شعائر حج کے آداب اور خدا پرستی کی نشانیاں۔محمد عبد الحفیظ اسلامی

اے لوگو جو ایمان لائے ہو،خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں،نہ ان لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم( کعبہ) کی طرف جارہے ہوں۔ ہاں احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو اور دیکھو ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ نہیں! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو،اس کی سزا بہت سخت ہے۔ (ترجمانی سورۃ مائدہ : 2)

قارئین کرام!

خدا پرستی کی نشانیوں کی تعظیم ہر مسلمان پر ضروری ہے فرمایا: لَا تُحِلُّو شَعَائِرَ اللّٰہِ ’’اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو۔‘‘

یہ لفظ دراصل شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت یعنی آنکھوں دیکھے جانے والی چیزیں اور محسوس کی جانے والی باتیں وغیرہ۔ اللہ تبارک تعالیٰ یہاں پر جن ’’شعائر‘‘ کی طرف اہل ایمان کو متوجہ فرما رہے ہیں یہ شعائر حج سے متعلق ہیں غرض کہ شعائر اللہ کے احترام کا عام حکم دینے کے بعد آگے کے فقرے میں چند خاص شعائر کا نام لے کر ارشاد ہورہا ہے: ﴿وَلَا الشَّهْرَ الْـحَرَام﴾ نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کرلو۔

سال کے کل مہینوں کی تعداد بارہ 12 ہے جن کے چار مہینے ادب والے ہیں:

1۔ ذوالقعدہ 2۔ ذی الحجہ

3۔ محرم 4۔رجب

جیسا کہ سورۃ توبہ کی آیت نمبر 63 میں ارشاد ہوا ہے فرمایا:

﴿مِنهَا أَربَعَةٌ حُرم﴾ اور ان میں چار مہینے حرام ہیں یعنی ادب کے ہیں۔

تفاسیر کے مطالعہ سے ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ مذکورہ 4 مہینوں کا ادب و احترام سیدنا ابراہیم کے زمانے سے ہی چلتے آرہا ہے اور اسلام کے ظہور میں آنے سے ایک عرصہ قبل تک بھی لوگ ان مہینوں کا لحاظ کرتے رہے اور ان مہینوں میں نہ جھگڑا کرتے اور نہ ہی خونریزیاں ہوا کرتیں لیکن عرب کی جاہلت جب اپنی انتہا کو پہنچ چکی تو لوگ ان ادب والے مہینوں کا پاس و خیال رکھنا چھوڑ دیئے اور خود ساختہ طریقے پر عمل کرتے ہوئے ’’نسی‘‘کی رسم نکالی گئی اور جب چاہتے حرمت والے مہینوں کی ترتیب میں الٹ پھیر کرتے اور اللہ نے جن مہینوں کو ادب والے مہینے قرار دیا ہے اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ایک قبیلہ دوسرے پر چڑھائی کرتا اور کسی چیز کا انتقام لینا ہوتا تو لے لیتا۔ اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ عرب کے ان جاہلانہ طرز عمل سے اہل ایمان کو بچانے کیلئے حکم فرمارہا ہے کہ ادب والے مہینوں کو بے حرمت نہ کرو۔

’’قربانی کے جانور اور ان کا حترام ‘‘

آیت مبارکہ میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خدا وندی کی علامت کے طور پر پٹہ پڑے ہوئے ہوں۔ قربانی کے جانوروں سے متعلق یہاں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔

﴿وَلا الهَدیَ﴾ ’’ھدی‘‘ ایسے جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کیلئے حاجی اپنے ساتھ حرم کو لے جاتے ہیں۔

﴿وَلَا القَلَائِدَ﴾ قلادہ کی جمع قلائد ہے، اس طرح قلادہ کے معنی پٹے کے ہوئے غرض کہ حرم مکہ میں قربان ہونے والے،نذر خداوندی کیلئے لیجائے جارہے ان جانوروں کو نہ روکو، اور نہ ہی ان کے ساتھ بے حرمتی کا معاملہ کرو جن کے گلوں میں ’’فی اللہ راہ اللہ ‘‘ کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں خلاصہ یہ کہ ان قربانی کے جانوروں کو کسی سے چھینا جائے اور نہ ہی حرم شریف تک پہنچنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔

اس سلسلہ میں مفسرین کرام نے جو تحریریں فرمائی ہیں اسے مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے۔

1۔’’شعائر اللہ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں‘‘۔

2۔ ’’یاد رکھنا چاہئے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اس زمانے میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکین عرب کے درمیان جنگ برپا تھی مکہ پر مشرکین قابض تھے، عرب کے ہر حصہ سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کیلئے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔

اس وقت حکم دیاگیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی، تمہارے ان کے درمیان جنگ ہی سہی،مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو،خدا کے دربار میں نذر کرنے کیلئے جو جانور یہ لئے جارہے ہوں ان پر ہاتھ نہ ڈالو کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بے حرمتی کا (تفہیم القرآن: 1؍934) علامہ ابن کثیر﷫ نے (رواہ اہل السْنن ) کے حوالے سے یوں تحریر فرمایا ہے کہ

نبی کریمﷺ جب حج کیلئے نکلے تو آپﷺ نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گذاری،صبح اپنی نو (9) بیویوں کے پاس گئے پھر غسل کر کے خوشبو ملی، اور 2 رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج و عمرہ کا احرام باندھا، قربانی کیلئے آپ ﷺ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اپنے ساتھ لئے تھے۔ جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے جو شخص خدا تعالیٰ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقوی والا ہے۔

بعض سلف کا فرمان ہے کہ تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا پلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔

سیدنا علی بن ابو طالب فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں دیکھ بھال کر خریدیں۔(تفسیر ابن کثیر: پارہ نمبر 6، ص: 36)

’’حج کیلئے بیت اللہ کی طرف چل پڑنے والوں کی بے حرمتی نہ کرو ۔‘‘

آیت مبارکہ میں چوتھا فرمان ربانی یوں ہوا کہ

﴿وَلَا آمِّینَ البَیتَ الحَرَامَ یَبتَغْونَ فَضلًا مِّن رَبِّھِم وَرِضوَانَا﴾

مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بھی بے حرمتی نہ کرو جو عظمت والے گھر کعبۃ اللہ شریف کے قصد سے جارہے ہیں اور جو یہ چاہتے ہیں کہ پروردگار کا فضل اور اس کی خوشنودی حاصل کریں۔ بے حرمتی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسافرین حج و عازمین حج کے اس سفر میں ان سے کسی بھی طرح کی کوئی مزاحمت نہ کرو اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تکلیف و ایذا انہیں پہنچاؤ۔ جیسا کہ یہ بات اوپر گذر چکی کہ شعائر اللہ کے یہ احکام ایسے حالات میں دیئے گئے ہیں جبکہ مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کی،حق و باطل کی محاز آرائی چل رہی تھی اور سارے عرب میں ماحول گرم تھا اور دوسری جانب مسلمانوں کو مواقع حاصل تھے کہ حج کو جانیو الے مشرک قبیلوں پر آسانی سے ہاتھ ڈال سکیں ظاہر بات ہے کہ اس سے شعائر اللہ کی توہین ہوتی ہے اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ اہل ایمان کو حکم فرماتے ہوئے توہین شعائر اللہ سے بچا رہے ہیں۔ یاد رہے یہاں پر مقصود مشرکین کی تعظیم نہیں ہے بلکہ یہ لوگ شعائر اللہ کی علامتوں کے ساتھ جو سفر کررہے ہیں اس کی اصل تعظیم مقصود ہے۔

مولانا شبیر احمد عثمانی﷫ اس سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا کہ ’’بظاہر یہ شان صرف مسلمانوں کی ہے یعنی جو مخلص مسلمان حج و عمرہ کیلئے جائیں ان کی تعظیم و احترام کرو اور ان کی راہ میں روڑے مت اٹکاو اور جو مشرکین حج بیت اللہ کیلئے آئے تھے۔ اگر وہ بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہوں کیونکہ وہ بھی اپنے زعم اور عقیدے کے موافق خدا کے فضل و قرب اور خوشنودی کے طالب ہوتے تھے، تو کہنا پڑے گا کہ یہ حکم اس وقت سے پہلے کا ہے جبکہ

﴿إِنَّمَا المْشرِکُونَ نَجَس فَلاَ یَقرَبُوا المَسجِدَ الحَرَامَ بَعدَ عَامِهِم هَذَا﴾ منادی کرائی گئی۔ (القرآن کریم، مطبوعہ سعودی عرب )

شکار کرنے کی اجازت

گذشتہ مضمون میں یہ بات آئی تھی کہ حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانعت ہے لہٰذا اس کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اب یہاں پر اس کی اجازت یہ فرماتے ہوئے دی جارہی ہے کہ ﴿وَ إِذَا حَلَلتُم فَاصْطَادُوا﴾ اور جب احرام سے نکلو تو شکار تم کرسکتے ہو۔ یعنی ’’احرام ‘‘ بھی منجملہ شعائر اللہ میں داخل ہے اس لئے حالت احرام میں شکار کرنے سے اہل ایمان کو روک دیا گیا۔ کیونکہ ایسی حالت میں شکار کرنا شعائر اللہ کی توہین ہے۔ لیکن اب اس کی اجازت دی جارہی ہے کہ (طواف افاضہ ) حج مکمل کرنے کے بعد تم چاہو تو شکار کرسکتے ہو (بشرطیکہ وہ شکار حرم میں نہ ہو)

(کتاب الحج ) کے صفحہ 923 پر یہ عبادت درج ہے کہ

’’یعنی جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کرو اور جس شخص نے طواف الافاضہ نہیں کیا اس کا پورا احرام نہیں کھلا۔ حوالہ (موطا امام مالک )

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس وقت تک کوئی چیز جسے آپ ﷺ نے احرام باندھنے کے بعد حرام فرمایا تھا اپنے اوپر حلال نہیں کی جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کرلیا۔ قربانی کے روز آپ نے طواف افاضہ کیا پھر آپ ﷺ نے ہر چیز حلال کرلی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں

آیت کریمہ کے مضمون میں چھٹا حکم یہ آیا ہے کہ ’’اور دیکھو ایک گروہ نے تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ یہاں پر اس گروہ کا نام نہیں لیا گیا بلکہ مسجد حرام کا راستہ مسلمانوں کیلئے روکنے والے مشرکین کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے تمہیں مسجد حرام (کعبۃ اللہ ) کو جانے سے روک کر شعائر اللہ کی توہین کی اور تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے لیکن (اے میرے پیارے بندو) تم ہر گز اس طرح کا کوئی عمل نہ کرو کیونکہ یہ شعائر اللہ کی بے حرمتی ہوگی۔

مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع﷫ نے چند تاریخی واقعات کو نقل کرنے کے بعد اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہوئے کہ

’’مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی کہ شعائر اللہ کی تعظیم تمہارا اپنا فرض ہے۔ کسی دشمن کے بغض و عداوت کی وجہ سے اس میں خلل ڈالنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ اشہر حرم میں قتل و قتال بھی جائز نہیں۔

قربانی کے جانوروں کو حرم تک جانے سے روکنا یا ان کا چھین لینا بھی جائز نہیں اور مشرکین احرام باندھ کر اپنے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و رضا حاصل کرنے کے قصد سے چلے ہیں (اگر چہ بوجہ کفران کا یہ خیال خام ہے) تاہم، شعائر اللہ کی حفاظت و احترام کا تقاضایہ ہے کہ ان سے کوئی مزاحمت نہ کی جائے نیز وہ لوگ جنہوں نے تمہیں عمرہ کرنے سے روکدیا تھا ان کے بغض و عداوت کا انتقام اس طرح لینا جائز نہیں کہ مسلمان ان کو مکہ میں داخل ہونے یا شعائر اللہ حج ادا کرنے سے روک دیں کیونکہ یہ ان کے ظلم کے بدلے میں ہماری طرف سے ظلم ہوجائے گا۔ جو اسلام میں روا نہیں۔(معارف القرآن: 3؍61۔71)

نیکی کے کام میں تعاون کرو، برے کاموں میں ساتھ نہ دو ۔

آیت مبارکہ کے اختتام پر ایک ایسی اصولی بات فرمائی گئی ہے جس میں انسان کی فلاح و کامیابی اور خود انسان کی اپنی خیر و بقاء امن و سلامتی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ اہل ایمان بندوں کو حکم ہورہا ہے کہ ہر اس نیکی کے کام میں تعاون کرو جو رضائے الٰہی اور فلاح آخرت تک پہنچاتی ہو،اور ہر اس برائی و زیادتی،گناہ اور معصیت سے بچو جس کے کرنے سے غضب الٰہی تم سے متعلق ہوتا ہے۔ اور یہ بھی تاکید فرمائی گئی کہ ’’وَاتَّقُوا ‘‘ اللہ سے ڈرو یعنی نا فرمانی کے انجام بد سے ڈرو اور اس بات کی بھی یاد دہانی کروائی گئی کہ اللہ تبارک تعالیٰ تمہارے احوال پر اچھی طرح نظر رکھے ہوئے ہیں،یعنی اگر اوپر بیان کردہ احکام پر عمل نہ کیا یا پھر اپنی نفسانی خواہش میں آکر حق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو یاد رکھنا میری طر ف سے دی جانے والی سزا بڑی سخت ہے۔

٭٭٭

سیدنا عوف اعرابی ﷫ نے کہا :

’’ایک آدمی امام حسن بصری ﷫ سے کہا کہ مجھے موت سے خوف ہے۔

فرمایا :

’’یہ اس لئے ہے کہ تم نے اپنا مال اپنے پاس محفوظ کر رکھا ہے۔ اگر تم اسے آگے بھیجتے تو اس کے پاس جانے سے تمہیں مسرت ہوتی۔‘‘

(المجالسہ وجواہر العلم : 1569)

تبصرہ کریں