شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کی فقہی بصیرت۔شیخ الحدیث مولانا حبیب الرحمٰن عمری

 

کسی عالم کے لیے ’ تفقہ فی الدین‘ اللہ کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت ہے جو اس کے کچھ مخصوص بندوں ہی کو نصیب ہوتی ہے، ان ہی خوش نصیبوں میں شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ مبارکپوری﷫ کی ذات گرامی بھی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم وفضل کے ساتھ دینی تفقہ کی نعمت سے بھی بہرہ ور فرمایا تھا۔ دنیائے علم میں آپ کی شخصیت بڑی قدر آور تھی اور عالم اسلام میں آپ کی علمی ثقاہت مسلم تھی۔ آپ کا خصوصی موضوع اگرچہ علم حدیث تھا، مگر آپ کا فقہی مطالعہ بھی بڑا وسیع تھا اور علوم فقہ پر آپ کو مکمل دسترس حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبحر علمی کے ساتھ وسعت نظری اور دینی بصیرت سے بھی نوازا تھا۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء

علمائے اہلحدیث کے متعلق بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کو علم فقہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور یہ حضرات فقہائے کرام اور کتب فقہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ممکن ہے یہ غلط فہمی بےخبری یا تنگ نظری کا نتیجہ ہو۔ اس غلط تاثر کے ازالے اور تردید کے لیے خود شیخ الحدیث مولانا مبارکپوری ﷫ کی روشن مثال کافی ہے۔ موصوف نے فقہائے عظام کو اور ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے فتاویٰ میں قرآن وحدیث کے حوالوں کے علاوہ فقہاء کے اقوال اور ان کے دلائل کو بھی کثرت سے ذکر کیا ہے اور ایک ایک بات کو مستند کتب فقہ کے مکمل حوالوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ذیل میں ایسی چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں، جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ موصوف کا فقہی مطالعہ کس قدر وسیع تھا اور فقہاء کی آراء کو پیش کرنے میں آپ کس قدر وسیع النظر اور وسیع القلب تھے۔

راقم کو شیخ سے ایک خاص قلبی تعلق تھا۔ کسی بھی مسئلے میں کوئی اشکال پیدا ہوتا یا کسی حدیث کی تشریح اور وضاحت مطلوب ہوتی تو خط کے ذریعہ حضرت شیخ الحدیث کی طرف رجوع کرتا۔ ہفتہ عشرہ میں اس کا مفصل اور تسلی بخش جواب موصول ہو جاتا اور یہ جوابات شیخ خود اپنے قلم سے تحریر فرماتے تھے۔ تحریر سلجھی ہوئی، زبان معیاری اور خط بڑا صاف ہوتا۔ جواب میں نہ کبھی زیادہ تاخیر ہوتی اور نہ کسی قسم کی تشنگی احساس ہی باقی رہتا۔ ان میں سے چند خطوط کے جواب بطور نمونہ پیش کیے جا رہے ہیں۔

ایک خط کے ذریعہ شیخ ﷫ سے استفسار کیا کہ طلاق کے بعد میاں بیوی کی تفریق کی صورت میں چھوٹے بچے اور بچیاں ماں باپ میں سے کس کے پاس رہیں گے، جب کہ دونوں ہی ان کو اپنے پاس رکھنے میں مصر ہوں۔ پھر ان کی کفالت وحضانت کا حق کس کو پہنچتا ہے اور کتنی مدت تک؟ جواب میں آپ نے تحریر فرمایا تھا:

’’سات برس کی عمر تک چھوٹے بچے اور بچی کی حضانت و پرورش کا حق مطلقہ ماں ہی کو ہے، الا یہ کہ وہ دوسری شادی کر لے یا اس کی اخلاقی حالت اور چال چلن قابل اطمینان نہ ہو۔ سات برس کی عمر کے بعد لڑکے کو اختیار دے دیا جائے گا۔ چاہے وہ باپ کے یہاں رہے یا ماں کے پاس۔ بہ شرط کہ اس نے دوسری شادی نہ کر لی ہو اور اس کی اخلاقی حالت اطمینان بخش ہو اور لڑکی جب سات برس کی عمر کو پہنچ جائے تو ماں کا حق حضانت ساقط ہو جاتا ہے۔ اب باپ ہی کو پرورش کرنے کا حق ہو گا۔ اور لڑکی کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔

وهذا عند أحمد وأما عند أبي حنيفة فالأم أحق بحضانة الجارية حتى تحيض

صورت مسؤلہ میں دونوں بچوں کا نفقہ ہر حال میں زید ہی کے ذمے ہو گا۔ یعنی یہ بچے اپنے باپ زید کے یہاں رہیں یا اپنی ماں کی پرورش میں ماں کے ساتھ رہیں۔ بہرصورت ان کا پورا خرچ زید کو دینا ہو گا۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔ كما نقل ابن قدامة في المغني عن ابن منذر البتہ حنفیہ کے نزدیک لڑکے کا خرچ باپ کے ذمے اس کے بالغ ہونے تک ہے، بہ شرط کہ کسب کی قدرت رکھتا ہو اور حنابلہ کے نزدیک بالغ ہونے کے بعد بھی ہے، بہ شرط کہ وہ فقیر ومعسر ہو، غنی وموسر نہ ہو اور لڑکی کا خرچ دونوں کے نزدیک اس کی شادی اور رخصتی تک ہے۔ واللہ أعلم

(دستخط) عبید اللہ رحمانی مبارکپوری (11؍5؍1386ھ)

’نماز وتر‘ میں قنوت سے متعلق استفسار کیا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص قنوت پڑھنا بھول جائے تو کیا اس پر ’سجدۂ سہو‘ لازم ہو گا؟ اور سجدۂ سہو نہ کرنے کی صورت میں کچھ خلل کا اندیشہ تو نہیں ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء ومحدثین کے اقوال کے ساتھ خود شیخ الحدیث کی رائے بھی دریافت کی گئی تھی، جس کا مفصل جواب موصول ہوا تھا، جو درج ذیل ہے۔

حنفیہ کے نزدیک وتر میں سہواً یعنی بھول کر قنوت کی دعا چھوڑ دینے سے ’سجدۂ سہو‘ لازم آتا ہے، اس لیے کہ ان کے یہاں ’قنوت فی الوتر‘ واجب ہے اور ’تر ک واجب‘ جو سہواً ہو اس سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ وجوب کی دلیل بالفاظ صاحب ہدایہ یہ ہے: ” قوله عليه السلام للحسن بن علي حين علمه دعاء القنوت “اجعل هذا في وترك” (ہدایہ: 1؍125)

حافظ ذیلعی﷫ تخریج ہدایہ میں لکھتے ہیں:

“وصاحب الكتاب استدل بهذا الحديث واطلاقه على وجوب القنوت فى السنة كلها وهو قوله “واجعل هذا في وترك “من غير فصل.”

یعنی صیغہ امر کے ساتھ ارشاد فرمانا وجوب قنوت کی دلیل ہے لیکن حسن بن علی کی حدیث بابت ’قنوت وتر‘ جن کتابوں میں مروی ہے، مثلاً مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی، المنتقی لابن الجارود، البیہقی، مسند بزار وغیرہ، ان میں سے کسی کتاب میں صاحب ہدایہ کے مذکورہ الفاظ نہیں ہیں۔ اس لیے زیلغی﷫ لکھتے ہیں:

“ولم أجد هذا.” (اللفظ) فى الحديث.”

امام شافعی﷫ اور جمہور شافعیہ صرف رمضان کے نصف ثانی میں “استحباب قنوت فى الوتر” کے قائل ہیں اور اس کے ترک پر ’سجدہ سہو‘ کے بھی قائل ہیں۔

امام نووی﷫ میں لکھتے ہیں:

” ولو ترك القنوت فى موضع نستحبه” (وهو النصف الثاني من رمضان) سجد للسهو ولو قنت فى غير النصف من رمضان وقلنا لا يستحب سجدة للسهو وحكى الرؤياني وجها أنه يجوز القنوت فى جميع السنة بلا كراهة ولا يسجد للسهو بتركه في غير النصف قال وهذا اختيار مشائخ طبرستان واستحسنه.” (انتهى) (روضۃ الطالبین: 230)

امام اوزاعی﷫ اور اسماعیل بن علیہ ﷫ سجدۂ سہو کے قائل نہیں ہیں اور حماد بن سلمہ، سفیان ثوری اور ہیثم﷭ سجدۂ سہو کے قائل ہیں۔ حضرت حسن بصری﷫ سے ایک روایت ہے:

“إذا نسى القنوت فى الوتر سجد سجدتى السهو وفى رواية ان قنت يعنى فى الوتر فحسن وإن لم يقنت فليس عليه شيئ.” (كذا فى قيام الليل مع كتاب الوتر للمروزي: ص 141)

حنابلہ پورا سال قنوت فی الوتر کی مسنونیت کے قائل ہیں۔ ابن قدامہ﷫ لکھتے ہیں:

” إن القنوت مسنون فى الوتر وفي الركعة الواحدة فى جميع السنة هذا المنصوص عند أصحابنا… الخ” (المغنى: 2؍151)

امام احمد ﷫ ترک قنوت پر سجدۂ سہو کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ امام مروزی﷫ لکھتے ہیں:

“وعن أحمد إن كان ممن تعود القنوت فليسجد سجدتى السهو.” (قیام اللیل: ص 141)

ہمارے نزدیک ’قنوت فی الوتر‘ واجب نہیں ہے بلکہ پورا سال محض سنت ہے، لیکن دیدہ و دانستہ یعنی عمداً چھوڑنا نہیں چاہیے اور جب واجب نہیں ہے تو عمداً یا نسیانا ترک کر دینے سے سجدۂ سہو بھی واجب نہیں ہو گا اور ترک سجدۂ سہو سے نماز میں خلل نہیں ہو گا۔ هذا ما عندي والله أعلم

(دستخط: عبید اللہ رحمانی مبارکپوری، 24؍9؍ 96ھ)

نوٹ: یہ استفتاء 18؍ رمضان المبارک کو بھیجا گیا اور 24؍ کو وہاں سے جواب ارسال کر دیا گیا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سائل کو زحمت انتظار سے بچانے کا کس قدر خیال رکھا جاتا تھا اورساتھ ہی تفصیلی جواب سے اس کا بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ شیخ الحدیث کا کتب حدیث و فقہ کا مطالعہ کس قدر وسیع تھا اور جواب میں کیسا سلجھاؤ اور اعتدال و توازن پایا جاتا تھا۔

کوئی چالیس پینتالیس سال قبل دہلی کے اخبار اہلحدیث میں عیدگاہ کے آداب سے متعلق جو اداریہ شائع ہوا تھا، اس میں صحیح مسلم کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’’ حضرت ابو سعید خدری نے عیدگاہ میں منبر کو مروان کی بدعت کہا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں راقم نے ایک خط مدیر کے نام اور دوسرا شیخ الحدیث کے نام لکھ کر اس حدیث کے متعلق استفسار کیا تھا تو شیخ نے جو جواب ارسال فرمایا تھا، وہ درج ذیل ہے:

’’میرے علم میں صحیح مسلم میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت ابو سعید خدری نے عیدین میں منبر پر خطبہ دینے کی مخالفت کی تھی۔ مسلم میں جو الفاظ ہیں، ان سے صراحتاً صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’ حضرت ابو سعید خدری نے نماز سے پہلے خطبہ دینے کی مخالفت کی تھی۔‘‘

البتہ مسند احمد، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند بیہقی میں بروایت ابو سعید خدری یہ مذکور ہے:

” قال (أبو سعيد) أخرج مروان المنبر في يوم عيد ولم يكن يخرج به وبدأ بالخطبة قبل الصلوة ولم يكن يبدأ بها قال فقام رجل (فى المنبهات أنه عمارة بن ربية الصحابي) فقال يامروان خالفت السنة (أي خالفت الطريقة التي كان عليها النبي ﷺ وأصحابه بإخراج المنبر للخطبة عليه وبخطبته قبل الصلوة) أخرجت المنبر يوم عيد ولم يك يخرج به في يوم عيد وبدأت بالخطبة قبل الصلوٰة ولم يك يبدأ بها فقال أبو سعيد الخدري من هذا؟ قالوا فلان بن فلان فقال أبو سعيد أما هذا فقد قضى ما عليه (الحديث)

یہ روایت آپ کی نظر سے گذری ہو گی۔ ادارۂ اہلحدیث کو حوالہ دینے میں غالباً سہو ہو گیا ہے۔ (دستخط عبید اللہ رحمانی مبارکپوری (9؍11؍85ھ)

موصوف محترم کے کچھ اور خطوط تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکے۔ لیکن آپ کی جلالت علمی ودینی اور بصیرت فقہی کو سمجھنے کے لیے یہی چیزیں کچھ کم نہیں ہیں۔

تبصرہ کریں