سیرت النبی ﷺ کے چند امتیازی پہلو – حافظ محمد نعمان فاروقی

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو جامع الحسنات بنایا تھا۔ جس طرح آپﷺ کو بہت سے اوصاف ومکارم حاصل ہیں، اسی طرح آپﷺ کی سیرت بھی بہت سے امتیازات کی حامل ہے۔ چند امتیازاتِ سیرت حسب ذیل ہیں:

1۔ ایک کامل بشر کی سیرت

دیگر مذاہب کے لوگ اپنے مذاہب کے بانیوں حتی کہ انبیاء ورُسل کو بحیثیت انسان پیش نہیں کرتے۔ کسی مذہب والوں نے انہیں اللہ کا بیٹا قرار دیا، کسی نے انہیں معبود بنا دیا اور کسی مذہب کے پیروکاروں نے انہیں انسان سے ہٹ کر فوق البشر یعنی کوئی اور اعلیٰ مخلوق قرار دیا۔ ان کے پیش نظر یہ بات ہے کہ کوئی انسان انسان ہو کر انسانوں کے لیے نمونہ کیسے بن سکتا ہے؟ قرآن مجید میں ان کی ذہنیت کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے:

﴿فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ﴾

’’ تو (ثمود) کہنے لگے: کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک بشر کی پیروی کریں بلاشبہ تب تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔‘‘ (القمر: 54: 24)

اسی طرح وہ یہ بھی بعید اَزقیاس قرار دیتے  تھے کہ کوئی  شخص انسان ہو کر انسانوں کی راہ نمائی کرے۔ ارشاد ِ ربانی ہے:

﴿فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوا﴾

’’تو ان (کافروں) نے کہا: کیا انسان ہی ہماری راہنمائی کریں گے، چنانچہ انہوں نے انکار کر دیا اور روگردانی کی۔‘‘ (التغابن: 64: 6)

مگر نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے  ایک اجمل واکمل بشر کی حیثیت سے موجود ہے۔ اس میں الوہیت کا پر تو ہے نہ کسی اور جنس سے تخلیق کا کوئی شائبہ۔

کامل انسان ہونے کی حیثیت سے انسانوں کے سامنے نمونۂ عمل  رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ مادۂ تخلیق بھی ایک اور جنس بھی ایک ، تاکہ اُسوہ کی پیروی کرنے میں دشواری نہ ہو۔ ایسا کوئی عذر ہی سامنے نہ آئے کہ ان کی تو جنس ہی کوئی اور ہے، بھلا ہم کیسے عمل پیرا ہو سکتے ہیں؟ ہاں! بعض گمراہ مسلمانوں نے دوسرے مذاہب کی دیکھا دیکھی سیرت کا یہ امتیازی پہلو کالعدم کرنے کی کوشش کی ہے۔ افسوس کہ وہ اپنی ضد پر بلا دلیل قائم بھی ہیں۔ قرآن مجید تو واضح اعلان کرتا ہے:مگر نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے  ایک اجمل واکمل بشر کی حیثیت سے موجود ہے۔ اس میں الوہیت کا پر تو ہے نہ کسی اور جنس سے تخلیق کا کوئی شائبہ۔

﴿وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّـهُ بَشَرًا رَّسُولًا﴾

’’لوگو کو ایمان لانے سے اس نظریے نے روکے رکھا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے انسان کو رسول بنا کر بھیجا۔‘‘ (بنی اسرائیل 17: 94)

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب بھی ارشاد فرمایا:

﴿قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا﴾

’’ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے مطمئن ہو کر چلتے پھرتے تو ہم ضرور آسمان سے ان پر فرشتہ ہی رسول بھیجتے۔‘‘ (بنی اسرائیل 17:  95)

