شفاعت مصطفیٰﷺ۔ ڈاکٹر محمد صارم

انسانی فطرت ہے کہ جہاں کام نہ بن رہا ہو وہاں اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ایسی ہستی اس کی سفارش کر دے جس کی سفارش رد نہ کی جائے اور اس کا کام بھی ہو جائے اور اگر کسی کو یقین ہو کہ میری سفارش کی جائے گی تو وہ کئی مرتبہ غلط روش کو بھی اختیار کر لیتا ہے کہ میری سفارش تو ہو ہی جانی ہے۔ مجھے کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔

اسی انسانی فطرت کے عین مطابق دنیا میں اس کے معاملات ہوتے ہیں۔ حتی آخرت کے معاملات جو اس سے بہت ہی زیادہ سخت ہونگے، اس کے متعلق بھی انسانی سوچ یہی ہوتی ہے کہ کسی کی سفارش وہاں کام آ جائے۔

مشرکین مکہ کا بتوں کی پرستوں کرنے کا ایک اہم سبب یہی تصور سفارش تھا۔

اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

﴿وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ﴾ (سورۃ يونس: 18)

’’اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ‘‘

اللہ پاک نے اس عقیدہ کی زبردست انداز میں نفی کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ (سورۃ يونس: 18)

’’کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔‘‘

ایک اور ان الفاظ میں ان کے اس عقیدے کی۔ مذمت کی:

﴿ قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ0 وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ﴾ (سورۃ سبأ:22۔ 23)

’’ (اے محمدﷺ!)ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا تم جن کو معبود سمجھتے ہو، انہیں پکارکر دیکھو، وہ تو آسمان و زمین میں ایک ذرہ کے بھی مالک نہیں۔ زمین و آسمان کی ملکیت یا تخلیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار ہے۔ اور اللہ کے حضور کسی کے لیے کوئی سفارش مفید نہیں ہوگی مگر اس کےلیےجس کے حق میں سفارش کی وہ اجازت بخش دے۔‘‘

آپ ﷺ کو بھی اسی عقیدے کے سیکھانے کی تعلیم دی:

﴿ وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ (سورۃ الأنعام: 51)

’’اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرا جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، ان کے لیے اس کے سوا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تاکہ وہ بچ جائیں۔‘‘

ایک اور مقام پر اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ صرف ان بتوں کی سفارش ہی کام نہ آئے گی بلکہ قیامت والے دن انسانی سوچ کے مطابق بچاؤ کے چاروں ممکنہ طریقے کارگر نہ ہو سکیں گے۔

﴿ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ﴾ (سورۃ البقرة: 48)

’’اور اس دن سے بچو جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی اور نہ اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔‘‘

اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اسلام میں قیامت والے دن کوئی سفارش کا تصور ہی نہیں بلکہ ان آیات میں مشرکین کے جس سفارش والے عقیدہ کا رد کیا جا رہا ہے وہ یہ تھا۔

1۔ان کے بتوں کے پاس سفارش کا حق ہوگا۔

2۔وہ اپنی مرضی سے سفارش کر سکیں گے۔

3۔ان کی سفارش مانی جائے گی۔

اسلام کا تصور شفاعت یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ پاک جس کے متعلق چاہیں گے اور جسے چاھیں گے اسے سفارش کرنے کی اجازت دے دیں گے اور سفارش کرنے والا زبردستی اپنی بات منوا نہیں سکتا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ قُل لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا﴾ (سورۃ الزمر: 44)

’’ (اے محمد ﷺ!)کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی شفاعت اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ‘‘

ایک اور جگہ فرمایا:

﴿وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ﴾ (سورۃ النجم: 26)

’’اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی مگر بعد اسکے کہ اللہ جس کے حق میں شفاعت کی اجازت دے اور پسند کرے۔‘‘

عقیدے کے اس اہم ترین مسئلے کو ایۃ الکرسی میں صرف دو حروف میں بالکل واضح انداز میں یوں بیان فرما دیا:

﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾

’’کون ہے جو اللہ کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے۔‘‘(سورۃ البقرة: 255)

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں قیامت والے دن کی سفارش سے متعلق چاروں اہم ترین سوالات

1۔کس کو سفارش کرنے کی اجازت ملے گی؟

2۔کتنی سفارش قبول کی جائے گی؟

3۔کس کی سفارش کرنے کی اجازت ہو گی؟

4۔کس کی سفارش کی اجازت نہیں ہو گی؟

کے مکمل جوابات دیئے گئے ہیں۔ آئیے ذیل میں ان کا جائزہ لیتے ہیں:

شفاعت کبریٰ

قیامت والے دن کئی ایک کو سفارش کی اجازت ملے گی۔ جن میں قرآن مجید، انبیاء وغیرہ بھی شامل ہے۔ اس دن سب سے بڑی سفارش حضرت محمد ﷺ کی ہوگی۔ اس عقیدے کو عقیدہ شفاعت مصطفیٰ ﷺ کہا جاتا ہے۔ اسے ہی عرف عام میں شفاعت کبریٰ کہا جاتا ہے۔

اس شفاعت کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث پاک سے لگایا جاسکتا ہے:

أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ ؟ ” قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : ” فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ “. قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ : ” هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجہ: 4317)

’’حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے۔ کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس انتخاب کا حق عنایت فرمایا ؟ ہم نے کہا: اللہ اور ا س کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔آپ نے فرمایا اس نے مجھے آدھی امت کے جنت میں داخلے اور شفاعت میں سے کوئی ایک چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا۔میں نے شفاعت کو منتخب کرلیا ہم نے عرض کیا :اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ ہمیں بھی شفاعت پانے والوں میں شامل فرمادے۔آپ نے فرمایا: وہ ہرمسلمان کےلئے ہے۔‘‘

نبی پاک ﷺ کی اپنی امت سے محبت کا عالم دیکھیں کہ شفاعت کے لئے اللہ پاک کی دی ہوئی اجازت سے اپنے کسی امتی کو محروم نہ کرنا چاھتے تھے۔

اب ہم میں سے ہر ایک مسلمان کی خواہش ہے کہ ہم وہ خوش نصیب ہوں جن کی سفارش کی أجازت اللہ پاک اپنے پیارے حبیب محمد ﷺ کو دے۔ آپ ﷺ کی شفاعت کن کن مقامات پر کن افراد کو ملے اور کون بد نصیب اس سے محروم رہ جائیں ان کا تذکرہ بھی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں آتا ہے۔

مقامات شفاعت

قیامت والے دن وہ مقامات جہاں آپ ﷺ اللہ کی مرضی سے شفاعت کریں گے وہ یہ ہیں۔

حساب کے آغاز کے لئے

سیدنا انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن تمام اہل ایمان کو اکٹھا کیا جائے گا تو وہ کہیں گے:کاش! ہم کسی کی سفارش اللہ کے حضور لے جائیں تاکہ ہمیں وہ اس حالت سے آرام دے دے، چنانچہ وہ سب مل کر سیدنا آدم کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: اے آدم! آپ لوگوں کی حالت کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس بلا میں گرفتار ہیں؟ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا،پھر فرشتوں سے سجدہ کرایا اور تمام اشیاء کے نام آپ کو سکھائے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس حالت سے نکات دے۔ سیدنا آدم کہیں گے : میں اس منصب کے لائق نہیں ہوں۔ اور وہ ان کے سامنے اس غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی لیکن تم نوح کے پاس جاؤ۔وہ اللہ کی طرف سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا۔پھر سب لوگ سیدنا نوح کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہوئیں تھیں۔ ہاں تم سیدنا موسیٰ کے پاس جاؤ،وہ اللہ کے بندے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تورات دی اور بلاواسطہ ان سے کلام کیا۔یہ سن کر وہ سب سیدنا موسیٰ کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں اور اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جوان سے دنیا میں سرزد ہوئی تھی،ہاں تم سیدنا عیسیٰ کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم سب سیدنا محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جب کی اگلی پچھلی سب خطائیں اللہ تعالیٰ نے معاف کردی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں چل پڑوں گا اور اللہ کے حضور حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔ اپنے رب کو دیکھتے ہی میں سجدے میں گرجاؤں گا اور جب تک اسے منظور ہوگا وہ مجھے سجدے ہی میں پڑا رہنے دے گا۔اس کے بعد ارشاد ہوگا: اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ تم جو کہو گے اسے سنا جائےگا،جو سوال کرو گے تمہیں دیا جائے گا اور جو سفارش کرو گے اسے قبول کیا جائے گا ۔ میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر سفارش کروں گا ۔‘‘ (صحیح مسلم: 193)

دوران حساب

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَنَا فَاعِلٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ قَالَ اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ (سنن ترمذی: 2433)

’’سیدنا انس بن مالک کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا:’’ ضرور کروں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟آپ نے فرمایا:’ سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈھنا’، میں نے عرض کیا: اگرپل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہوسکے، تو فرمایا:’ تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈھنا’، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہوسکے تو؟ فرمایا:’ اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈھنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا۔ ‘‘

حوض کوثر

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ (صحیح بخاری: 6583)

’’سیدنا سہل بن سعد سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ جوشخص بھی میرے پاس گزرے گا وہ اس کا پانی نوش کرے گا۔ جس نے اس کا پانی ایک مرتبہ نوش کرلیا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ وہاں کچھ لوگ ایسے بھی آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لوں گا اور مجھے پہنچان لیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔“

اس سے اگلی حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی سفارش کریں گے۔ لیکن آپ جب بتایا جائے گا کہ یہ آپ کے بعد بدل گئے تھے تو پھر آپ اپنی سفارش واپس لے لیں گے۔

فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي (صحیح بخاری: 6584)

’’میں کہوں گا: یہ تو مجھ سے ہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں میں کہوں گا: دوری ہو اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کرلی تھی۔“

سب سے پہلی بات تو یہ سمجھنے والی ہے کہ یہ افراد تعداد میں نہایت قلیل تھے کیونکہ ایک حدیث میں وضاحت ہے

أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي (صحیح مسلم: 2304)

’’یہ تصغیر کا صیغہ ہے جو قلت پر دلالت کرتا ہے۔ ‘‘

دوسرا یہ کہ یہ چند عرب بدو تھے جن کی کوئی دینی خدمت بھی نہ تھی۔

حافظ ابن حجر ﷫ فتح الباری میں ان کے بارے فرماتے ہیں کہ

’’صحابہ کرام ( مہاجرین و انصار اور مولفتہ القلوب قریش مکہ) میں سے کوئی بهی مرتد نہیں ہوا۔ البتہ اجڈ قسم کے بدووں کی ایک جماعت ضرور مرتد ہوئی جن کی دین میں کوئی نصرت نہیں تهی اور یہ بات مشہور صحابہ میں موجب قدح نہیں۔رسول اکرم ﷺکا بصیغہ تصغیر اصیحابی ( میرے چند اصحابی) فرمانا مرتدین کی تعداد کی قلت واضح کرتا ہے۔‘‘ (فتح الباري: 11/ 385)

پل صراط

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَنَا فَاعِلٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ قَالَ اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ (سنن ترمذی: 2433)

’’سیدنا انس بن مالک کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا:’’ ضرور کروں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟آپ نے فرمایا:’’ سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈھنا‘‘، میں نے عرض کیا: اگرپل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہوسکے، تو فرمایا:’’تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈھنا‘‘، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہوسکے تو؟ فرمایا:’’ اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈھنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا۔‘‘

جہنم میں چلے جانے والے افراد کے لئے

سیدنا انس کی طویل حدیث کے آخر میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’میں سجدے میں گرجاؤں گا اور جب تک اسے منظور ہوگا وہ مجھے سجدے ہی میں پڑا رہنے دے گا۔اس کے بعد ارشاد ہوگا:

اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ تم جو کہو گے اسے سنا جائےگا،جو سوال کرو گے تمہیں دیا جائے گا اور جو سفارش کرو گے اسے قبول کیا جائے گا۔ میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر سفارش کروں گا۔ تو میرے لیے مخصوص لوگوں کی حد مقرر کی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے رب کے حضور آؤں گا۔ اسے دیکھتے ہی سجدے میں گر جاؤں گا۔ جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد مجھے کہا جائے گا:

اے محمد ! اپنا اٹھاؤ ۔تم جو کہو گے اسے سنا جائے گا۔ جو سوال کرو گے وہ پورا کیا جائے گا اور جو سفارش کرو گے اسے قبول کیا جائے گا۔ پھر اپنے رب کی ایسی تعریفیں کروں گا جو مجھے الہام کرے گا، اس کے بعد میں سفارش کروں گا جو اس وقت وہ مجھے الہام کرے گا، اس کے بعد میں سفارش کروں گا تو میرے لیے الہام کرے گا، اس کے بعد میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کردی جائے گی۔ میں انہیں بہشت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے رب کے پاس حاضر ہوں گا تو اسے دیکھتے ہی سجدے میں گرجاؤں گا ،جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا:

اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ ۔ تم جو کہو گے سنا جائے گا جو سوال کروگے پورا کیا جائے گا اور سفارش کرو گا تو میرے لیے حد مقرر کرسی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں لے جاؤں گاپھر لوٹ آؤں گا تو عرض کروں گا : اے میرے رب! اب دوزخ میں وہی لوگ باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے اور ان پر جہنم میں ہمیشہ کے لیے ٹھہرنا واجب ہوچکا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:

آخر کار دوزخ سے وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہ الا اللہ پڑھا ہوگا اور ان کے دل میں ایک جو کے برابر ایمان ہوگا ۔پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہ اللہ پڑھا ہوگا اور ان کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوگا۔ بالآخر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہ الا اللہ پڑھا ہوگا اور انکے دلوں میں زرہ برابر ایمان ہوگا۔‘‘ (صحیح مسلم: 193)

ایک اور حدیث میں آتا ہے

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ ﷺ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ (صحیح بخاری: 6566)

’’سیدنا عمرو بن حصین سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا:

”جنہم سےا یک قوم کو حضرت محمد ﷺ کی سفارش سے نکالا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ تو انہیں جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔“

اسباب شفاعت

یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ کوئی بھی شفارش کرنے والا اللہ پاک کی مرضی کے بغیر شفارس نہیں کر سکے گا۔ لہذا ہر مسلمان یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون سے ایسے اعمال ہیں جن کے کرنے کی وجہ سے اللہ پاک اپنے پیارے نبی ﷺ کو اس عمل کے کرنے والے کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ انہی کو اسباب شفاعت کہا جاتا ہے۔ ذیل میں انہیں اسباب کو بیان کیا جا رہا ہے۔

توحید

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ (صحیح بخاری: 6570)

’’سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! قیامت کے دن آپ کی سفارش کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ہریرہ! میرا بھی یہی خیال تھا کہ یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی مجھ سے نہیں پوچھے گا کیونکہ حدیث کے سلسلے میں تجھے بہت زیادہ حریض پاتا ہوں۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ حریص پاتا ہوں۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہوگی جس نے کلمہ لا الہ الا اللہ خلوص دل سے پڑھا ہوگا۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا (صحیح مسلم: 199)

’’ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو (یقینی طور پر )قبول کی جانے والی ہے ۔ ہر نبی نےاپنی وہ دعا جلدی مانگ لی )جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو ا للہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا۔‘‘

توحید والا انسان اگر کسی کبیرہ گناہ میں بھی ملوث ہوا اور وہ کبیرہ گناہ ان گناہوں میں سے یہ نہ ہوا جن کے کرنے پر شفاعت بے فائدہ ہو جائے گی (ان کا بیان آگے آ رہا ہے) تو بھی اللہ پاک کی اجازت سے ان کی سفارش کی جائے گی۔ کیونکہ آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا:

«شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» (سنن ابو داؤد: 4739)

میری سفارش میری امت کے ان لوگوں کے لیے ہو گی جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں شرک جیسی غلاظت سے محفوظ فرمائے۔ آمین

اذان کا جواب

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ (صحیح بخاری: 614)

’’(اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور بزرگی عطا فر اور انہیں اس مقام پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے) تو اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔‘‘

مدینے کی موت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : ” مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا ؛ فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ” (سنن ترمذی: 3917)

’’سیدنا عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مدینہ میں مرسکتاہو تو اسے چاہیے کہ وہیں مرے کیوں کہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا۔‘‘

کثرت نوافل

حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي :

” سَلْ “. فَقُلْتُ : أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: ” أَوَغَيْرَ ذَلِكَ ؟ ” قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ. قَالَ : ” فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ “.

’’سیدنا ربیعہ بن کعب (بن مالک) اسلامی نے کہا:

میں (خدمت کے لیے) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (صفہ میں آپ کے قریب) رات گزارا کرتا تھا، (جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ (ایک مرتبہ) آپ نے مجھے فرمایا:

’’ (کچھ) مانگو۔‘‘ تو میں نے عرض کی:

میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ

جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ نے فرمایا: ’’یا اس کے سوا کچھ اور؟‘‘ میں نے عرض کی:

بس یہی۔ تو آپﷺ نے فرمایا:

’’تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔‘‘ (صحیح مسلم: 489)

موانع شفاعت

شریعت اسلام نے کچھ ایسے اعمال بھی بیان کئے ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اللہ پاک ان کے لئے شفاعت کی اجازت نہیں دے گا۔ ان اسباب کو موانع شفاعت کہتے ہیں۔

ذیل میں ان امور کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو ان کاموں سے بچائے۔ آمین

شرک

﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾

’’ان کے لیے بخشش مانگ، یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ، اگر تو ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کرے گا تو بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (سورۃ التوبہ: 80)

﴿مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ﴾

’’ظالموں کے لیے نہ کوئی دلی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی، جس کی بات مانی جائے۔‘‘(سورۃ غافر: 18)

یہاں ظالم سے مراد شرک والا ظالم ہے۔

نماز نہ پڑھنا

قرآن مجید میں چار ایسے اعمال کا ذکر ہے جن کے کرنیوالے افراد کے لئے اللہ پاک سفارش کی اجازت نہیں دینگے اور کسی بھی سفارش کرنے والے کی سفارش یہ کام کرنے والوں کے کسی کام نہ آئے گی۔

ان میں سے پہلا کام نماز نہ پڑھنا ہے۔ جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے جہنم میں جانے والے مجرموں کے بارے میں سوال کریں گے۔ پھر جہنم کی طرف دیکھ کر جہنمیوں سے سوال کریں گے کہ تمہیں کس چیز نے سقر یعنی جہنم میں داخل کر دیا؟

﴿قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ﴾ (سورة المدثر: 43)

’’وہ کہیں گے ہم نماز ادا کرنے والوں میں نہیں تھے۔‘‘

یعنی وہ اپنے بے نماز ہونے کا اقرار کریں۔

مساکین کو کھانا نہ کھلانا

پھر کہیں گے کہ

﴿وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ﴾ (سورة المدثر: 44)

’’اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘

مذاق و تمسخر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا

اپنے جہنم میں جانے کا تیسرا سبب یہ بتائیں گے کہ

﴿وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ﴾(سورة المدثر: 45)

’’اور ہم بےہودہ بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر فضول بحث کیا کرتے تھے۔‘‘

قیامت کا انکار

آخری سبب یہ بیان کریں گے کہ

﴿وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ﴾ (سورة المدثر: 46)

’’اور ہم جزا کے دن کو جھٹلا یا کرتے تھے۔‘‘

اور وہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ انہوں نے اسی حال میں ساری زندگی گزار دی یہاں تک کہ انہیں موت آ گئی۔

اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ایسے افراد کے لئے کسی سفارش کرنے والے کی سفارش کام نہ آئے گی۔

﴿فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾

’’پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔‘‘ (سورة المدثر: 48)

خلاصہ کلام

قیامت والے دن سفارش ہوگی مگر وہی کر سکے گا جسے اللہ پاک اجازت دیں گے نیز جس کے لئے اجازت ملے گی صرف اسی کی سفارش ہو سکے گی۔ شفاعت کی اجازت کئی ایک کو ملے گی جن میں قرآن و انبیائے کرام ﷩ وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام سفارشوں میں سب سے بڑی سفارش نبی کریم سیدنا محمد ﷺ کی ہوگی۔ اسے شفاعت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ توحیدی عقیدہ، اذان کا جواب، مدینے میں ایمان کی حالت میں موت اور کثرت نوافل کا اہتمام جسے امور کے حاملین کے نصیب میں یہ سعادت لکھی جائے اور شرک، نماز کی عدم ادائیگی، مساکین کو کھانا نہ کھلانا، بےہودہ گفتگو والوں کے ساتھ مل کر وہی کچھ کرنا، انکار قیامت جیسے اسباب کی وجہ سے شفاعت سے محروم کر دیا جائے گا۔

اللہ پاک ہمیں ایسے اعمال سے محفوظ فرمائے اور شفاعت کا سبب بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

علامہ علی طنطاوی لکھتے ہیں:

’’ طلبہ کو چاہیے کہ وہ روزانہ ( کم از کم) پانچ صفحے مطالعہ کرنے کے عادی بنیں اور اسے کبھی ترک نہ کریں۔ میں پچاس سالوں سے مطالعہ کرتا آ رہا ہوں، جس کی یومیہ مقدار بیس صفحات سے کم نہیں ہوتی، بلکہ بچاس صفحات سے کم نہیں ہوتی۔ غور کرو پچاس سال میں روازنہ کیے گئے بیس صفحے کے مطالعہ کی مجموعی مقدار کیا ہوگی؟ ایک تہائی ملین سے بھی زیادہ۔

تعجب نہ کرو، بہت سے لوگ اس سے بھی زیادہ پڑھے ہیں، مثال کے طور پر عقاد کو دیکھو، وہ اس سے بھی زیادہ پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔ علمائے متقدمین کے مطالعے کی شرح چھوڑو، ان میں سے بہتوں کی تالیفات تو پچاس ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔

جن طلبہ کو مکافہ یا والد کی طرف سے پاکٹ خرچ ملتا ہے، ان کو چاہیے کہ اس میں سے پانچ یا دس ریال ہر ماہ کتاب خریدنے کے لیے مختص کر لیں اور ہاں بہترین اور مفید کتابیں ہی خریدیں۔ ( اگر ایسا کیے) تو فارغ ہوتے ہوتے اس کے پاس ایک چھوٹی سی لائبریری بن جائے گی۔ اور جن کے پاس روپیے نہ ہوں تو ان کے لیے عام مکتبات کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور وہاں مفت مطالعہ کی سہولت بھی ہوتی ہے، اسی لیے وہاں جاکر مطالعہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔

( فصول فی الثقافۃ والأدب: ص181۔182)

٭٭٭٭

عثام بن علی روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام اعمش﷫ کو کہتے سنا:

” إذا رأيت الشيخ، لم يقرأ القرآن، ولم يكتب الحديث، فاصفع له، فإنه من شيوخ القمر» . قال أبو صالح: قلت لأبي جعفر: ما شيوخ القمر؟ قال: شيوخ دهريون، يجتمعون في ليالي القمر، يتذاكرون أيام الناس، ولا يحسن أحدهم أن يتوضأ للصلاة”

’’جب تم کسی عالم کو دیکھو کہ وہ قرآن کریم نہیں پڑھتا اور حدیث نہیں لکھتا تو اس سے دور رہو وہ شیخ القمر ہے۔‘‘

ابو صالح کہتے ہیں کہ

’’میں نے ابو جعفر (راوی) سے پوچھا:

شیخ القمر کون ہے؟ آپ نے فرمایا:

’’شیخ القمر اُن دہریہ لوگوں کو کہتے ہیں جو چاندنی رات میں جمع ہو کر تاریخی واقعات میں بڑی دون کی لیتے ہیں اور مسائل دینیہ میں ان کی جہالت کا یہ حال ہوتا ہے کہ اچھی طرح وضوء کرنا بھی نہیں جانتے۔‘‘

(شرف اصحاب الحدیث للخطیب: 1/67، والمحدث الفاصل: ص 306)

٭٭٭٭

تبصرہ کریں