سیرت النبی ﷺ اور علم نفسیات۔ حافظ محمد نعمان فاروقی

نبی کریم ﷺ کو اللہ نے جہاں بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا وہاں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپﷺ کمال درجے کے ماہر نفسیات تھے۔ نفسیات میں مہارت مختلف قسم کے معاملات میں بڑی اہمیت رکھتی ہے، مثلاً: ایک داعی ماہر نفسیات ہوگا تو اسے اندازہ ہوگا کہ سامعین کیا محسوس کر رہے ہیں، ان کے تاثرات کیا ہیں؟ ان کی ذہنی استعداد کیسی ہے؟ یہ کس فن سے منسلک لوگ ہیں۔ اسی طرح نفسیات میں مہارت اساتذہ کرام کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ محکمہ پولیس اور عدالت سے وابستہ لوگوں کے لیے نفسیات کا علم انتہائی مفید ہے۔

نفسیات کا علم دورِ جدید میں ایک باقاعدہ فن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے آغاز کے متعلق جاننا چاہیں تو اس بارے میں دوسری رائے نہیں ہو گی کہ اس کے موجد بھی معلم انسانیتﷺ ہیں۔ نبی کریمﷺ کی مبارک زندگی کا اس حیثیت سے مطالعہ کیا جائے تو یہ اقرار کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ آپ سے بڑھ کر کوئی ماہر نفسیات نہیں تھا۔ آپﷺ ایسے دور میں ایک کامل و اکمل ماہر نفسیات تھے جس دور میں لوگ نفسیات ہی سے نا آشنا تھے۔ سیرت کے اوراق میں ایک کامل و اکمل ماہر نفسیات ہونے کے چند ایک پہلو یہ ہیں:

چہرہ شناسی… چند واقعات

1۔ نماز میں مجھے کچھ یاد آگیا تھا: رسول اکرمﷺ چہرہ شناسی میں بڑے ماہر تھے۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کی اقتدا میں عصر کی نماز ادا کی جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھے اور اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ بعد ازاں واپس تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کے چہروں پر اپنے جلدی چلے جانے کی وجہ سے تعجب کا اظہار دیکھا تو آپﷺ نے فرمانے لگے:

«ذَکَرْتُ وَ أَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَکَرِهْتُ أَنْ یُّمْسِيَ أوْ یَبِیتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ»

 ’’نماز کے دوران ہی مجھے اپنے ہاں پڑا ہوا سونا یاد آ گیا تھا، لہٰذا میں نے ناپسند جانا کہ وہ ہمارے ہاں شام تک یا رات تک رہے، اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔‘‘ (صحیح بخارى: 1221)

اس سے واضح ہے کہ نبیﷺ چہروں کے تاثرات کو بخوبی سمجھتے تھے۔ کیونکہ اس دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ انھیں تعجب سا تھاکہ آپﷺ تو نماز کے بعد تشریف فرما ہوتے ہیں مگر آج جلدی کیوں تشریف لے گئے ہیں اور ان کا تعجب چہروں سے عیاں تھا۔ اور نبی کریمﷺ نے ان کے چہرے پڑھ لیے تھے۔

2۔ نبیﷺ نے صعب رضی اللہ عنہ کا چہرہ پھانپ لیا: سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ کی خدمت میں جنگلی جانور کا ہدیہ پیش کیا۔ اس وقت آپﷺ ابواء یا ودان جگہ پر تھے۔ آپ نے وہ ہدیہ صعب رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا لیکن جب آپﷺ نے ان کے چہرے کے تاثرات دیکھے تو فرمانے لگے: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّہُ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ» ’’ہم نے یہ ہدیہ محض اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم حالت احرام میں تھے۔‘‘ (صحیح بخارى: 1825)

3۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پریشانی کا عالم دیکھ لیا: ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اونٹنیوں کو بری طرح زخمی کر دیا گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال اپنی آنکھوں سے دیکھی اور بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے کہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ کے پاس سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں جس صورت حال کا سامنا کر چکا تھا، اسے آپﷺ نے میرے چہرے سے بھانپ لیا اور پوچھنے لگے کہ آپ کو کیا پریشانی لاحق ہے؟

میں نے عرض کی کہ آج جیسی صورتِ حال میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ (صحیح بخارى: 3091)

4۔ جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے بوجھل محسوس کیا: اس ضمن میں حسب ذیل واقعہ بھی درج کیا جا سکتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کی ایک اونٹنی تھی۔ اسے عضباء کہا جاتا تھا وہ کبھی پیچھے نہیں رہی تھی۔ ایک دفعہ ایک دیہاتی آیا۔ اس کے پاس جوان اونٹ تھا۔ (اس نے اس اونٹنی کے ساتھ مقابلہ کیا تو) وہ آگے گزر گیا۔ مسلمانوں پر یہ چیز بڑی گراں گزری۔ آپﷺ نے اس صورت حال کو بھانپ لیا اور فرمانے لگے:

«حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یَرْتَفِعَ شَيْئٌ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا وَضَعَهُ»

’’اللہ کا قانون ہے کہ اس دنیا کی جو بھی چیز عروج کو پہنچتی ہے اسے زوال بھی آتا ہے۔‘‘

(صحیح بخارى: 2872)

دیکھا آپ نے کہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صورت حال سے اندازہ لگا لیاکہ لوگ عضباء اونٹنی کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے پریشان ہیں اور پھر کیسے حوصلہ دیتے ہوئے ان کی ڈھارس بندھائی۔

5۔میرے ساتھ چلو!: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پیٹ پر پتھر باندھے بھوک کی شدت سے زمین پر لیٹ جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں ایک ایسے راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگوں کا گزر ہوتا تھا۔ اس دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے قرآن مجید کی ایک آیت کے متعلق ان سے سوال کیا۔ میں نے تو محض اس لیے سوال کیا تھاکہ وہ مجھے کھانا کھلائیں گے مگر وہ گزر گئے اور اس حوالے سے کچھ نہ کہا۔ بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے ان سے بھی میں نے ایک آیت کے متعلق پوچھا اور پوچھنے کا مقصد یہی تھاکہ وہ مجھے کھانا کھلائیں مگر وہ بھی بغیر کچھ کہے گزر گئے۔ اس کے بعد نبىﷺ   تشریف لائے تو آپ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے اور جو میرے دل میں تھا وہ آپ نے بھانپ لیا اور میرے چہرے کے تاثرات بھی پہچان گئے۔ معاً فرمانے لگے: «یَا أَبَاهِرٍّ» ’’ابوہریرہ!‘‘ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: «اِلْحَقْ» ’’آؤ میرے ساتھ چلو۔‘‘ اور آپﷺ چلنے لگے۔ میں آپ کے پیچھے ہو لیا۔ آپ گھر داخل ہوئے تو میں نے اندر جانے کی اجازت مانگی۔ آپ نے اجازت مرحمت فرمائی۔ آپ داخل ہوئے تو آپ نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ دیکھا تو آپ نے پوچھا: ’’یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟‘‘

(صحیح بخارى: 6452)

چہرہ شناسی اور سوال کرنے والے کے اسلوب ہی سے بات سمجھنا آپﷺ کے ماہر نفسیات ہونے کی ایک عمدہ دلیل ہے۔

بات سمجھانے کے لیے مناسب موقع کا انتخاب

آپﷺ کی یہ بھی عادت مبارکہ تھی کہ آپ لوگوں کے ذہنوں میں بات بٹھانے کیلئے مناسب موقع کا انتخاب فرماتے۔ نفسیات یہی بتاتی ہے کہ مناسب موقع کا انتخاب اور انداز بات کو ذہن نشین کر دیتا ہے اور ایسی بات پُراثر ہوتی ہے۔

1۔اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے: ایک غزوے کے موقع پر قیدی خواتین میں سے ایک خاتون کا دودھ پیتا بچہ گم ہو گیا۔ وہ بڑی بے قراری سے اپنے بچے کو کبھی ادھر کبھی ادھر تلاش کر رہی تھی۔ اچانک اسے بچہ مل گیا۔ اس نے اسے سینے سے لگا لیا۔ آپﷺ اور صحابہ کرام  رضي الله عنهم اس کی اس بے قراری کو دیکھ رہے تھے۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نبیﷺ نے صحابہ کو اہم راز بتایا، چنانچہ فرمایا:  «أَتَرَوْنَ هٰذِہِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ»  ’’تمھارا کیا خیال ہے کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟‘‘

صحابہ رضي الله عنهم نے عرض کی: اللہ کے قسم! نہیں جب تک اس میں طاقت ہو گی یہ کبھی ایسا نہیں ہونے دے گی۔ نبیﷺ نے فرمایا:

 «لَلّٰہُ أَرْحَمُ بِعِبَادِہِ مِنْ هٰذِہِ بِوَلَدِهَا»

 ’’یقینا اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

(صحیح بخارى: 5653، صحیح مسلم: 2754)

اس عملی صورت کے ذریعے سے اللہ کی شفقت اور مہربانی کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانا لوگوں کی نفسیات سمجھنے کی ایک واضح دلیل ہے۔ یہ مثال ہمارے سامنے بہت سے پہلو نمایاں کرتی ہے۔ وہ اس طرح کہ ماں کی محبت بچے سے اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب بچہ دودھ پیتا ہو اور یہ محبت و شفقت بہت بڑھ جاتی ہے جب بچہ گم ہو کر دوبارہ ملے اور خصوصاً جب حالت جنگ میں نظروں سے اوجھل ہو جائے اور اس کے بعد ملے۔ آپﷺ نے ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مناسب موقع سے فائدہ اٹھایا اور صحابہ کرام﷢ کے سامنے اللہ کی اپنے بندوں سے محبت، شفقت اور مہربانی کو واضح کیا۔

2۔جیسے تم چودھویں کا چاند دیکھ رہے ہو: ایک رات آپﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے۔ آسمان پر چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے جلوہ نما تھا۔ (گویا چاند اور ستاروں کا دلکش منظر آسمان پر تھا اور ایک چاند اپنے ستاروں کے ساتھ زمین پر جلوہ گر تھا) نبیﷺ یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضي الله عنهم سے فرمانے لگے: ’’بے شک تم بغیر کسی رکاوٹ کے روز قیامت اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کرو گے بالکل اس طرح جیسے تم ابھی یہ چودھویں کا چاند دیکھ رہے ہو۔‘‘  (صحیح بخارى: 554)

اپنی پسندیدہ چیزوں سے لگاؤ کی نفسیات

انسان کی نفسیات میں یہ چیز شامل ہے کہ اسے اپنی پسندیدہ چیز اور خصوصاً ایسی چیز جو اپنی ملکیت میں بھی ہو اور پسند بھی ہو تو اسے وہ چیز ازحد بھاتی ہے۔ وہ اس کا خیال رکھتا ہے اور اس سے ایک لگاؤ سا رکھتا ہے۔ بڑوں کی نسبت بچوں میں یہ خوبی زیادہ پائی جاتی ہے۔ بچے اپنے کھلونوں کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ ہی سلاتے ہیں… عہد نبوی میں بھی ایک نوعمر صحابی ابوعمیر نے ایک چڑیا پال رکھی تھی جس سے وہ کھیلتے تھے۔ ایک دن وہ چڑیا مر گئی۔ آپﷺ انھیں ان الفاظ سے تسلی دینے لگے:

«یَا أَبَا عُمَیْرٍ! مَا فَعَلَ النُّغَیْرَ» ’’ابوعمیر! چڑیا کا کیا بنا؟‘‘ (صحیح بخارى: 6203)

تسلی دینے کے الفاظ بھی بہت تھے اور انداز بھی بہت مگر سوالیہ انداز اختیار کرکے اسے تسلی دینا اور ساتھ ساتھ خوش طبعی کرنا نفسیات میں مہارت کی دلیل ہے۔ غالباً آپﷺ نے ابوعمیر رضی اللہ عنہ  پر اداسی کے اثرات دیکھ کر یہ انداز اختیار کیا ہو گا۔

مہم جوئی کے لیے ہم خیال لوگوں کا انتخاب

انسان کی نفسیات بتاتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ چلانے اور کسی قسم کی مہم سر کرنے کے لیے ہم خیال اور ہم نوالہ و پیالہ لوگوں کا ہونا بہت ہی سودمند ہوتا ہے۔ سوچ بھی ملتی ہو۔ فکر بھی ایک جیسی ہو اور سرگرمیاں بھی ملتی جلتی ہوں تو مشکل سے مشکل مہمات بھی آسانی سے سر ہو جایا کرتی ہیں۔ ہمارے پیغمبرﷺ بھی ذمہ داریاں سونپتے وقت انسانی نفسیات کے اس پہلو کو مدنظر رکھا کرتے تھے۔ ڈھونڈنے سے کئی ایک مثالیں سامنے آ سکتی ہیں مگر سردست ہم ایسے دو دوستوں کا ذکر کرتے ہیں جنھیں آپﷺ نے کئی مواقع پر اکٹھے بھیجا۔ یہ تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ۔ شاید جرأت و شجاعت اور بہادری و جوانمردی کی صفات نے ان دونوں کو گہرا دوست بنا دیا تھا۔ ان کی باہمی دوستی کی دلیل تو وہ حدیث ہے جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری صورت حال یہ تھی کہ مذی کی شکل میں گاڑا پانی نکلتا رہتا تھا لیکن آپﷺ سے سوال کرنے سے میں شرم محسوس کرتا تھا، اس لیے میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آپﷺ سے سوال کریں، لہٰذا انھوں نے سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ شرم گاہ کو دھویا جائے اور وضو کر لیا جائے۔

(صحیح بخارى: 178، 132)

اس حدیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی دوستی کا پتہ یوں چلتا ہے کہ شرم کی و جہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے سوال نہیں کیا مگر راز داری سے کام لیتے ہوئے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ گویا یہ ان کے راز دان تھے۔ نبی کریمﷺ کو غالباً اس کا اندازہ تھا اس لیے آپﷺ نے انھیں متعدد مہمات کے لیے اکٹھے بھیجا۔

غزوۂ احد کی تیاری ہو رہی ہے۔ نبیﷺ اپنی جان نثار سپاہ کو مورچہ زن کر رہے ہیں۔ فوج کے اہم ترین حصے میمنہ اور میسرہ پر دو سالاروں کو مقرر کرنا ہے۔ اس کے لیے آپﷺ میمنہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور میسرہ پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو مقرر فرماتے ہیں۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے خط کی خبر ملی۔ اس خط میں انھوں نے قریش کو رسول اللہﷺ کی مکہ کی طرف پیش قدمی سے مطلع کرنا چاہا تھا۔ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کے ذریعے یہ خط روانہ کیا تھا۔ وہ خط لے کر روانہ ہو چکی تھی۔ آپﷺ کی نگاہیں ایسے افراد کو تلاش کر رہی تھیں جو راستے ہی سے خط واپس لے آئیں۔ بالآخر آپﷺکی نگاہ انتخاب سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ پر پڑی۔ اور آپﷺ نے انھیں روانہ کر دیا اور ساتھ ہی فرمایا: «اِنْطَلِقُوا حَتّٰی تَاتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ بِھَا ظَعِینَ مَعَھَا کِتَابٌ فَخُذُوہُ مِنْھَا» ’’تم اب نکل پڑو۔ جب تم روضۂ خاخ پہنچو گے تو وہاں تمھیں پالکی میں سوار ایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس خط ہوگا، وہ تم نے اس سے لینا ہے۔‘‘