2۔ قیامت تک کے لیے راہنما سیرت

کئی قائدین، بانیان مذاہب اور پیش روؤں نے غیر معمولی امور انجام دے کر بڑے  نام پیدا کیے اور وہ اپنے اپنے دور میں قائد اور ریفارمز قرار پائے اور سابقہ انبیائے کرام اور رُسل عظام ﷩ بھی اپنے اپنے عہد میں لوگوں  کی راہنمائی کرتے رہے۔  بعد کے اَدوار میں  وہ تاریخ کا حصہ بنتے چلے گئے۔ اب ان کے کردار تاریخ کے صفحات میں تو کسی حد تک محفوظ ہیں مگر وہ دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں نہ قیامت تک آنے والے حالات کے بارے میں کوئی تسلی بخش راہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن آپﷺ کی سیرت کا یہ طرّۂ امتیاز ہے کہ جیسے آپﷺ کی سیرت ماضی کی گزرگاہوں میں روشنی فراہم کرتی تھی اس سے کہیں زیادہ  دورِ حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرتی ہے اور مستقبل کے امکانی حالات میں بھی راہ نمائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ محض حبّ رسولﷺ کی بنیاد پر خوش عقیدگی کا دعویٰ نہیں  بلکہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ اس دور میں سیرت پر اس اس قدر کام ہوا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اس تحقیقی کام کی زیادہ تر نوعیت سیرت کو موجودہ دور سے ہم آہنگ کرنے کی ہے۔ لکھنے والے لکھتے چلے جا رہے ہیں اور سیرت کے نت نئے پہلو اجاگر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سیرت کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں  ایک قدرے طویل اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش ہے:

مسجد ضرار کا نبی اکرمﷺ کی سیرت مبارکہ سے بس اتنا تعلق ہے کہ یہ منافقین نے بنائی تھی اور آپﷺ نے اس کے انہدام کا حکم صادر فرمایا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صلابی نے سیرت النبیﷺ میں دورِ حاضر کے مسلمانوں کےلیے بڑے عمدہ نکات پیش کیے  ہیں۔

 ملاحظہ کیجیے:

1۔امام زمخشری﷫ کہتے ہیں کہ ’’جو بھی مسجد فخروغرور، دکھلاوے، ریاکاری یا رضائے الٰہی کی نیت کے علاوہ کسی اور رغرض سے بنائی جائے یا حرام مال سے تعمیر کی جائے تو اس کا حکم مسجد ضرار والا ہی ہے۔‘‘  (تفسی الزمخشری: 2/ 310)

  عبد الکریم زیدان امام زمخشری﷫ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

’’کیا اس مسجد کو مسجد ضرار کی طرح گرا دیا جائے گا؟ میں یہ نہیں سمجھتا کہ ایسا ہو  ہو بلکہ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد تقویٰ اور اخلاص کی بنیاد پر نہیں بنائی گئی۔‘‘ (المستفاد من قصص القرآن لعبد الکریم زیدان: 1/ 304)

2۔ امام قرطبی﷫ کہتے ہیں کہ

 ’’ہمارے علماء (شافعیہ) کا کہنا ہے کہ ہر وہ مسجد جو ایذا رسانی، ریاکاری اور دکھلاوے کے لیے بنائی  گئی وہ مسجد ضرار کے حکم میں ہے اور اس میں نماز اَدا کرنا درست نہیں۔ ‘‘ (تفسیر القرطبی: 8؍254)

سید قُطب رقمطراز ہیں کہ

’’ اسلام اور مسلمانوں  کے خلاف بنائی جانے والی مسجد ضرار جیسی مسجدیں مختلف ادوار میں بنتی چلی آئی ہیں۔ بظاہر تو یہ اسلام کی سربلندی کے لیے بنائی جاتی ہیں مگر درپردہ اسلام کی بیخ کنی اور اس کی شکل بگاڑنا مقصود ہوتا ہے اور اس کے لیے اسلام کے نام کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں اور ایسے علمی  مباحثے ہوتے ہیں جو اسلام کو مٹانے کے درپے لوگوں کو سکون فراہم کرتے ہیں اور انہیں باور کراتے رہتے ہیں کہ انہیں اسلام سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ (تفسیر فی ظلال القرآن: 3؍1710، 1711)

مسجد ضرار جیسے دیگر مقامات کا حکم

عبد الکریم زیدان کہتے ہیں کہ ’’ہر وہ چیز جسے بظاہر شرعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہو مگر بنانے والے غیر شرعی مقصد پورا کرنے چاہتے ہوں تو وہ بھی مسجد ضرار کے حکم میں ہے۔ اس قاعدے کے متعلق ہم اختصار سے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس کا ظاہر تو شرعی طور پر درست ہو مگر اس کو اختیار کرنے والے، مؤمنوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہوں تو وہ مسجد ضرار ہی کے حکم میں شامل ہے۔‘‘

 (المستفاد من قصص القرآن لعبد الکریم زیدان: ص 2؍506)

مسلم ممالک میں مساجد ضرار کا وجود اور حکم

ہمیشہ سے منافقین، ملحدین، عیسائی اور کفار فاتحین عبادت کے نام پر ایسے معبد تعمیر کرتے چلے آئے ہیں جن کا  مقصد اسلام پر طعن وتشنیع اور مسلمانوں کے عقائد وعبادات میں شبہات پیدا کرنا ہوتا ہے، اسی طرح تعلیم وتربیت کے نام پر سکول بنا کر بچوں کے ذہن میں زہر اُنڈیلنا، ثقافت کے نام پر ادبی مجالس قائم کر کے اخلاقی اقدار کو متزلزل کرنا اور ہسپتال وغیرہ بنا کر انسانی خدمت کے نام پر بیماروں اور کمزوروں پر اثر انداز ہو کر انہیں دین سے پھیرنا مقصود ہوتا ہے۔ افریقی ممالک میں وہ یہ تجربہ کر کے اثر انداز ہو چکے ہیں۔ (السیرۃ النبویۃ لابی شیبہ:2؍508)

مسجد ضرار اسلامی معاشرے میں ہونے والا ایسا حادثہ اور واقعہ نہیں جو ہوا اور مٹ گیا بلکہ یہ دائمی سوچ اور فلسفے کا نام ہے جس کے لیے گہرے مقاصد سامنے رکھ کر زبردست منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور مؤثر ترین وسائل استعمال میں لائے جاتے ہیں اور پھر انہیں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق  کیے گئے دیگر منصوبہ جات سے ہم آہنگ کر کے اسلام میں شکوک وشبہات  پیدا کیے جاتے ہیں اور نہایت قبیح صورت حال بنا کر  پیش  کی جاتی ہے تاکہ لوگ دین سے متنفر ہو جائیں اور ایسے کاموں میں مشغول ہوں جس سے ان کا اخروی  کھر تباہ وبرباد ہو جائے۔ ( الصراح مع الصلیبین لابی فارس: ص 182)

مسجد ضرار کے نام سے شاید بہت سے لوگ واقف بھی نہ ہوں لیکن دیکھا آپ نے کہ اس دور کے سیرت نگاروں اور ارباب تحقیق نے کیسے کیسے مسائل ثابت کیے ہیں۔ یہ تو ایک اقتباس ہے۔ اتنا کچھ لکھ کر بھی تقریباً ہر سیرت نگار یہی کہتا ہے کہ کچھ نہیں لکھ سکا:

تیرے اوصاف کا ایک باب بھی پورا نہ ہوا

اسی طرح موجودہ دور میں بین الاقوامی تعلقات اور معاہدوں کو بڑی اہمیت حاصل  ہے۔ سیرت مبارکہ میں اس حوالے سے بہت سے معاہدے اور وثائق موجود ہیں اور اپنے اندر بہت سی حکمتیں اور راہ نمائیاں لیے ہوئے ہیں اور کسی بھی نوعیت کی پیش آنے ولی صورت میں راہ نمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر صبحی﷾ کی کتاب شائع ہوئی ہے جس میں مؤلف نے 400 کے قریب وثائق، معاہدات اور ریاستی احکامات کا شمار کیا ہے  اور ان کی استنادی صحت اور سقم کے متعلق بھی وضاحت کی ہے یہ تو ممکن ہے کسی قوم یا  شخصیت نے معاہدوں کی صورت میں راہ نمائیاں فراہم کی ہوں لیکن معاہداتِ نبویہ کی جامعیت اور حکمت کو وہ نہیں پا سکتے۔

3۔ استنادی حیثیت کی حامل سیرت

جب سے دنیا بنی ہے اس میں بڑے بڑے باکمال لوگ ہر فیلڈ میں گزرے ہیں اور آئندہ بھی گزرتے رہیں گے۔ ان کی زندگیاں سینۂ تاریخ میں محفوظ بھی ہیں مگر ان کی سوانح لکھنے والوں کی اکثریت کا کسی کو علم نہیں۔ اگر علم ہے بھی تو تعارف نہیں، تعارف ہے تو جو معلومات کتاب میں درج ہیں ان کی کوئی سند نہیں کہ یہ معلومات مؤلف یا سوانح نگار تک کیسے پہنچیں۔

انسائیکلوپیڈیاز کے اس دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر متعدد نامور شخصیات کا ذکر ہوتا ہے مگر ان کے متعلق معلومات تک رسائی کا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ایک معتبر نام ہے۔ راقم نے جستجو  کی، فیلڈ کے لوگوں کو ساتھ لیا کہ ہم یہ جان سکیں کہ اس انسائیکلوپیڈیا میں معلومات مؤلف تک کیسے پہنچی ہیں مگر مجھے حیرت ہوئی کہ سکندر اعظم جس کا تعلق 356 قبل مسیح سے ہے اس  کےبارے میں معلومات جن کتب میں شائع ہوئیں، جن کا اس میں حوالہ دیا گیا ہے، ان میں سے کوئی 1960ء میں چھپی ہے تو کوئی 1961ء میں، کوئی 1973ء میں چھپی  ہے اور کوئی 1974ء میں، کوئی 1984ء میں چھپی ہے تو کوئی1991ء میں۔ دو ہزار سال کے اس خلا کو محض ایک کتاب میں آ جانے ہی سے پُر کر دیا گیا۔

یہ ہے مغرب کے ہاں تحقیق کا معیار اور تنقید ان پر کرتے ہیں جنہوں نے ایک ایک لفظ کے لیے علیحدہ علیحدہ اسناد ذکر کر کے ایک ایک چیز کی وضاحت کی ہے۔ مثال کے طور پر صحیح مسلم میں ایک سند کے ساتھ امام مسلم﷫نے نبی کریمﷺ کی نماز کسوف (چاند گرہن کی نماز)  کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے بعد مختصر خطبے کا ذکر کیا۔ اس خطبے کے یہ الفاظ  :  «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللهِ» ’’بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ اور اس حدیث کے آخر میں آپﷺ کے یہ الفاظ بیان کیے:  «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ» ’’خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث: (1) 901)

اب امام مسلم﷫ کو ایک دوسری سند  سے یہ الفاظ میسر آئے:  «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللهِ» اور   «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ»  تو امام مسلم﷫ نے باقاعدہ سند ذکر کر کے ان الفاظ کو علیحدہ ذکر کیا ہے۔ یہ محدثین کرام کی تحقیق کا معیار اور سنت کی حفاظت کا اہتمام۔

اُمتِ مسلمہ کو اللہ نے ’ سند‘ کے جس اعزاز سے نوازا ہے اس پر جتنا بھی شکر اَدا کریں کم ہے۔ ’سند‘ کے جس ذریعے سے پیغمبرﷺ کے شب وروز محفوظ ہیں دنیا کے کسی قائد حتیٰ کہ کسی پیغمبر کی سیرت بھی اس انداز سے محفوظ نہیں۔ کسی کے سوانح میں یہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا  کہ جو معلومات میں درج کر رہا ہوں ان میں سے یہ بات مجھے میرے فلاں استاد نے بتائی اور میرے استاد نے فلاں سے سنا تھا اور انہوں نے فلاں شخص سے سنا تھا کہ فلاں شخص اس وقت سوتا تھا۔ جبکہ سیرت طیبہ لکھنے والوں کے اپنے حالات بھی محفوظ ہیں اور ان کی کتابوں میں آنے والے تمام راویوں کے حالات، اخلاق وکردار اور ان کے متعلق مطلوبہ معلومات بھی محفوظ ہیں اور  ان کے اساتذہ وتلامذہ کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ اللہ نے اپنے پیغمبرﷺ کی سیرت محفوظ کرنے والوں کو دنیا میں یہ صلہ دیا کہ ان کے نام اور حالات بھی  تاریخ نے محفوظ کر لیے اور بعد  والے انہیں اچھےلفظوں میں یاد کر کے  ان کے لیے دعاؤں کے نذرانے پیش کرنے لگے۔ سیرت مبارکہ کا یہ وہ منفرد اعزاز  ہے جو دنیا کے کسی شخص کےحصے میں نہیں آیا۔

4۔ جامع سیرت

رسول اکرمﷺ کی سیرت کو یہ اعزاز وامتیاز بھی حاصل ہے کہ یہ اپنے اندر انتہائی لطافت،باریک بینی اور جامعیت رکھتی ہے۔ سیرت مبارکہ کو ایسی لطافت سے محفوظ کیا گیا ہے کہ تاریخ عالم میں اتنی لطافت سے کسی اور کی سیرت جمع کرنے کا تصور بھی محال ہے۔ نبی کریمﷺ کی صرف سنتیں ہی نہیں بلکہ معمولات بھی، آپﷺ کی صفات ہی نہیں بلکہ ادائیں بھی، چہرہ مبارک ہی نہیں بلکہ اس کے تاثرات بھی، آپﷺ کی خوابیدگی ہی نہیں بلکہ سوتے میں نکلنے والی آواز بھی، آپ کا چلنا ہی نہیں بلکہ اس رفتار کی تمام کیفیات بھی غرضیکہ ایک ایک اَدا تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔

سیرت محفوظ کرنے میں لطافت کا اندازہ لگائیے۔ ایک دفعہ آپﷺ مسواک کر رہے تھے، اس دوران آپﷺ کا اوپر والا لب مبارک اوپر اٹھا ہوا تھا۔  ( صحیح بخاری: 6923)

یہ بات بھی حدیث میں محفوظ ہے۔ محدثین کرام اور سیرت نگاروں اور راویانِ حدیث نے تو اس لکیر کو بھی محفوظ کیا ہے جب آپ حالتِ مرض میں سیدنا عباس ﷜ اورسیدنا علی ﷜ کے کندھوں کا سہارا لے  کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ﷞ کے حجرے  کی طرف جا رہے تھے اور زمین پر گھسیٹتے ہوئے قدم مبارک نے لکیر کھینچ دی تھی۔  (صحیح بخاری: 4442)

صحابہ کرام﷢ نے آپ ﷺ کے سر اور داڑھی مبارک میں موجود سفید بال شمار کر رکھے تھے کہ وہ 20  سےکم تھے۔ باریکی کا اس حد تک خیال رکھا کہ ان بالوں میں سے ایک بال سرخی مائل تھا اور سرخ ہونے کی وجہ بھی  حدیث میں موجود ہے کہ وہ خوشبو کی  وجہ سے سرخ ہو گیا تھا۔ (صحیح بخاری: 3547)

بعض اوقات تعجب یا انتباہ کے طور پر زبانِ نبوت سے الفاظ جاری ہو جاتے تھے۔ تاریخ نے انہیں بھی اپنے صفحات میں مقام دیا۔ سیدنا بلال﷜ نے ایک دفعہ اعلیٰ کھجوریں آپﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: یہ کہاں سے لائے؟ کہنے لگے: 2 صاع (5 کلو) گھٹیا کجھوریں دے کر ایک صاع اچھی کھجوریں آپ کےلیے لی ہیں۔ فرمایا: «أوه ، أوه» ’’اوہو، اوہو، اے یہی تو سود ہے، یہی توحقیقی سود ہے۔ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ (صحیح بخاری: 2312)

غرضیکہ سیرت رسول اکرمﷺ کےایک ایک پہلو کو بڑی باریکی سے جمع کیا گیا ہے۔

اس بات کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا کہ کسی اور کی زندگی کے کسی بھی پہلو یا موقع کو اس قدر باریکی سے جمع نہیں کیا گیا لیکن یہ دعویٰ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ جس مبارک ہستی کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو از حد لطافت، جامعیت اور باریکی سے تاریخ میں محفوظ کیا گیا ہے اور ایسے دور میں محفوظ کیا گیا ہے کہ جب انسانیت تحقیق و تفتیش اور طباعت واشاعت کے اصول وضوابط سے بالکل ناآشنا تھی، وہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔

5۔ عالمگیر سیرت

سیرتِ طیبہ کا یہ بھی یگانہ اعزاز ہے کہ  آپ ﷺ کی  سیرتِ مبارکہ ایسی عالمگیر ہے کہ زندگی کے تمام پہلوؤں اور معاملات کا احاطہ کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ سیرتِ مبارکہ میں اس کے لیے راہ نمائی نہیں ہے۔ تاجر ہو کہ مزدور، افسر ہو کہ ملازم، استاد ہو کہ شاگرد، جج ہو کہ وکیل، حکمران ہو کہ سپہ سالار، پھر کسی شخص کی جو بھی حیثیت ہو، مثلاً وہ باپ ہو، دادا ہو، نانا ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو ہر ایک کے لیے سیرتِ طیبہ میں مکمل  اسباق چمک رہے ہیں۔دوسروں کی زندگیوں  کا جائزہ لیں حتیٰ کہ سابقہ انبیائے کرام﷩ کی مبارک زندگیوں کا مطالعہ کریں اور مطالعہ بھی ان پر ایمان لانے والوں کی کتابوں سے کریں تو یہی  حقیقت واضح ہوتی ہے کہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو شامل اور تمام میدانوں  کا احاطہ کرنے والی کوئی سیرت ہے تو وہ صرف سیرت امام الانبیاء ﷺ ہے۔

مثلاً کوئی  عیسائی سیدنا عیسیٰ﷤ کی مبارک زندگی سے اپنی ازدواجی زندگی کے متعلق کوئی راہ نمائی لینا چاہے تو میں اپنے علم کی حد تک  کہتا ہوں کہ اسے ایسی روشنی میسر نہیں آ سکے گی جو سیرت رسولﷺ  میں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ   سیدنا عیسیٰ﷤ کی شادی ہی نہیں ہوئی تھی۔ کوئی عیسائی حکمران سیدنا عیسیٰ﷤ کی زندگی سے اپنے حکمرانی کے اصول  ومبادیات تلاش کرنا چاہے تو شاید اس کے لیے ایسا ممکن نہ ہو کیونکہ انہوں نے بحیثیت حکمران زندگی کے دن بسر نہیں کیے اور اس حوالے سے کوئی خاطرہ خواہ اصول وضع نہیں فرمائے۔

دراصل انسانیت نے عروج اور ترقی کی جو منازل طے کرنا تھیں اور جس جس معاملے میں راہ نمائی کی ضرورت پیش آنی تھی، اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے  اللہ نے ایک ہی ہستی کو پیدا فرمایا اور تمام اعلیٰ صفات وحسنات کا مجموعہ بنایا۔ وہ ہیں اللہ کے آخری  رسول محمد مصطفیٰ ﷺ ، انسانیت چاند تو کجا فلک کو بھی چھو لے تب بھی اسے سیرتِ رسول  اکرمﷺ   ہی سے راہ نمائی کی روشنی ملتی رہے گی۔

6۔ متعدد افراد، شخصیات، اقوام اور قبائل سے تعلقات کی حامل سیرت

دوسروں کی زندگیوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ محض وہی شخصیت ہی ہے جس کی زندکی کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ جیسے دوسروں کو اس کی زندگی میں کوئی دخل نہ ہو، دوسروں سے کوئی وسیع تعلقات نہ ہوں ور دوسروں سے کوئی معاملات نہ ہوں لیکن نبی کریم ﷺ کی مبارک  زندگی کا زیادہ تر حصہ دوسروں پر مشتمل  ہے۔ ایک طرف جلیل القدر صحابہ کرام﷢ ہیں تو دوسری طرف یہودی ونصاریٰ اور کفارومشرکین، ایک طرف اہل بیت اطہار ﷢ ہیں تو دوسری طرف  غیر  رشتے دار، ایک طرف سردار ہیں تو دوسری طرف  معاشرے کے نادار افراد، ایک طرف شہری زندگی سے منسلک لوگ ہیں تو دوسری طرف بالکل دیہاتی، ایک طرف تاجر ہیں تو دوسری طرف زمیندار، ایک طرف خواتین ہیں تو دوسری طرف بچے۔ نبی کی ﷺ سیرت میں ایسی یک رخی نہیں کہ پوری زندگی محض چند حواریوں کے ساتھ ہی گزر رہی ہے یا ایک ہی طرح کے بنی اسرائیل  کو سمجھاتے  عمر بیت رہی ہے اور وہ بھی ایسے جو ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ بلکہ مختلف  احوال، مقامات اور حیثیات کے لوگوں کا سیرتِ طیبہ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ یہ وہ امتیاز ہے جو شاید ہی کسی اور عظیم ہستی کو حاصل ہوا ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر طبقے کا ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے کہ رسول ﷺ تو بس ہمارے ہیں۔

7۔ معجزات ہی نہیں بلکہ دلائل پر مبنی سیرت

سیرت النبی ﷺ کا یہ بھی امتیاز ہے  کہ اس کا زیادہ تر انحصار خرق عادت اُمور یا معجزات پر مبنی نہیں بلکہ دلائل پر ہے۔ آپ ﷺ نے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی کاوشیں بروئے کار لا کر نصرتِ الٰہی سے اپنے اہداف ومقاصد حاصل کیے۔ یہ کوئی ایسا سلسلہ نہیں تھا کہ لوگ آپ کے معجزات دیکھ کر ایمان لائے ہوں بلکہ معجزہ طلب کرنے والے تو وہ تھے جو ایمان لانا ہی نہیں چاہتے تھے۔یہاں تو جو ایمان لایا وہ علی وجہ البصیرت لایا۔

سیدنا موسیٰ ﷤ پر ایمان لانے والے جادوگر معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے۔ سیدنا عیسیٰ ﷤ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت ان کے معجزوں  سے متاثر تھی۔ معجزوں کا ظہور آپ ﷺ سے بھی ہوا۔ معجزاتِ نبوی رسولِ اکرم ﷺ کی عزت وتکریم کا باعث بنے اور دشمنانِ رسول کا منہ بند کرنے کے لیے انتہائی مؤثر اور مسکت ثابت ہوئے۔ اسی طرح وہ اہل ایمان کے لیے  ایمان میں اضافے کا باعث بنے لیکن ہٹ دھرم قوم کےلیے ایمان  لانے کا باعث نہ بن سکے۔ میرے ناقص علم کے مطابق اکا دکا واقعات کے علاوہ شاید ہی کوئی شخص ہو جو معجزات دیکھ کر آپ ﷺ پر ایمان لایا ہو۔

اللہ کی طرف سے کفار کے مطالبے پر کہ ہم پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری جاتی، یہی جواب آیا:

﴿أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ ﴾ (العنکبوت 29: 50)

’’کیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟‘‘

نبی کریمﷺ کی سیرت  کے اس امتیازی پہلو میں امت مسلمہ کے لیے یہ درس ہے کہ نبیﷺ نے  جو دعوت پھیلائی  وہ اپنے اعلیٰ کردار واخلاق  اور دلائل کی روشنی سے پھیلائی نہ کہ خرق عادت امور کے اظہار سے کیونکہ ایسے معجزات تو انبیائے کرام﷩  کے   ساتھ ہی چلے گئے جبکہ نبیﷺ  کا اعلیٰ کردار اور روشن دلائل آج بھی موجود ہیں۔ انہیں اپنا کر اور دلائل دوسروں تک پہنچا کر مسلمان اب بھی دعوت کا کام علی وجہ البصیرت انجام دے سکتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

«مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدِ اُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

’’ انبیائے کرام﷩ میں سے ہر نبی  کو اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں دیں جن کی بدولت لوگ ایمان لے آیا کرتے تھے اور مجھے تو ’وحی‘ ہی عطا کی گی۔ اسے اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کیا۔ تو مجھے امید ہے کہ تمام انبیائے کرام ﷩ کی نسبت میرے پیروکاروں کی تعداد زیادہ ہو گی۔ (صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب کیف نزل الوحی: 4981)

8۔ متعدد احوال کی حامل سیرت

نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آپ کو بہت نشیب وفراز سے گزرنا پڑا اور کئی قسم کے حالات سے آپ گزرے اور ہر حال میں کامیابی نے آپ ﷺ کے قدم چومے۔ حالت یتیمی میں ولادت سے لے کر جزیرہ نمائے عرب کے کامیاب حکمران بننے تک کے مراحل میں کبھی آپﷺ بکریاں چراتے نظر آتے ہیں، کبھی تاجر کی حیثیت سے ، کبھی دشمن کی حراست میں، کبھی ہجرت کی راہوں میں، کبھی ازواج کے ساتھ، کبھی میدان کار زار میں زرہ پہنے ہوئے، کبھی اصحاب کے ساتھ، کبھی چولہا نہیں جلتا، کہیں جھولیاں بھر بھر کے خرچ کر رہے ہیں، کبھی دوسروں کے قرض کا ذمہ لے رہے ہیں اور کبھی اپنی زرہ راشن کے عوض گروی رکھی ہوئی ہے۔

9۔ عملی سیرت

سیرت النبیﷺ کے اس عنوان کے دو پہلو ہیں:

1۔  یہ ایسی سیرت ہے کہ جس پر عمل کرنا  ممکن ہے، فطرت کے عین مطابق ہے۔ جس میں دنیا وآخرت دونوں میں توازن ہے۔ بعض راہبر ایسے بھی ہو گزرے ہیں یا موجود ہوں گے، جن کے بیان کردہ قوانین تحریر میں آ سکتے ہیں مگر عملی صورت میں ناممکن ہیں۔ کہیں بے جا  ریاضتیں ہیں اور کہیں دنیا سے لاتعلقی، کہیں اپنی شکل وصورت اور لباس وپوشاک میں ایسی پابندیاں ہیں کہ ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہیں ۔

2۔ سیرت کے عملی پہلو  کی دوسری صورت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جو اخلاقی اور قانونی ضابطے مقرر کیے ، آپﷺ کا عمل بھی اس کے عین مطابق تھا۔ کچھ عالمی شخصیات نےاصول وضابطے بنائے، اقوال پھیلائے، اخلاقیات کی تعلیم دی، اشعار کہے، فکری تربیت کی مگر ان کی اپنی زندگی میں اگر انہی کے بنائے ضابطوں کو تلاش کیا جائے توشاید ہی وہ نظر آئیں۔  اگر ایک پہلو سے بہتر  نظر بھی آ جائیں تو ممکن ہے دوسرے پہلو سے کمی ہو، جیسے ہمار ے قومی ہیرو اور شعراء ہوتے ہیں مگر سیرت مبارکہ میں ایسی کسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ آپﷺ نے جو ضابطہ مقرر کیا، اس پر آپ کا 100 فیصد عمل نظر آتا ہے۔ اگر سچائی کی تعلیم دی تو خود راست بازی کی اعلیٰ مثال تھے، عہد  پورا کرنے کی تعلیم دی تو دشمنوں سے بھی عہد نبھا کر دکھائے، دوسروں کو گھر والوں سے حسن سلوک کی تعلیم دی تو خود بھی بہترین نمونہ بن کر دکھایا اور حقیقت میں کامل نظر آئے۔

صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا أَبَدًا كَثِيْرًا كَثِيْرًا

٭٭٭

تبصرہ کریں