شہید ملت حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ۔حافظ محمد عبدالاعلیٰ درانی (بریڈفورڈ۔ برطانیہ)

23؍مارچ1987ء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن تھا جس دن مینار پاکستان کے پہلو میں قلعہ لچھمن سنگھ میں ایک دینی اجتماع میں طاقتور بم پھٹا اور عالم اسلام کے بے مثال خطیب علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمن یزدانی اپنے 10 بے گناہ ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش فرما گئے تھے۔علامہ صاحب پاکستان کی ایک بے مثال نمایاں دینی وسیاسی شخصیت تھے ۔ سیاسی ودینی حلقوں میں انہیں بیک وقت پذیرائی حاصل تھی ۔ تمام مکاتب فکر کے اکابرکے ساتھ ان کی بے تکلف دوستی تھی۔ ان کی وفات پر ایک زمانہ بیت گیا لیکن ان کی خطابت کی گونج آج بھی فضاؤں میں رچی بسی ہے ۔ برصغیرمیں تحریک آزادی نے بڑے بڑے جغادری خطیب پیدا کیے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اورسیدعطاء اللہ شاہ بخاری کے نام سے کون ناواقف ہے۔ لیکن بلا مبالغہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کے پائے کاکوئی خطیب برصغیرمیں پیدا نہیں ہوا ۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی خطابت نہ صرف برصغیرکی تاریخ میں بے مثال تھی بلکہ وہ عربی زبان میں بھی اسی روانگی اورسلاست کے ساتھ خطابت کرتے تھے کہ اہل زبان کو بھی رشک آتاتھا۔ مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران انہیں مسجدنبوی میں درس کا حلقہ ملا تو عربی زبان کے بڑے بڑے خطیبوں نے مانا کہ اس طرح کی طلاقت لسانی اور قدرت بیانی تو اہل زبان کو بھی حاصل نہیں ہے۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کی موجودگی میں علامہ احسان الٰہی نے جو بے مثال تقریر کی تھی اس نے صدام حسین جیسے سخت گیر انسان پر بھی رقت طاری کردی تھی ۔ 1978 میںکراچی میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں علامہ صاحب نے عربی میں فی البدیہہ ایسی موثر تقریر کی کہ تمام عرب وزراء بھی انگشت بدنداں رہ گئے ۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم بھی اس میں موجود تھے انہوں نے علامہ صاحب کا ماتھا چوما اور کہا کہ پاکستان کیلئے یہی فخر کیا کم ہے کہ ہم میں علامہ احسان الٰہی جیسا سپوت موجود ہے ۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق نے آپ کو حکومت میں شامل کرنے کی کئی دفعہ کوشش کی لیکن یہ شاہین کسی طرح زیردام نہ آیا ۔آغا شورش کاشمیری جو خود بھی بلند پایہ خطیب وادیب تھے ان کے بقول خطابت کی تمام خوبیاں (وجاہت ، شجاعت ، طلاقت لسانی ، قادر الکلامی ، مدلل گفتگو اور بلند آہنگی ) صرف علامہ صاحب کے اندر موجود ہیں اور آغا صاحب کی نیازمندی اس وقت سے تھی جب علامہ صاحب نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعداقبال پارک میں پہلا عید کا خطبہ دیا اور حکومت کی متشددانہ کاروائیوں کی دھجیاں بکھیردی تھیں ۔

بقول کسے سیالکوٹ کی مردم خیزسرزمین نے بڑے بڑے لوگ پیدا کیے لیکن علامہ کالقب دو ہی شخصیتوں پر جچتا ہے ۔ ایک علامہ محمد قبال اور دوسرے علامہ احسان الٰہی ظہیر۔ علامہ صاحب کے والد حاجی ظہور الٰہی ایک کامل ولی انسان تھے ،نہایت پاکباز اور متبع شریعت ۔ جنہوں نے اپنے اس بیٹے کو بڑے لاڈ پیار سے بڑاکیا ان کے بچپن کے تمام ناز اٹھاکر انہیں ایک اعلیٰ منصب پرپہنچنے کیلئے ماحول فراہم کیا ۔ علامہ صاحب میں بچپن ہی سے کچھ کرگزرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ انہوں نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد ، جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور پھر مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب سے علوم اسلامیہ میں کامل دسترس حاصل کی۔ اسی دوران میں ان کی شادی شیخ الحدیث حضرت العلام حافظ محمدمحدث گوندلوی کی صاحبزادی سے ہوگئی جو خود بھی عالمہ فاضلہ اور قرآن کریم کی حافظہ تھیں۔ مدینہ یونیورسٹی تعلیم کے دوران علامہ صاحب نے فرق وادیان کے مشکل سبجیکٹ کو اختیار کرکے اس میں مکمل رسوخ حاصل کیااور پھر انہوں نے شہرہ آفاق کتابیں لکھ کر فرق باطلہ قادیانیت رفض و تشیع کے تاروپود بکھیرے۔جب قادیانیت کے موضوع پر آپ نے کتاب لکھی تو پبلشرنے کہااتنی بلندپایہ کتاب ایک متعلم مدینہ یونیورسٹی کے نام سے چھپے ، بات کچھ جچتی نہیں ہے ۔ یونیورسٹی کے چانسلر الشیخ ابن بازؒ کے سامنے مسئلہ رکھا گیا تو انہوں نے ٹائٹل پر فاضل مدینہ یونیورسٹی لکھنے کی اجازت دیدی۔ علامہ احسان الٰہی نے کہا ایک طالبعلم کو فاضل مدینہ یونیورسٹی لکھنے کی اجازت تو دیدی لیکن اگر یہ طالب علم اگلے امتحان میں فیل ہوگیاتو؟ شیخ محترم نے جواب دیا تب میں یونیورسٹی ہی بند کروں گا۔

چینیانوالی مسجد میں تقرری

مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے اسی زمانے میں علامہ صاحب نے لاہورمیں قیام اختیار کیا اور تاریخی مسجد چینیانوالی میں خطابت کے منصب پرفائز ہوئے ۔اس مسجد کا تعلق شاہ اسماعیل شہید کی تحریک مجاہدین کے ساتھ تھا اس لیے یہاں بڑے بڑے جغادری خطیب فریضہ خطابت سرانجام دیتے رہے۔ مثلاً

مولانا سیدداؤد غزنوی کہ برصغیرکی تاریخ میں ایک بلند پایہ نام ہے ۔ چونکہ یہ مسجد رنگ محل کی ایک چھوٹی سی گلی کوچہ چابک سواراں میں ہے۔ اس لیے نمازعید اقبال پارک کے وسیع وعریض گراؤنڈ میں ادا کی جاتی ہے ۔اندرون لاہورکی بیشترآبادی یہیں نماز عید ادا کرتی تھی حتی کہ مشہور ولی اللہ مفسر قرآن مولانا احمدعلی لاہوریؒ بھی ساری زندگی یہیں مولانا داود غزنویؒ کی اقتدا میں نماز عیدادا کرتے رہے۔ سیدغزنوی کی وفات 1963میں ہوئی تھی ۔ اس کے بعد سے اب تک چینیانوالی مسجد کو کوئی ایسا بلند آہنگ خطیب نہیں ملا تھااور نہ ہی سیدداود غزنوی جیسی قدآور شخصیت کے بعدکوئی ہستی اس معیار پر پورا اترتی تھی ۔علامہ احسان الٰہی کی بطور خطیب تقرری سے یہ خلا پر ہوتا نظر آیا۔یہ وہ دور ہے جب سقوط مشرقی پاکستان کازخم ابھی تازہ ہی تھا ۔اپنی تقرری کے فورا بعدعلامہ صاحب نے پہلا خطبہ عید اقبال پارک میں دیا تو اجتماع میں قافلہ آزادی کے بطل حریت، نامور ادیب و خطیب مدیر چٹان آغا شورش کاشمیریؒ بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا احسان الٰہی اگر آج کے بعد تم خطبہ دینا بند بھی کردو تو صف اول کے نامور خطباء کی فہرست میں تمہارا نام شامل ہی رہے گا۔ اس کے بعد تازندگی آغا صاحب اور علامہ صاحب کی رفاقت رہی۔ خطابت کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ترجمان ہفت روزہ الاعتصام جس کے مالک ومسئول شیخ الحدیث علامہ محمد عطاء اللہ حنیفؒ تھے، اس ہفت روزہ کا مدیر بھی بنادیاگیا۔ علامہ صاحب کے انقلابی اداریوں نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل پیدا کردی ۔ جماعت کو بھی ایک نئے آہنگ والے مدیر مل گیا ۔ آپ نے اپنا ماہنامہ ترجمان الحدیث کا ڈیکلریشن بھی منظور کرالیاجو اب تک جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی زیرنگرانی نکل رہاہے ۔ جماعتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ نے سیاسی طو رپر اپنی راہ ورسم خوب بڑھالی۔ نوبزادہ نصر اللہ خان مرحوم کے ساتھ علامہ صاحب کے نیازمندانہ تعلقات تا حیات رہے ۔ نتیجے میں آپ کو قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔بھٹو دور میں ایوب خانی دہشت و وحشت کے منحوس اثرات پاکستان پر پوری طرح نمایاںتھے ۔ یعنی مخالفین کو فکس اپ کرنے کی جابرانہ سوچ۔ پنجاب میں غلام مصطفیٰ کھر کی گورنری کاطوطی بولتا تھا۔ وفاقی وصوبائی بزرجمہروں کی غیرجمہوری اقدار کے خلاف جو موثر احتجاجی آوازیں نمایاں تھیں ان میں آغا شورش کاشمیری کانام تو خیر پہلے ہی موجود تھا ۔ دوسرا نام اسی نوجوان خطیب کا تھا جسے دنیا علامہ احسان الٰہی ظہیرکے نام سے جانتی ہے ۔ آغا صاحب اور علامہ صاحب دونوں ہی بلندپایہ خطیب تھے جہاں جاتے، شعلہ بیانی سے ہلچل پیدا کردیتے ۔ آغا شورش کاشمیری کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے مگرہردفعہ وہ حکومت کو جل دے کرکامیابی سے نکل جاتے ۔ لاہور ائیرپورٹ پر آغا شورش مرحوم اور علامہ احسان الٰہی ملتان تقریرکیلئے جارہے تھے کہ پولیس نے اچانک چھاپہ مار کرآغا صاحب کو گرفتار کرلیا اور علامہ صاحب کو جانے دیا۔ علامہ صاحب نے ملتان پہنچ کر زبردست تقریرکی ۔ جہاں وہ ملتان کی تاریخ کا انوکھا باب تھا وہاں اس تقریر کی شعلہ بیانی نے پورے ملک میں آگ بھڑکادی ۔ جس کے نتیجہ میں حکومت کو آغاشورش مرحوم کو رہا کرنا پڑا۔آغا شورش کاشمیری اپنے ہرخطاب سے پہلے علامہ صاحب کا بڑاشاہکار تعارف کروایا کرتے تھے کہ اس نوجوان کی خطابت کے کیا کہنے اردو ان کے گھر کی لونڈی ہے ۔ عربی ان کی جیب کی گھڑی ہے ۔ فارسی ان کے ہاتھ کی چھڑی ہے ۔

قادیانیت کا تعاقب

علامہ احسان الٰہیؒ قادیانیت کی مکروہ تاریخ پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے انہوں نے بالکل نوجوانی کی عمر اور مدینہ یونیورسٹی میں دوران تعلیم سب سے پہلے رد قادیانیت کے موضوع پرمدلل کتاب لکھی تھی۔ 1974میں نشترکالج ملتان کے طلباء پر ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں کے تشدد کی وجہ سے پورے ملک میں قادیانی مخالفت تحریک شروع ہوگئی اور1953کی تحریک کی جوچنگاری دی ہوئی تھی وہ پھر بھڑک اٹھی ۔ حکومت نے اسے روکنے اور ٹالنے کی پوری کوشش کی لیکن تحریک بہت پرزور ہوچکی تھی ۔ مولنا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود ، مولانا ابوالاعلی مودودی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، نوابزادہ نصر اللہ خان ، علامہ احسان الٰہی ظہیر، اورسیدمظفر علی شمسی صف اول کے قائدین تھے ۔ مجلس عمل کے قائدین کی بے پناہ دینی وسیاسی بصیرت نے تحریک کو تشددسے بچائے رکھا اس اتحاد و یکجہتی کی وجہ سے حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور 7؍ستمبر1974کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کا تاریخی قانون پاس کردیا۔اس تاریخی دن سے تین روز پہلے بادشاہی مسجد لاہور میں تحریک ختم نبوت کے تمام قائدین کا مشترکہ اجتماع ہوا۔ عوام کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ سیدابوالاعلیٰ مودودی دھیمے دھیمے لہجے میں تقریر کر رہے تھے کہ مولانا مفتی محمود صاحب کی تشریف آوری ہوئی نوجوانوں کے جذبات قابو سے باہر ہوگئے ۔ ایسے میں کچھ شرپسند عناصر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہنگامہ کردیا سارا مجمع کھڑا ہو گیا اور شوروشرابہ حدوں سے بڑھنے لگا ۔ بڑے بڑے قائدین نے مائیک پرآکرہنگامہ ختم کرنے کی اپیلیں کیں مگر کامیابی نہ ہوئی ۔ ایسے میں علامہ احسان الٰہی ظہیرنے مائیک سنبھالا اور چند منٹ کے اندر اندر اتنے بڑے مجمع پرخاموشی کی چادرتن گئی ۔ ورنہ وہ آخری اجتماع تھا اگروہ ناکام ہوجاتاتو تحریک کی کامیابی مشکوک ہوجاتی۔چنیوٹ میں مشترکہ مجلس ختم نبوت کاسالانہ اجتماع ہواکرتاتھا ۔ تیسرے دن کا اجتماع تو بہت اہم ہوتا، جس میں ملک بھرسے لوگ پہنچتے۔ رات کے سیشن میں تمام مکاتب فکرکے نامورعلماء کی تقاریر ہوتیں ۔ علامہ احسان الٰہی کی تقریر سب پر سبقت لے جاتی ۔

تحریک نظام مصطفیٰ

1977کی تحریک جو بھٹو دھاندلی کے خلاف چلائی گئی تھی، جسے بعد میں تحریک نظام مصطفی کانام دیدیا گیا۔ اس تحریک میں بھی علامہ صاحب صف اول کے قائدین میں شمار ہوتے تھے ۔ اگرچہ آپ قصورکے حلقہ این اے140سے قومی اتحاد کے امیدوارتھے لیکن ان کی خطابت کی ضرورت ہربڑے اجتماع میں ہوتی تھی ۔آپ جہاں بھی جاتے سامعین پر دیوانگی طاری کردیتے ۔اس دور میں علامہ صاحب کی دلیری ، بے خوفی اور شجاعت ایک مثال بنی ہوئی تھی 4اپریل کو لاہور پولیس نے لوہاری مسجدمیں علمائے دین پر تشدد کی جو شرمناک مظاہرہ کیا اس کے جواب میں علامہ صاحب نے جس شجاعت کے ساتھ جلوس کی قیادت کی اورپولیس کی لگائی گئی حدود کو توڑکر جلسے کو منطقی انجام تک پہنچایاوہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی بین دلیل تھی ۔چونکہ آپ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کا عمومی ہدف برسراقتدار طبقہ ہوتا تھا اس لیے آپ پر دن رات کیس بنائے جاتے۔ تب آپ نے ائیرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں سیاسی مجبوریوں کی خاطر شمولیت کرلی ۔انہیں فوراً تحریک استقلا ل کا سیکرٹری اطلاعات بنادیا گیا۔ مگر جب ائیرمارشل اصغرخان نے قومی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی توآپکو بھی تحریک استقلال چھوڑنا پڑی ۔

جماعت کی تنظیم نو

تحریک استقلال سے علیحدگی کے بعد آپ نے اپنی مذہبی جماعت کی شیرازہ بندی کا بیڑہ اٹھایا ۔ اورچند ہی سالوں میں جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نام سے ایک مؤثرتنظیم قائم کرلی ۔ اس کے ساتھ ساتھ علامہ احسان الٰہی نے تصنیف وتالیف کا کام بھی جاری رکھا ۔ فرق باطلہ کے رد میں آپ کی بیسیوں تصانیف براہ راست عربی زبان میں نہایت مدلل اور سلجھے انداز میں لکھی گئی تھیں ۔ دنیا میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں وہ تصانیف ان تک پہنچائی گئیں ۔ اس طرح مسلمانان عالم کو ان فتنہ گروں کا اصلی رخ دیکھنے کو ملا ورنہ بے شمار ایسے مسلمان تھے جو قادیانیوں کو مسلمان جماعت سمجھتے تھے ۔ آج بھی یہ فتنہ افریقی ممالک میں اسلام ہی کے نام سے اپنا ناپاک وجود برقرار رکھنے میں کوشاں ہے ۔ علامہ صاحب کی تصانیف نے ان کا اوردیگر باطل فرقوں کے حقیقی روپ پیش کیا۔

علامہ احسان الٰہی کی جماعت دراصل تبلیغ اسلام کی ایک اصلاحی تحریک تھی جسے آگے بڑھنے کیلئے ایک بڑے مرکز کی ضرورت تھی تب آپ نے لاہورکے ایک پوش اور مہنگے علاقے لارنس روڈ پرکئی کنال جگہ خرید لی ۔خود اپنی گرہ سے بھی خطیر رقم بطور عطیہ دی۔ جہاں فوری طور پر تبلیغی اور تنظیمی سرگرمیاں شروع کردیں ۔نوجوانوں کو اہل حدیث یوتھ فورس کے نام سے منظم کیا اور پورے ملک میں آپ کی آواز گونجنے لگ گئی ۔ علامہ صاحب نے اسی عرصے میں پورے ملک میں بڑے بڑے اجتماعات کرنے کا پروگرام بنایا۔ گوجرانوالہ، قصور میں لاکھوں کے اجتماعات منعقد ہوئے ۔ مارچ 1987ء میں چینیانوالی کی تاریخی مسجد میں 20 سالہ خطابت کے بعدآپ نے مناسب جانا کہ آئندہ جمعہ کا خطبہ بھی مرکز لارنس روڈ پر دیا جائے گا چنانچہ آپ نے اعلان کیا کہ اگلا جمعہ وہیں ہوگالیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ اگلے جمعہ سے پہلے ہی جان لیوا حادثہ پیش آ گیا۔اتفاق دیکھئے کہ ان سطور کا راقم بھی علامہ صاحب کی دعوت پر چینیانوالی مسجد میں موجود تھا۔ بعد میں علامہ صاحب نے گوجرانولہ شیرانوالہ باغ میں منعقدہ جلسہ میں ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔

23مارچ کا سانحہ

23 مارچ1987یوم پاکستان کے موقع پر ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جومینار پاکستان کے پہلو میں واقع آبادی قلعہ لچھمن سنگھ میں ایک ہولناک بم دھماکاہوا اور عالم اسلام کی یہ نامور شخصیت اپنے دس ساتھیوں سمیت خاک و خون میں نہا گئی۔یہ اتنا قبیح سانحہ تھا کہ پوری دنیا میں اس کا دکھ محسوس کیا گیا ۔کوئی چھوٹا بڑا انسان ایسا نہ تھا جس نے افسوس کا اظہار نہ کیا ہو ۔ چنددن میوہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد والی حرمین شریفین کی خصوصی ہدایات پر آپ کو علاج کیلئے ریاض لیجایا گیا۔ وہاں بھی کچھ دن زیرعلاج رہے لیکن بم کا زہر پورے جسم میں پھیل چکا تھا آخر وہ وقت اجل آگیا جو ہر ذی نفس کا مقدر ہے اور آپ نے داعی اجل کی دعوت پر لبیک کہی ۔ وفات کی خبر آنافاناً ساری دنیا میں پھیل گئی۔ ریاض میں جنازہ ہوا پھر وہاں سے آپ کے جسد خاکی کو مدینہ منورہ لایا گیا جہاں حرم مدنی میں آپ کی دوبارہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور جنت البقیع کے اس حصے میں سپردخاک کردیا گیایعنی امام مدینہ حضرت امام مالک ﷫ ساڑھے تیرہ سو سال سے آسودہ خاک ہیں۔ اور جہاں برسہابرس سے کسی کو دفن ہونے کی سعادت نہیں ملی۔

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

پاکستان میں جمعیت اہل حدیث کی طرف سے لاہور کے ناصرباغ میں نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیاپورے ملک سے سیاسی ومذہبی قائدین سمیت ہزاروں فرزندان توحیدنے شرکت کی ۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ آف گوجرانولہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور یہی اجتماع احتجاجی جلوس میں تبدیل ہوکر مال روڈکی طرف چل نکلا جسے چندشرپسندعناصر نے گورنر ہاؤس تک نہ پہنچنے دیا ۔ یوتھ فورس کے نوجوانوں پر حکومت نے کیس ڈالدیے یوں وہ کئی سال تک تاریخیں بھگتتے رہے ۔ علامہ صاحب کو جو سات آٹھ ماہ ملے انہوں نے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا ان سب میں ایک ہی پیغام دیا کہ آئندہ صدی اسلام کی صدی ہے ۔ شرک وخرافات کی بجائے توحید وسنت کی سمجھ بوجھ کی صدی ہے ۔ لوگ دین حق کو اس کے صحیح وژن سے جان پائیں گے ۔علامہ صاحب کی یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوئی اورقرآن وسنت کے اتباع کی عالمی تحریک کے اسباب پیدا ہوگئے۔دوسری طرف عالم عرب میں الشیخ محدث ناصر الدین الالبانی نے احادیث و روایات کی چھان پھٹک سے نوجوانان اسلام کے اندر اپنے دین کی صحیح صحیح روایات پرعمل کرنے کی لہر پیدا کر دی اوراس کا یہی پیغام ہے کہ

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ﴾

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحرپیدا

23؍ مارچ قلعہ لچھمن سنگھ میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں جہاں عالم اسلام میں دعوت اسلام پھیلنے کی راہ ہموار ہوئی وہاں علامہ احسان الٰہی ظہیر، علامہ یزدانی کی شہادت مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے درمیان یکجہتی کا سبب بھی بنی ۔ پورے ملک کے دینی اکابرین نے نہ صرف ان مرحومین کے جنازوں میں شرکت کی بلکہ مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم کو علامہ یزدانی کی تدفین کے وقت کامونکی کے قبرستان میں اتنا افسردہ اور غمزدہ دیکھا گیاکہ وہ شدت غم سے بات بھی نہ کر پارہے تھے ۔خاص طور پر علامہ احسان الہی ظہیر کا سفرآخرت بہت سی مسلکی رواداری کا سبب بنا ، جس نے بھی یہ سوچا کہ لاہور میں بم چلا ، ریاض میں علاج شروع ہوا ، وہیں انہوں نے جان جان آفرین کے سپرد کی لیکن نماز جنازہ مسجد نبوی میں ہوتی ہے اور تدفین جنت البقیع میں سیدنا امام مالک کے پہلو میں ہوتی ہے ، یہی تو عشق رسالت کی دلیل ہے ۔ اس لحاظ سے پوری تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی۔ اس پہلو غور کرنے والوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ توحید و سنت کے داعی ہی سچے عاشقان نبی ؐ میں ہیں اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے ۔ اس سے سوچ میں وسعت پیدا ہوئی اور کلمہ گو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کا موقع ملا ۔سچ ہے علامہ احسان الٰہی ظہیر کی زندگی بھی دین کی ترقی وترویج کیلئے وقف رہی اور ان کی موت بھی ایک جہان کیلئے نوید حیات ثابت ہوئی ۔

﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ ﴾

علامہ صاحب کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا وہ آج تک پر نہیں ہوا کیونکہ بقول مختار مسعود اس طرح کی شخصیتیں کسی قوم کو انعام اور تحفے کو طور پردی جاتی ہیں اورجب خدا ناراض ہوجائے تو اپنی نعمت واپس لے لیتا ہے ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی رہی

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

٭٭٭

تبصرہ کریں