شرک اور اس کی مختلف مروّجہ صورتیں(قسط 2)۔مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ

شرک کی تعریف اور اقسام

شرک کی مختصر الفاظ میں جو تعریف کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ

’’اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو حصہ دار بنایا جائے۔‘‘

لیکن یہ تعریف اتنی مختصر ہے کہ اس کو پھر کئی عنوانوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً

ذات میں شرک، عبادات میں شرک، تعریف میں شرک، علم میں شرک، عادات میں شرک ۔

لیکن اس کے بعد بھی شرک کے کئی ایسے گوشے باقی رہ جاتے ہیں جو ان عنوانات کے تحت نہیں آتے، حالانکہ وہ کتاب وسنت سے ثابت ہیں۔

شرک کی ایک تعریف جو قرآن کے مفہوم کو بہت حد تک ادا کر دیتی ہے ، یہ ہے کہ

’’انسان اپنے کسی بھی طرح کے فائدے کے حصول یا تکلیف کے دفیعہ کیلئے اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو… خواہ وہ چیز جاندار ہو یا بے جان ، حاضر ہو یا غائب، مردہ ہو یا زندہ…پکارے ، اس کی طرف رجوع کرے اور اس سے توقعات وابستہ رکھے، جب کہ اس کے ظاہری اسباب معدوم ہوں۔‘‘

1۔ کواکب پرستی اور مظاہر پرستی

تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی مشہور اقسام میں سے مظاہر پرستی اور کواکب پرستی کا آغاز سب سے پہلے ہوا اور اس کی ابتدا عراق سے ہوئی۔ عراق میں اکثر مطلع صاف رہتا تھا۔ اکثر لوگ رات کو سیاروں کی چال اور حرکات کا مطالعہ کرتے اور اس میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ انہوں نے سیدنا مسیح کی پیدائش سے ہزارہا سال پیشتر یہ دریافت کر لیا تھا کہ سورج اور چاند کی طرح اور بھی بہت سے سیارے مشرق سے مغرب کی طرف مصروفِ سفر رہتے ہیں۔ پانچ مشہور سیارے یعنی عطارد،زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل جنہیں ’خمسہ متحیرہ‘ بھی کہتے ہیں، ان کے علم میں آچکے تھے۔ وہ ان سیاروں کی چال سے رات کے اوقات کا صحیح صحیح تعین بھی کرلیتے تھے اور سمت کا تعین کرنے کے بھی قابل ہوچکے تھے۔ اس کے ساتھ وہ ان اجرام کے بعض دیگر اثرات سے بھی واقف تھے مثلاً

سورج کی وجہ سے دن رات پیداہوتے اور چاروں موسم وجود میں آتے ہیں، جن سے طرح طرح کی فصلیں اور پھل پکتے ہیں۔ زندگی کے لئے روشنی اور حرارت نہایت ضروری ہے جو سورج سے حاصل ہوتی ہے۔ رات کو ہم چاند اور ستاروں سے روشنی حاصل کرتے ، رات کا تعین کرتے اور رات کو دورانِ سفر سمت معلوم کرتے ہیں۔

نیز جن دنوں میں چاند زائد النور ہوتا ہے، پھلوں میں رس تیزی سے بڑھتا ہے اور جب ناقص النور ہوتا ہے تو یہ رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ یہ اثرات تو بالکل واضح تھے۔لیکن انسان نے بعض توہمات کی بنا پر ان سیاروں کے انسان کی انفرادی زندگی پر بھی طرح طرح کے اثرات تسلیم کرنا شروع کردیئے۔ وہ اپنی زندگی اور موت، مرض اور صحت، رزق کی وسعت اور تنگی اور ایسے ہی کئی دوسرے اُمور کو بھی سیاروں کی چال سے منسوب کرنے لگا۔ جس کا لازمی تصور یہ نکلا کہ انسان نے ان سیاروں کی تعظیم شروع کردی اور ان کے لئے از راہِ عجز و نیاز اپنا سرتسلیم خم کردیا۔

سیدنا ادریس اور کواکب پرستی

ان توہمات اور گمراہیوں کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی بذریعہ وحی رہنمائی فرمائی اور اسی دور میں سیدنا ادریس (اصل نام اخنوخ 3500 ق م) کو مبعوث فرمایا ۔ چونکہ یہ ابتدائے آفرینش کا دور تھا، لوگوں کے علم نے ابھی کچھ ترقی نہ کی تھی، لہٰذا سیدنا ادریس کو بذریعہ وحی چند علوم سکھلائے گئے۔ چنانچہ کپڑا بننے اور کتابت کے موجد اور اُستادِ اول آپ ہی ہیں۔ آپ علم ہندسہ اور علم حساب کے بھی ماہر تھے۔ من جملہ دیگر علوم کے آپ کوعلم نجوم کی پوری ماہیت، سیاروں کی گردش اور کشش وغیرہ کا علم بھی عطا کیا گیاتھا۔ ان علوم کے ساتھ ساتھ آپ فصاحت، علم لغت اور فن تقریر میں اتنے ماہر تھے کہ انہیں ’ہر مس* الہرامسہ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے سیاروں کی اس قسم کی تاثیر سے متعلق لوگوں کے عقائد ِباطلہ کی پرزور تردید کی اور انہیں سمجھایا کہ یہ اجرام تو محض بنی نوع انسان کی خدمت پر مامور ہیں، انسان ان کا خادم نہیں ہے۔ اصل مقصودِ کائنات انسان ہے، نہ کہ اجرامِ فلکی۔ یہ اجرامِ فلکی تو انسانی زندگی سے بہت پہلے اپنے فرائض کی بجاآوری پر اس طرح مجبور اور بے بس تھے جس طرح آج ہیں۔ بھلا ان سیاروں کی حرکات کا انسان کے بگاڑ اور سنوار سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ گویا انسان کو اس کی عظمت ذہن نشین کراکے ایسے حقیر توہمات سے نجات دلائی۔

سیدنا ابراہیم کا زمانہ

جب سیدنا ادریس کی رحلت کو کچھ عرصہ گزر گیا تو سیاروں کی گردش کے انسانی زندگی پر اثرات کے توہمات پھر انسانی ذہن میں راہ پانے لگے۔اب کی بار انسان پرشیطان کا یہ حملہ پہلے سے شدید تر اور سہ گونہ تھا۔ ایک تویہ کہ ان توہمات نے عراق کے علاوہ مصر، یونان اور ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دوسرے یہ کہ ان توہمات کو باقاعدہ ایک نظام کی شکل دے دی گئی۔ ہرسیارے کے لئے ایک الگ دیوتا God یعنی چھوٹا خدا تجویز ہوا جو بڑے خدا کا مددگار سمجھا جاتا تھا۔ پھر ان کی شکلیں تجویز کی گئیں اور ان کے مجسمے تیار کئے گئے جو گاڑے بھی جاسکتے تھے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کئے جا سکتے تھے۔ خواہ یہ پتھر کے ہوں یا کسی دوسری دھات یا لکڑی کے اور تیسرے یہ کہ اب ان دیوتاؤں کے آگے صرف سرتسلیم ہی خم نہیں کیاجاتا تھا بلکہ ان کے حضور چڑھاوے بھی چڑھائے جانے لگے اور قربانیاں بھی پیش کی جانے لگیں۔ جن کا خون ان دیوتاؤں کے مجسّموں یا بتوں پر مل دیا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھاکہ اس طرح ان کے یہ دیوتا خوش ہوں گے اور ہمیں کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچائیں گے۔ ان بتوں کی اس ایذا رسانی کے عقیدے کو قرآن کریم نے درج ذیل آیت میں بیان فرمایا ہے:

﴿إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ (سورة ہود: 54)

’’(قوم ہود نے کہا: اے ہود!) ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔‘‘

سیدنا ابراہیم کی بعثت

اس نجوم پرستی کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی قدرجلیل القدر پیغمبر سیدنا ابراہیم (2000ق م) کو اسی علاقہ بابل میں مبعوث فرمایا۔ اس وقت عراق کا پایہٴ تخت بابل اور نمرود حکمران تھا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ سیدنا ابراہیم اس سلطنت کے سب سے بڑے شاہی پروہت، نجوم پرست اور بت تراش ’آزر‘ کے ہاں پیدا ہوئے۔ آزر کا اصلی نام تارخ تھا لیکن بت گری اور بت فروشی کی وجہ سے آزر مشہور ہوگیا تھا۔

ا ن دنوں مندوروں میں سیاروں کے دیوتاؤں کے موہوم شکلوں کے مجسّمے رکھے جاتے۔نیز ان کے علاوہ دیگر مظاہر قدرت مثلا آگ، پانی، بادل وغیرہ کے دیوتاؤں کے مجسّمے بھی موجود تھے اور ان کے لئے ایسی تمام رسوم بجا لائی جاتی تھیں جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزاوار ہیں۔

سیدنا ابراہیم بچپن ہی سے قوم کی اس نجوم پرستی اوربت پرستی سے بیزار تھے۔ سیاروں کے ایسے اثرات تسلیم کرنے کے لئے آپ کی طبیعت قطعاً آمادہ نہ ہوتی تھی۔ آپ نے پہلے کسی ایک سیارے کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کیا۔پھر چاند اور اس کے بعد سورج کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اس مطالعہ نے آپ کو سیاروں کے اثرات سے بغاوت پر آمادہ کردیا۔ آپ نے دیکھا کہ یہ اجرام خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، اپنے فرض کی ادائیگی میں مجبورو بے بس ہیں۔ ان کا اپنا ذرّہ بھر بھی اختیار نہیں ہے۔ آپ سوچتے تھے کہ بھلا ایسی مجبور و بے بس اشیا خدائی اختیارات کی حامل کیسے ہوسکتی ہیں اور میرا کیا بگاڑ یاسنوار سکتی ہیں۔ آپ کی طبیعت اس جستجو میں رہتی کہ ایسی ذات کا پتہ لگائیں جو ان اجرامِ فلکی کی اور خود ہماری بھی نگران اور مربی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور بذریعہ وحی اس اضطراب کو دور کرکے یقینی علم عطا فرمایا۔بقول ارشادِ باری تعالیٰ

﴿وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ﴾ (سورة الانعام: 75)

’’اسی طرح ہم نے سیدنا ابراہیم کو کائنات کے عجائبات دکھلا دیئے تاکہ اسے یقینی علم حاصل ہو۔‘‘

کواکب پرستی کے خلاف جہاد

چنانچہ آپ نے علیٰ الاعلان نجوم پرستی اور ان عقائد ِباطلہ کی تردید اور مخالفت شروع کردی۔جس کے ردّعمل کے طور پر باپ نے آپ کو گھر سے نکال دیا اور قوم نے ملک بدر کردیا۔ مگر آپ جہاں کہیں بھی گئے، اپنا مشن اور توحید کا درس جاری رکھا۔ ہجرت کے علاوہ بھی آپ کو اس مشن کے نتیجہ کے طور پر ایک دفعہ بہت بھاری قیمت یعنی جان کی قربانی بھی ادا کرنا پڑی۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ کی قوم میں’’انفرادی زندگی پر سیاروں کے اثرات کا عقیدہ‘‘ راسخ ہوچکا تھا اور وہ ہر کام میں سیاروں کی چال ملاحظہ کرکے ان سے اچھے اور بُرے نتائج اخذ کرتے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ ایک دفعہ قوم نے نوروز کے دن (جو اُن کے ہاں بڑا متبرک دن تھا جبکہ سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے) ان بتوں کے حضور نذرونیاز پیش کرنے کے بعد ایک میلہ پرتفریحی تقریبات منانے کا پروگرام بنایا۔یہ لوگ سیدنا ابراہیم کو پیچھے نہ چھوڑنا چاہتے تھے،کیونکہ ان کی طرف سے انہیں کچھ ’خطرہ‘ بھی تھا۔ جب ان لوگوں نے آپ کو ساتھ چلنے پر مجبور کیا تو آپ کو ایک عجیب ترکیب سوجھ گئی جو ان لوگوں کے عقیدے کے عین مطابق تھی۔ آپ نے فوراً سیاروں کی توجہ کی اور کہا کہ

’’میں تو عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔‘‘

تمہارے رنگ میں بھنگ پڑ جائے گا، لہٰذا مجھے جانے پر مجبور نہ کرو۔ آپ کی یہ ترکیب کا رگر ثابت ہوئی اور وہ لوگ آپ کو پیچھے چھوڑ کر میلہ پر چلے گئے۔

بعد میں وہی ہوا جس کا انہیں خطرہ تھا۔ سیدنا ابراہیم نے تبر (کلہاڑا) لے کر ان کے سب دیوتاؤں کو پاش پاش کردیا۔ البتہ سب سے بڑے ’خدا‘ کو چھوڑ دیا اور تبر اس کے کندھے پر رکھ کر چلے گئے۔ تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ گویا اس بڑے خدا نے دوسرے سب چھوٹے خداؤں کا کام تمام کیا ہے اور یہ تمام خدا سیدنا ابراہیم کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔

سیدنا ابراہیم کا یہ کارنامہ پوری قوم اور ان سب خداؤں کے لئے کھلا ہوا چیلنج تھا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ کارنامہ سیدنا ابراہیم ہی کا ہوسکتا ہے۔ انہیں برسرعام بلوایا گیا تو آپ نے برملاکہہ دیا کہ یہ سب ماجرا اس بڑے خدا سے پوچھ لو۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا کہیں؟ آخر بولے:

’’ابراہیم( )یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ یہ خدا بولتے نہیں۔‘‘

یہ جواب گویا قوم کی ذہنی شکست تھی۔ تاہم انہوں نے اپنے دیوتاؤں کی وکالت کی خاطر سیدنا ابراہیم کو اس جرم کی پاداش میں آگ میں زندہ جلا دینے کا فیصلہ کیا اور ایک بڑا الاؤ تیار کرکے اس میں سیدنا ابراہیم کوپھینک دیا گیا۔ لیکن اس اللہ نے، جس پر آپ ایمان رکھتے تھے ، آپ کو زندہ و سلامت آگ سے نکال لیا۔ آپ کے آگ سے زندہ سلامت بچ نکلنے کا واقعہ قوم کے لئے دوسرا بڑا چیلنج تھا۔ لیکن ان کی بے بسی نے ان کو دوبارہ نگونسار کردیا۔ سیدنا ابراہیم نے اپنے قول و عمل سے بت پرستی اور نجوم پرستی کے خلاف جو تحریک چلا ئی تھی، وہ کامیاب رہی۔ بہت سے لوگ حقیقت کو پاگئے اور ایسے عقائد ایک طویل مدت کے لئے سرد پڑگئے۔

سیدنا سلیمان :

(950ق م) آپ فلسطین وشام کے فرمانروا بھی تھے اور نبی بھی۔ آپ کی حکومت عقبہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان ایام میں یمن کے علاقہ سبا میں ایک عورت (جس کا نام بلقیس بیان کیاجاتا ہے) حکمرانی کرتی تھی۔ یہ ملکہ اور اس کی رعایا تمام کے تمام سورج پرست تھے۔ اس قوم کے مورِثِ اعلیٰ کا نام عبد ِشمس (بندۂ آفتاب یا سورج کا پرستار) تھا اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات میں یہ بیان کیاگیا ہے کہ جب ہدہد سلیمان کا خط لے کر پہنچا توملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لئے جارہی تھی۔ سیدنا سلیمان نے اس مشرک قوم کے خلاف جہاد کا ارادہ کیا، لیکن یہ ملکہ کی دانشمندی تھی کہ وہ خود ہی مطیع و منقاد (فرمانبردار) ہوکر سیدنا سلیمان کے پاس حاضر ہوگئی۔اس کے بعدوہ خود اور اس کی قوم سب اس مشرکانہ فعل سے تائب ہوکر اسلام میں داخل ہو گئے۔

مجوس: دورِ نبوی میں بھی ایک اور مستقل فرقہ یا مذہب کا وجود بھی ملتا ہے جو خود تو اپنے آپ کو ’زرتشت‘ کہتے ہیں، لیکن قرآن نے انہیں ’مجوس‘ کے لفظ سے پکارا ہے۔یہ فرقہ ایران و عراق کے علاقہ سے تعلق رکھتا تھا اوریہ لوگ اپنے آپ کو سیدنا نوح کا مرید بتلاتے ہیں اور نوح کے علاوہ دیگر انبیا کے دشمن ہیں۔ اس فرقہ کے رہنما مانی اور متروک تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک نور یا روشنی کا خدا جسے وہ ’یزدان‘ کہتے تھے اور نیکی اور بھلائی کے تمام امور و افعال اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ دوسرا تاریکی یا ظلمت کا خدا جسے وہ ’اہرمن‘ کہتے تھے اور برائی کے تمام امور و افعال اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ان کی الہامی کتابوں کا نام ’زند‘ اور ’اوستا‘ ہے۔ یہ لوگ سورج اور آگ کی پرستش کرتے تھے۔ آگ کے بڑے بڑے الاؤ تیار کرتے اور اسے بجھنے نہیں دیتے تھے۔

ان زرتشتیوں کے ایک ضمنی فرقے کا عقیدہ یہ تھا کہ

یزدان اور اہرمن دونوں خدا ہم مرتبہ ہیں لیکن یہ دونوں ایک الٰہ اعلیٰ کے ماتحت ہیں جس نے سب سے پہلے انہیں پیدا کیا۔

دورِ فاروقی میں جب یہ علاقہ اسلام کے زیر نگین آگیا تو اس مذہب کا زور ختم ہوگیا لیکن کچھ نہ کچھ اثرات باقی چھوڑ گیا۔ خلیفہ مامون الرشید عباسی کے دور میں شیعہ مذہب کے چند غالی فرقے ایسے عقائد کا شکار ہوگئے تھے۔ ہندوستان کی تاریخ میں مغل بادشاہ ’اکبر‘ جس نے دین الٰہی رائج کیا،پکا سورج پرست تھا جو دن میں چار دفعہ سورج کی پرستش کرتا تھا۔ اکبر ہندو عقائد کواکب پرستی سے سخت متاثر تھا، کیونکہ اس نے کئی ہندو عورتوں سے شادی کی تھی۔

نجوم پرستی کا نیا دور

لیکن مرورِ زمانہ کے ساتھ ایسے عقائد نے پھر سے راہ پائی بلکہ شیطان نے اس مشرکانہ نظام کومنظم کرنے کے نئے گوشے بھی تلاش کر لئے۔ نجوم پرستی یا علم جوتش کا علم نجوم، علم ہیئت سے گہرا تعلق ہے۔ 590 ق م میں یونان کے ایک حکیم فیثا غورث نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے اور زمین ساکن نہیں بلکہ کئی سیاروں سمیت سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ لیکن اس کے دو صدی بعدیعنی چوتھی صدی ق م میں بطلیموس فلاسفر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین ساکن اور سورج متحرک ہے۔ اس نظام میں زمین کو صرف ساکن ہی نہیں بلکہ جملہ سیارگان کا مرکز ِعام قرار دیا گیا ہے۔ اس نظام میں 13 کرے مقرر کئے گئے ہیں۔

پہلا کرہ آب جو زمین کے 4/3 حصہ کو محیط ہے۔

دوسرا کرہ ہوا۔تیسرا فضا کا اور چوتھا حرارت کا کرہ ہے۔ ا س کے بعد 9 فلک آتے ہیں۔

پہلے فلک پرچاند، دوسرے پر عطارد، تیسرے پر زہرہ، چوتھے پر سورج، پانچویں پر مریخ، چھٹے پر مشتری اور ساتویں پر زحل ہے۔ آٹھویں فلک کو فلک ِثوابت اور فلک البروج بھی کہتے ہیں۔

اسی فلک کو 12 حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کو ایک برج قرار دیا گیا ہے اور فلک نہم کو فلک ِاطلس کہتے ہیں۔ اس نظام کی رو سے آٹھوں افلاک اور ساتوں سیارے، اگرچہ اپنی الگ الگ حرکت بھی رکھتے ہیں تاہم فلک ِنہم کی حرکت ِوضعی سے وابستہ ہیں اور ساتوں سیاروں کی حرکت سالانہ ہر ایک فلک ِخاص کی حرکت سے تعلق رکھتی ہے۔

بطلیموس کا یہ نظریہ جو اس نے اپنے استادوں اور پیشرؤوں ارسطو اور برخس کی مدد سے مرتب کیا تھا، چار دانگ عالم میں بہت مقبول ہوا۔ مصر، یونان، ہند وغیرہ سب ممالک میں اس نظریہ کو قبولِ عام حاصل ہوا۔ یورپ میں 1500ء تک اسی نظریہ کی تعلیم دی جاتی رہی ہے اور ہندوستان میں آج تک جنتریاں وغیرہ اس نظام کے مطابق مرتب ہوتی ہیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں