شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی راہنما ہدایات۔جناب ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری

فکر اسلامی میں تصوف

’اسلامی فکر‘ مسلمانوں کی ذہنی وعقلی کاوش کا نام ہے، اس کا وجود اسلام کے بعد عمل میں آیا اور یہ تحریف وخطا سے محفوظ ومبرا نہیں، مسلمانوں کی عقلی وذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ اسلامی فکر میں ترقی ہوتی رہی اور اسی طرح زوال وانحطاط کا اثر بھی اس پر ہوا ہے۔

ابتداء میں اسلامی فکر کی بنیاد اجتہاد پر تھی اور اس میں سچائی اور ترقی کا وصف نمایاں تھا، پھر جب اس فکر میں تبدیلی پیدا ہوئی تو اس کا رخ بیرونی فکر کی جانب ہو گیا اور اجتہاد پر توجہ کم ہو گئی۔ مختلف نظریات ورجحانات کا امتزاج ہوا، یونانی، مشرقی اور برہمنی افکار کا عربی ترجمہ ہوا تو مسلمانوں کو بھی الٰہیات، طبیعیات، زاہدانہ اور اشراقی علوم سے واقفیت ہوئی اور اسی وقت سے تصوف، سحر، طلسمات اور حروف کے خواص سے متعلق علوم بھی پیدا ہوئے۔ دیگر زبانوں سے جو ترجمے ہوئے اس کا اثر اسلامی علوم پر بھی پڑا، عقیدہ وعمل کے جملہ گوشے کسی نہ کسی طرح خارجی فکر کے اثر میں آئے۔ مشرق کے تصوف وزہد کے ترجمہ کے بعد اسلامی فقہ کے مقابل اسلامی تصوف رونما ہوا اور اس نے اسلام دشمن رجحان اختیار کر لیا۔

تصوف کی ایک شکل تو وہ تھی جس میں ایمان واطاعت اور مجاہدہ ومحاسبہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، لیکن خارجی فکر کے اثرات جب نمایاں ہوئے تو تصوف کی جو شکل پیدا ہوئی اس سے اسلام کی تعلیمات واحکام کو مسخ کرنے کے سوا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ تصوف میں قطب کا جو نظریہ پیدا ہوا اس کے فساد کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ قطب میں اللہ تعالیٰ کی روح کا حلول مانا جاتا ہے اور یہ کہ وہ معصوم ہے، شرعی احکام اس سے ساقط ہیں، اس کو وسیلہ بنانا ضروری ہے، انسانیت کی نجات کا وہی مرکز ہے۔ بعض متاخرین صوفیاء نے وحدت شاملہ اور تجلی کا عقیدہ ایجاد کیا جس کی رو سے پوری کائنات عین اللہ ہے۔

رائے، کلام اور تصوف کا ظہور

اموی حکومت کے اواخر اور عباسی حکومت کے اوائل دور میں جمہور تبع تابعین گذر چکے تھے اور بہت سے عجمی لوگ اقتدار میں شریک تھے۔ اس دور میں ایران، ہندوستان اور روم کی بعض عجمی کتابوں کے عربی ترجمے ہوئے، نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان صادق تھا کہ

’’ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، انسان بغیر طلب کے شہادت دے گا اور بغیر طلب کے قسم کھائے گا۔‘‘

ان حالات میں تین مسائل کا ظہور ہوا، یعنی رائے، تصوف اور کلام۔ اسی طرح جمہوریت اور تمثیل کے نظریے بھی سامنے آئے۔

’’ اہل رائے کا بڑا طبقہ کوفہ سے تعلق رکھتا تھا، وہاں پر تشیع اور جھوٹ کے ساتھ ہی رائے کا غلبہ تھا، وہاں حدیث وفقہ کے سچے عالم وعابد بھی یقیناً موجود تھے لیکن اس کے ساتھ ہی روایت میں جھوٹ، فقہ میں رائے اور اصول میں تشیع کی کثرت تھی۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 10؍358)

تدریجی بگاڑ

رائے، کلام اور تصوف کے ماننے والوں میں تدریجی طور پر خرابی کس طرح پیدا ہوئی، اس کے متعلق شیخ الاسلام ﷫ فرماتے ہیں:

’’ رائے، کلام اور تصوف وضع کرنے والے متقدمین عصر نبوت سے قربت اور انوار نبوت کے ظہور کے باعث اپنے کلام میں کتاب، سنت اور آثار کو شامل کیا کرتے تھے لیکن متاخرین میں اکثر لوگوں نے متقدمین کے اس طرح کے مسائل کو نکال دیا، متکلمین نے کتاب وسنت سے اعراض کر کے صرف بدعتی اصولوں کو ذکر کیا، اہل الرائے نے کتاب وسنت کو چھوڑ کر صرف اپنے ائمہ واصحاب کی آراء کو ذکر کیا، تصوف پر لکھنے والوں نے صحابہ کرام وتابعین کے طریقوں کو چھوڑ کر متاخر زاہدوں سے مروی اقوال و آراء کو اصل قرار دیا۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 10؍367)

عبادات میں بدعت کے برے اثرات

بدعت دینی زندگی کے جس شعبہ میں داخل ہوتی ہے اپنے برے اثرات پیدا کرتی ہے اور بندہ کو اصل دین سے متنفر کر کے ہلاکت و گمراہی کی راہ پر ڈال دیتی ہے، امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:

’’ عبادات میں بدعت کرنے والوں کے سامنے شیطان ان عبادتوں کو مزین کر کے پیش کرتا ہے، اس کے نتیجہ میں وہ شرعی راہ حتیٰ کہ قرآن وحدیث کے علم کو ناپسند کرنے لگے ہیں اور قرآن وحدیث کو سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ ان میں اتنی شدت پیدا ہو جاتی ہے کہ علم اور کتاب بلکہ قرآن کو بھی ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ سقطی﷫ کا بیان ہے کہ مذکورہ لوگوں میں سے ایک شخص میرے پاس آیا اور قلم و دوات دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور بیٹھا نہیں۔ جبکہ جنید جیسے معروف صوفی کا قول ہے کہ ہمارا یہ قول کتاب وسنت پر مبنی ہے، اگر کسی نے قرآن نہ پڑھا ہو اور حدیثیں نہ لکھی ہوں تو اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 10؍411)

معیار حق کون ہے؟

کتاب وسنت میں اس بات کی صاف طور پر وضاحت کر دی گئی ہے کہ عقیدہ وعمل میں مسلمان کون سا اسوہ ونمونہ اپنے سامنے رکھیں اور حق وباطل کو پرکھنے کے لیے کس معیار وکسوٹی پر بھروسہ کریں۔

لیکن امت کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ بہت سےلوگ اس تعلیم سے غافل ہو گئے اور اسلام کے مقرر کیے ہوئے معیار کو چھوڑ کر دوسری شخصیات اور ان کے اقوال ونظریات کو معیار بنا لیا۔ اسی سے امت میں افتراق واختلاف پیدا ہوا اور آج تک یہ سلسلہ باقی ہے۔ حق کو پرکھنے کے لیے اگر اسلام کا بتایا ہوا معیار اختیار کیا جاتا تو کبھی ایسی صورت پیدا نہ ہوتی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ شریعت کی اس کسوٹی کا ذکر کرتے ہوئے جادۂ حق سے بھٹکنے والوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

’’سب سے افضل طریقہ اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ ےوہ ہے جس پر نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے۔ اگر کسی نے علماء وفقہاء یا عباد وزہاد میں سے کسی کے طریقہ کو صحابہ کرام کے طریقہ سے افضل جانا تو وہ خطا کار، گمراہ اور بدعتی ہے۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 11؍14)

ائمہ و شیوخ کی جانب نسبت

مسلمان رسول اکرمﷺ کی رسالت کا کلمہ پڑھتا ہے اور قرآن کے مطالبہ کے مطابق آپﷺ کی اتباع کا اقرار کرتا ہے، اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ صرف قابل اتباع آپﷺ کی ذات ہے، کوئی امتی نبی کریم ﷺ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا۔ اسوہ صرف آپ ﷺ کا مشروع ہے، اسی لیے امتی کو یہ بھی مناسب نہیں کہ شریعت پر عمل کے لیے کسی پیر یا شیخ سے خصوصیت کے ساتھ مربوط ہو جائے اور صرف اسی کو محترم اور مقتدا مانے۔

امت میں رسول اکرمﷺ اور دیگر ائمہ وشیوخ کی جانب انتساب کا سلسلہ بعد کے ادوار میں شروع ہوا اور آج تک جاری ہے، کہیں کہیں یہ انتساب ایسی متعصبانہ اور غلو آمیز شکل اختیار کر لتیا ہے جس سے اندیشہ ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے لیے جس عقیدت واحترام اور اتباع و اطاعت کا حکم ہے، اس کی خلاف ورزی نہ ہو رہی ہو۔

شیخ الاسلامہ ابن تیمیہ﷫ کے زمانہ میں بھی یہ مرض امت میں موجود تھا، جس سے یقیناً رسول اکرم ﷺ کی شان رسالت اور مطاع ہونے کی حیثیت پر حرف آتا تھا، اس لیے شیخ الاسلام﷫ نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ کسی جماعت کے کسی متعین شیخ کی طرف انتساب کا مسئلہ اس حیثیت سے قابل غور ہے کہ بلاشبہ لوگوں کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جس سے وہ قرآنی وایمانی احکام ومسائل سیکھیں، جس طرح صحابہ کرام نے سیکھا تھا، اسی طرح بعد کے لوگ پہلے والوں کی صحیح اتباع کرتے ہیں، جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ جس طرح آدمی قرآن سکھانے والے کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح دین کا ظاہر وباطن سکھانے والے کی بھی اسے ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے کسی مخصوص شیخ کی جانب انتساب کی کوئی ضرورت نہیں، جس سے مذہبی فائدہ حاصل ہو وہی شیخ ہے، یہ بھی غلط ہے کہ کسی مخصوص شیخ کی جانب انتساب کے بعد صرف اسی کے ساتھ عقیدت ومحبت کا اظہار کیا جائے اور دیگر ائمہ ومشائخ کے ساتھ دشمنی یا بدعقیدگی ظاہر کی جائے، البتہ ایمان وتقویٰ میں جس شیخ کا درجہ جس قدر بلند ہو اسی اعتبار سے اس کے ساتھ محبت وعقیدت ہونا چاہیے۔‘‘

(فتاویٰ ابن تیمیہ: 11/ 511)

اسلام میں شرعی احکام کی مخالفت کی کوئی گنجائش نہیں

شیطان کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں اور بندگان حرص وہوا کے ہتھکنڈوں کا کوئی شمار نہیں، ہر دور میں اور ہر جگہ باطل پرست، سادہ لوح مسلمانوں کو فریب دے کر اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں اور شریعت کی تعلیمات کو پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے دجل وفریب کی ایک صورت یہ ہے کہ شرعی احکام کی مخالفت کو اپنے لیے جائز قرار دیتے ہیں اور لوگوں میں یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں اس لیے ان کے لیے شریعت کی پابندی ضروری نہیں۔

شیخ الاسلام ﷫ اسی دجل وفریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے فرماتے ہیں:

’’اسلام کی ایک اصل رسولوں ﷩ پر ایمان ہے، اگر کوئی محمد ﷺ کی پیروی کو واجب نہ سمجھے، آپ کے حلال بتائے ہوئے کو حلال اور حرام بتائے ہوئے کو حرام نہ مانے اور آپ ﷺ کی بتائی ہوئی شریعت کو دین نہ سمجھے تو ایسا شخص یقیناً کافر ہے۔ شریعت محمدی سے خروج کو جائز سمجھنا گمراہی اور باطل پرستی ہے، اس دعویٰ کو زاہد وعابد انسان بھی پیش کرے تو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 11؍52)

مقام ولایت اور اتباع شریعت

اسلام نے یہ صراحت کر دی ہے کہ بندے کی عظمت اور اللہ تعالیٰ سے اس کی قربت کا اصل راز شرعی احکام وتعلیمات کی پابندی میں پنہاں ہے، انسان کو اس وقت تک کوئی مقام ومرتبہ نہیں حاصل ہو سکتا، جب تک کہ وہ شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنے عقیدہ وعمل کو نہ ڈھالے۔ یہ تصور سراسر فاسد اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کہ شریعت کے احکام کا مخالف کوئی شخص ولایت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے کے بعد انسان سے شرعی احکام ساقط ہو جاتے ہیں اور اسے کسی عمل کے بغیر ہی اللہ کا قرب حاصل رہتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ نے اس خیال فاسد کی بڑے معقول ومدلل انداز میں تردید کی ہے، فرماتے ہیں:

’’ بندہ مؤمن ومتقی بنے بغیر اللہ کا ولی نہیں بن سکتا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦٢‏ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ (سورة يونس: 62۔63)

’’ اللہ کے اولیاء کو کوئی ڈر اور غم نہ ہو گا وہ جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرے۔‘‘ تو معلوم ہوا کہ کفار اور منافقین میں سے کوئی ولی نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی شخص نیکی کے کام انجام دے کر اور برائیاں ترک کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل نہ کرے وہ اللہ کا ولی ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی ولایت کا دعویٰ کرے اور فرائض ادا نہ کرے، حرام کاموں سے نہ بچے بلکہ اس کے مخالف کاموں کا ارتکاب کرے، اس کو اللہ تعالیٰ کا ولی نہیں کہا جا سکتا۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 11؍190۔191)

اتباع شریعت سے گریز کا بہانہ

اہل بدعت شرعی احکام سے گریز کے لیے طرح طرح کے سہارے ڈھونڈھتے ہیں، تصوف کی اصطلاحات کا ذکر کرتے ہیں، کبھی خلاف عادت امور کی بنیاد پر اپنی بات ثابت کرنا چاہتے ہیں اور کبھی مرتبہ ولایت وخلت کا نام لے کر شریعت سے گریز کے رجحان کو خوبصورت رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

کم علم عوام کو اس طرح کی تلبیس اور فریب دینے والے باطل پرستوں سے محفوظ رکھنا اور شریعت کی صحیح راہ پر لگانا بہت مشکل کام ہے، کیونکہ بعض اوقات حق کا داعی اپنی بات کی ایسی محسوس دلیل نہیں پیش کر پاتا جیسی اہل بدعت پیش کرتے ہیں اور نہ کسی ایسی ’’مصنوعی کمائی‘‘ کے اظہار پر قدرت ہوتی ہے، لیکن دین اسلام کے تحفظ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ ایسے بندوں کو بھی دنیا میں پیدا کیا جو باطل پرستوں کی تلبیس کی تمام چالوں سے واقف اور ان کی تلبیس کے تمام چیلنجوں کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے اور انہوں نے دنیا کے سامنے حق کو بدعت و گمراہی کی چالوں پر غالب کیا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کی شیخ احمد بن رفاعی کے طریقہ کے پیر و فرقہ بطائحہ سے جو مناظرہ ہوا تھا، اس میں اس طرح کے دل وفریب ہتھکنڈوں کی حقیقت اچھی طرح وضاحت ہوئی تھی اور شیخ الاسلام نے اپنی ایمانی بصیرت وجرأت سے اس باطل پرست فرقہ کے تمام دعاوی کو خاک میں ملا دیا تھا۔

باطل پرست صوفیا اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے احوال، مجالس و مدارس اور باطن وظاہر وغیرہ خو ساختہ اصطلاحات کا سہارا لیتے ہیں اور اس طرح شرعی احکام سے گریز کی راہ ڈھونڈتے ہیں، مناظرہ میں جب اس طرح کے الفاظ شیخ الاسلام ﷫ کے سامنے آئے تو انہوں نے ایمانی بصیرت کے ساتھ جواب دیا کہ

’’ مجالس و مدارس، ظاہر و باطن ، شریعت و حقیقت اور اس طرح کے دوسرے تمام الفاظ کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جائے گا، کسی کو اللہ کی کتاب اور رسول اکرم ﷺ کی سنت کی مخالفت کا اختیار نہیں خواہ وہ شیخ ہو یا فقیر، بادشاہ ہو یا امیر، عالم ہو یا قاضی، تمام مخلوقات پر اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی اطاعت واجب ہے۔‘‘

باطل پرستوں کی ایک تلبیس میں ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ’’ آگ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔‘‘

شیخ الاسلام ﷫ نے ان کو چیلنج کیا کہ آگ کا جو کرتب تم دکھاؤ گے میں بھی اسی طرح کا کام انجام دوں گا جو جل جائے گا اسے مغلوب قرار دیا جائے گا، لیکن شیخ الاسلام نے یہ شرط لگائی کہ آگ میں داخل ہونے سے پہلے ہر ایک اپنے جسم کو سرکہ اور گرم پانی سے دھو لے گا۔ کیونکہ باطل پرست جسم پر ایسے تیل اور اجزا لگا لیتے تھے جس سے آگ کا اثر نہیں ہوتا تھا اور اس فعل کو لوگ ان کی کرامت اور کمال تصور کرتے تھے۔ امام ابن تیمیہ﷫ نے ان سے فرمایا کہ

’’کسی لمبے انتظام کی ضرورت نہیں، ابھی قندیل جلائی جائے اور دونوں فریق اپنی اپنی انگلیاں دھو کر اس کی لو پر رکھ دیں، جس کی انگلی جل جائے وہ ملعون ومغلوب مانا جائے گا، باطل پرست مناظر اس شرط پر تیار نہ ہوا اور سب کے سامنے اس کی رسوائی ہوئی۔

پھر شیخ الاسلام﷫ نے بطور افہام ونصیحت ان کے سامنے حقیقت واضح فرمائی۔

’’بالفرض تم آگ میں داخل ہو کر صحیح سالم نکل آؤ، ہوا میں پرواز کرو، پانی پر چلو یا اس طرح کا کوئی بھی کرتب دکھاؤ اس سے احکام شریعت کی مخالفت کے لیے جواز کا پہلو ہرگز نہیں نکلتا، نہ شریعت کا کوئی حکم اس طرح کے خلاف عادت کام سے منسوخ ہو گا کیونکہ دجال کے متعلق مذکور ہے کہ وہ آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پودا اگائے گا، ویرانہ سے خزانہ نکالے گا، انسان کو قتل کر کے پھر زندہ کر دے گا، پھر بھی وہ جھوٹا اور ملعون ہی رہے گا۔ اس لیے یزید بسطامی کہا کرتے تھے کہ اگر تم کسی کو ہوا میں اڑتے ہوئے یا پانی پر چلتے ہوئے دیکھو تو اس سے دھوکہ نہ کھاؤ جب تک یہ معلوم نہ کر لو کہ شریعت کے اوامر و نواہی سے متعلق اس کا رویہ کیا ہے؟

شیخ الاسلام ﷫ فرماتے ہیں کہ

میری اس تقریر کے بعد باطل پرستوں نے امیر سے درخواست کی کہ ہمارے مابین صلح کروا دے، لیکن میں آگ کی کرامت کے اظہار کا برابر مطالبہ کرتا رہا مگر وہ لوگ کتراتے رہے، حاضرین نے جب یہ منظر دیکھا تو کہنے لگے کہ حق غالب ہوا، باطل پرستوں کی چال ناکام ہوئی اور وہ ذلیل ہو گئے۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 11؍466)

عجائب وکرامات سے دھوکہ کھانا غلط ہے

عام طور پر لوگ خلاف عادت کام کو دیکھ کر ایسا کرنے والے کے بارے میں غلط عقیدہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس شخص کو ولی یا مقرب ماننے لگتے ہیں اور پھر اسی کے اشاروں پر بہت سے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، شریعت مطہرہ کے صاف اور صریح احکام کے ہوتے ہوئے خواہشات کی پیروی کرنے والے باطل پرستوں کے دام سے محفوظ رہنا بڑی بات ہے، ایسے غلط کار لوگوں کے سامنے جب بھی قرآن وسنت کی صحیح اور واضح تعلیمات پیش کی جاتی ہیں تو وہ جھٹ ان خلاف عادت کاموں کا بطور کرامت ذکر کرنے لگتے ہیں جن کا ظہور دین کے نام پر تجارت کرنے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ لوگ برحق اور اللہ کے مقرب ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ نے ان تلبیس کاروں کا تفصیل سے ذکر کر کے مدلل طور پر ان کا رد کیا ہے، فرماتے ہیں:

’’یہ شرک ہے کہ بندہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارے، مثلاً خوف، بیماری، فاقہ وغیرہ حالات میں مردوں یا غائب لوگوں کو پکارنا اور ان سے مدد طلب کرنا، ایسا کام شرک ہے اور اللہ اور رسول اكرم ﷺ کی طرف سے اس کے حرام ہونے پر سب مسلمان متفق ہیں۔‘‘

اس طرح کا شرک کرنے والوں کے سامنے کبھی کبھی شیخ کی صورت ظاہر ہوتی ہے، مشرک سمجھتا ہے کہ اس کا شیخ کوئی فرشتہ ہے، لیکن درحقیقت شیطان اس کے شیخ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اس آدمی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنے کی وجہ سے شیطان کو اس پر قابو مل جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ایسے آدمی کو گمراہ کرنا آسان ہے، جو مشرکین بتوں کی پوجا کرتے تھے، ان کو بھی اس طرح کے حالات سے سابقہ تھا۔ شیطان ان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور غیب کی بعض باتوں کی خبر بھی دیتا ہے، لیکن پھر بھی اس میں ایسی باتیں ہوتی ہیں جن سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ شیطانی حرکت ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

﴿ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ 0‏ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ﴾

’’میں تمہیں بتلاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں؟ وہ ہر ایک دروغ گو بد کردار پر اترتے ہیں۔‘‘ (سورة الشعراء: 221-222)

اس طرح کے جھوٹے اور فریب کار برصغیر پاک وہند، ترکی اور حبشہ کے مشرکوں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں، ان میں کچھ اسلام کے دعویدار بھی ہوتے ہیں، یہ مٹی کو زعفران یا خون وغیرہ میں بدل دیتے ہیں، آگ میں اتر جاتے ہیں، سانپ کو کھا جاتے ہیں، اپنی چیخ سے کسی کو بیمار اور کسی کو مردہ بنا دیتے ہیں۔

اس طرح کے حالات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب وہ شیطان کے بتائے ہوئے کام انجام دیتے ہیں۔ ایسے بدعتی اور کتاب وسنت کے مخالف لوگوں کے مذکورہ حالات کو نیک لوگوں کی کرامت سمجھنا غلط ہے، ایسی کرامت کا ظہور صرف متقیوں سے ہو سکتا ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرتے ہیں، اللہ کے ولی ہو سکتے ہیں جو متقی ہوں اور کتاب وسنت کی پیروی کریں۔

بدعتی اورمشرک لوگوں سے جن تعجب انگیز کاموں کا ظہور ہوتا ہے، ان کی حقیقت ان احوال جیسی ہے جن کا ذکر مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کے بارے میں ملتا ہے، ان کے بھی شیطان تھے جو مختلف امور کی خبریں دیتے تھے اور جھوٹوں کی مدد کرتے تھے۔

تلبیس کار مختلف قسم کے روغن یا دوائیں لگا کر خلاف معمول حرکات واعمال کا اظہار کرتے ہیں یا کسی چیز کو چھپا کر پھر ظاہر کرتے ہیں اور شعبدہ بازوں کی طرح ہاتھ کی صفائی سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

ایسے دجل وفریب والوں کا مقابلہ نیک مؤمن اور عمل صالح کی قوت سے کرسکتے ہیں لیکن جن کا ایمان کمزور اور عمل معمولی ہو گا وہ ان فریب کاروں کے پھندے میں پھنس جائیں گے۔

مؤمن کو ایسے جھوٹوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، نہ قرآن وسنت کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہیے اور ہمیشہ قرآن کریم کی بتائی ہوئی دعا کا ورد کرنا چاہیے: ﴿حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 11؍ 663۔669)

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

’’کسی کو ولی سمجھ کر اس کی تقلید میں رسول اکرمﷺ کے فرمان کی مخالفت ناقابل قبول ہے، بلکہ صحابہ کرام و تابعین عظام﷭ کی تقلید میں بھی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت جائز نہیں، رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے خلاف عادت کاموں کے وقوع پذیر ہونے کو دلیل بنا کر شریعت کی مخالفت کرتے ہیں اور ایسے شخص کو ولی مانتے ہیں، حالانکہ ان افعال کا ظہور ولایت کا معیار نہیں۔ ایسے افعال بہت سے کفار ومشرکین ومنافقین سے بھی صادر ہوتے ہیں۔ ولایت کے لیے معیار صرف کتاب وسنت میں مذکور افعال واعمال ہی ہیں، اولیاء کو ان کے نور ایمان اور قرآن کی اطاعت ہی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 11؍214)

حاجت روائی و مشکل کشائی

شرعی تعلیمات سے ناواقف اور ایمان وعقیدہ میں کمزور لوگ اللہ کے نیک بندوں سے، جواب دنیا میں موجود بھی نہیں ہیں، مدد مانگتے ہیں اور اپنی حاجت روائی کی درخواست کرتے ہیں۔

اسلام انسانی کرامات کی اس پامالی کا قائل نہیں وہ یہ نہیں چاہتا کہ محترم ومکرم انسان غیر اللہ کے سامنے دست طلب دراز کرے، اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انسان کا سر صرف انسان کے خالق کے سامنے جھکنے کے لیے بنایا گیا ہے، اسی کی ذات میں یہ قدرت ہے کہ مشکلات کو دور کرے اور حاجتوں کو پورا کرے اور اسی کی عظمت وبرتری کا تقاضا ہے کہ انسان اس کے سامنے اپنا ماتھا ٹیکے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ نے اس تعلیم کو بڑے صاف لفظوں میں واضح فرمایا، لکھتے ہیں:

’’جائز نہیں کہ کوئی شخص کسی غائب مردہ یا شیخ کو پکارے، خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، یہ کہنا بھی جائز نہیں کہ سیدی فلاں! میں آپ کی کفایت اور پناہ میں ہوں۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں آپ سے مدد کا طالب ہوں یا آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اس طرح کا کام شرک اور گمراہی ہے۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیہ: 11؍499)

امام ابن تیمیہ﷫کے ان بیانات سے اس حقیقت کی پوری وضاحت ہوتی ہے کہ کتاب وسنت کی منشا ومراد کے خلاف نہ کوئی دعویٰ معتبر ہو گا، نہ کسی کرامت وخرق عادت کو دلیل مانا جائے گا، کسی بھی کام کو شرعی حیثیت اسی وقت دی جائے گی اور اس پر ثواب کی امید رکھی جائے گی جب کہ قرآن وسنت سے اس کی مشروعیت کی واضح دلیل سامنے آ جائے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح دین اور عبادات کے صحیح طریقوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

امام ابن جوزی﷫ فرماتے ہیں:

“عباد الله تَعَاهَدُوا الصَّلَاة على حبيبنا مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لِأَن الله تَعَالَى إِذا أَرَادَ بِعَبْدِهِ خيرا يسر لِسَانه للصَّلَاة على مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم.”

’’الله کے بندو! اپنے حبیب ﷺ پر درود کو لازم پکڑو، کیونکہ جب الله بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زبان پر درود کو جاری و ساری کر دیتا ہے۔‘‘

(بستان الواعظين: 1؍300)

برمنگھم کے مخلص نوجوان عبد المقتدر شاہد کے والد کی وفات

برمنگھم کے مخلص نوجوان جناب عبد المقتدر شاہد کے والد محترم جناب محمد خواجہ عرف خاجو بھائی 75 سال کی عمر میں کورونا کی وجہ سے حیدر آباد دکن میں انتقال کر گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

مرحوم پابند شرع اور نیک سیرت وکردار سے متصف تھے اور معروف عالم دین مولانا محمد عبد الہادی العمری المدنی کے سمدھی تھے، پسماندگان ہی 4 فرزند اور ایک بیٹی اور اہلیہ سوگوار ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭٭

ڈڈلی کے ڈاکٹر محمد اکبر کو صدمہ

ڈڈلی کے بزرگوار حاجی بدر الدین اور ان کے فرزند ڈاکٹر محمد اکبر کے پھوپھی زاد اور بہنوئی جناب محمد نجیب 68 سال کی عمر میں داغ مفارت دے گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

مرحوم نیک وصالح پابند شرع اور خوش سیرت وکردار سے تھے۔ ان کی وفات پر جامع مسجد کوئینس کراس ڈڈلی کی فضاء سوگوار ہے۔ احباب و اقارب سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا ہے کہ اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭٭

ڈڈلی کی بزرگ شخضیت حاجی منظور احمد وفات پا گئے

ڈڈلی کی بزرگ شخصیت اور موحد و متبع سنت حاجی منظور احمد بقضائے الٰہی 85 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ إنا لله وإنا راجعون

مرحوم متشرع اور خوش سیرت تھے اور جامع مسجد کوئینس کراس کے نماز ی تھے۔ 30 اپریل کو بعد نماز جمہ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے نماز جنازہ پڑھائی۔ جس میں ان کے اقارب و احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مسجد کے قریب ڈڈلی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ، اس موقع پر مرحوم کے فرزند کاشف منظور، داماد ڈاکٹر شیراز نذیر، بھانجے حاجی خلیل یوسف اور بہت سے احباب واقارب نے شرکت کی۔

٭٭٭٭

تبصرہ کریں