شیخ عبد الوہاب خلجی رحمہ اللہ کی یاد میں۔کنور شکیل احمد ( امام وخطیب سعودی ملٹری آفس، لندن)

شیخ کی وفات عمومً امت مسلمہ اور خاص طور پر جمعیۃ اہل حدیث کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔ قوم وملت اور مسلک اہل حدیث کی فلاح کے لیے حقیقی معنوں میں اپنی ساری زندگی قربان کرنے والی ایسی علمی شخصیت کبھی کبھی رونما ہوتی ہے:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جس طرح شیخ نے اپنی سار ی صلاحیتیں قوم وملت اور مسلک اہل حدیث کی خدمت میں صرف کر دیں۔ امت کے ہزاروں فرزند شیخ کے شیدائی بنے۔ ان کی انڈیا، سعودیہ عرب اور برطانیہ سے جڑی یادوں کا ذکر کرنے کے لیے باقاعدہ ایک کتاب درکار ہے۔ شیخ کی علمی ودینی کارگزاریوں کا مکمل احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ یہاں چند اہم یادیں سطر کر رہا ہوں۔

میری ابتدائی تعلیم مدرسہ سبل السلام پھاٹک حبش خاں میں ہوئی۔ شیخ خلجی صاحب کی بھی ابتدائی تعلیم مدر سہ سبل السلام میں ہی ہوئی تھی۔ مولانا عبد الصمد رحمانی میرے اور ان کے بھی استاد تھے اور ناظم محمد شفیع صاحب اس مدرسہ کے نگراں تھے۔ جس سال میں مدرسہ سبل السلام میں داخل ہوا تھا، شیخ خلجی صاحب جامعہ سلفیہ بنا رس سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے تھے۔

شیخ خلجی صاحب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے دنوں تعطیلات میں ہندوستان تشریف لائے تو دوران سفر آپ نے دہلی میں قیام فرمایا۔ وہیں شیخ سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ مگر ہم دونوں کے گھرانوں میں بہت پرانے تعلقات تھے۔ دراصل میرے دادا مولانا زکریا﷫، مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ کے ہم عصروں میں سے تھے اور جمعیت اہل حدیث کے مبلغ تھے۔ وہ وعظ ونصیحت کے لیے پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ بھی جایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے جماعت کے سبھی احباب خصوصاً شیخ کے والد محترم عبد الواحد صاحب اور ان کے خاندان سے قر یبی تعلق قائم ہو گئے تھے۔ جس کا ذکر میرے والد ڈاکٹر عبد القدوس اور شیخ کے والد محترم جناب عبد الواحد صاحب اپنی ملاقات کے دوران کرتے تھے۔

شیخ عبد الوہاب صاحب کار شتہ دہلی کے اہم اور معروف دینی گھرانے میں طے پایا۔ مجھے بھی دعوت نامہ ملا اور اس مبارک محفل میں شرکت کا موقع ملا۔دعوت ولیمہ میں مالیر کوٹلہ بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ اس طرح چند ہی ملاقاتوں میں ہماری دوستی بہت بے تکلف اور قریبی ہو گئی۔ ہم اپنے گھریلو مسائل جماعتی معاملات پر بلاتکلف مشورہ کیا کرتے تھے۔ چونکہ میں شیخ خلجی صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھا، لہٰذا ان کی زندگی کے حالات اور ان کی زندگی کے رات دن اور جمعیت یا قوم کےلیے خلوص جاں نثا ری اور قربانیوں کا میں عینی شاہد ہوں۔

جس وقت آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم تھے، اسی وقت سے جماعت اور مسلک کی ترقی اور مسلک حق کی دعوت کے لیے ان کے دل میں جذبہ بھرا ہوا تھا۔ لہٰذا محبین مسلک اہلحدیث نے مدینہ یونیورسٹی میں ایک کمیٹی بنائی جس میں شیخ عبد الصمد الکاتب، دکتور اسحاق ، خلجی صاحب اور دیگر احباب شامل تھے۔ یہ تمام صاحبان جمعیت اہل حدیث ہندوستان کو متحرک کرنے کے لیے دہلی آئے۔ جماعت کے احباب اور اکابرین سے میٹنگ اور اجتماعات کیے اور ایک بڑا اجتماع مسجد میاں صاحب پھاٹک حبش خاں میں ہوا۔ جس میں جماعت اہل حدیث ہند کے سارے بڑے بڑے مسؤلین جمع کیے گئے اور جماعت میں دعوتی اور مسلکی نشاط پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں اور جب خلجی صاحب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد واپس ہندوستان آئے تو آپ نے اپنے شب وروز یہاں تک کہ اپنا سب کچھ جماعت کے لیے وقف کر دیا تھا۔

ایک بار شیخ خلجی صاحب کے ہمراہ ریاض کے سفر کا موقع ملا۔ ماہ رمضان تھا اور جمعیت کے مختلف اداروں سے تبرعات جمع کرنے کی غرض سے علماء تشریف لائے تھے۔ جن میں مولانا عبد الحمید رحمانی ﷫، مولانا عبد الرؤف جھنڈا نگری﷫، مولانا مختار احمد ندوی﷫، مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری﷫ ، مولانا عبد اللہ نیپالی ﷫ جیسی اہم شخصیات قابل ذکر ہیں۔ وہاں نہ صرف ان تمام شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا بلکہ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیالات کا موقع بھی ملا۔

ہندوستان آنے کے بعد شیخ نے متعدد اداروں میں درس وتدریس کا کام انجام دیا۔ شیخ کی علمی میدان میں خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں صوبائی جمعیت اہلحدیث پنجاب کا صدر بنا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تو ان کی کامیابیوں کا طویل سفر شروع ہو گیا اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم عمومی کے منصب پر فائز ہوئے۔ جس وقت شیخ نے جمعیت کی نظامت کا عہدہ سنبھالا ، اس وقت تک جمعیت عوام میں بہت زیادہ متحرک نہیں تھی۔ شیخ نے اپنی کوششوں سے جمعیت کو ہندوستان کے شہر شہر گاؤں گاؤں میں متعارف کروایا۔ یہی وجہ تھی کہ شیخ اپنے عہدہ پر لگاتار پندرہ سال تک فائز رہے۔

شیخ نے جہاں بہت سی علمی خدمات انجام دیں وہیں بہت سے اداروں کی رکنیت، نظامت، صدارت کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ بہت سی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی اور متعدد ممالک کے حکمرانوں سے ملاقات کر کے امت مسلمہ کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شیخ کی علمی اور فلاحی خدمات پر بہت سے اداروں نے ایوارڈ اور توصیفی اسناد سے بھی نوازا جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔

ان سب کے باوجود شیخ نے اپنی پوری زندگی بہت ہی سادگی سے گزاری۔ پندرہ سال جمعیت کی نظامت کے فرائض انجام دینے کے باوجود اپنے دامن کو داغ دار نہ ہونے دیا۔ یہ شیخ کی ایمانداری کا ثبوت ہے۔ شیخ کی ایک خوبی جو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی تھی وہ یہ کہ مولانا جمعیت اہلحدیث کے ناظم عمومی رہ چکے تھے ، اس کے باوجود دیگر مسالک کے علماء کی نظر میں بھی محترم سمجھے جاتے تھے اور ان کی دینی خدمات کو سراہا جاتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے شیخ کئی غیر اہل حدیث تنظیموں کے عہدے پربھی فائز ہوئے۔

شیخ نے مالیر کوٹلہ میں جامعہ ثناء اللہ امرتسری قائم کیا تھا، جو الحمد للہ اب تک بحسن وخوبی چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنی جدوجہد سے کئی مساجد اور اسلامی مدارس تعمیر کرائے جو قابل ذکر ہیں۔

شیخ ہمارے گاؤں بھوجپور بھی تشریف لایا کرتے تھے اور وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جماعت کے تمام ذمہ داران سے ملاقات کر کے ان میں ذمہ داری کا احساس جگایا کرتے تھے۔ لہٰذا آج بھی بھوجپور جماعت کے اکابرین کی آپ کے ذکر خیر پر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ وہاں آپ کے محبین میں حاجی قلندر، حاجی سکندر، حاجی یوسف، مستری عبد السلام، ڈاکٹر عبد السلام، حاجی چوہدری طاہر حسن، مولانا حفظ الرحمٰن اور ان کے اہل وعیال دل سے دعا گو رہتے ہیں۔

گاؤں بھوجپور میں آپ کے دعوتی پروگرام سے متاثر ہو کر گاؤں دہرہ ضلع غازی آباد میں بھی جمعیت اہلحدیث کی مسجد کا قیام عمل میں آیا۔ وہاں آپ کے محبین میں میرے بہنوئی جناب عاشق الٰہی صاحب ان کے صاحبزادے کنور مبارک علی، کنور وسیم احمد، کنور عبد الرحیم و دیگر احباب قابل ذکر ہیں۔ دہر گاؤں مسلک حق سے بہت دور تھا بلکہ شرک وبدعت کا گہوارہ تھا اور مسلک حق کی بات کرنا بھی وہاں مشکل تھا مگر 1970ء میں میری بڑی بہن مرغوب النساء نے قرآن کی تعلیم کے لیے درسگاہ قائم کی ، اس میں نہ صرف قرآن کی تعلیم دی جاتی تھی بلکہ عقیدہ توحید کی بھی تبلیغ کی جاتی تھی اور الحمد للہ ان کی محنت اور کاوشوں سے بہت سے گھرانوں نے شرک وبدعات جیسی خرافات سے توبہ کی۔ انہوں نے بھی اپنی پوری زندگی مسلک حق اہلحدیث کو لوگوں کے گھروں میں پہنچانے کے لیے وقف کر دی تھی۔ یہ سب اللہ کا فضل وکرم اور شیخ خلجی صاحب جیسے محبین دعوۃ توحید کے اثرات ہیں۔

شہر سہارنپور میں جمعیت اہلحدیث کا قیام

شیخ نے اپنی شب و روز کی جدوجہد سے ڈاکٹر عتیق خاں صاحب کو تیار کیا اور ان کی ہر قسم سے مدد فرمائی کہ سہارنپور جیسے مسلم شہر میں جماعت کا مرکز اور مسجد کا قیام عمل میں آیا۔

جب میں مکہ میں زیر تعلیم تھا اور آپ سعودی حکومت کی دعوت پر، رابطہ عالم اسلامی کی دعوت یا کسی بھی موقع پر جمعیت کی نمائندگی کے لیے مکہ تشریف لاتے تو ملاقاتیں ہوتیں، بلکہ بہت سارے پروگراموں میں مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔ مکہ اور مدینہ میں یوں تو آپ کے دوست و احباب لاتعداد تھے مگر ان میں بعض بہت قریبی تھے جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ فضیلۃ الشیخ دکتور وصی اللہ عباس صاحب، شیخ اگر کسی رسمی دعوت پر ہوٹل میں قیام پذیر نہ ہوتے تو شیخ وصی اللہ عباس صاحب کے گھر میں قیام فرماتے۔ شیخ وصی اللہ صاحب کا گھر نہیں بلکہ جمعیت اہلحدیث اور دعوت توحید کے احباب کا مرکز سمجھیے۔ شیخ وصی اللہ صاحب حرم شریف کے مفتی اور مدرس ہیں۔ حرم شریف میں لیکچر دیتے ہیں، مکہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ جہاں سبھی اہلحدیث مبلغین کو خوش آمدید کہا جاتا تھا، مکہ میں شیخ کے خصوصی احباب میں ڈاکٹر جاوید بنارسی مرحوم، ڈاکٹر جمال اختر صاحب، ڈاکٹر عبد الوہاب صاحب، ڈاکٹر عبد اللہ، ڈاکٹر عزیز شمس صاحب، دکتور عبد العلیم مرحوم صاحب، ڈاکٹر عبد اللہ بنارسی صاحب وغیرہم قابل ذکر ہیں۔

خلجی صاحب دعوت وتبلیغ کے لیے یا جماعت اہلحدیث کی نمائندگی کے لیے عالمی کانفرنسوں میں شرکت فرماتے تھے۔ لہٰذا بہت سارے ملکوں کا دورہ کرنا پڑتا تھا۔ کئی بار جمعیت اہل حدیث برطانیہ کی دعوت پر برطانیہ تشریف لائے۔ جماعت کی بہت ساری (برانچوں) مسجدوں اور مدرسوں کا دورہ کیا۔ آپ کی تقریروں کو لوگ غور سے سنتے اور بہت متاثر ہوتے اور بار بار ان سے ملنے اور ان کے وعظ سننے کے خواہش مند رہتے۔ یہاں آپ کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ لہٰذا یہاں کی معروف شخصیات جو شیخ خلجی صاحب کے محبین میں شامل ہیں ان میں پہلی اور بڑی اسلامی شخصیت ڈاکٹر صہیب حسن صاحب ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی پیدائش بھی شہر مالیر کوٹلہ کی ہے۔ شیخ صہیب حسن جماعت اہلحدیث برطانیہ کے سابق امیر ہیں اور مسجد اہلحدیث مسجد توحید لندن اور اسلامک شریعہ کونسل کے بانی ہیں۔ شیخ محمد عبد الہادی العمری سابق امیر جماعت اہل حدیث یو کے اور برطانیہ کے مشہور مبلغ شیخ شعیب احمد میرپوری سابق ناظم جمعیت اہلحدیث برطانیہ، موجودہ امیر جمعیت اہلحدیث مولانا ابراہیم میرپوری صاحب، نائب امیر مولانا حفیظ اللہ خان المدنی صاحب، موجودہ ناظم اعلیٰ جمعیت اہلحدیث مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ، شیخ شفیق الرحمٰن شاہین امام وخطیب مسجد اولڈھم ، یو کے وغیرہم

٭٭٭

تبصرہ کریں