سیدنا عثمان بن عفان فضائل اور شہادت۔ حافظ زبیر بن خالد مرجالوی

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا﴾ (سورۃ الفتح : 18)

مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ سیدنا عثمان بن عفان کو رب تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔ جب سے آپ نے اسلام قبول کیا تب سے لے کر تادم وفات ساری کی ساری زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔ آپ نیکی کے کاموں میں بہت آگے ہوتے ۔ کبھی کوئی اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی تو سیدنا عثمان صف اول میں کھڑے ہوتے ،معاملہ جہاد کا ہو تب بھی عثمان دیگر مجاہدین کے ساتھ کھڑے ہوتے ۔ وہ ہی عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے مسجد نبوی کی توسیع کی ، جامع القرآن بھی آپ ہی ہیں، آپ ہی جنگوں میں جانے والے مجاہدین کے لیے زادِ راہ تیار کرتے ،مسلمانوں کے لیے مدینہ میں میٹھے پانی کا انتظام بھی آپ ہی نے فرمایا۔ آپ ایسے حیادار تھے کہ اس دنیا نے آپ جیسا حیا دار کوئی نہیں دیکھا۔18ذوالحجہ کو آپ کی شہادت ہوئی۔

سید نا عثمان کے فضائل و امتیازات

سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر کے بعد سید نا عثمان کا نمبر :

سید نا عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں:

كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ، لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ

’’ہم نبیﷺکے عہد میں سیدنا ابو بکر صدیق کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے، پھر سیدنا عمر فاروق کو پھر سیدنا عثمان کو ، اس کے بعد نبی ﷺ کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ (صحيح بخاری: 3697)

پہاڑ تھم جا! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں:

سید نا عثمان کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ آپ کو اپنی زندگی ہی میں رسول اللہ ﷺنے شہید کے لقب سے یاد کیا ہے، اور یہ پشین گوئی بھی تھی کہ آپ کو شہید کیا جائے گا، سید نا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺحراء پہاڑ پر چڑھے توہ حرکت کرنے لگا ؛ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

اسْكُنْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقُ، أَوْ شَهِيدٌ

’’احد تھم جاؤ تمہارے اوپر ایک نبی ،ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم: 50)

عثمان ( ) حیادار آدمی ہے:

ام المومنین سیدہ عائشہ اور سیدنا عثمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی ، اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے، اس وقت آپ ﷺ کی سیدہ عائشہ کی چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ آپ نے سیدنا ابو بکر کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی، سید نا ابو بکر نے اپنی بات کی، پھر چلے گئے ، ان کے بعد سید نا عمر نے اجازت طلب کی ، آپ نے اجازت دے دی۔ وہ بھی جس کام کے لئے آئے تھے، وہ کیا، پھر چلے گئے۔ سیدنا عثمان نے کہا: پھر میں نے آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ سے کہا:

اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ

’’اپنے کپڑے اپنے اوپرا کھٹے کرلو۔‘‘

پھر میں جس کام کے لئے آیا تھا وہ کیا اور واپس آ گیا تو سیدہ عائشہ نے پوچھا:

يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟

’’اللہ کے رسول(ﷺ)! کیا وجہ ہے میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابو بکر اور عمر کے لئے اس طرح ہڑ بڑا کے اٹھے ہوں جس طرح عثمان کے لئے اٹھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٍّ، وَإِنِّي خَشِيتُ، إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ» ’’عثمان انتہائی حیادار ہیں ، مجھے ڈر تھا کہ میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکیں گے۔‘‘(صحیح بخاری: 2402)

عثمان سے تو فرشتے بھی حیا کرتے ہیں:

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، را نیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے کہ اتنے میں سیدنا ابو بکر ہ نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر سیدنا عمر ﷺ نے اجازت چاہی تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر سیدنا عثمان نے اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور کپڑے برابر کر لئے ۔ پھر وہ آئے اور باتیں کیں۔ (راوی محمد کہتا ہے کہ میں نہیں کہتا کہ تینوں کا آنا ایک ہی دن ہوا ) جب وہچلے گئے تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ

دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ

’’سید نا ابوبکر آئے تو آپ ﷺنے کچھ خیال نہ کیا، پھر سید نا عمر آئے تو بھی آپ ﷺ نے کچھ خیال نہ کیا ، پھر سیدنا عثمان آئے تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لئے ۔

آپ ﷺ نے فرمایا: أَلَا أَسْتَجِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟‘‘ (صحیح مسلم: 2401)

واہ قربان جاؤں عثمان تیری عظمت پر ! تیرے جیسا حیادار تجھ سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سیدنا عثمان کی فضیلت کے لیے شاید یہی روایت کافی ہو کہ عثمان سے ہمارے نبی ﷺحیا کرتے ہیں اوراللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ عثمان حیادار ہیں:

سیدنا انس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهُ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءٌ عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلُّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں ، اور سب سے زیادہ فرائض ( میراث تقسیم ) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں ،سنو! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے، اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 154)

کاتب وحی ہونے کا اعزاز :

سیدنا عثمان نبی کریم ﷺ کے وہ وفادار صحابی تھے، جو کسی موقع پر پیچھے نہیں رہے، اگر اسلام کو مالی ضرورت پڑی تو سیدنا عثمان صف اول میں نظر آئے ، اگر جان کی ضرورت پڑی تو سیدنا عثمان حاضر نظر آئے ۔ اسی طرح شروع اسلام میں جب قرآن مجید نازل ہو رہا تھا ، بہت تھوڑے لوگ تھے جو لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے، سیدنا عثمان بھی ان چند لوگوں میں شامل تھے جو لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی یہ صلاحیت بھی دین کے لیے وقف کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کو لکھنا شروع کیا اور سورۃ الحجرات سے لے کر آخری سورت تک سب سے پہلے سیدنا عثمان نے اپنے ہاتھ سے لکھا۔

امیر المومنین سیدنا عثمان کا جب محاصرہ کر لیا گیا، کئی دن تک آپ کا محاصرہ جاری رہا، آپ زیادہ تر قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، جب آپ کو شہید کرنے کے لیے ایک بد بخت گھر کے اندر داخل ہوا، آپ کے ہاتھ کے اوپر وار کیا، آپ کے ہاتھ کا کچھ حصہ کٹ گیا تو عثمان فرمانے لگے:

أَمَّا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوَّلُ كَفِّ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ

’’سن لے ! اللہ کی قسم ! یہی وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے مفصل سورتوں ( سورۃ الحجرات سےآخر تک) قرآن مجید کو لکھا تھا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 37690)

بئر رومہ کی خریداری پر جنت کی بشارت:

رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں پینے کے لیے پانی کی قلت تھی۔ پورے شہر میں میٹھے پانی کا ایک ہی کنواں تھا جسے بئر رومہ کہا جاتا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ يَبْتَاعُ بِثْرَ رُومَةً غَفَرَ اللهُ لَهُ

’’جو آدمی بئر رومہ خریدے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔‘‘ (سنن كبرى از بیہقی : 11935)

ابوعبد الرحمن السلمی فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور ان باغیوں سے فرمایا:

أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، وَلَا أَنْشُدُ إِلَّا أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : مَنْ حَفَرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ فَحَفَرْتُهَا

’’میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اور یہ قسم صرف نبی کریمﷺ کے اصحاب کو دیتا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا جس نے رومہ کا کنواں کھودا ( یعنی اسے خرید کر وقف کیا تو ) اس کے لیے جنت ہے۔ تو میں نے اسے کھودا تھا ( یعنی اسے وقف کیا تھا)۔‘‘(صحیح بخاری: 2778)

مسجد نبوی کی توسیع کا اعزاز

مدینہ منورہ آنے کے بعد رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام کے لیے مسجد کا ہونا بے حد ضروری تھا۔ ابتدائی طور پر تھوڑی سی زمین مسجد کے لیے خریدی گئی، اسے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر تعمیر کیا، صحابہ و ہیں نماز پڑھتے ، وہیں وعظ و ارشاد ہوتے ، ایوان عدل بھی وہی تھا، مجاہدین کے دستے بھی یہیں سے روانہ ہوتے ، فوجی تربیت کا مرکز بھی یہی مسجد تھی ، ان سب کے بعد مسجد تنگی داماں کی شکایت کرنے لگی ، تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کےمجمع میں اعلان کیا جو ساتھ والی زمین خرید کر مسجدمیں شامل کرے گا، اللہ اسے اجر عطا فرمائے گا تو سیدنا عثمان غنی نے یہ کام سرانجام دیا۔ جسے محاصرہ والے دنوں میں آپ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا:

أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : مَنِ ابْتَاعَ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةٌ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: قَدِ ابْتَعْتُهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ؟ قَالَ : فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ

’’میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا جو شخص فلاں خاندان کا کھلیان خرید ے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ تو میں نے اس جگہ کو بیس یا پچیس ہزار درھم کے عوض خرید کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میں نے اسے خرید لیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: اس جگہ کو ہماری مسجد میں ملا دو اور اس کا اجر تمہارے لیے ہے؟ تو سب نے کہا: ہاں اللہ کی قسم ( آپ صحیح فرما ر ہے ہیں ) ۔‘‘ (صحیح ابن حبان: 6920 )

آج کے بعد عثمان کا کوئی بھی عمل ان کو نقصان نہیں پہنچائے گا:

سید نا عبدالرحمن بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ

جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَتَرَهَا فِي حِجْرِهِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُها فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ : مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ اليَوْمِ مَرَّتَيْنِ

’’جب جیش العسره ( جنت موتہ ) کی تیاری ہورہی تھی تو سیدنا عثمان غنی ایک ہزار دینار لے کر آئے اور آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا، اللہ کے رسول ﷺ یہ دینار خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں اچھال کر کہتے جا رہے تھے آج کے بعد عثمان بن عفان کا کوئی بھی عمل ان کو نقصان نہیں پہنچائے گا، بار بار ایسا کہہ رہے تھے۔‘‘ (جامع ترمذی: 3701)

نبی کریم ﷺاور صحابہ کی عثمان کے لیے موت کی بیعت :

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان کو کام کی غرض سے مکہ مکرمہ بھیجا تو مسلمانوں میں یہ افواہ عام ہوگئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار ہزار صحابہ کرام موجود تھے،آپ ﷺ نے سب سے اس غرض سے بیعت لی کہ ہم اس وقت تک حدیبیہ کے مقام سے واپس نہیں جائیں گے جب تک ہم عثمان کی شہادت کا بدلہ نہ لے لیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عثمان کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دینے کا عزم رکھنے والے مؤمنین سے فرمایا:

﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا﴾ (سورۃ الفتح:18)

’’بے شک اللہ مسلمانوں سے راضی ہوا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے پھر اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اس نے ان پر اطمینان نازل کر دیا اور انہیں جلد ہی فتح دے دی۔ ‘‘

نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ کو عثمان ( ) کا ہاتھ قرار دے دیا:

یہ بھی سید نا عثمان کی فضیلت ہے کہ بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ نیچے رکھا، صحابہ آپ ﷺ کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھتے گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ کےاو پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا:

هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ’’یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔‘‘(صحیح بخاری: 4066)

دروازہ کھولو اور اسے جنت کی بشارت دے دو

سیدنا عثمان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ آپ ان چندلوگوں میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت اور ضمانت دی ہے۔ چنانچہ سید نا ابو موسی اشعری بیان کرتے ہیں :

أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ المَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَذَهَبْتُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ : افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَاعُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ : افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ، أَوْ تَكُونُ فَذَهَبْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ، فَقُمْتُ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ، قَالَ : اللَّهُ المُسْتَعَانُ(صحیح بخاری: 6216)

’’میں مدینہ کے ایک باغ (بئر اریس ) میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آکر دروازہ کھلوایا، آپ ﷺنے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو ابو بکر تھے۔ میں نے انہیں نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی ، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو عمر تھے، انہیں بھی جب نبی کریم ﷺکے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ ان کے لیے بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں ( دنیا میں ) واسطہ پڑے گا۔ وہ عثمان تھے۔ جب میں نے ان کو نبی کریم ﷺکے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔‘‘

سید نا عثمان فتنوں کے دنوں پر حق پر ہوں گے:

رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق فتنے تو سید نا عمر کی شہادت کے ساتھ ہی شروع ہو چکے تھے، فتنے اتنے کہ ہر آنے والے اگلے حالات مسلمانوں کو فتنوں کی طرف دھکیل رہے ہوتے تھے، سیدنا عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں فتنے اور بھی زیادہ اور مضبوط ہو چکے تھے۔ سیدنا عثمان کے خلاف بہت بڑی تعداد میں باغی سر اٹھا چکے تھے، جو آپ سے خلافت کو چھیننا چاہتے تھے۔ان حالات کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے پشین گوئی دیتے ہوئے پہلے سے فرمایا دیا تھا کہ عثمان کوفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن ایسے حالات عثمان حق پر ہوں گے۔ چنانچہ سید نا کعب بن عجرہ فرماتے ہیں:

ذَكَرَ رَسُولُ الله ﷺ فِتْنَةٌ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى فَوَثَبْتُ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ : هَذَا؟ قَالَ : هَذَا

’’رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہوگا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہوگا، کعب کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے)۔ (سنن ابن ماجہ: 111)

سیدنا عثمان کی گستاخی کرنے والے کا انجام:

ثقہ تابعی ابو نضرہ منذر بن مالک بیان کرتے ہیں:

كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فسب رجل عُثْمَان فنهيناه فلم ينْتَه فارعدت ثُمَّ جَاءَت صَاعِقَة فَأَخْرَقته

’’ہم مدینہ میں تھے کہ وہاں ایک شخص سید نا عثمان کو گالی دینا شروع ہو گیا، ہم نے اسے اس سے روکا لیکن وہ باز نہ آیا تو اچانک بادل گر جا پھر آسمان سے بجلی آئی تو اس نے اسے جلا دیا۔‘‘ (كتاب الثقات لابن حبان: 8؍105)

شہادت سیدنا عثمان

سیدنا عثمان کی علالت :

مروان بن حکم فرماتے ہیں جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جاسکے، اور ( زندگی سے مایوس ہو کر ) وصیت بھی کر دی ، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ سیدنا عثمان نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے ۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے ۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ

’’غالباًز بیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ ‘‘ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ نے فرمایا:

أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ خَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ، وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘ (صحیح بخاری: 3717)

سیدنا عثمان کی شہادت کی نبوی پشین گوئی :

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ ،قَمِيصًا ، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ

’’اے عثمان ! شاید تمہیں اللہ ایک قمیص پہنا ئیں اگر لوگ تم سے وہ قمیص اتروانا چاہیں تو ان کے لیے وہ قمیص نہ اتارنا۔“ (جامع ترمذی: 3705)

محدثین کرام نے اس قمیص سے مراد خلافت لی ہے۔ رسول اللہﷺ نے سیدنا عثمان سے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ تمہیں خلافت دے، پھر وہ خلافت لوگ تم سے چھینا چاہیں گے مگر تو خود انہیں خلافت نہ دینا۔

ایک روایت میں ہے کہ اس وقت تک خلافت ان کے سپرد نہ کرنا جب تک کہ تو میرے ساتھ ملاقات نہ کرلے ( یعنی فوت نہ ہو جائے ) ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان سے فرمایا:

يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي

”اے عثمان ! شاید تمہیں اللہ ایک قمیص پہنا ئیں۔ سواگر منافقین اس قمیص کو اتروانا چاہیں تو نہ اتارنا یہاں کہ تو مجھ سے ملاقات کرلے ( یعنی فوت ہو جائے ) ۔ اے عثمان ! شاید تمہیں اللہ ایک قمیص پہنا ئیں۔ سواگر منافقین اس قمیص کو اتروانا چاہیں تو نہ اتارنا یہاں کہ تو مجھ سے ملاقات کر لے ( یعنی فوت ہو جائے ) ۔ اے عثمان ! شاید تمہیں اللہ ایک قمیص پہنائیں۔ سواگر منافقین اس قمیص کواتر وانا چاہیں تو نہ اتارنا یہاں کہ تو مجھ سے ملاقات کرلے ( یعنی فوت ہو جائے )۔‘‘ (مسند احمد: 24566 )

یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟

سیدنا ابو امامہ بن سہل فرماتے ہیں:

میں سیدنا عثمان کے پاس تھا، جبکہ وہ اپنے گھر میں محصور تھے۔ گھر میں ایک ایسی جگہ تھی کہ جو وہاں داخل ہوتا وہ مقام بلاط پر بیٹھے لوگوں کی باتیں سن سکتا تھا۔ چنانچہ سید نا عثمان اس جگہ گئے اور پھر ہمارے پاس آئے تو ان کا رنگ اُرا ہوا تھا انہوں نے بتایا:

إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونَنِي بِالْقَتْلِ آنِفًا

’’یہ ابھی ابھی مجھے قتل کی دھمکیاں دے رہے تھے۔‘‘

ہم نے کہا:

يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ

’’امیر المومنین ! اللہ عز وجل ان کی جانب سے آپ کو کافی ہوگا۔‘‘پھر انہوں نے فرمایا:

وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ الله ﷺ يَقُولُ : ” لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِم إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامِ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ “، فَوَ اللهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَلَا فِي إِسْلَامِ قَطُّ، وَلَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي؟

’’یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین طرح کے لوگوں کے علاوہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے۔ ایک وہ آدمی جو اسلام لانے کے بعد اس کا انکار کرے۔ دوسرا وہ آدمی جو شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے اور تیسرا وہ جو بغیر قصاص کے کسی کو قتل کرے۔ اللہ کی قسم! میں نے کبھی بھی زنا کا ارتکاب نہیں کیا، نہ زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں اور نہ ہی جب سے اللہ تعالیٰ مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے اپنے دین کو بدلنے کی تمنا کی ہے اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو پھر وہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ (سنن ابی داواد: 4502)

سید نا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب باغیوں نے سیدنا عثمان کا محاصر کر لیا تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے:

عَلامَ تَقْتُلُونِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ، يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِم إِلَّا بِإِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، أَوْ قَتَلَ عَبْدًافَعَلَيْهِ الْقَوْدُ، أَوِ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلامِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ، فَوَ اللهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إسلام، وَلا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأَقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ، وَلا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ »

’’تم لوگ مجھے کیوں قتل کرو گے؟ حلانکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا، آپ فرمارہے تھے کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین طرح کے لوگوگوں کے ۔ وہ آدمی جو شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو ا سے رجم کر دیا جائے گا۔ یا وہ شخص جو قتلِ عمد کا مرتکب ہوا سے قصاصاً قتل کر دیا جائے گا۔ یا وہ شخص جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اللہ کی قسم ! میں نے نہ زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد اور میں نے کسی کو قتل بھی نہیں کیا کہ مجھے اس کے قصاص میں قتل کر دیا جائے اور میں اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد بھی نہیں ہوا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور یقیناً محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ (مسند احمد: 452)

سیدنا عثمان کا باغیوں سے لڑائی سے گریز :

سیدنا عثمان اپنے گھر میں محصور تھے۔ باغی باہر آپ کو شہید کرنے کے درپے تھے۔ سیدناعبداللہ بن زبیر اور بعض دیگر صحابہ کرام آپ کو ان سے لڑنے کا مشورہ دے رہے تھے۔سید نا عبداللہ بن زبیر تو یہاں تک فرما رہے تھے کہ اللہ کی قسم ان باغیوں سے لڑنا حلال ہے۔ آپ حکم دیجئے ہم ان سے لڑیں گے ۔ ایسے میں سیدنا عثمان نے امت کے وسیع تر مفاد کی خاطر لڑائی سے گریز کیا اور لوگوں سے فرمایا:أَعْزِمُ عَلَى مَنْ كَانَ لَنَا عَلَيْهِ سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لَمَا كَفَّ يَدَهُ وَسِلَاحَهُ، فَإِنَّ أَعْظَمَكُمْ عِنْدِي غَنَاءً الْيَوْمَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ وَسِلَاحَهُ ’’جس شخص پر میری سمع و اطاعت واجب ہے میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ اور ہتھیار رو کے رکھے۔ آج میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو اپنے ہاتھ اور ہتھیار روکے رکھے گا۔‘‘

(تاريخ مدينہ منورہ: 4؍1208)

سید نا علی کا سیدنا عثمان کا دفاع کرنا

سید نا علی سیدنا عثمان کا بڑا احترام کیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عثمان خلیفہ بنے تو سب سے پہلے سید نا علی نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

تابعی راشد بن کیسان ابو فزارہ عبسی﷫ فرماتے ہیں:

’’سیدنا عثمان کو جب اپنے گھر میں قید کیا گیا تو انہوں نے پیغام بھیج کر سیدناعلی کو اپنے پاس بلایا، لیکن ان کے اہل خانہ میں سے بعض افراد نے انہیں باہر جانے سے روک دیا۔ ان کا موقف تھا کہ بیعت خلافت کے راستے میں باغیوں کے کئی دستے موجود ہیں، ان کی موجودگی میں آپ کا وہاں جانا ممکن نہیں۔ اس وقت سیدنا علی نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی ، آپ نے اسے سر سے اتارا اور سید نا عثمان کے قاصد کی طرف پھینک دیا اور فرمایا: جو کچھ تو نے یہ معاملہ دیکھا ہے اس سے سیدنا عثمان کو مطلع کر دینا۔ سیدنا علی مسجد سے نکل کر مدینہ منورہ کے بازار ’احجاز الزیت‘ پہنچے تو انہیں سیدنا عثمان کی شہادت کی خبر ملی ، جسے سن کر آپ فرمانے لگے: اَللهم إِنِّي أُبرأ إلَيْكُمْ مِنْ دَمِهِ أَنْ أَكُوْنَ قتلت أَوْ مالأت علَى قتله

’’اے اللہ ! میں تیرے سامنے عثمان کے ناحق خون سے برات کرتا ہوں۔ میں نے نہ تو انہیں قتل کیا ہے اور نہ ہی کسی کو ان کے قتل پر ابھارا ہے۔‘‘ (طبقات ابن سعد : 3؍50)

صرف یہی نہیں بلکہ سید نا علی قاتلین عثمان پر لعنتیں بھیجا کرتے تھے۔ جیسا کہ لعنت کے الفاظ ہیں:

لَعَنَ اللهُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ وَالْبَرِّ وَالْبَحْرِ ’’اللہ تعالیٰ سید نا عثمان کے قاتلوں پر میدانوں، پہاڑوں خشکی اور تری میں لعنت کرے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شيبہ: 37793 )

دوران محاصرة سيدنا عثمان کا خواب:

سید نا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان نے ایک مرتبہ صبح کے وقت لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا:

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ ، قَالَ: قَالُوا: أَفْطِرْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ ، أَوْ قَالُوا : إِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ

’’میں نے آج رات رسول اللہ ﷺکو خواب میں دیکھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: اے عثمان ! آج روزہ ہمارے ہاں افطار کرنا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے صبح کو روزہ رکھا اور اسی دن آپ کو شہید کر دیا گیا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 30510)

سیدنا عثمان کی مظلوم شہادت کا المناک واقعہ:

سیدنا عثمان دورانِ محاصرہ کئی بار لوگوں کو سمجھا چکے تھے، کئی بار انہیں اللہ سے ڈراتے ، ان کے سامنے اپنی پاکدامنی کا اظہار کرتے ، انہیں قتل کرنے روکتے ، مگر بقول سید نا ابوسعیدی یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں پر سید نا عثمان کی کسی بات کا اثر نہ ہوتا، وہ مسلسل آپ کو شہید کرنے کے درپے تھے۔

آپ اپنے کمرے میں مصحف کھولے، قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ اندر ایک آدمی داخل ہوا جسے ” الموت الاسود “ کہا جاتا تھا، اس نے آپ کا گلا گھونٹا اور پھر دوبارہ گلا گھونٹا، پھر وہ بد بخت باہر نکلا اور کہنے لگا:

وَاللہِ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ هُوَ أَلْيَنُ مِنْ حَلْقِهِ، وَاللہِ لَقَدْ خَنَقْتُهُ حَتَّى رَأَيْتُ نَفَسَهُ مِثْلَ نَفْسٍ الْجَانٌ تَرَدَّدَ فِي جَسَدِهِ

’’اللہ کی قسم ! میں ان کے حق سے زیادہ نرم کبھی کوئی چیز نہیں دیکھی ( کیونکہ وہ ضعیف العمر تھے ) اور اللہ کی قسم! میں نے ان کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ میں نے ان کی سانس کو (یوں اکھڑتا ہوا) دیکھا جیسے کسی سانپ کا سانس اس کے جسم میں ہوتا ہے ( یعنی جیسے سانپ موت کے وقت تڑپتا ہے ایسے ہی سید نا عثمان تڑپے تھے۔

پھر ایک اور آدمی اندر داخل ہوا اس نے آپ پر وار کیا جو آپ کے ہاتھ پر لگا، جس سے آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔ تو سیدنا عثمان فرمانے لگے یہ وہ ہاتھ ہے جس نے قرآن مجید کی سورۃ الحجرات سے لے کر سورۃ الناس تک سورتوں کو لکھا۔ ایسے میں سیدنا عثمان اس دنیا فانی کو چھوڑ کر دار الاخرۃ کی طرف چل بسے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 37690 )

ثقہ تابعی عبداللہ بن شقیق ﷫ فرماتے ہیں:

’’سیدناعثمان کی شہادت کے وقت پہلا قطرہ قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ پر گرا:

﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ (سورۃ البقرة: 137)(تارخ مدينہ:4؍1310)

تبصرہ کریں