ کی ذات اور قرآن کریم ہمارے ہاں برحق ہیں، ہم تک قرآن اور سنت رسول پہنچنےکاذریعہ اصحاب رسول ہی ہیں۔یہ زندیق او رملحد لوگ ہمارے گواہان شریعت پرجرح کرکے کتاب و سنت کو معطل کرنا چاہتے ہیں او رحقیقت میں یہی زندیق جرح کے حق دار ہیں۔‘‘ (تدریب الراوی: 1؍111)

تبصرہ کریں