سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: فتویٰ کمیٹی برطانیہ سے استفسار کیا گیا ہے کہ آیا تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے طلبہ حکومتی قرض لے سکتے ہیں؟ دوسرا سوال گھر خریدنے کے بارے میں ہے جو کہ بطور آمدنی Investment کی غرض سے ہو؟

جواب: پہلے مسؤول کے بارے میں ہم سائل کو یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کے فتویٰ نمبر 81 (4:18) کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں مقیم مسلمان طلبہ کو ان سہولیات سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جو یورپین حکومتیں طلبہ کو قرض کی حیثیت سے دیتی ہیں اور جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی فیس ادا کر سکیں اور اپنے رہنے سہنے کے اخراجات پورے کر سکیں بشرطیکہ قرضے کی یہ رقم رہنے سہنے کے اخراجات کی نسبت سے سودی اضافے کے ساتھ مربوط نہ ہو اور اس اجازت کی بنیاد دو باتوں پر ہے:

1۔ دنیاوی طور پر یہ قرضے برائے تعلیم سود کے عنصر سے خالی ہوتے ہیں۔

2۔ وہ قوانین کے جن کے مطابق طلبہ سے قرض کی ادائیگی مطلوب ہوتی ہے، ان میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ طلبہ کی مالی حالت کیا ہے اور ان میں ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا جب تک وہ اوسط آمدنی پر مشتمل کوئی ذریعہ برائے آمدنی نہ حاصل کر لے، پھر اس سے یہ رقم قسطو ں میں وصول کی جاتی ہے جس میں حکومتی نظام برائے ٹیکس کا اعتبار کیا جاتا ہے یعنی آمدنی کے مطابق ٹیکس کی نسبت کا تعین کیا جاتا ہے اور اس میں دائن (یعنی قرض دینےوالے حکومتی ادارے) کا نہیں بلکہ مَدِین (یعنی قرض لینے والے طالب علم) کی مصلحت کا خیال رکھا جاتا ہے۔

اور جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو گھروں کی خرید برائے آمدن (Investment) کہ جس میں سودی معاملہ روا رکھا جاتا ہے، بالکل حرام ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اس سودی معاملے سے گریز کرنا چاہیے، یہ فتویٰ کونسل کی قرار داد نمبر (7، 2:4) میں آ چکا ہے کہ سودی قرضے کے ساتھ گھروں کا خریدنا جائز نہیں ہے۔ صرف اپنی رہائش کے لیے اگر گھر خریدنا مقصود ہو تو وہ چند محدود شرطوں کے ساتھ جائز رکھا گیا ہے اور اس میں بنیادی شرط یہی ہے کہ گھر اپنی رہائش کے لیے ہو نہ کہ تجارت کی خاطر لیا گیا ہو اور یہ معاملہ کرنے سے پہلے ان تمام متبادل وسائل کے حصول کی کوشش کی گئی ہو جو سود کے شائبہ سے خالی ہوں۔ (ف ک)

سوال: ایک خاتون نے اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے ساتھ ایک بہت بڑا فراڈ ہوا ہے۔ ایک شخص نے شادی کا جھانسہ دے کر اس سے 70 ہزار پاؤنڈ ہتھیا لیے اور پھر رفو چکر ہو گیا۔ یہ رقم زیادہ تر اس کے بھائی کی تھی جو اس کے پاس تھی، وہ بڑی مشکل سے رقم کا بڑا حصہ واپس کر پائی ہے لیکن باقی واپس رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتی تو کیا وہ باقی رقم دینے سے انکار کر سکتی ہے؟

جواب: اس کے بھائی کی طرف سے دی گئی رقم اس کے پاس اگر امانت تھی تو بہرصورت وہ اسے واپس کرنے کی پابند ہے کیونکہ اس نے جو کچھ بھی کیا اپنی خواہش کے طور پر کیا، تو اب وہ اس مال کی ضامن ہو گی اور اگر وہ مال بطور قرض دیا گیا تھا تو قرض کی ادائیگی بھی ضروری ہے لیکن قرض دینے والے کو مقروض کی مالی حالت کا احساس ہونا چاہیے اور اگر وہ تنگی دامن کی بنا پر قرض کی ادائیگی نہیں کر سکتا تو اسے مہلت دینی چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ﴾  (سورۃ البقرۃ: 280)

’’اور اگر (مقروض ) تنگی کا شکار ہے تو اسے مہلت دی جائے یہاں تک کہ وہ مالدار ہو جائے۔‘‘

اور یا پھر وہ اسے باقی رقم معاف کر دے جیسا کہ ایسی آیت کے آخر میں کہا گیا ہے:

﴿وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ﴾  (سورة البقرة: 280)

’’ اور اگر تم معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘

سائلہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کسی مخیر شخص یا رفاہی تنظیم سے زکاۃ وصول کرنے میں حق بجانب ہے تاکہ اپنا قرض واپس کر سکے۔ اس بات کی بنیاد مندرجہ ذیل حدیث پر رکھی گئی ہے۔

حضرت ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص پھلوں کا کاروبار کرتا تھا لیکن پھل خراب ہونے کی بنا پر اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر کافی قرض چڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اعلان کیا کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔ تو لوگوں نے صدقات دینے شروع کیے لیکن پھر بھی اس کا پورا قرض ادا نہیں ہو سکا تو نبی ﷺ نے اس کے تمام قرض خواہوں سے کہا: ’’ جو مل گیا ہے وہ لے لو، تمہارے لیے اس کے علاہ کچھ نہیں۔‘‘ (صحیح مسلم)

اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے حالات سدھار دیں۔

سوال: ایک سائل کا کہنا ہے کہ کورونا کی بنا پر ایک ہی دن اس کے والد اور دادا کی وفات ہوئی، والد کا انتقال صبح ہوا اور دادا کا شام کو، دادا کی اولاد میں ایک تو میرے والد تھے جو انتقال کر گئے اور چھ (6) بیٹیاں تھیں، اب ہماری برادری  کے متعدد افراد کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ میرے والد، دادا کی حیات میں انتقال کر گئے تھے ، اس لیے ان کا دادا کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے یا میرے بھائی بہنوں کو بھی دادا کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ برائے مہربانی ہماری صحیح رہنمائی کریں۔

جواب: یہ مسئلہ میراث کی کتب میں ’ مناسخہ‘ کے ضمن میں تحریر کیا جاتا ہے، یعنی ایک شخص کی وفات کے بعد اس کے ورثہ میں سے کسی دوسرے کا فوت ہو جانا جب کہ میراث ابھی تقسم نہیں ہوئی۔

آپ کے مسئلہ میں پہلی بات تو یہ ہے کہ دادا کو اپنے بیٹے کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ ملے گا۔ چنانچہ آپ اپنے والد کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ اپنے دادا کے لیے مختص کر دیں۔ اب دادا کے ترکہ میں سے ان کی بیٹیوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور جو باقی ایک تہائی بچا ہے ، وہ آپ کے (اور آپ کے بھائی بہنوں) کے حصے میں آئے گا کیونکہ اب آپ ہی میت کے قریب ترین وارث ہیں۔

سورۃ النساء کی آیت نمبر 11 ملاحظہ ہو جس میں باپ اور بیٹیوں کے حصص بتائے گئے ہیں اور جب اصحاب الفروض کو ان کے حصے مل جائیں توباقی سنت کے مطابق قریب ترین رشتہ داروں کو جاتا ہے۔

آپ کے دادا کے ترکہ کو نو حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے، جس کے دو تہائی یعنی چھ حصص بیٹیوں کے لیے ہوئے، ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا اور باقی تین حصے آپ کے حصے میں آئے ۔

جن لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ آپ کا کوئی حصہ نہیں، وہ درست بات نہیں کہہ رہے ہیں۔ واللہ اعلم (ص ح)

سوال: میں نے کرائے پر ایک مکان لیا ہے ، مالک مکان کی طرف سے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ میں اس مکان کو کسی دوسرے شخص کو اپنی طرف سے کرائے پر دوں، ان کا کہنا ہے کہ یہ مکان صرف میرے شخصی استعمال میں ہو گا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے ذاتی استعمال میں ہونے کا مطلب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ میں اسے اپنی آمدنی کے لیے استعمال کروں۔ میرے لیے دوسرا راستہ یہ رہ جاتا ہے کہ میں ایک وین (Van) خرید لوں اور پارسل ڈلیوری کا کام انجام دیتا رہوں تاکہ میری آمدن ہو سکے لیکن میرے پاس وین خریدنے کے لیے پوری رقم نہیں ہے جو کہ سودی قرضے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب:جہاں تک مکان کو Sul-letکرنے کا سوال ہے تو اگر مالک مکان اس امر سے منع کر چکا ہے تو آپ کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے، آپ کو معاہدے اور اس کی شرائط کی پابندی کرنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ (سورة المائدة: 1)

’’اے ایمان والو! معاہدوں کی پابندی کرو۔‘‘

اور نبیﷺ کا فرمان ہے:

«الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ» (جامع ترمذی اور دار قطنی بروایت عمرو بن عوف مزنی) ’’ مسلمان اپنی طے کردہ شرطوں کے پابند ہوتے ہیں۔‘‘

گو یہاں ’مسلمان‘ کا لفظ عام مسلم معاشرے کے لحاظ سے وارد ہوا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ غیر مسلم مالک مکان سے کیے گئے معاہدے کی پابندی نہ کریں اور جہاں تک گاڑی خریدنے کا تعلق ہے تو ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ اس کے لیے سودی قرضہ لیں جو کہ بالکل ناجائز ہے اور دوسرا طریقہ ہائر پرچیز کا ہے یعنی کمپنی اس بنیاد پر آپ کو گاڑی بیچے کہ اس کی قیمت شروع سے طے کر دی گئی ہو اور آپ کو یہ قیمت اقساط میں ادا کرنے کی سہولت حاصل ہو، اسے طویل مدتی بیع کہا جاتا ہے جو کہ مذکورہ بیان کردہ صورت کے اعتبار سے جائز ہے۔ ( ف ک)

سوال: یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کے اراکین میں سے ایک رکن سے یہ سوال پوچھا گیا تھا،

سائل کہتے ہیں کہ ان کی بیوی حمل کے ساتویں یا آٹھویں مہینے میں ہیں۔ ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق بچہ جسمانی لحاظ سے انتہائی معذور پیدا ہو گا کیونکہ اس کا دماغ نمو پذیر نہیں ہو رہا اور نہ ہی بعد میں سر اور دماغ کے بڑھنے کا امکان ہے۔ پیدائش کے بعد بھی بچہ ساری عمر ہسپتال ہی کی امانت رہے گا،والدین کو صرف ہفتہ میں ایک دن بچے کو دیکھنے کی اجازت ہو گی کیونکہ بچہ نہ دیکھنے کے قابل ہو گا اور نہ ہی بات کرنے کے، گویا اس کی زندگی نری تکلیف میں گزرے گی، اب ڈاکٹر حضرات نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ اس کی اس طرح کی زندگی چاہتا ہے یا اسقاط حمل پر راضی ہو جاتا ہے۔

کونسل کے اور اسی طرح کئی فقہی اکادیمیوں کے فتویٰ کے مطابق ایک سو بیس (120) دن کے بعد اسقاط حمل ممنوع قرار دیا گیا ہے الا یہ کہ ماں کی جان خطرے میں ہو۔ تو مذکورہ حالت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: یہ موضوع مزید تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ فوری طور پر کونسل کے چند معزز اراکین کی آراء درج کی جاتی ہیں جو اس مسئلہ میں رہنمائی کر سکتی ہیں:

