شریعت اسلامیہ کی سادگی اور فقیہانہ موشگافیوں کی تباہ کاریاں۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی

نماز کے فرائض سنت اور مستحبات کی تفصیل وتقسیم اسوۂ نبی طریق  صحابہ اور عمل سلف صالحین کے خلاف ہے۔ اسلامی شریعت بہت سادہ اور تکلفات سے پاک وصاف ہے۔ جسے فقیہانہ موشگافیوں اور تقلید شخصی سے ملوث کر کے بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اس سے اُمت اسلامیہ کئی فقہی مذاہب میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔

سنت پر بدعات غالب آنے لگ گئیں اور پوری امت تقسیم درتقسیم کی نحوست کاشکار ہو گئی مثلاً چھے کلمے حالانکہ کسی حدیث میں 6 کلموں کا ذکر نہیں ہے۔ صرف ایک کلمہ اسلام لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُـحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ  اور شہادہ کے لیے أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُـحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ۔ اسی طرح اذان میں آگے پیچھے کئی کچھ چیزوں کا اضافہ جو بلالی اذان میں ہرگز نہ تھا۔ وضو کے فرائض مستحبات اور نمازوں کے فرائض ومستحبات کی تفصیل وتقسیم ایک مسلمان کے لیے بنیادی طور پر قرآن وسنت احادیث صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے عمل کی روشنی میں ہی قابل حجت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقسیم  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں پائی جاتی تھی۔ ہرگز نہیں اسی لیے یہ سوال کہ نماز میں کتنے فرائض، واجبات اور کتنی سنتیں ہیں؟ یہ بتانے کا کام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا اور سلف صالحین اس  کو بُرا جانتے تھے۔ جیسا کہ مؤطا امام مالک رحمہ اللہ اور مشکاۃ (ج1 ص 113) میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا:“هل الوتر واجب” کیا وتر فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا: فقال أوتر رسول اللهﷺ والمسلمون کہ واتر واجب اور فرض کیا ہوتا ہے؟ نبی ﷺ اور مسلمانوں کا طریقہ وتر پڑھنا ہے اور بس تم بھی پڑھو۔ اسی طرح سیر اعلام النبلاء للذہبی (ج 8 ص 114) میں ہے، عبد اللہ بن رماح کی روایت ہے کہ نماز کے فرائض و واجبات ومستحبات  ونوافل وغیرہ پوچھنے والے کو امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ کسی زندیق کا سوال ہو سکتا ہے، ایسے شخص کو میری مجلس سے اٹھا دیا  جائے۔ عن عبد الله بن الرماح قال دخل على مالك فقلت يا أبا عبد الله ما فى الصلاة من فريضه؟ وما فيها من سنة؟ أو قال نافله؟ فقال مالك كلام الزنادق اخرجوه (اسحاق بن منصور (ج1 ص 132، 133، ت 189) اسی طرح کی قیل وقال سے منع اس لیے کیا گیا کہ  اس طرح کی تقسیم وتفصیل کے ذریعے سے کفار دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے سوالات کو سلف صالحین بدعت سمجھتے تھے جیسا کہ

’’امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک نماز میں واجبات کیا ہیں؟  فرائض کیا ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا، تو نے واجبات نماز کے بارے میں پوچھا تو (سن لو کہ) (نماز ساری شروع سے لے کر آخر تک واجب ہے۔ جو لوگ دوسرے لوگوں سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ’’ نماز میں یہ سنت ہے اور یہ فرض ہے۔‘‘ ان لوگوں کی یہ بات غلط ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کو نماز سکھائی تو اس میں سنتیں سکھا دیں اور فرائض بتا دیے۔ جو ہم اور یہ لوگ اس میں پڑھتے ہیں۔‘‘

لیکن کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ نماز کے حصے بنا دے اور کہے کہ نماز کے لیے اتنے فرض ہیں اور اتنی سنتیں ہیں، بے شک یہ بات بدعت ہے۔ (مسائل الامام احمد بن حنبل واسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ)

اصل عبارت ملاحظہ ہو:

“سئل إسحاق عن الواجب في الصلاة عندكم، وعن ما لا بدَّ منه؟ فقال: وأما ما سألت عن الواجب في الصلاة أيها هي؟ فإن الصلاة كلَّها من أولها إلى آخرها واجبة، والذين يقولون للناس في الصلاة سنة، وفيها فريضة خطأ من المتكلم،  ولكن لا يجوز لأحدٍ، أن يجعل الصلاة أجزاءً مجزأةً، فيقول: فريضته كذا، سنته كذا فإن ذلك بدعة.”

اور تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کا اصل چہرہ چھپا دینے اور امت کو تقسیم درتقسیم میں الجھا دینے میں اسی فلسفیانہ موشگافیوں اور قیل وقال کا بڑا ہاتھ ہے لیکن اسلام ایک مکمل  اور دائمی دین ہے، اس لیے امت کا بڑا مؤثر طبقہ اسلام کے اصل چشمہ صافی قرآن وحدیث کو اس کی اصل صورت میں باقی رکھنے کا قائل وفاعل ہے۔

مرید ہندی (علامہ اقبال) نے پیر رومی سے پوچھا۔ میں مشرقی ومغربی علوم و فلسفوں کو جان چکا ہوں لیکن روح پھر بھی مضطرب ہے؟

پڑھ لیے میں نے علوم شرق وغرب

روح میں باقی ہے درد وکرب

پیر رومی نے جواب دیا کہ  ’’ بر نا اہل ڈاکٹر وحکیم  نے بے ہنگم دوانیاں دے دے کر تیرا نظام بدن وروح بیمار کر دیا ہے۔ اب تجھے دوائی کی نہیں تیمار داری کی ضرورت ہے اس کے لیے  تجھے اپنی ماں (قرآن وحدیث اور طریقہ سلف صالحین کی طرف آنا ہو گا جو تجھے دوا نہیں پیارے دے گی کیونکہ تجھے اس کی ضرورت ہے۔‘‘

دست بر نا اہل بیمارت کند

سوئے مادر آ تیمارت کند

تبصرہ کریں