شرعی سوالات کے جوابات۔ (شمارہ فروری 2021) ۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مسلمان خاتون کا نامعلوم مرد کے نطفہ کو حاصل کر کے رحم میں داخل کرنے کا حکم

سوال1: ایک خاتون نے استفسار  کیا ہے کہ ان کے شوہر جنسی لحاظ سے انتہائی کمزور  تھے، اس لیے ان دونوں نے فیصلہ کیا  کہ وہ کسی نامعلوم مرد  کے  منجمد نطفے کو حاصل  کر کے اسے اپنے رحم میں داخل کروا دیں تاکہ اس طرح وہ ایک بچے کی ماں بن سکیں، یہ تجربہ کامیاب رہا اور وہ اب ایک بچی کی ماں بن چکی ہیں، ان کا سوال ہے کہ آیا اس بچی کی نسبت ان کی طرف یا ان کے شوہر کی طرف کی جا سکتی ہے؟

جواب:  پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کا یہ فعل ناجائز تھا، کسی غیر مرد کا نطفہ اپنے رحم میں داخل کرنا درست نہ تھا کہ اس طرح ایک بچے کے نسب کا جاننا ممکن نہیں رہتا، اب جبکہ یہ واقعہ ہو چکا ہے  تو اس کا تدارک ایسے ہو سکتا ہے کہ آپ تو بہ کریں، کثرت سے استغفار کریں، اللہ تعالیٰ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگیں۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے:

«لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ والْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ » (سنن أبى داؤد:2158)

’’ایک مؤمن کے لیے  یہ جائز نہیں کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو کہ اپنا پانی کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرنے دے۔‘‘

یہ عمل حقیقۃً تو زنا نہیں ہے کیونکہ اس میں کسی دوسرے مرد کے ساتھ جنسی اتصال نہیں پایا گیا لیکن نتائج کے اعتبار سے زنا کے حکم میں آتا ہے۔

بچی کی نسبت کے بارے میں کیا کہا جائے گا ؟

کیونکہ بچی کا باپ مجہول ہے اس لیے اس کی نسبت صرف ماں کی طرف کی جائے، اور یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جس بچے کا باپ نامعلوم ہو تو اس کی نسبت ماں کی طرف کی جائے جیسے عیسیٰ ابن مریم۔

اور قرآن کریم کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہ تھا اور وہ معجزاتی طور پر  حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ (ص ح)

خلاف شریعت وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا

سوال2: اگر ایک شخص ایسی وصیت چھوڑ جائے کہ اس کا ترکہ شریعت کی منشا کے خلاف تقسیم ہوتاہو  تو کیا ایسی وصیت کی پابندی کی جا سکتی ہے؟ یا اسے شریعت کے مطابق ہی تقسیم کرنا چاہیے؟

جواب: یہ بات تو قطعی طور پر معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ وراثت کے احکام قرآن مجید میں  تفصیل سے بیان کر دیے ہیں اور ہر وارث کا حصہ وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اس کے بدلنے کی، ایک مؤمن کو پورا یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تقسیم وراثت عدل وانصاف پر قائم ہے جس میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔

اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکہ کی تقسم اللہ کے حکم کے مطابق کی جائے گی، نہ اس میں کمی کی گنجائش ہے، نہ بیشی اور اس لحاظ سے مذکورہ وصیت شریعت کے  مخالف ہونے کی بنا پر جائز نہیں ہے۔

البتہ اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اگر تمام ورثہ مورث کی موت  کے بعد خود ہی اس بات راضی ہو جائیں  کہ وہ ترکہ کو برابر تقسیم کر لیں، یعنی اپنا حصہ یا اپنے حصے کا ایک جزو دوسرے کے حق میں چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائیں، تو ایسا کیا جا سکتا ہے اور وہ اس لیے کہ اب وہ خود اس مال کے مالک  ہیں اور ان کے لیے جائز  ہے کہ ایک شخص دوسرے کے حق میں  اپنے کچھ مال کو چھوڑ دے۔ (ف ک)

کرسمس ٹری کی خرید وفروخت ناجائز ہے

سوال3: کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں ایسی وِگ کی تجارت کر سکوں کہ جو کلی طور پر یا جزوری طور پر انسان کے بالوں سے بنائی گئی ہو؟ اور کیا کرسمس کا درخت بیچنا جائز ہے؟

جواب: دو باتوں میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے:

1۔ وِگ:جو انسانی بالوں سے بنائی گئی ہو، اسے وَصْل کہا  جاتا ہے جو کہ ممنوع ہے، اس کا استعمال بھی اور اس کا بیچنا بھی۔

2۔ دوسری وہ وِگ جو مصنوعی بالوں سے بنائی گئی ہو تو وہ مذکورہ  ممانعت میں داخل نہیں ہوتی، اسے لیے اس کا استعمال یا اس کی بیع جائز ہے۔ اور  جہاں تک کرسمس  ’ٹری‘ کی بات ہے تو ہمارے نزدیک اس کا بیچنا ناجائز ہے اور وہ اس لیے کہ   اس کا شمار عیسائیت کے دینی شعائر میں سے ہوتا ہے اور ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مذاہب کے دینی شعائر کی بیع وشراء کرے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت کے مطابق نبیﷺ اگر گھر میں کوئی ایسی چیز دیکھتے  جس میں صلیب ہو تو وہ اسے توڑ ڈالتے۔

(صحیح بخاری:5952)

صلیب عیسائیت کا شعار ہے اور ایسے ہی عیسائیت کے دوسرے شعائر کا حکم ہے۔ (ف ک)

غیر شرعی لباس  بنانے والی کمپنی میں ملازمت کا حکم

سوال4:  کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں ایسی کمپنی میں کام کروں جو خواتین کے بھڑکیلے لباس بناتی  ہے، یہ کمپنی مرد اور عورت ہر ایک کے لیے کپڑے تیار کرتی ہے ، لیکن بعض نسوانی لباس شرم وحیا کے معیار پر  نہیں اترتے، ویسے میرا اپنا کام معلومات کی ٹیکنالوجی سے متعلق ہے؟

جواب: اگر آپ کے کام کا تعلق بیع وشراء سے نہیں، صرف معلومات کی ٹیکنالوجی سے ہے، تو اس کام میں کوئی حرج نہیں، اب وہ شرم وحیا سے عاری لباس کا فروخت کرنا جو کہ مردانہ اور زنانہ ملبوسات کا ایک حصہ ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں دکھائی دیتا کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لباس مشروع طریقے سے استعمال کیے جائیں، اصل گناہ تو اس شخص پر ہے جو انہیں ناجائز طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ ( ف ک)

حمل کے 120 دن کے بعد اسقاط کرنا، ایک زندہ جان کو قتل کرنے کے مترادف

سوال5: میں یو کے میں ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہوں، بعض دفعہ ہمارے پاس ایسی خواتین آتی ہیں جو اسقاط حمل کے لیے  انہیں ہسپتال بھیجے جانے کےلیے  مطالبہ کرتی ہیں اور بعض دفعہ دو ڈاکٹروں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس عمل سے متعلق فارم پر دستخط کریں تو آیا میں ایسا کر سکتا ہوں؟

جواب: روح کے پھونکے جانے کے بعد اسقاط حمل ناجائز ہے، یعنی ایک سو بیس دن کے بعد ، کیونکہ روح پھونکے جانے کے بعد اسقاط کرنا ایک زندہ جان کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت طبیب اس عمل کے جواز کے لیے دستخط کرنا ایک گناہ پر اِعانت کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوْا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2)

’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور سرکشی والے کاموں پر تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

اور جب تک آپ اس بات کے مختار ہیں کہ دستخط کریں یا نہ کریں تو آپ نہ ہی ایسے فارم پر دستخط کریں اور نہ  ہی ایسی خواتین کو اس ناجائز کام کے لیے ہسپتال بھیجیں اور یہ بھی ملاحظہ رہے کہ قانون  بھی اس بات کے کرنے کو لازم نہیں قرار دیتا۔ لیکن اگر حمل مدت مذکورہ سے کم دنوں کا ہو اور آپ یہ سمجھیں کہ یہ مطالبہ جائز معلوم ہوتا ہے تو پھر آپ دستخط کر سکتے ہیں الّا یہ کہ ایسا کرنے میں کسی قانون  کی مخالفت ہوتی ہو۔ ( ف ک)

تبصرہ کریں