1۔ مذکورہ اسباب قتل جنین کے جواز کے لیے کافی نہیں ہیں۔ والدین کے لیے یہ ایک امتحان ہے جس کا مقابلہ صبر اور ثواب کی امید سے کیا جانا چاہیے نہ کہ بچے کی جان لینے سے، ہم نے ایسے حالات دیکھے ہیں جن میں ولادت کے بعد بچے کی صحت میں قابل ذکر بہتری پیدا ہوئی ہے اور اللہ نے اسے پوری صحت سے نوازا ہے۔

2۔ جنین کی زندگی کا ہونا ایک قطعی امر ہے جب کہ ڈاکٹر کی آراء ظنی ہیں اور پھر ماں کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، ا س لیے اسقاط حمل جائز نہیں ہے، ہم ایک ایسی حالت کا علم رکھتے ہیں کہ جس میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ بچہ معذور پیدا ہو گا لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ یہ بچہ اب قرآن کا حافظ ہے، ہم طب کی ناقدری نہیں کرتے، الحمد للہ کہ طب روز بروز ترقی کر رہی ہے، لیکن احتیاط لازم ہے۔

3۔ اگر ڈاکٹروں کا یہ خیال ہے کہ اس بچے کی وفات پا جانے کا زیادہ امکان ہے تو پھر ہمیں اپنے ہاتھوں اسے قتل کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ اس کی ماں کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، مجھے ان علماء کی رائے سے اتفاق ہے جو یہ رائے رکھتے ہیں کہ حالات کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے کہ سب کچھ اللہ کے لیے کاف اور نون کے درمیان (یعنی کن) میں رہنے والا ہے۔ عین ممکن ہے کہ لمحے میں حالات کچھ سے کچھ صورت اختیار کر لیں۔

4۔ ہمیں اس مسئلہ کے ایک روحانی پہلو سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہو اور مصیبت کا مقابلہ صبر کے ساتھ کرے، ﴿وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ﴾ (البقرۃ:216) ’’ اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے خیر ہو۔‘‘

﴿فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّـهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ (سورۃ النساء:19 )

’’اور یہ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت ساری خیر پیدا کر دے۔‘‘ تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس معذور بچے کے توسط سے اللہ اس کے والدین کے لیے خیر کا دروازہ کھولنا چاہتا ہو ‎، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اللہ اسے جیسے بھی اس دنیا میں بھیجنا چاہتا ہے یہ اس کی مرضی ہے، وہ اس کا بھی خیال رکھے گا اور اس کے والدین کا بھی۔ اگر ولادت کے وقت اس کی وفات ہو جاتی ہے تو اللہ نے اس کے والدین کے لیے جنت میں ایک گھر کی خوشخبری رکھی ہے جسے ’بیت الحمد‘ کہا جاتا ہے اور اگر وہ زندہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو اس کا خیال کرنے پر اجر عظیم سے نوازیں گے۔

ہمیں اس نفسیاتی اذیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جس سے اگر اسقاط حمل کرایا جائے تو والدین بری طرح گزرتے ہیں۔ میرے علم میں ایسا ایک گھرانہ بھی ہے کہ وہ اس قسم کی نفسیاتی اذیت کا شکار ہو گئے تھے جب انہوں نے بچے کا اسقاط حمل کرایا تھا۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ایک مسلمان تقدیر الٰہی پر راضی رہے، اپنی مشکلات پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے، ثواب کی امید رکھے بجائے اس کے کہ وہ ایک نفس کی جان لے اور پھر ساری عمر نفسیاتی کشمکش اور ضمیر کی ملامت میں مبتلا رہے؟

مذکورہ آراء کے مطابق سائل کو فوری جواب دیا گیا ہے لیکن کونسل اس بات کا حق رکھتی ہے کہ اس مسئلہ کی مزید تحقیق کی جائے اور چند ماہر ڈاکٹر حضرات کی آراء سے بھی استفادہ کیا جائے۔ (ف ک)

تبصرہ کریں