شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ ۔۔۔ زہد و ورع کی عظیم مثال۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی

عالم اسلام میں مفتی دیار سعودیہ فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز ۔الشیخ محمد بن صالح العثیمین اور محدث العصر الشیخ الالبانی کو خاص طور پر جو مقبولیت عامہ حاصل ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔اس قبولیت عامہ کا سبب محض عقیدت نہیں بلکہ ان کا لازوال کردار بھی تھا۔ ان فاضل شخصیتوں کا علم قرآن و حدیث میں کمال درجے کا رسوخ اورتفقہ بھی اس کا سبب ہے اور ان اکابر کے ذاتی عمل و وورع اور تقوی و زہد میں بھی سلف صالحین کی اتباع ہے ۔ یہ لوگ عام زندگی میں بھی چلتے پھرتے بھی صحابہ واسلاف کی یاد تھے ۔ ان کے کردار و عمل میں مسنون اخلاق کی خوشبو تھی ۔ آج کی نشست میں صرف الشیخ عثیمین کا ذکر خیر ہوگا ۔

آپ کا نام الشیخ محمد بن صالح بن محمد بن عثیمین المقبل التمیمی ہے ۔ آ پ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ آپ کی پیدائش سعودی عرب کے علاقہ قصیم کے ایک شہر عنیزہ میں 27 رمضان المبارک 1347ھ (مارچ 1929 ) میں پیدا ہوئے ۔آپ نے قرآن کریم کی تعلیم اپنے ناناالشیخ عبد الرحمن بن سلیمان آل دامغ سے حاصل کی ۔ قرآن مجید مکمل حفظ کر لینے کے بعد علم کے حصول کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے پہلے خطاطی اور حساب سیکھا۔پھر ادبی فنون سیکھے۔

اللہ تعالیٰ نے الشیخ عثیمین کو بلا کی ذہانت ، بلند ہمتی ، حصول علم کی حرص اور علماء کرام کی صحبت سے نوازا تھا۔ آپ نے علم حاصل کرنے میں بہت سے مشائخ سے استفادہ کیا۔ اپنے شہر عنیزہ اور ریاض کے جن مشائخ سے آپ نے استفادہ کیا ان میں سے شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی ، امام العصر علامہ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن باز ، علامہ محمد امین بن محمد مختار جکنی شنقیطی، شیخ علی بن حمد الصالحی ، شیخ محمد بن عبد العزیز المطوع ، شیخ عبد الرحمن بن علی بن عودان شیخ عبد الرحمن بن سلیمان آل ﷭ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ تکمیل تعلیم کے ساتھ ہی آپ نے تدریس بھی شروع کر دی۔

آپ کے سارے شاگردوں کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کے پاس طلباء کا ایک رش لگا رہتا تھا۔ خصوصاً آخری چند سالوں میں اس تعداد میں خوب اضافہ ہوگیا تھا۔ کبھی کبھار ایک ایک مجلس میں مختلف علمی درجات کے پانچ پانچ سو سے زائدطلباء شریک ہوتے اور جب کبھی آپ کے دروس مکہ ، مدینہ یا کسی بڑے شہر میں ہوتے تو ان لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ۔

آپ نے مختلف علوم وفنون میں کئی علمی کارنامے چھوڑے۔ آپ نے عقیدہ ، فقہ، حدیث ، اخلاق ، سلوک ، معاملات ، اور دیگر موضوعات پر بہت تفصیل سے لکھا آپ کی بعض تالیفات بہت معروف ہوئیں جن میں الحمویہ کی شرح فتح رب البریۃ ، مصطلح الحدیث أصول من علم اصول ( أصول حدیث میں ) مجالس رمضان ،تسھیل الفرائض ، لمعۃ الاعتقاد الھادی إلی سبیل الرشاد ،شرح العقیدۃ الواسطیۃ ،عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ ،الفتاوی النسائیۃ ، سجود السہو فی الصلاۃ ، الضیاء اللامع من الخطب الجوامع ،أصول التفسیر۔ مختارات من اعلام الموقعین ،مجموع الدروس وفتاوی الحرم المکی ، کتاب التوحید خاص طور پر شامل ہیں ۔شیخ عثیمین کی ساری زندگی زہد و ورع سے عبارت تھی، اس سلسلے میں شیخ کے کئی ایک واقعات ملتے ہیں،۔ شیخ عثیمین جب اپنے جامعہ میں موجود ہوتے تو وہاں کے متعلقہ امور کے لیے بوقتِ ضرورت اپنے قلم (pen) میں سیاہی وہیں سے بھر لیتے، پھر جب گھر جانا ہوتا تو بقیہ سیاہی واپس نکال کر وہیں اسے خالی کر دیتے اور فرماتے کہ یہ سیاہی جامعہ اور اس سے متعلقہ امور کے لیے ہے میرا اس پر ذاتی کوئی حق نہیں ۔

آپ جب اپنی امامت یا تدریس سے چھٹی کرتے تو ان چھٹیوں کا حساب لگا کر اپنی تنخواہ سے اتنی رقم کی کٹوتی کروا دیتے، چاہے جتنی بھی کم چھٹی ہوتی اس کی تنخواہ وصول نہیں کرتے تھے۔۔ اگر کبھی کلاس میں آنے میں تاخیر ہو جاتی تو اساتذہ کے حاضری رجسٹر میں بیان کر دیتے اور اس کےسامنے یہ بھی لکھتے کہ بلاعذر تاخیر ہوئی ہے۔۔ اگر کبھی یونیورسٹی کے کاموں کے لئے کہیں غیر حاضری ہو جاتی یا فتوی کمیٹی کے اجلاس میں دورانِ ہفتہ جانا پڑتا تو جو تنخواہ ان کاموں کی ملتی تھی ۔ اسے کاٹ کرچانسلر کے حوالے کر دیتے ۔جب آپ امریکہ علاج کی غرض سے گئے ، تو واپسی پر کلیہ الشریعہ کے سربراہ عیادت کے لیے مسجد میں ملے، لوگوں کا رش لگا ہوا تھا، بیماری نے نڈھال کر رکھا تھا۔ اس حالت میں بھی شیخ عثیمین چانسلر سے پوچھنانہیں بھولے کہ میں تو اتنے دن چھٹیوں پر تھا تو میری تنخواہ کیوں آ رہی ہے؟ اس پر چانسلر نے تسلی دی کہ یہ آپ کا قانونی حق تھا ۔

شیخ عثیمین کی ذات علماء کے لیے بھی ایک مستند شخصیت تھی ۔ آپ وفاقی سطح پر بنی ہوئی فتوی کمیٹی کے بھی سیبئر رکن تھے لیکن آپ فتوی دینے میں بڑی احتیاط و تسلی سے کام لیتے ،جب کبھی کوئی مسئلہ سمجھ نہ آتا تو سائل سے فرماتے کہ انتظار کریں میں اس مسئلے پر کچھ غور کروں گا۔۔پھر آپ اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتے تھے ۔بلکہ اپنے سے بہتر کسی عالم کی رائے کے انتظار میں رہتے تھے ۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ

اگر علم چھپانے کا جرم نہ ہوتا اور اللہ کی پکڑ کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی کو بھی فتوی نہ دیتا۔ المعہد العلمی کے سابقہ چانسلر بیان کرتے ہیں کہ

ایک دفعہ مجھے ضرورت پڑی تو میں نے شیخ ابن العثيمين سے قرض لیا، اس دوران نے مجھے ریاض جانا ہوا، شیخ کو بھی ریاض جانا تھا اور میرے ساتھ ہولیے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو شیخ نے مجھے اس سفر کا کرایہ دینے پر اصرار شروع کر دیا، جب میں نے پوری شدت سے انکارکیا تو شیخ فرمانے لگے کہ

اگر آپ نے مجھ سے قرض نہ لیا ہوتا تو خیر تھی، لیکن اب مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ ایسا قرض نہ بن جائے کہ جو منافع دے رہا ہے۔ اور قرض پر منافع سود ہوتا ہے۔ آپ نے جامعہ میں ایک دفعہ اپنے طلباء سے کہا جسے محسوس ہو کہ میں نے امتحانی پیپر چیک کرنے اور نمبر دینے میں کوتاہی کی ہے کہ تو وہ مجھے بتائے۔ ایک طالب علم آدھے نمبر کے لیے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کا وہ نمبر بڑھا دیا ۔

الشیخ عثیمین حکومت کے دیے گئے عہدوں اور مناسب سے بھی دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ مفتی دیار سعودیہ شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ نے آپ کو بار بار منصب قضاء کی پیشکش کی۔ لیکن شیخ نے ہر بار انکار کیا اور ایک دفعہ ’’احساء ‘‘کے محکمہ شرعیہ کا رئیس بھی متعین کردیا لیکن آپ نے منصب سنبھالنے کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور ایک دفعہ بھی سرکاری دفتر نہیں گئے۔

شیخ عثیمین دنیاکی عیش و آرام کو عارضی جانتے تھے اس لیے بود وباش میں بھی زہد تھا ۔ آپ 60 سال تک مٹی گارے کے بنے ہوئے عارضی گھر میں مقیم رہے ۔

سعودی بادشاہوں ملک خالد ، ملک فہد اورشاہ عبداللہ تینوں آپ سے ملاقات کیلئے اسی سادہ سے گھر میں ملنے کے لیے آتے رہے ،تو شیخ عثیمین کے کچے گھر کو دیکھ کر بہت رنجیدہ ، دلگرفتہ اور متاثر ہوئے ۔ ملک خالد مرحوم نے آ پ کی رہائش کیلئے بڑے شاندار گھر کی آفر کی لیکن آپ نہیں مانے اور پھر ایک عمارت تحفے میں دیدی ، تو آپ نے اسے طالب علموں کے لیے وقف کر دیا ۔

دوسری ملاقات میں ملک خالد نے پھر گھر پیش کیاشیخ نے اچھے طریقے سے معذرت کر لی اور پھر فرمایا کہ ہم دونوں ملکر ایک گھر بناتے ہیں ۔ جب شاہ خالد نے پوچھا کون سا گھر بنانا ہے ؟ تو شیخ نے فرمایا :

اللہ کا گھر یعنی مسجد عنیزہ کو تجدیدکی ضرورت ہے تو بادشاہ نے اس مسجدکو از سر نو تعمیر کرادیا جو آج عنیزہ میں’’جامع ابن عثیمین‘‘کےنام سے معروف مسجد ہے۔

جب سنہ 1407ھ میں شاہ فہد قصیم آئے، بادشاہ کی گاڑی شیخ ابن العثيمين کے گھر کی طرف روانہ ہوئی، گاڑی سے اترتے ہی شاہ فہد حیران رہ گئے کہ شیخ مٹی کے گھر میں رہتے ہیں ۔ جب شاہ فہد آپ کے گھر داخل ہوئے اور خستہ حال چھتوں کو دیکھا، اور پھر زمین پر ہی شیخ کےساتھ بیٹھے تو عرض کی ۔ اے ابو عبد اللہ! آپ کو لازمی طور پر میری طرف سے تحفہ قبول کرنا پڑے گا۔میں آپ کے لیے گھر بنوانا چاہتا ہوں ۔ شیخ فرمانے لگے:

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔لیکن میں اس گھر میں بڑا خوش ہوں، آپ کی طرف سے تحفہ موصول ہو گیا ہے، میری معذرت قبول کریں۔ شاہ فہد نےبہت زیادہ اصرار کیا تو شیخ﷫ نے فرمایا:

آپ کی میرے گھر میں تشریف آوری ہی بہت بڑی عزت افزائی ہے ۔ شاہ کو اندازہ ہو گیا کہ شیخ بہت زاہد ہیں تو انہوں نے آپ کا عذر قبول کر لیا ۔ملک عبد اللہ کے بہت زیادہ اصرار پر ایک گھر قبول کیا اور وہ بھی اپنے ادارے کے قریب جو بناوٹ میں کسی بادشاہ کا بنوایا ہوا لگتا ہی نہیں تھا۔

ایک رئیس نے شیخ ﷫ کو نئی گاڑی ہدیہ کی تو شیخ نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے لینے سےمعذرت کر لی اور فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میری پرانی گاڑی ہی کافی ہے ۔

راقم حافظ درانی کو کم ازکم تین دفعہ شیخ عثیمین سے ملاقات اور مجلس میں بشریک ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔زہد و ورع کی دنیا کایہ بادشاہ جنوری2001 میں خالق حقیقی کے پاس چلے گئے ۔وفات کے وقت آپ کی عمر 72سال تھی ۔اللہ کریم ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے ۔اور آپ کا جنازہ قصیم کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا ۔ اللہ کریم ان کی قبر کو جنت کاباغ بنائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔

٭٭٭

فضیلۃ الشیخ صالح العثیمین ﷫ فرماتے ہیں:

فعلى المرء أن يكون واصلا لرحمه وأن يكون ناصحا لإخوانه المسلمين

’’ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ رشتوں کو جوڑنے والا اور مسلمان بھائیوں کو نصیحت کرنے والا ہو۔‘‘

(شرح ریاض الصالحین : 3؍253)

٭٭٭

تبصرہ کریں