شادی کی بیجا رسومات ، خواتین کے دم خم سے قائم- مولانا محمد عبد الحفیظ اسلامی

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک عزیز ہندوستان اور ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں ان دنوں مسلم معاشرے کے اندر کئی بے جا رسومات جنم لے گئی ہیں، خاص طور پر شادی بیاہ کے معاملات میں بے جا رسومات کا چلن عام سا ہو گیا ہے، دولت مند لوگ اپنے حساب سے اور درمیانی قسم کے لوگ اپنی طاقت کے مطابق بے جا رسومات اور اسراف میں مبتلا ہیں۔ غرض کہ مذکورہ دونوں طبقات اس لعنت میں ملوث ہیں جو کہ مسلم معاشرے کے لئے تباہی وبربادی کا باعث ہے اور یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ اس کی بنیاد ڈانے والی صرف خواتین ہی ہیں۔ اگر ہم منگنی سے لے کر پانچویں جمعگی تک کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ شادی کی بے جارسومات نے آج ہمارے مسلم معاشرے کو کس طرح مصیبت میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے ۔ گویالڑ کی کا کسی گھر میں تولد ہونا، قیامت کے برپا ہونے کے مصداق ہو گیا، یعنی قیامت سے پہلے قیامت ہو جاتی ہے۔

’’ہائے ہماری بد بختی۔‘‘

اسے ہم اپنی بدبختی اور اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی نہیں تو اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنی طرف سے نئی نئی اور بے جا رسومات کو اپنی زندگی میں ایجاد کر لیا اور اسے رواج دے لیا ہے جبکہ شعبہ حیات کے ہر موڑ پر کتاب وسنت ہمیں رہنمائی کرنے کے لئے موجود ہے۔ یعنی ان میں یہ تعلیمات موجود ہیں کہ انسان کو اخروی کامیابی کے علاوہ دنیاوی کامیابی کیلئے کس طرح کا عمل کرناضروری ہے۔ چاہے معاملہ شادی بیاہ کا ہو یا کسی اور دوسرے امور کی انجام دہی سے تعلق کا ، بحر حال یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے کہ ملت اسلامیہ اپنے پاس ایک بہترین تعلیم رکھتے ہوئے بھی اس پر توجہ نہیں کرتی اور نہ ہی اس کے مطابق اپنے کو سنوارنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

بن بیاہی لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ

سارے جہاں والوں کیلئے رحمت عالم محسن انسانیت بنا کر مبعوث کئے گئے ، سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ نے نکاح وشادی بیاہ کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ

’’اے لوگو تم نکاح کو آسان کرو تا کہ زنا مشکل ہو جائے‘‘

اور آپ کی تعلیمات میں یہ بھی ملتا ہے کہ وہ نکاح بہت ہی مبارک ہے جس میں مشقت کم سے کم ہو لیکن آج ہم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں نے نکاح کو جو کہ ایک عبادت ہے انتہائی مشقت میں مبتلا کر نیوالی چیز بنا لیا ہے اس وقت جو لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہیں ، ان کا سب سے بڑا مسئلہ جوڑے کی رقم اور معقول جہیز کی عدم فراہمی ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی لڑکی کا دلہن بننے کا خواب ادھورا ہی رہتا ہے۔

عورت کو عطا کیا جائے یا اس سے طلب کیا جائے؟

کتاب اللہ وسنت رسول میں ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ مسلم مرد اپنا مال خرچ کرتے ہوئے عورتوں کو اپنے عقد نکاح میں لائیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ہونے والی دلہن (بیوی) کیلئے حسب گنجائش کپڑے فراہم کرے اور اس کے رہنے اور کھانے کا بندوبست کرنے اور بطور مہر کے جو بھی قرارداد منظور ہوا سے خوش دلی سے ادا کرے کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔ اس لئے مرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے روپیہ خرچ کرے اور عورت کی ضروریات کی تکمیل کرے نا کہ الٹا اس سے روپیہ پیسہ بٹورے، اس طرح کا عمل صنف نازک پر ظلم اور اپنی مردانگی کو داغدار کرنا ہے۔ مرد کا درجہ عورت کے مقابل کیونکہ اسلام میں عورت کے مقابل مرد کا درجہ ایک گنا زیادہ رکھا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ﴾

’’ مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بناء پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر جو فضیلت بخشی ہے یہ دو وجہ سے ہے ۔

ایک تو اللہ تعالیٰ خود مرد کو ایک گنا زیادہ درجہ عطا فرمائے ہیں یہ تو اس کی مصلحت ہے اور وہ خود اس کی اچھائی سے خوب واقف ہے۔

دوسری وجہ یہ کہ مرد اپنا مال عورت پر خرچ کرتے ہیں، اسی سبب اللہ نے مرد کی حیثیت قوام کی رکھی ہے، قوام اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلائے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔‘‘

عورت ہی عورت کیلئے رکاوٹ

شادی بیاہ کے معاملہ میں بے جا اور غیر شرعی رسومات کو جاری کرتے ہوئے ہماری خواتین خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا رہی ہیں۔ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف طور پر ہمارے سامنے آتی ہے کہ جتنے بھی رسومات اس وقت چل رہے ہیں یہ ان ہی کے دم خم سے قائم ہیں، شادی بیاہ اور بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل کو صرف خواتین ہی حل کر سکتی ہیں شرط یہ ہے کہ

بے جا رسومات کے بوجھ کو معاشرے سے خارج کردیں اور ایام جاہلیت کی زنجیروں کو کاٹ پھینکیں۔ محسن انسانیت سیدنا محمد کریم مصطفی ﷺ کا یہ بھی ایک عظیم کارنامہ ہے کہ آپ نے لوگوں کے بوجھ کو ختم فرمایا، اور ایام جاہلیت کی تمام رسم رواج کی زنجیروں کو کاٹ پھینکا، جو لوگوں نے خود اپنی جہالت کی بناء پر اپنے اوپر لادے ہوئے تھے۔

شادی بیاہ ، عقد نکاح بہت آسان ہے خدا سے تقویٰ کرنے والی لڑکی کا انتخاب کیا جائے ، مہر کا تعین ہو، دن تاریخ مقرر کی جائے، گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو اور اللہ تبارک تعالیٰ نے جو کچھ بھی دیا ہے حسب حیثیت طعام ولیمہ کیا جائے ، مذکورہ اہم چیزوں کے علاوہ کوئی اور چیز ہمیں کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔

آج ہم نے مذکورہ بالا چیزوں کے علاوہ نئی نئی چیزوں کی ایجاد کر ڈالی ہے کہ لڑکی کو انگوٹھی چڑھانے کی رسم کے عنوان سے لڑکے کیلئے انگوٹھی یا گھڑی کے علاوہ لڑکی والوں سے دعوت طعام کا مطالبہ کرتے ہوئے لڑکی کے والدین کا لاکھوں روپیہ خرچ کرواتے ہیں ، پھر آگے ایک اور رسم ہوتی ہے اس کا عنوان دیا جاتا ہے ’’ پاؤں میز کا رسم‘‘ اس میں بھی لڑکی کے والدین کو مشقت میں مبتلا کرتے ہوئے پیسہ خرچ کروایا جاتا ہے اور جوڑے کی رسم کے نام سے تھیلی بھر روپیہ حاصل کیا جاتا ہے اور ان ہی ایام میں جہیز کے متعلق نئے نئے مطالبہ شروع کئے جاتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ نانی کی خواہش یہ ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ

فلاں صاحبہ ہمارے خاندان کی بڑی ہیں ان کی اس طرح کی خواہش ہے اور کبھی تو خود دولہے کی خواہش بتا کر استحصال کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہ فلاں شادی خانہ لیا جائے اور کھانے میں یہ یہ لوازمات ہوں؟ بیچارے لڑکی کے والدین لڑکے والوں کی اس ناجائز وجبراً خواہشات کی تکمیل کے لئے دوڑ دھوپ شروع کر دیتے ہیں۔

بہر حال سودی قرض و دیگر ذرائع سے اس کی پابجائی ہونے کو ہوتی ہے کہ ایک اور مطالبہ یہ آتا ہے کہ

سانچق ، مہندی کی رسم لے کر ہم آرہے ہیں لہٰذا 25 عورتوں کیلئے اہتمام ہو اور یہ حقیقت ہے کہ ان ساری باتوں کا تعلق خواتین سے ہے کہ انہوں نے اپنی جی کی خواہش کی بناء پر نئے نئے مطالبات کرتے ہوئے لڑکی والوں کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ

یہ ان کی تکمیل کریں۔ مگر افسوس اس بات پر ہے کہ خواتین اس طرح کی رسم و رواج کے دلدل میں خود ہی تو اُترتی چلی جارہی ہیں جس کا انہیں شعور نہیں ہے۔

مثلاً کوئی باپ اپنی لڑکی کیلئے اتنا روپیہ جب خرچ کرے گا تو لازمی طور پر جب اس کے لڑکے کی شادی کا موقع آئے تو اپنی ہونے والی بہو کے والدین سے وہ سب کچھ طلب کرے گا جس طرح خود اس کی اپنی بیٹی کو جہیز ، جوڑے کی رقم وغیرہ میں دے چکا تھا، غرض کہ اس طرح کا عمل رد عمل سارے مسلم معاشرے کو دیمک کی طرح کھائے جا رہا ہے۔

حاصل کلام

آج ہماری مسلم خواتین یہ عہد کر لیں کہ ہم شادی بیاہ کی بے جا رسومات کو ترک کردیں گے اور اگر اس پر عمل بھی شروع کر دیں تو ان شا اللہ تھوڑے عرصہ میں بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل حل ہو جائیں گے آج جو خواتین اپنی بیٹیوں کے معاملہ میں فکرمند ہیں ان کو ہرگز فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کیلئے عزم وحوصلہ کی ضرورت ہے کہ ساری خواتین یہ ارادہ کر لیں کہ جہیز، جوڑے کی رقم اور بے جا رسومات کا مطالبہ کرنے والوں کو ہم اپنی بیٹی نہیں دیں گے اس طرح خود بخود لالچی قسم کے لڑکے والوں کی ہمت شکنی ممکن ہو سکے گی اور یہ کا م صرف خواتین ہی سے ممکن ہے۔

٭٭٭

15 شعبان کو چراغاں کرنا

پندرہ شعبان کے موقع پر بعض لوگ گھروں، مسجدوں اور قبرستانوں میں چراغاں کرتے ہیں، یہ بھی اسلامی طریقے کے خلاف ہے اور ہندوؤں کے تہوار دیوالی کی نقل اور مشابہت ہے۔

مشہور حنفی عالم بدرالدین عینی﷫ نے لکھاہے کہ

’’ چراغاں کی رسم کا آغاز یحییٰ بن خالد برمکی سے ہوا ہے، جو اصلاً آتش پرست تھا، جب وہ اسلام لایا تو اپنے ساتھ یہ آگ اور چراغ کی روشنی بھی لایا، جو بعد میں مسلم سوسائٹی میں داخل ہوگئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کو مذہبی رنگ دے دیاگیا۔‘‘ (عمدة القاری:11؍117)

اسی طرح غیرمسلموں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے یہ رسم ہم نے اسلام میں داخل کرلی اور غیروں کی نقالی کرنے لگے، جب کہ غیروں کی نقل ومشابہت پر سخت وعید آئی ہے جس کو اوپر بیان کردیاگیا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں