سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ چینی ترکستان کے یغور مسلمانوں پر کیسے ظلم وستم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ان سے فیکٹریوں اور سرکاری کیمپوں میں جبری محنت کرائی جاتی ہے اور پھر ان کا تیار کردہ مال کئی مشہور کمپنیوں جیسے ایمزون، ایپل، مائیکروفاسٹ اور سیم سونگ کے توسط سے عالمی منڈیوں میں کھپایا جاتا ہے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ایمزون یا سیم سنگ کی کون سی خصوصی پراڈکٹس انہی مجبور ومقہور مسلمانوں کی جبری محنت حاصل ہے لیکن گمان یہی ہے کہ اس کا کچھ حصہ یقیناً انہی لوگوں کے استحصال کا نتیجہ ہو گا، تو کیا ہمارا ان کمپنیوں سے لین دین کرنا چین کے ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی اذیت رسائی کا باعث نہ ہوگا کہ انہیں ان کی محنت کا جائز معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ تو میرا یہ سوال ہے کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا ایمزون اور اسی طرح کی دوسری عالمی کمپنیوں سے چیزوں کی خرید جائز ہو گی؟

جواب: ایمزون ایک بڑی مارکیٹ کی مانند ہے جو ہزارہا چیزوں کی خریدوفروخت کرتی ہے جس کا ایک معمولی حصہ چین کی درآمدات کا بھی ہے۔ ہمیں یقیناً ایغور مسلمانوں سے ہمدردی ہے جن کی محنت شاقہ کا چین کی برآمدی ایجنسیوں کی طرف سے بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے لیکن کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک ثمر آور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بات چینی مسلمانوں کے مسئلہ پر بھی صادق آتی ہے۔ ایمزون یا اس جیسی دوسروی کمپنیوں کا بائیکاٹ اس میں شاید ہی مؤثر ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے بارآور جدوجہد کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ، امریکہ اور مسلم ممالک کے ساتھ لابنگ زیادہ مفید ثابت ہو گی۔ سب سے کم تر سطح پر ہم انفرادی طور پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس مسئلہ کو اجاگر کرتے رہیں تو بہتر ہو گا۔

سوال: ایک خاتون استاد کی حیثیت سے میں طالبات کو ایل ایل بی یعنی قانون کی آن لائن تعلیم دے رہی ہوں۔ مجھے کسی نے چند دن قبل ہی آگاہ کیا ہے کہ شاید انسانی وضع کردہ قانون کی تعلیم دینا حرام کے زمرہ میں آتا ہو کیونکہ یہی طلبہ وطالبات فارغ التحصیل ہو کر اسی قانون پر عمل درآمد کریں گے اور کرائیں گے اور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بعض طلبہ صرف خاندانی دباؤ کی بنا پر اس شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو جاتے ہیں، ان کا عملی زندگی میں قانون کو اپنا پیشہ بنانے کا ارادہ نہیں ہوتا تو آیا میں ہر طالبہ سے پہلے دریافت کروں کہ آئندہ اس کا کیا ارادہ ہے؟ میں اس وقت شدید مخمصے میں ہوں، نہیں جانتی کہ میرا یہ مشغلہ حلال ہے یا حرام؟ کہیں شیطان مجھے اس ذریعہ معاش کو برقرار رکھنے کے لیے بہکا تو نہیں رہا؟

جواب: جو چیز حرام ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے وضع کردہ قانون کے خلاف فیصلہ دیا جائے اور یہ کام ایک جج یا قاضی کا ہے نہ کہ ایک وکیل کا، جس کا اصل کام یہ ہے کہ ایک بے گناہ شخص کو بری کرانے کے لیے یا ایک محروم شخص کو اس کا حق دلانے کے لیے عدالت کے روبرو اس کی وکالت کرے۔ زیادہ تر مقدمات اسی دوسری نوعیت کے ہوتے ہیں جو کہ ایک مظلوم شخص کی اعانت کے زمرے میں آتے ہیں۔ البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ اپنے طلبہ وطالبات کو ہمیشہ یہ بات یاد دلاتی رہیں کہ بحیثیت وکیل آپ اس شخص کی وکالت نہیں کریں گے جو غیر شرعی طور پر کسی کا حق چھیننا چاہتا ہو۔ ایک غیر مسلم ملک میں ایک مسلمان کو بھی اپنے حقوق کے حصول کے لیے مقامی عدالتوں کی طرح رجوع کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں اور جب عدالت میں جانا لازم ٹھہرا تو وکلاء سے مدد لینا بھی ضروری ہو گا جو کہ قصاص قانون کو اچھے طریقے سے سمجھتے ہوں اور اس لحاظ سے آپ کے لیے قانون کی تعلیم دینے میں قطعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

سوال: میرا نام قسطنطین الیگزانڈر (اسکندر) ہے۔ میں خود ایک ملحد ہوں اور اگر میں برضا ورغبت اسلام قبول کر لوں تو کیا مجھے اپنا نام بدلنا ہو گا کہ یہ دونوں نام غیر مسلم ہستیوں کے ہیں، کیا میں اپنا انگریزی خاندانی نام بھی برقراررکھ سکتا ہوں۔ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بت پرستوں کے ناموں کی اسلام میں حرمت ہے!!

جواب: تمام غیر معروف نام حرام نہیں ہیں۔ البتہ ایسے نام رکھنا حرام ہے جن سے صریحاً شرک جھلکتا ہو جیسے عبد المسیح یا ایسے نام جو دیوتاؤں کی حیثیت سے معروف ہوں ، جیسے رام، کرشن، گوتم بدھ وغیرہ۔

قسطنطین اور اسکندر ایسے ناموں میں شامل نہیں، اس لیے انہیں ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ نام رکھتے وقت ایسے ناموں کو ترجیح دینا چاہیے جن کی نسبت اللہ کی طرف ہو جیسے عبد اللہ، عبد الرحمٰن یا انبیاء یا صحابہ کے نام ہوں۔

چونکہ نام کا انسان کی شخصیت پر بڑا اثر پڑتا ہے اس لیے نام رکھتے وقت ایسی ہستیوں کی طرف نسبت کرنا بہتر ہے جن کی شہرت تقویٰ، سخاوت، بہادری جیسے اوصاف کی بنا پر ہو اور ایسے ناموں سے احتراز کیا جائے کہ جو ایسے لوگوں کی یاد دلاتے ہوں جو قتل وغارت، خیانت یا گناہوں میں ملوث رہے ہوں۔

نبی ﷺ نے ناشائستہ ناموں کو بدلنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک خاتون کا نام عاصیہ (یعنی گناہگار) تھا۔ نبی ﷺ نے بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔

مشہور تابعی سعید بن المسیب بن حزن کہتے ہیں کہ میرے دادا کا نام حزن (یعنی درشتگی اور سختی) تھا۔ نبی ﷺ نے کہا کہ اسے بدل کر اپنا نام ’سہل‘ (یعنی آسانی) رکھ لو لیکن افسوس کہ انہوں نے اس ہدایت پر عمل نہیں کیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے خاندان میں ابھی تک حزونت (درشتگی اور سختی) پائی جاتی ہے۔

سوال: میں نوجوانی کے اوائل یعنی پندرہ برس کی عمر میں ایک جھگڑالو مزاج رکھتا تھا اور ایک دفعہ اپنے گھر کے بعض افراد کے ساتھ بحث ومباحثہ کے نتیجے میں اللہ کو، اس کے دین کو اور نبی ﷺ کو برے الفاظ سے ذکر کر بیٹھا لیکن بعد میں اتنا پچھتایا کہ اکثر روتے روتے ہچکی بندھ جاتی۔ سترہ سال کی عمر سے مجھے باقاعدہ نماز پڑھنے کی توفیق ہوئی اور میں نے مذہب سلف کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ٹھان لی۔ میں قرآن کی تلاوت کرتا رہا، میں نے اسلامی کتب کا مطالعہ کیا، مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا التزام کیا اور صبح وشام کے اذکار کی بھی پابندی کرتا رہا۔ اب اس بات کو پندرہ سال گزر چکے ہیں لیکن میں اپنے کئے پر بے حد شرمندہ ہوں۔ یہی خیال بار بار آتا ہے کہ آیا مجھے اس گناہ سے معافی مل سکے گی۔ میں نے تاریخ میں غیر مسلموں کے بارے میں تو پڑھا ہے کہ جنہوں نے بارگاہ الٰہی یا جناب رسول کی شان میں گستاخی کی تھی لیکن پھر انہیں اسلام لانے کی توفیق عطا ہوئی تو انہیں معافی کی بشارت دی گئی لیکن میں نے جو کچھ کیا تھا وہ حالت اسلام میں کیا تھا تو اس کا کیا بنے گا۔ براہِ کرم میری تسلی فرمائیں تاکہ میرے غمزدہ دل کو تسکین حاصل ہو سکے۔

جواب: پندرہ سال کی عمر میں جو الفاظ آپ کی زبان سے صادر ہوئے وہ بلوغت کے قریب کا زمانہ تھا۔ اس لیے اس بات کو فراموش کر دیں۔ اگر آپ واقعی بالغ ہو چکے تھے تو سورۃ النساء کی آیت 17 کا مطالعہ کر لیں۔

﴿إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُولَٰئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾

’’ بے شک اللہ تعالیٰ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو جہالت کی بنا پر کسی برائی کا ارتکاب کر گذریں پھر جلد ہی اس سے باز آ جائیں اور توبہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب علم رکھتا ہے اور خوب حکمت والا ہے۔‘‘

اور اس آیت کے مطابق بربنائے جہالت آپ نے کچھ برے الفاظ کہہ بھی دیے تھے لیکن پھر آپ نے صدق دل سے توبہ بھی کر لی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ایسی توبہ کو قبول کرنے کی بشارت دے دی ہے اور اگر یہ الفاظ بربنائے منافقت کہے تھے تب بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

کچھ منافقین نے ایسی ہی گستاخانہ باتیں نبی ﷺ کی شان میں کہی تھیں تو سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 74 نازل ہوئی، جس میں ارشاد فرمایا:

﴿يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا ۚ وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۚ فَإِن يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۖ وَإِن يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴾

’’یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کیا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوچکے ہیں اور انہوں نے جس کام کا عزم کیا تھا وہ بھی پورا نہ کر سکے اور یہ صرف اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے انہیں دولتمند کر دیا ہے اور اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ موڑتے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں کوئی ان کا نہ حمایتی ہو گا نہ مددگار ہو گا۔‘‘

لیکن میں آپ کے بیان کردہ ماجرے سے یہ سمجھ سکتا ہوں کہ جو کچھ بھی آپ نے کہا وہ منافقت کی بنا پر نہ تھا بلکہ جہالت ونادانی کا شاخسانہ تھا کہ آپ کی عمر اس وقت صرف پندرہ سال تھی اور آپ اسلام سے پوری طرح واقف بھی نہ تھے، پھر اس کے بعد آپ کا نادم ہونا، اظہار تاسف کرتے رہنا، اسلامی شعائر کی پابندی کرنا، یہ ساری ایسی علامات ہیں جو آپ کی توبہ کے خالص ہونے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور توبہ اگر پورے اخلاص کے ساتھ کی جائے تو یقیناً گناہ معاف ہو جاتا ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں