آہ! شیخ محمد عزیر شمس۔ شیرخان جمیل احمد عمری

15 اکتوبر 2022 سنیچر کی شام برمنگھم برطانیہ میں ہند سے آئے ہوئے ایک خاص مہمان، میرے سینئر ، شیخ عبدالمقیت عمری مدنی وجے واڑا، سابق اتاشی انڈین کونسلیٹ جدہ سعودی عرب کے ساتھ ان کی بیٹی اور داماد کے گھر بیٹھا محو گفتگو تھا کہ اچانک فون پر شیخ حافظ عبدالحسیب عمری مدنی کا میسیج دیکھا کہ شیخ عزیر شمس صاحب کے انتقال کی خبر آرہی ہے۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ ہاتھ پیر ڈھیلے ہونے لگے۔ کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہیں سے مکہ مکرمہ عزیر بھائی کے پرسنل نمبر پر فون ملایا لیکن گھنٹی بج بج کر بند ہو گئی۔ اسی بے قراری کے عالم میں برطانیہ کے میرے ایک محب دوست شیخ حافظ حمودالرحمن مکی شرقپوری خطیب مکی مسجد مانچسٹر نے یہی خبر لکھ کر مجھ سے تصدیق چاہی تو میری تشویش میں اور اضافہ ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر حقیقت بن کر سامنے آگئی :

إنا لله و إنا إليه راجعون. اللهم اغفر له وارحمه واسكنه فسيح جناته جنات النعيم. آمين

پچھلے 32 سالوں سے عزیر بھائی کے ساتھ میرے دیرینہ تعلقات تھے، یادگار ملاقاتیں رہیں۔ مشورے اور تبادلہ خیالات ہوئے، جمعیت جماعت کی فلاح وبہبود اور بین المسالک اتحاد کی صورتیں وغیرہ موضوعات پر تبادلہ خیالات کا ایک سلسلہ تھا۔ فون اور واٹس ايپ پر آپ سے رابطہ کی ایک تاریخ ہے۔ آپ کی وفات کی خبر نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔ آپ سے جڑا ایک ایک واقعہ دل و دماغ میں گھوم رہا ہے۔ نہ صرف میں بلکہ بے شمار اہل علم ایک اچھے خیرخواہ، مستشار، محقق، علمی سرپرست اور رہنما سے محروم ہو گئے۔ ہمارا جلد ملاقات کا پلان تھا لیکن زندگی کی بے ثباتی نے ہمیں ملنے نہیں دیا بلکہ جدا کردیا۔ حدیث نبوی ﷺ: «كفى بالمرء واعظا الموت» ایک مرتبہ پھر نصیحت اور عبرت بن کر ہمارے سامنے آ گئی۔ میں نے اہلیہ اور بچیوں سے کہا کہ ہماری بھی موت ایسے ہی اچانک آئے گی۔ اس لئے ہم سب کو ہمیشہ اس کے لئے تیار رہنا چاہئے !

میں نے بڑے بڑے علماء کو دیکھا، ان سے ملاقاتیں کیں اور حسب توفیق ان کی صحبتوں سے استفادہ کیا۔ لیکن ان تمام میں عزیر بھائی بالکل مختلف تھے۔ عجب درویش صفت انسان تھے۔ علم کا سمندر تھے، اس کے باوجود نہایت متواضع، سیدھے سادے، تکلفات سے کوسوں دور، حلیم الطبع، صابر وشاکر، چہرے پر ہمیشہ بشاشت اور تبسم، سب سے خندہ پیشانی سے ملنا آپ کا معمول تھا۔ جس موضوع پر بھی گفتگو کرتے سننے والے کو گمان ہوتا کہ آپ اس موضوع کے متخصص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کا شعور عطا کیا تھا اور حافظہ کی بات تو پوچھئے ہی مت! آپ کی مجلس میں بیٹھ کر عقل حیران رہ جاتی تھی۔ تخصص تو عربی لغت میں کیا تھا، لیکن مطالعہ کی کثرت، علماء کی صحبت، والد اور اساتذہ کی تربیت نے آپ کو ہر فن مولا بنادیا تھا۔ تفسیر، حدیث، عقیدہ، سیرت، فقہ، رجال سے لے کر تاریخ وغیرہ پر غضب کا عبور حاصل کر لیا تھا۔ شخصیات کو تولنا، پرکھنا اور پڑھنا بھی آپ کو خوب آتا تھا۔ بالمشافہ ملاقات ہو یا فون پر گفتگو ، جب کبھی کسی فوت شدہ یا زندہ شخصیت پر تبادلہ خیالات کرتے تو لمحوں میں اس شخصیت کے متعلق ایک بنیادی اور مرکزی رائے قائم کرنے میں مدد مل جاتی۔ میں نے نوٹ کیا کہ آپ کسی بھی مسئلہ میں انجام سے بےپرواہ ہوکر بے لاگ تبصرہ کرنے کے عادی تھے۔ تملق، بناوٹ، مصلحت، ریا و نمود اور عجب سے بالکل پاک نظر آتے تھے۔ أحسبه كذلك والله حسيب للجميع ولا أزكى على الله أحدًا

عزیر بھائی کے والد بزرگوار حضرت مولانا شمس الحق سلفی شیخ الحدیث مرکزی دارالعلوم جامعہ سلفیہ بنارس﷫ نے اپنی وفات سے صرف چند دن قبل جنوبی ہند کا دعوتی دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر آپ میرے آبائی وطن ادونی ضلع کرنول آندھرا پردیش بھی تشریف لائے اور 2 دن ہمارے مکان پر قیام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ان کی خدمت کرنے اور صحبت سے فائدہ اٹھانے کا موقع عنایت فرمایا تھا۔ اس طرح سے مجھے عزیر بھائی سے قبل ان کے والد محترم سے ملاقات اور استفادہ کا موقعہ ملا۔ عزیر بھائی اس واقعہ سے بہت متأثر تھے۔

مادر وطن ہند کی دو جمعیتوں کی صلح پر خوش ہوئے اور مبارکباد بھی دی۔ پھر کچھ عرصہ بعد، میں نے جب ناچاہتے ہوئے ضرورتاً صلح کی روداد لکھی جو بعد میں شائع بھی ہوئی۔ اس روداد کو عزیر بھائی کے پاس بھیجا اور پڑھنے کی درخواست کی۔ آپ نے اس کو مکمل پڑھا اور بذریعہ واٹس ایپ مجھے پیغام لکھا کہ فون پر بات کرنی ہے۔ چنانچہ میں نے انہیں فون ملایا تو جمعیت کی فرنٹ لائن کی بعض اہم شخصیات پر اپنے تجربات، واقعات اور کچھ شہادات کا سہارا لے کر بعض اہم باتوں کا انکشاف کیا۔ بڑے پیار سے صلح کی روداد کے فوائد و نقصانات پر بھی روشنی ڈالی۔ پھر جب میں نے انہیں کچھ اہم تفصیلات سے آگاہ کیا نیز کچھ چیزیں پڑھنے کے لئے بھی ارسال کیں اور صلح کی روداد لکھنے کی وجوہات لکھ بھیجیں تو پڑھ کر مطمئن نظر آئے اور مجھے ذیل کے دعائیہ کلمات لکھے :

’’السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ، الله تعالىٰ دنيا و آخرت میں آپ کو کامیابی عطا فرمائے، آپ کے حاسدین کو نیک سمجھ دے اور آپ کو دین وملت کی مزید خدمت کی توفیق دے۔ میرے حق میں بھی دعا کرتے رہیں۔ بارك الله فيكم وسدد خطاكم ( عزیر شمس) ‘‘

عزیر بھائی کو جہاں شیخ الاسلام امام ابن تيميہ﷫ اور امام ابن قیم﷫ کی شخصیات کے علوم و معارف پر تبحر حاصل تھا وہیں آپ مولانا ابو الکلام آزاد﷫ اور مولانا محمد عطاء الله حنیف بھوجیانی﷫ سے بھی بہت زیادہ متأثر تھے۔ مولانا آزاد کے اصلاحی طور طریقے، ان کا نقاد شخصیات اور طبقات کو Ignore کرنا اور صرف اپنے کاموں پر فوکس کرنا آپ کو بہت زیادہ پسند تھا۔ مجھے بھی اس کا حوالہ دے کر اس پر عمل کی تلقین کرتے تھے۔ فرماتے تھے ، ناقدین کو کبھی پلٹ کر نہ دیکھیں اور نہ ہی ان کے منہ لگیں ورنہ آپ کا قیمتی وقت ضائع ہوگا۔ آپ جمعیتوں، تنظیموں، اداروں، مدارس وغیرہ کی اصلاح کے لئے خارجی مہم چلانے کے سخت مخالف تھے۔ کہتے تھے کہ اس سے کام مزید خراب ہوتا ہے، انتشار اور بڑھ جاتا ہے۔ ہم پر بس اتنا ہی فرض ہے کہ ہم نصیحت کریں اور اپنی راہ لے لیں۔ اسی ضمن کا ایک واقعہ مجھے یاد آرہا ہے۔ ہند کی ایک ذی علم، قوم وملت کا درد رکھنے والی مخلص شخصیت جن سے میرے بھی اچھے تعلقات ہیں، نے کچھ عرصہ قبل مذکورہ موضوع پر ایک طویل مضمون لکھا تھا۔ کسی نے شیخ عزیر کو یہ مضمون بھیجا تو شیخ عزیر نے صاحب مضمون محترم کو یہ لکھا:

(معلوم رہے عزیر بھائی نے استفادہ کی غرض سے مجھے بھی یہ تحریریں بھیجی تھیں۔) ’’میرے بھائی سلفیت بطور ایک منہج فکر اور مسلک کے تمام مسلمانوں کے ساتھ اتحاد اور محبت کی دعوت، تمام ائمہ کرام اور مذاہب فقہیہ سے استفادہ، تزکیہ نفس وسلوک ،غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت، اہل بدعت ومعاصی کی حکمت کے ساتھ اصلاح ،توحید وسنت کی اشاعت، قرآن اور حدیث کی خدمت، استعمار کے مقابلہ، ہر دور میں پیدا ہونے والے فتنوں کے قلع قمع کرنے اور ہمیشہ اجتہاد اور تجدید کی دعوت ۔۔۔۔ سے عبارت ہے ۔ دنیا کی کوئی سلفی تنظیم اگر ان میدانوں میں کوتاہی کرتی ہے یا ان بنیادی مقاصد سے دور ہو جاتی ہے اور اپنے فرائض صحیح طور پر انجام نہیں دیتی تو اسے نصیحت کی جائے اور اللہ سے دعا کی جائے۔ مگر اس کے خلاف بغاوت کا کچھ حاصل نہیں ۔ ہمیں کسی نے مجبور نہیں کیا ہے کہ اس تنظیم کا ضرور دفاع یا اس پر ہجوم کریں۔ اس سے کنارہ کشی اور تعاون على البر والتقوى وعدم التعاون على الإثم والعدوان پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک سمجھ دے ۔آپ کو صحت کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، الجھنوں اور پریشانیوں سے نجات دے ۔ میرے حق میں بھی دعا کی درخواست ہے ۔‘‘ (عزیر شمس مکہ مکرمہ)

جمعیتوں، تنظیموں، اداروں، جامعات، مدارس وغیرہ کے بگاڑ پر باہر سے اس کی اصلاح کے متعلق آپ کا نظریہ اور منہج یہی تھا۔ اصلاح کی ذمہ داری اندرون خانہ افراد کی ہے۔ خوبی و خرابی کے وہی ذمہ دار ہیں اور جوابدہ بھی۔

اسی طرح سے مولانا محمد عطاءالله حنیف بھوجیانی﷫ سے آپ کو کافی عقیدت تھی۔ حضرت بھوجیانی کی صحبت سے آپ نے بہت استفادہ کیا تھا اور خوب تربیت بھی لی تھی۔ مولانا کی نصیحتوں کو ہمیشہ گلے سے لگائے رکھا۔ مولانا بھوجیانی نے جمعیتوں کی اصلاح وغیرہ کے تعلق سے انہیں جو نصیحت کی تھی اس کو بتاتے رہتے تھے۔ اس تعلق سے ایک معزز شخصیت کو آپ نے اپنے ایک خط میں لکھا (بقلم خود لکھے خط کی کاپی مجھے بھی پڑھنے کے لئے بھیجی تھی)

” ….مولانا بھوجیانی مرحوم نے مجھے نصیحت کی تھی کہ عزیر جمعیت و تنظیم کی اصلاح اور اس میں تبدیلی کے چکر میں کبھی مت پڑنا۔ تمہیں جو کچھ توفیق ہو دینی و علمی کام کرنا ﴿ لا يكلف الله نفسا إلا وسعها﴾ اور میں آج تک اس پر عامل ہوں۔۔۔۔ (عزیر شمس)

تاریخ اہل حدیث سے آپ کو بہت زیادہ دلچسپی تھی، شغف تھا۔ بالخصوص انیسویں اور بیسویں صدی میں برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کے جو حالات تھے اس پر آپ کی بڑی گہری نظر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے بتاریخ 7 ذي القعده 1421ھ میرے دوست ، مؤرخ اہل حدیث، محسن جماعت محترم ڈاکٹر بہاؤ الدين محمد سلیمان اظہر صاحب کو ایک تفصیلی خط لکھا جس کو ہم نے تاریخ اہل حدیث کی نویں جلد میں شائع کیا ہے اور فیس بک پر بھی شیئر کردیا ہے۔ جس میں شیخ عزیر شمس﷫ نے ڈاکٹر بہاؤ الدين صاحب کو تجویز دیتے ہوئے لکھا:

’’برصغیر میں اہل حدیث کی تاریخ پر تحقیقی انداز میں لکھنے کی اب اشد ضرورت ہے۔ جس میں انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں ان کی خدمات، مسلک کی اشاعت سے متعلق کوششوں، مناظرانہ سرگرمیوں، علمی تعلیمی سیاسی میدانوں میں ان کے نقوش واثرات کا تفصیلی جائزہ ہو۔ افسوس کہ اب تک جو کتابیں شائع ہوئی ہیں ان سے پوری تصویر سامنے نہیں آتی۔ عربی انگریزی حتی کہ اردو میں بھی کوئی ایک کتاب ایسی نہیں جس میں اہل حدیث کا مجمل ہی سہی مگر مکمل خاکہ ہو۔ میں نے ایک عرصہ قبل تذکرہ علمائے اہل حدیث مرتب کیا تھا جس میں تقریباً 600 علماء کا تذکرہ ہے، مگر وہ بھی نظر ثانی کا محتاج ہے اور ناقابل اشاعت مسودہ ہے۔ سعودی عرب میں قیام کی وجہ سے اب تک اسے شائع کرنے کے لائق نہ بنا سکا۔دعا کریں کہ کبھی اس کی تکمیل کی فرصت مل جائے۔ اس وقت میری نظر میں اہل حدیث کی ایک مختصر تاریخ لکھنے کا کام آپ سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ امید ہے آپ اس کے لئے ہمت اور توجہ کریں گے۔ اس کا ایک اجمالی خاکہ بنا کر اس کی ترتیب وتدوین کا کام شروع کردیں گے۔ اردو یا انگریزی میں اگر آپ اسے تیار کردیں تو عربی میں اس کے ترجمے کا کام یہاں ہوجائے گا۔ عربی کتابوں سے کسی طرح کے مواد کی ضرورت ہو تو بلا تکلف مجھے تحریر کریں، میں إن شاءالله اس سلسلہ میں ہر ممکن تعاون کروں گا۔‘‘ (عزیر شمس)

اس طرح سے تاریخ اہل حدیث کے اس عظیم پروجیکٹ کو وجود میں لانے کے محرکین میں شیخ عزیر شمس کا نام سر فہرست بن کر تاریخ میں محفوظ ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے دونوں پروجیکٹس (تحریک ختم نبوت اور تاریخ اہل حدیث) کے آپ بڑے قدردان تھے۔ پچھلے سال ’’تاریخ اہل حدیث‘‘ کی نویں جلد کی اشاعت کی خبر جب میں نے انہیں سنائی اور بذریعہ واٹس ایپ اس جلد کا مقدمہ اور فہرست بھیجی تو مجھے جواباً لکھا:

” السلام عليكم! ماشاءالله نویں جلد بھی چھپ گئی۔ اللہ مبارک کرے۔ میاں صاحب کے مکاتیب بہت اہم ہیں۔ ان سے 19 ویں صدی میں برصغیر کے مذہبی، تعلیمی اور معاشرتی حالات روشنی میں آتے ہیں۔ ان مکاتیب نیز فتاوی سے میاں صاحب کی شخصیت کے کئی گوشے سامنے آتے ہیں۔ افسوس کہ اب تک کسی نے ان کا تجزیاتی مطالعہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب ( بہاؤ الدين) سے سلام کہیں اور میری طرف سے انہیں مبارکباد۔ امید کہ یہ وسیع مواد 19 ویں صدی میں برصغیر کی اصلاحی تحریک کی تاریخ لکھنے والوں کے کام آئےگا۔‘‘ (عزیر شمس)

عزیر بھائی جب کسی مواد کی تلاش میں رہتے تو کبھی کبھار اس کا تذکرہ مجھ سے بھی کرتے اور دریافت کرتے کہ کوئی آئیڈیا ہے کہ یہ کہاں سے مل سکتا ہے؟ کچھ عرصہ قبل مجھے یہ لکھا:

’’السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ، عبدالحلیم ویلوری ت 1336ھ کی ایک کتاب عقیدہ سلف پر ( توضيح الدليل فى ابطال التشبیہ والتعطيل) مطبوع ہے۔ کیا وہ کہیں دستیاب ہے؟ مؤلف کا ذکر نزہۃ الخواطر ج 8 صفحہ 224 میں ہے۔“

نیز فون کرکے مجھے بتایا کہ ممکن ہے جنوب ہند کی کسی لائبریری میں یہ کتابچہ موجود ہو ۔ میں نے مہم چلائی۔ جنوب ہند میں مادر علمی جامعہ دارالسلام عمرآباد کی ’’عمر لائبریری‘‘ میں بھی اس نسخہ کے موجود ہونے کا امکان تھا۔ چنانچہ میں نے برادر عزیز مولانا محمد رفیع کلوری عمری اور محب مولانا حافظ ابوبکر زہیر عمری اور ان کے لائق فرزند عزیزم ڈاکٹر ابوبکر ابراہیم عمری سے رابطہ کیا۔ حافظ ابوبکر زہیر عمری صاحب نے مجھے لکھا کہ یہ نسخہ عمر لائبریری میں میری نظر سے گزرا ہے، پھر ایک دو دن میں ہی انہوں نے اس کو تلاش کرلیا اور اس کے سرورق کی فوٹو کاپی مجھے واٹس ایپ کی۔ جس کو میں نے شیخ عزیر شمس﷫ کو بھیج دیا۔۔۔

سال 2 سال قبل آپ کا لکھا ہوا ایک معرکۃ الآرا مضمون بعنوان” علامہ ابن تیمیہ اور شبلی نعمانی “ کو افادہ عام کے لئے میں نے فیس بک پر شیئر کیا تھا۔ احباب نے اس کو بہت پسند کیا اور عزیر بھائی کو خوب ایڈمائر کیا۔ اس پر عزیر بھائی نے مجھے لکھا:

”السلام عليكم ورحمۃ الله و بركاتہ، امید کہ آپ بخیر ہوں گے۔جزاکم اللہ خیرا ۔

یہ مقالہ میں نے کئی سال قبل دار المصنفين میں شبلی سے متعلق کانفرنس میں پڑھا تھا اور کئی بار شائع ہوا ۔ آج کل امام ابن تیمیہ سے متعلق ببلیوگریفی کی تبییض کر رہا ہوں جس کا مواد 25 سال سے جمع کر رہا تھا۔ دعا کریں کہ جلد تکمیل کو پہنچے۔آپ کیا کر رہے ہیں ۔ وہاں کے حالات کیسے ہیں ۔اللہ تعالیٰ آپ اور ہم سب کو بلا سے محفوظ رکھے آمین۔‘‘

’’معیار الحق‘‘ کو عربی میں منتقل کردینے کی خوشخبری سناتے ہوئے مجھے لکھا:

’’ادھر میں نے معیار الحق کا عربی ترجمہ مکمل کرلیا۔ اب حوالوں کو چیک کرنا، مقدمہ اور حواشی کا کام باقی ہے۔ عربی عبارتیں بہت محرف اور غلط ہیں۔ میرے پاس اس کے 5 ایڈیشن ہیں سب ہی اغلاط واسقاط سے پر۔ دعا کریں کہ مخطوط اور مطبوع مآخذ دستیاب ہو جائیں جن کی بڑی تعداد ہے۔ آج کل محصور ہونے کی وجہ سے ادھر ادھر دوستوں کے ذریعہ سوفٹ کاپی منگوا رہا ہوں۔‘‘ (عزیر شمس ، 22 مئی 2020ء)

اس پر میں نے انہیں لکھا:

’’ ڈاکٹر بہاء الدين صاحب کی تاریخ اہل حدیث کی جلد 4 میں معیار الحق کے کئی طبعوں کو سامنے رکھ کر اس کو مندرج کیا ہے۔ غالباً سب سے بہتر ہے۔ یہ جلد محدث کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔(شیرخان جمیل احمد) پھر عزیر بھائی نے مجھے جواباً لکھا:

’’ میرے پاس اصل کتاب ہے اس کا بھی مراجعہ کیا ہے لیکن عبارتیں اس میں بھی بہت غلط ہیں۔ گوندلوی کی تحقیق کا حال اس سے بھی برا ہے۔ بغیرمآخذ کے مراجعہ کے تصحیح ممکن نہیں۔ گوندلوی صاحب نے کچھ مراجعہ کیا لیکن عبارتیں غلط اور محرف باقی رکھیں۔ ‘‘ ( عزیر شمس)

عزیر بھائی مجھ سے بڑی شفقت فرماتے تھے۔ نہ جانے کیوں مجھ سے بے تکلف بھی بڑے تھے۔ اسی اپنے پن کی وجہ سے میں انہیں شیخ وغیرہ کے لقب کی بجائے ہمیشہ عزیر بھائی کہہ کر بلاتا تھا۔ مجھے اپنا خاص ٹیلی فون نمبر بھی دے رکھا تھا جس پر فوری رابطہ ہو جاتا تھا۔ آپ مجھ سے راز و نیاز کی بھی باتیں کرتے، بڑی اپنائیت سے کبھی کبھی اپنی نجی باتیں بھی شیئر کر دیتے۔ ایک مرتبہ دوران گفتگو اپنی ایک بچی کے رشتہ کی تلاش کی بات کی۔ انہی دنوں میں بھی اپنی بچی کے لئے رشتہ تلاش کر رہا تھا۔ کہنے لگے کہ ایسا کریں اپنی بچی کے ساتھ میری بچی کا بھی رشتہ تلاش کریں۔

آپ نے آخری دنوں میں مجھ سے کئی بار یہ کہا کہ لوگوں کی تنقید کی کبھی پرواہ نہ کیا کریں اس سلسلہ میں مولانا آزا﷫ کی روش کو اختیار کریں۔ ناقدین کی طرف کبھی پلٹ کر نہ دیکھیں، ان کو جواب بھی نہ دیں، اپنا وقت ضائع نہ کریں، خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہیں۔ حسد کا جواب نہیں دیا جاتا، بس کام کرتے رہیں۔

آپ کہنہ مشق محقق تھے۔ سینکڑوں عرب و غیر عرب علماء کے لئے علمی مرجع تھے۔ نہ جانے کتنوں کے دکتورہ اور ماجستیر کے مقالات کے خاکے اور خطے بنانے میں رہنمائی کی ہوگی۔ کتنی ہی کتابیں اور سوانح آپ کے زیر اشراف تیار ہوئی ہونگی ! مختار فاؤنڈیشن ممبئی کے سربراہ برادر مکرم اسلم مختار صاحب نے اپنے والد بزرگوار شیخ مختار احمد ندوی﷫ کی سوانح تیار کرنے کا جب فیصلہ کیا تو شیخ عزیر شمس ہی سے اس کا خاکہ و خطہ بنوایا تھا۔ جس میں شیخ ضیاء الحسن سلفی نے بڑی محنت سے رنگ بھرا تھا۔ اسی ہفتہ کینیڈا کے ایک ساتھی نے غالباً اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کے لئے ایک موضوع پر معلومات حاصل کرنے کے لئے مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ جس دن شام میں شیخ عزیر کی وفات ہوئی اسی دن صبح کو میں نے اس کینیڈین ساتھی کو مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لئے جن چند مشائخ کے نام لکھ بھیجے تھے ان میں پہلا نام شیخ عزیر شمس ہی کا تھا لیکن اللہ کا فیصلہ دیکھئے اسی دن شام میں آپ وفات پاگئے۔ آپ کی وفات بھی دیکھیے کس وقت ہوئی اور کس کام میں آپ مشغول تھے۔ آپ اپنی مجلس میں کچھ دینی طلبہ کو نصیحت فرمارہے تھے کہ وقت اجل آ پہنچا۔ سوشل میڈیا پر اس مجلس میں موجود شیخ نبیل بن نصار السندی نے آنکھوں دیکھا حال اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

“مات الشيخ محمد عزير شمس على ما عاش عليه. كنت عنده حين أتاه اليقين. وكان معي أحد طلبة العلم المستجدين بدار الحديث الخيرية. وكان آخر حديث الشيخ نصحه بالجد فى الطلب والمراس على الكتابة بتلخيص ما يقرأ ويسمع، وقد نصحه لمعرفة الضبط الصحيح بالمعجم الوسيط ومعجم الاعلام.” إنا لله وانا اليه راجعون

شیخ عزیر شمس حدیث رسول: «خیر الناس من ینفع الناس» کی عملی تفسیر تھے۔ طلب پر تو سب کی دینی علمی رہنمائی کرتے ہی تھے لیکن جو لوگ ویسے ہی آپ سے ملنے آتے تھے آپ ان کو بھی مختلف بہانوں سے مشوروں اور توجیہات وغیرہ سے مستفید فرماتے تھے۔ ہر ایک سے ایک سوال ضرور کرتے تھے کہ آجکل کیا کر رہے ہیں۔

عزیر بھائی سے جڑی باتیں تو بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے وقت کی بڑی قدر کی۔ آپ کے کارنامے بڑے عظیم ہیں۔ جانکار ان کو قلمبند کریں گے۔ ان سب خوبیوں، کمالات اور خصوصیات کے باوجود آپ بشر تھے۔ آپ کے ساتھ بشری تقاضے لگے تھے۔ اپنے اجتہادات، آراء ، افکار، تفردات ، فيصلے، بحث و مباحثے وغیرہ تسامحات سے خالی نہیں ہوسکتے، احباب نے ان سے علمی و فکری اختلاف بھی کیا ہے۔ کمال صرف اللہ کی ذات کو حاصل ہے۔ ہمیں ان کی خوبیوں اور اچھائیوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان سے عقیدت، تعلق اور دوستی کا حق ادا کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم ان کے حق میں دعائے خیر کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ عزیر بھائی پر رحم فرمائے، ان کی تسامحات اور بشری لغزشوں کو درگذر فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام مرحمت فرمائے، جملہ اہل خانہ کو صبر جمیل دے اور امت کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔ آمین

٭٭٭

قاری محمد عبد الحق کی غائبانہ نماز جنازہ

ڈاکٹر عبد الرب کے چھوٹے بھائی قاری عبد الحق کی جامع مسجد محمدی بارٹ روڈ الم راک ، برمنگھم میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اپنے وطن مالوب میں چھٹیاں گزار کر برطانیہ واپس ہوئے ہیں، ابھی دو ہفتے نہیں گزرے تھے کہ ان پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ ان کے چھوٹے بھائی قاری محمد عبد الحق بن محمد سرور محمدی حیدر آباد دکن میں زیر علاج تھے، اچانک طبیعت بگڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے داغ مفارقت دے چکے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے کہا کہ جامع مسجد اہل حدیث فتح دروازہ مرحوم کے تایا قاری محمد افضل محمدی اور والد مولانا محمد سرور محمدی کی نشانی ہے، ان بزرگوں کی وفات کے بعد قاری محمد عبد القدیر محمدی اور قاری محمد عبد الحق محمد سرور محمدی اس مسجد اور جامع سمیہ کے انتظام وانصرام میں مصروف تھے، آج سے تقریباً ایک سال قبل قاری عبد القدیر محمدی اسی طرح سب کو داغ مفارقت دے کر چلے گئے اور اب ان کے چھوٹے بھائی جو مسجد ومدرسہ کے علمائے کرام و اساتذۂ عظام کے لیے دل کھول کر خرچ کرتے تھے وہ بھی سب کو روتا چھوڑ کر چلے گئے، وہ دونوں گویا کہ اس شعر کے مصداق تھے:

جب آیاتھا تو دنیا میں سب ہنستے تھے تو روتا تھا

بسر کر زندگی ایسی کہ سب روتے رہیں تو ہنستا جا

اللہ تعالیٰ نے مولوی عبد الحق محمدی کو بہت دولت اور بڑا دل عطا فرمایا تھاوہ مستحقین اور خاندان و غیر خاندان کے غربا ء ومساکین پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے اور گزشتہ کئی سال سے وہ جامع اور مسجد کے انتظام کے لیے وقف ہو گئے تھے اور اپنے بچوں خصوصاً اپنے بڑے بیٹے حافظ محمد ابراہیم محمدی کو ان امور کا ذمہ دار بنا دیا تھا اور حافظ محمد ابراہیم محمدی بھی اپنے فرائض منصبی بحسن خوبی انجام دے رہے تھے کہ والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا، یہاں تعزیت کرنے والوں میں مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، حاجی عبد الغفور چوہدری، چوہدری محمد اسلم، چوہدری محمد نسیم، قاری عبد العزیز، قاری عبد السمیع، قاری عبد الصمد، حافظ عبد الحمید، عبد الوحید ڈڈلی، محمد سلامت اللہ، حافظ عمار انجینئر، حاجی اللہ دتہ، محمد فاروق نسیم، قاری حفیظ الرحمٰن، محمد عبد الفتاح، عبد المنان، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، آصف محمود جنجوعہ، محمد عمر، مولانا حسان القاسی کویت، عبد الخلیق مشہود ریاض، مولانا سید ایوب العمری ریاض، حافظ عبد الحئ عامر عمری ریاض، شیخ عبد اللہ، شیخ سعد، حاجی محمد حسین، ڈاکٹر عاقب حسین، شیخ محمد صالح الیمانی، سید اسماعیل علی، سید اسحاق الحقانی حیدر آباد دکن اور بہت سارے احباب و اقارب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی نیکیوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ 24 اکتوبر کو بعد نماز عشاء ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے مسجد محمدی ہارٹپ روڈ برمنگھم میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی، جس میں خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مرحوم کی عمر 59 سال تھی، پسماندگان میں 6بیٹے، ایک بیٹی اور اہلیہ شامل ہیں، سب بچے والد کی طرح نیک اور فرمانبردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ عبد الحق محمد سرور کو بخشے بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔

٭٭٭٭

تبصرہ کریں