شرک اور اس کی مختلف مروّجہ صورتیں(قسط 3)۔ مولانا عبد الرحمن کیلانی

سیارے اور ہفتہ کے دن

یہ نظریہ پہلے سے بھی بڑھ کر مشرکانہ عقائد اپنے ساتھ لایا۔ افلاک اور سیاروں کے ایسے مخصوص اثرات تسلیم کرلئے گئے جو انسانی زندگی پر ہر وقت پڑتے ہیں۔ ہفتہ کے سات دنوں کے نام اظہارِ عقیدت کے طور پر انہیں سات سیاروں یا ان کے دیوتاؤں کے نام پر رکھے گئے۔ اہل یونان و روم ان معتقدات میں پیش پیش تھے۔ان کے ہاں دنوں کے ناموں کی سیاروں سے مناسبت کچھ اس طرح ہے۔ انگریزی زبان میں:

1۔ سورج کو اور اسی طرح اس کے دیوتا کو ’سن‘ (Sun) اور اتوار کو (Sunday) کہا جاتاہے۔ یعنی سورج دیوتا کا دن۔

2۔ چاند کو اوراسی طرح اس کے دیوتا کو ’مون‘ (Moon) اور سوموار کو (Monday) کہاجاتا ہے یعنی چاند دیوتا کا دن۔

3۔ مریخ کو (Mars)لیکن اس کے دیوتا کو ’ٹو‘ (Tiw) لہٰذا منگل کو (Tuesday) کہا جاتا ہے یعنی مریخ دیوتا کا دن۔

4۔ عطارد کو اور اس کے دیوتا کو بھی ’ویڈن‘ (Weden) اور بدھ کو (Wednesday) کہا جاتا ہے یعنی عطارد دیوتا کا دن۔

5۔ اسی Weden دیوتا کا ایک بیٹا تھار(Thor) تسلیم کیا گیا جو گرج یا رعد کا دیوتا بنا۔ اسے مشتری کا دیوتا بھی قرار دیا گیا۔ اسی نسبت سے جمعرات کو (Thursday) کہتے ہیں۔

6۔اور اسی Weden دیوتا کی بیوی کا نام فرگ (Frigg)یا فرگا (Frigga) تجویز ہوا، اسے جونو (Jono)کہتے ہیں۔ یہ زہرہ سیارہ کی دیوی تھی اور اسی نسبت سے جمعہ کے دن کو (Friday) کہتے ہیں۔ زہرہ کا مالک دیوتا کی بجائے دیوی تجویز کرنے کی شاید یہ وجہ ہوکہ اس کو ایک خوبصورت سیارہ تصور کیا جاتا ہے۔

سیاروں کے ہمہ گیر اثرات

ہند کے لوگ ان معتقدات میں اہل مغرب سے بھی کچھ آگے بڑھ گئے تھے۔ انہوں نے دنوں کے نام سیاروں کی نسبت سے تجویز کرنے کے علاوہ ان میں سعد و نحس کی تمیز بھی قائم کردی۔ مثلاً زحل کو ہندی میں سینچر کہتے ہیں، اسی نسبت سے ہفتہ کا نام سنیچروار تجویز ہوا۔ اس سیارہ کو منحوس خیا ل کیا جاتا ہے۔ پھر ہر انسان کے نام کی کسی مخصوص سیارہ سے نسبت قائم کی گئی۔ گویا اس انسان پر اس منسوب سیارہ کے اثرات دوسرے سیاروں کی نسبت زیادہ تسلیم کئے گئے۔ اس طرح زہرہ کو ہندی میں شکر کہتے ہیں، لہٰذا جمعہ کا نام شکر وار تجویز ہوا۔مشتری کو برہسپت کہتے ہیں۔ جمعرات کا دن اس سیارہ کا تسلیم کیا گیا اور اسے برہسپت وار یا ویر وار کہتے تھے۔ یہ سیارہ سعد ِاکبر تسلیم کیا جاتاہے۔ گویا جس شخص کی اس سیارہ سے نسبت ہو، وہ بہت نیک بخت ہوگا۔ عطارد کو ہندی میں بدھ اور اس سے منسوب دن کو بدھوار کہتے ہیں اور اس سیارہ سے تعلق رکھنے والا انسان علم و دانش سے بہرہ ور ہوگا۔ مریخ کوہندی میں منگل کہتے ہیں۔اور منگل کا دن اسی سے منسوب ہے۔ مریخ کو منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ سوموار کا دن چاند سے منسوب ہے اور اس سے نسبت رکھنے والے شخص میں نرمی اور جمال پایا جاتا ہے۔ اتوار سورج کا دن ہے اور اس سیارہ سے تعلق رکھنے والا شخص عموماً بہادر اور پرشکو ہ ہوتا ہے۔

مزید ستم یہ ہوا کہ انفرادی اثرات کے علاوہ ان سیاروں کے زمین اور اہل زمین پر مجموعی اثرات بھی معتقدات میں شامل ہوگئے۔ مثلاً دولت، زراعت، معدنیات اور کپڑے کا مالک سورج کو تسلیم کیا گیا، حالانکہ ان کی الگ الگ دیویاں بھی موجود ہیں۔ مشتری کو یعنی برہسپت کو سیلاب اور بادلوں کا مالک۔ مریخ یعنی منگل کو پھلوں کے رسوں کا مالک، زحل یا سینچر کو غذا کا مالک اور عطارد کوتمام پھلدار درختوں اور پودوں کا مالک سمجھا جانے لگا۔ ان معتقدات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم ہیئت یا علم نجوم سے زیادہ ایک دوسرا علم یعنی علم جوتش یا ‘علم اثراتِ نجوم’ فروغ پاگیا۔ بادشاہ اور حکمران لوگ کسی بھی مہم یا سفر پر روانہ ہونے سے پیشتر نجومیوں سے زائچے تیار کروا کے یہ معلوم کرتے تھے کہ ان کا یہ سفر یا مہم کن حالات پر منتج ہوگی۔

لوگوں کی دلچسپی بڑھتی گئی تو اس کے نتیجہ میں پیشہ ور نجومیوں کی ایک فوج ظفر موج معرضِ وجود میں آگئی جو لوگوں کے زائچے تیار کرکے انہیں غیب کی خبریں مہیا کرنے لگی۔ آج کل بھی ہماری اردو زبان میں ایسے بے شمار محاورات زبان زد ہیں جو ان معتقدات کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں۔مثلاً

’’ستارۂ قسمت کا گردش میں ہونا۔‘‘ یا

’’فلک کے رفتار کی چیرہ دستی‘‘وغیرہ۔ حتیٰ کہ ہمارے شعر و ادب میں بھی یہ تصورات نفوذ کرگئے۔ بقولِ غالب

رات دن گردش میں ہیں سات آسمان

ہو کر رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

اسلام اور کواکب پرستی

جب اسلام آیا تو اہل عرب دوسرے دیوتاؤں اور دیویوں کے علاوہ سیاروں سے منسوب دیوتاؤں اور دیویوں کی پرستش بھی کرتے تھے۔ سورج کو عربی میں شمس کہتے ہیں اور یہ لفظ بطورِ موٴنث استعمال ہوتا ہے چنانچہ اہل عرب سورج کے دیوتا کو دیوی ‘الاہہ’ (جوکہ الٰہ کی موٴنث ہے)کہتے تھے۔ اسی طرح ستارہ ‘شعریٰ’ کا ذکر بھی قرآنِ کریم میں موجود ہے جس کی پرستش کی جاتی تھی۔ اسلام نے سیاروں سے منسوب جملہ معتقدات پرکاری ضرب لگائی۔ چند معروف پہلو درج ذیل ہیں:

1۔ سیاروں کی خدائی

اسلام نے انسان کو تمام کائنات سے اشرف تسلیم کرتے ہوئے بلند ترین مقام بخشا ہے۔ ان سیاروں کی خدائی یا دیوتائی تو درکنار وہ تو ان اجرامِ فلکی کو انسان کا خادم قرار دیتا ہے۔ ارشادِ باری ہے :

﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الشَّمسَ وَالقَمَرَ‌ دائِبَينِ ۖ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ ﴾ ( سورة ابراہیم: 33)

’’ اور اللہ تعالیٰ نے چاند اور سورج کو تمہاری خدمت پر مامور کردیا ہے جو ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اسی طرح دن اور رات کو تمہاری خدمت کے لئے لگا دیا گیا ہے۔‘‘

ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ صرف ان اجرامِ فلکی ہی کی کیا بات ہے ، ہم نے تو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، تمہاری ہی خدمت پر مامور کیا ہے:

﴿أَلَم تَرَ‌وا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ‌ لَكُم ما فِى السَّمـٰوا‌تِ وَما فِى الأَر‌ضِ﴾ (سورة لقمان : 20)

’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے کام میں لگا دیا ہے۔‘‘

2۔ سیاروں کی تاثیر تسلیم کرنا واضح شرک ہے

دورِ نبوی کا واقعہ ہے کہ ایک رات بارش ہوئی جو عرب جیسے بے آب و گیاہ ملک میں ایک عظیم نعمت متصور ہوتی تو صبح آپ نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (حدیث ِقدسی):

« أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ» (صحیح بخاری: 846)

’’میرے بندوں میں کچھ لوگ مجھ پر ایمان لائے اور سیاروں (کی تاثیرات ) سے منکر یا کافر ہوئے یعنی جس شخص نے یہ کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور سیاروں کا منکر ہوا اور جس نے یہ کہا کہ ہم پریہ بارش فلاں سیارے کے فلاں برج میں داخل ہونے سے ہوئی تو وہ میرا منکر ہوا اور سیاروں پر ایمان لایا۔‘‘

گویا سیاروں کے اثرات کو تسلیم کرنا اور خدا پر ایمان لانا دو مخالف اور متضاد چیزیں ہیں جن میں سے صرف ایک ہی چیز قبول کی جاسکتی ہے۔ جو مسلمان ہے وہ سیاروں کے اثرات کو تسلیم نہیں کرسکتا اور جو سیاروں کے اثرات کو تسلیم کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آج ہمارے اسلامی معاشر ہ میں یہ مشرکانہ رسم عام ہوچکی ہے اور اب تو اچھے خاصے دین دار افراد بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ

’’میرا سٹار چونکہ فلاں ہے ، اس لئے مجھ میں فلاں خاصیت پائی جاتی ہے۔‘‘

یہ بھی انسانی زندگی میں ستاروں کے اثرات تسلیم کرنے کا واضح مظہر ہے، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔

3۔ علم نجوم اور علم غیب

علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے، اللہ کے سوا دوسروں کے لئے علم غیب کی تردید قرآن کریم میں بہت سی آیات سے ثابت ہے وہ ﴿لاَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ إلاَّ هُوَ﴾ کہہ کر غیب کی خبریں بتلانے والے سب علوم (جیسے رَمل ، جفر، جوتش، کہانت) کو وہمی اور باطل قرار دیتاہے اور قرآن نے عقلی دلیل یہ پیشکی ہے کہ جو شخص غیب جانتا ہو، اسے تلاشِ معاش کے لئے دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے کی اور محنت ومشقت کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ سے فرمایا کہ آپ اعلان کردیجئے:

﴿وَلَو كُنتُ أَعلَمُ الغَيبَ لَاستَكثَر‌تُ مِنَ الخَيرِ‌ وَما مَسَّنِىَ السّوءُ﴾ ( سورة الاعراف: 188)

’’(اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت سا مال و دولت اکٹھا کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی گزند نہ پہنچتا۔‘‘

اس آیت میں علم غیب کے دو فائدے بتلائے گئے ہیں:

1۔حصولِ رزق کے لئے محنت و مشقت کی ضرورت نہیں رہتی اور

2۔یہ کہ ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیونکہ وہ اس کا تدارک پہلے ہی سوچ لیتا ہے۔ گویا قرآن نے غیب دانی کے لئے ایک معیار بتلادیا ہے۔

کہانت، رمل، جفر اورغیب دانی کے مدعی دوسرے علوم : اسی معیار کے لحاظ سے غیب دانی کا دعویٰ کرنے والے دوسرے علوم مثلاً جفر، رمل، کہانت اور فال گیری وغیرہ سب باطل ٹھہرتے ہیں کیونکہ یہ علوم جاننے والے عموماً فٹ پاتھ پر بیٹھ کر زائچے بناکر پیسے کماتے،انگوٹھیاں اور تعویذ بیچتے ہی نظر آتے ہیں۔ اگر ان علوم میں کچھ صداقت ہوتی تو یہ لوگ ایسے مفلوک الحال نظر نہ آتے۔

اور شرعی لحاظ سے یہ علوم اس لئے باطل ہیں کہ ان کا تعلق یا غیب دانی سے ہوتا ہے یا بعض اشیا کی تاثیرات سے اور یہ دونوں باتیں شرعی نقطہ نظر سے غلط ہیں۔ قرآن ایسے ہی علوم کو جِبتسے تعبیر کرتا اور ان پریقین رکھنے کو کفر و شرک بتلاتا ہے۔

کہا جاسکتا ہے کہ ان علوم کے اثرات بعض دفعہ واضح طور پر ظہور پذیر ہوجاتے ہیں جیسے کاہن کی خبریں کبھی سچی بھی نکل آتی ہیں ورنہ یہ پیشے دنیا سے معدوم ہوجاتے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ سچی ہوتیں ہیں توبسا اوقات غلط بھی ثابت ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا ان علوم کا اعتبار کیا رہا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ کسی چیزکا ثابت ہونا اور چیز ہے اور اس کا شرعی نقطہ نظر سے جائز ہونا اور چیز۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جادو یا دیگر شیطانی تصرفات سے کسی کو بھی انکار نہیں، لیکن ان کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں۔

4۔ ہفتہ کے دنوں کے نام

ہندی یا بکرمی تقویم اور یورپی یا عیسوی تقویم دونوں میں ہفتہ کے دنوں کے نام دیوتاؤں اور سیاروں کی فرمانروائی کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں جبکہ اسلامی یاہجری تقویم میں ہفتہ کے ناموں میں شرک، نجوم پرستی یا بت پرستی کا شائبہ نہیں پایا جاتا۔ اس تقویم میں ہفتہ کے دنوں کے نام یہ ہیں:

يوم الجمعة، يوم السّبت، يوم الأحد يوم الإثنين،يوم الثّلثاء، يوم الأربعاء، يوم الخميس

جمعہ، ہفتہ پہلا دن، دوسرا دن، تیسرا دن، چوتھا دن، پانچواں دن

اگرچہ موجودہ سائنسی دورنے بھی ستاروں کی تاثیرات اور اس جیسے دوسرے توہمات کو باطل قرار دیا ہے، تاہم ابھی تک ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے مضامین سے پر جنتریاں ابھی تک چھپتی ہیں اور جوتشی، نجومی وغیرہ بھی اپنی دکانیں سجائے اکثرنظر آجاتے ہیں۔

2۔ اولیا پرستی اور قبر پرستی

اِن تاریخی ذرائع سے جو انسان کے علم میں آئے ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا آدم سے ساتویں پشت پر سیدنا ادریس کا زمانہ ہے اور ان انبیا کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار سال کا فاصلہ ہے اور سیدنا نوح ، سیدنا آدم سے دسویں پشت پر ہیں اور سیدنا ادریس اور سیدنا نوح کے درمیان وقفہ تقریباً 2 ہزار سال ہے۔ سیدنا نوح کی اپنی عمر (ہزار سال) قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔

کواکب پرستی اور مظاہر پرستی کا آغاز تو سیدنا ادریس کی بعثت سے پہلے ہوتا ہے جبکہ اولیا پرستی کے آغاز کا سراغ سیدنا نوح کی بعثت سے بہت پہلے ہوا تھا۔ چنانچہ جب سیدنا نوح نے اپنی قوم کوبت پرستی سے روکا تو انہوں نے کہا کہ

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ (سورة نوح: 23)

’’اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری﷫ سیدنا ابن عباس سے روایت کرتے ہیں (علاوہ ازیں یہ روایت مسلم، نسائی اور احمد میں بھی مذکور ہے) کہ

«إن هؤلاء صالحين في قوم نوح فلمّا ماتوا عکفوا علیٰ قبورهم ثم صوروا تماثيلهم فعبدوهم ثم صارت هذه الأوثان في قبائل العرب» (بخاری، کتاب التفسیر)

’’یہ سب (پانچوں بزرگ) قومِ نوح کے نیک لوگ تھے۔ جب وہ مرگئے تو لوگ ان کی قبروں پرمراقبے کرنے لگے۔ پھر ان کے مجسّمے بنائے اور عبادت کرنے لگے۔ پھر یہی بت عرب کے قبائل میں پھیل گئے۔‘‘

اور کتب ِتفاسیر میں ان کی مزید تشریح یوں ملتی ہے کہ یہ لوگ سیدنا نوح کے آباؤ اجداد میں سے تھے اوراتنے نیک تھے کہ انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا تھا اور ذوق عبادت بڑھتا تھا۔ جب وہ یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے تولوگوں کو اس کا بہت افسوس ہوا۔ وہ اکثر ان کی قبروں پر جاتے اور وہاں بیٹھ کر ان کی یاد تازہ کرتے تھے۔ بعد میں ان کی قبروں پر اعتکاف بیٹھنے کی رسم جاری ہوگئی۔ آخر میں شیطان نے ان کویہ پٹی پڑھائی کہ ان کی قبروں پر جانے کی زحمت بھی کیوں گوارا کرتے ہو، ان کی مورتیاں بنالو جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان مورتیوں کو دیکھ کر تم میں وہی ذوقِ عبادت پیدا ہوگا، جو تمہیں ان کو زندگی کی حالت میں دیکھنے سے پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ قوم اس چال پر لگ گئی۔ انہوں نے ان بزرگوں کی مورتیاں بنا کر اپنی مساجد میں رکھ لیں اور انہیں دیکھ کر محو ِعبادت رہتے، پھربعد کے آنے والے لوگوں نے ان مورتیوں ہی کو پوجنا شروع کردیا۔

ان تصریحات سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

1۔ یہ ’اولیاء اللہ‘ سیدنا نوح کی بعثت سے صدیوں پہلے فوت ہوچکے تھے اور جب سیدنا نوح مبعوث ہوئے تو اس وقت یہ قوم ان کے بتوں کی عبادت کرتی اور اپنے ان معتقدات پر راسخ ہوچکی تھی۔

2۔شیطان نے جب کبھی شرک یا کسی دوسری برائی کی راہ انسان کو سجھائی ہے تو اس کا کوئی پہلو خوبصورت بناکر اسے اپنے دامِ تزویر میں پھنسایا ہے۔

3۔ مظاہر پرستی کی دو شکلیں ہیں: ایک، براہِ راست اس چیز کے سامنے سرعجزونیاز خم کیا جائے جیسے سورج، آگ، کسی خاص درخت یاحیوان (مثلاً گائے) کے سامنے، دوسرے، اس کا بت بنا کر اس کے سامنے تعظیم و آداب بجا لائے جائیں جیسے سورج دیوتا، لکشمی دیوی وغیرہ۔ اسی طرح اولیا پرستی کی دو قسمیں ہیں: ایک قبر پرستی ، دوسرے بت پرستی۔ گویا بت پرستی ان دونوں میں قدرِ مشترک ہے۔

تبصرہ کریں