یہ تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھوڑوں کو سرپٹ دوڑاتے گئے اور روضہ خاخ پہنچے تو وہاں سوار عورت موجود تھی۔ اس سے ملے اور بالآخر خط اس سے نکلوا لائے۔ وہ خط اس نے بالوں میں چھپا رکھا تھا۔ (صحیح بخارى: 4890)

باپ اور بیٹے کے درمیان نہ بیٹھا جائے

باپ اور بیٹے کاتعلق بہت گہرا اور فریفتگی پر مبنی ہوتا ہے اور اگر بیٹا چھوٹی عمر میں ہو تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ابو کے ساتھ ساتھ رہے۔ نبی کریمﷺ نے آداب مجلس بیان کرتے ہوئے فرمایا:  «لَا یَجْلِسُ الرَّجُلُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَابْنِهِ فِي الْمَجْلِسِ»  ’’کوئی شخص کسی آدمی اور اس کے بیٹے کے درمیان مجلس میں نہ بیٹھے۔‘‘ (المعجم الأوسط:  4؍358؛  و السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث: 3556)

آپﷺ نے غلام اور اس کے بیٹے کو ایک ہی جگہ ہبہ یا فروخت کرنے کی ترغیب دی ہے (صحیح مسلم، حدیث: 1371(474)) تاکہ وہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں اور ایک دوسرے سے دوری کی اذیت تو کم از کم نہ جھیلیں۔

اولاد انسان کی کمزوری ہے

شاید آپ نے کبھی یہ جائزہ لیا ہو کہ آپ کو اپنی نسبت اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کی زیادہ خوشی ہوتی ہے، یعنی ایک شخص آپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ایک وہ شخص ہے جو آپ کی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو آپ کے ہاں دوسرے کی اہمیت زیادہ ہو گی۔ اولاد انسان کی کمزوری ہے۔ اس کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا دیکھ کر انسان بہت خوش ہوتا ہے۔

رسول اکرمﷺ نفسیات کے اس پہلو سے بھی آگاہ تھے۔ آپﷺ مجلس میں ہوتے، آپ کے لیے نیا پھل لایا جاتا تو آپ مدینہ کے لیے وہاں کے پھلوں کے لیے اور ناپ تول کے پیمانوں کے لیے برکت کی دعا فرماتے، پھر دیکھتے کہ ان میں سے وہاں موجود بچوں میں سے چھوٹی عمر کا کون ہے اور وہ پھل اسے تھما دیتے۔ (صحیح مسلم: 1371)

اس سے ایک تو انسان ترجیحات کے چکر سے بچ جاتا ہے کہ کسے دے اور کسے نہ دے۔ اور اگر خود کھا لے تو بھی معیوب سا لگتا ہے کہ لوگوں کے سامنے اکیلا کھا رہا ہے۔ لیکن اگر وہاں موجود سب سے چھوٹے بچے کو دے دیا جائے تو بڑوں کو اعتراض بھی نہیں رہتا اور اس بچے کے رشتے دار اپنی جگہ خوش ہوتے رہتے ہیں۔ ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ کوئی چیز بڑوں میں سے کسی کو دے دی جائے تو وہاں موجود بچوں کو یہ بات بہت محسوس ہوتی ہے۔ لوگوں کی نفسیات سمجھ کر اس کے مطابق طرزِ عمل اختیار کرنا کسی ماہر نفسیات ہی کا کام ہو سکتا ہے، اسی لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نفسیات کے علم کی داغ بیل بھی حضورﷺ ہی نے ڈالی۔

سائل کی نفسیات کو سمجھنا

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آپﷺ سے ایک ہی نوعیت کا سوال دو قسم کے فرد کرتے تو آپ انھیں علیحدہ علیحدہ جواب دیتے، مثلاً: آپﷺ سے متعدد بار صدقے کے متعلق سوال ہوا۔ آپ نے مختلف جواب ارشاد فرمائے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے سوال کیا: ’’کون سا صدقہ اجر میں بڑا ہے؟‘‘ فرمایا: «أَنْ تَصَدَّقَ وَ أَنْتَ صَحِیحٌ شَحِیحٌ، تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنٰي» ’’تم اس حال میں صدقہ کرو کہ تندرست و توانا بھی ہو اور مال کی حرص بھی ہو، تمھیں کنگھال ہونے کا خدشہ بھی ہو اور مالدار ہونے کی امید بھی ہو۔‘‘

(صحیح بخارى: 1419)

اسی طرح کا سوال کسی اور نے کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا:  «خِدْمَةُ عَبْدٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ أَوْ ظِلُّ فُسْطَاطٍ أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ»  ’’اللہ کے راستے میں غلام کی خدمت پیش کرنا یا خیمے کے ذریعے سائے کا اہتمام کرنا یا اللہ تعالیٰ کے راستے میں نر جانور کو پیش کرنا تاکہ (زیادہ سواریوں کا انتظام ہو سکے)۔‘‘ (جامع ترمذى: 1626)

اسی طرح ایک تیسرے شخص نے آپﷺ سے کسی اور موقع پر یہی سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: «جَھْدُ الْمُقِلِّ» ’’جس کے پاس تھوڑا سا ہے مگر وہ کوشش کرکے خرچ کرتا ہے۔‘‘

(صحیح سنن أبى داود، حدیث: 1196)

آپﷺ سائلین کی نفسیات اور ضروریات کو پیش نظر رکھ کر جواب ارشاد فرماتے۔

شک میں مبتلا ہونے کی نفسیات

نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان بہت جلد شک میں پڑتا ہے۔ خصوصاً جب معاملہ مخالف جنس سے متعلق ہو تو خواہ مخواہ غلط خیالات اور شکوک وشبہات جنم لینے لگتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نفسیات کے اس پہلو سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ حسب ذیل واقعہ اس کی گواہی دیتا ہے۔

نبیﷺ مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھے تھے۔ اس دوران آپﷺ کی زوجہ صفیہ بنت حیی  آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں۔ کچھ دیر باتیں کرتی رہیں۔ واپس جانے لگیں تو آپ ان کے ساتھ مسجد کے دروازے تک چلے آئے۔ یہاں سے انصار کے دو آدمیوں کا گزر ہوا۔ ان دونوں نے آپﷺ کو سلام کیا اور تیزی سے چلنے لگے۔ اس دوران آپ نے فرمایا: «تَعَالَیَا، إِنَّمَا صَفِیَّةُ بِنْتُ حُیَيٍّ»  ’’ادھر آؤ! یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔‘‘

وہ دونوں عرض کرنے لگے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! (بھلا ہم کیسے شک کر سکتے ہیں؟) آپﷺ نے فرمایا:  «إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنَ الْإنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَ إِنِّي خَشِیتُ أَنْ یُلْقِيَ فِي أَنْفُسِکُمَا شَیْئًا»  ’’بے شک شیطان انسان کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور مجھے خدشہ ہوا کہ شیطان تمھارے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے۔‘‘  (صحیح بخارى: 2038)

سٹیٹس اور عہدے کی چاہت

انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے ہمیشہ معیار اور عہدے کی جستجو میں رہتا ہے۔ خصوصاً جب کوئی اعزاز یا عہدہ ملا ہو تو اس سے دستبردار ہونے کو بہت مشکل تصور کرتا ہے۔ ہاں! اسے اس کا کوئی متبادل اعزاز مل جائے تو پھر اس قدر محسوس نہیں ہوتا۔ ایک ایسی ہی مثال دیکھیے۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ، جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، قریش کی قیادت کر رہے تھے۔ نبیﷺنے مکہ کی طرف اس طرح پیش قدمی فرمائی کہ انھیں کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کو لے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپﷺ مرالظہران میں فروکش تھے۔ آپﷺ نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ اگلے دن صبح سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ ہی ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو کفار قریش کی سرداری سے ہاتھ دھونے پڑے۔ نبی کریمﷺ کو اس بات کا احساس تھا۔ آپﷺ نے اس کی تلافی کی کوشش کرتے ہوئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مشورے سے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو ایک اہم ترین اعزاز سے نوازتے ہوئے حکم جاری فرما دیا: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْیَانَ فَھُوَ اٰمِنٌ» ’’جو کوئی ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی حویلی میں چلا جائے گا وہ بھی امن میں رہے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 1780)

نبیﷺ کی طرف سے محض ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے لیے یہ اعزاز نبیﷺ کی علم نفسیات میں مہارتِ تامہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہی وہ اقدامات تھے کہ ایمان ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے دل میں گھر کر گیا اور وہ ایک عظیم اسلامی شخصیت کے طو پر ابھرے اور انکے لخت جگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سنہری تاریخ میں بڑا نام کمایا اور کارہائے نمایاں انجام دیے۔

قابل حرمت چیزوں کا احترام

انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز کو وہ قابل احترام سمجھتا ہے تو اس کے خلاف کسی قسم کا کوئی اقدام برداشت نہیں کرتا۔ فوراً احتجاج کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار کر لیتا ہے جو قدیم ورثہ چلا آ رہا ہو لوگ اسے اسی حالت میں دیکھنے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کی نفسیات ہے۔ نبی اکرمﷺ نفسیات کے اس پہلو سے خوب واقف تھے۔ آیئے! ایک واقعے کی روشنی میں یہ جانتے ہیں۔ نبیﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

 «یَا عَائِشَةُ! لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِیثُ عَھْدٍ بِجَاھِلِیَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَیْتِ فَھُدِمَ، فَأَدْخَلْتُ فِیهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ، وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَیْنِ، بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاھِیمَ» ’’اے عائشہ! اگر تمھاری قوم نے عہد جاہلیت کو نیا نیا خیر باد نہ کہا ہوتا تو میں بیت اللہ کے انہدام کا حکم دیتا اور اس کا جو حصہ بغیر تعمیر کے رکھا گیا تھا اسے بھی اندر شامل کرتا اور اسے زمین کے برابر لے آتا اور اس کے مشرقی اور مغربی جانب دو دروازے رکھتا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر اسے استوار کرتا۔‘‘

(صحیح بخارى: 1586)

نبی کریمﷺ کعبۃ اللہ کی بہتری کے لیے یہ سارے اقدامات کرنا چاہتے تھے کہ عام لوگوں کی رسائی ہو جائے۔ اور اکثریت مسلمان ہو چکی تھی مگر آپﷺ نے ایسا نہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے خطاب کیا اور پھر اقدام نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔ یہ دلائل واضح کر رہے ہیں کہ نبیﷺ کفار کی طرف سے نہیں بلکہ مسلمانوں کی طرف سے خدشات کا اظہار فرما رہے تھے۔ حالانکہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، خواہ وہ نئے نئے ہی مسلمان ہوئے ہوں، ان کی طرف سے ایسا کوئی تصور نہیں تھاکہ وہ آپﷺ کے اقدام کے خلاف کوئی تصور رکھنے کی جرأت کریں گے۔ دراصل آپﷺ ان کے دل میں اٹھنے والے کسی ایسے تصور کو بھی جگہ نہیں دینا چاہتے تھے کیونکہ قابل احترام مقامات یا شخصیات کے متعلق لوگوں کی نفسیات کچھ اور ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺ اعلیٰ پائے کے ماہر نفسیات تھے۔ اس بارے میں آپﷺ کی راہ نمائیاں امت کے لیے بہترین سرمایہ ہیں۔ ہمیں بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

تبصرہ کریں