سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور ان سے محبت۔ حافظ شیر محمد الاثری

اُم المومنین سیدہ عائشہ کے فضائل بے شمار ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے (ایک دفعہ) سیدہ عائشہ سے فرمایا:

«أریتكِ فی المنام مرتین، أری أنكِ في سرقة من حریر ویقول: هٰذه امرأتكَ، فأکشف فإذا هي أنتِ فأقول: إن یك ھٰذا من عنداللہ یمضه»

’’تم مجھے خواب میں دو دفعہ دکھائی گئی ہو، میں نے دیکھا کہ تم ایک سفید ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی تھیں اور (فرشتہ) کہہ رہا تھا: یہ آپ کی بیوی ہیں۔ میں وہ کپڑا ہٹاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ تم ہو۔ میں کہتا تھا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اُسے ضرور پورا کرے گا۔‘‘(صحیح بخاری: 3895)

سیدہ عائشہ ہی سے روایت ہے کہ

رسول اللہﷺ کے پاس سیدنا جبریل مجھے (میری تصویر کو) ریشم کے لباس میں لائے تو فرمایا:

“هذه زوجتكَ فی الدنیا والآخرة.”

’’یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ ہیں۔‘‘

(صحیح ابن حبان، الاحسان: 7052 [7094] وسندہ حسن)

ایک روایت میں ہے کہ

“جاء الملك بصورتي إلى رسول اللہ ﷺ فتزوجني رسول اللہﷺ وأنا ابنة سبع سنین وأهدیت إليه وأنا ابنة تسع سنین.”

’’(سیدہ عائشہ نے فرمایا:) رسول اللہ ﷺ کے پاس فرشتہ میری تصویر لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی اور (اس وقت) میری عمر سات سال تھی اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔‘‘

(المستدرک للحاکم 4/ 10 ح 6730 وسندہ حسن و صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی)

سیدنا رسول اللہ ﷺ نے اپنی زوجۂ مبارکہ سیدہ عائشہ صدیقہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

«فأنتِ زوجتي فی الدنیا والآخرة»

’’پس تُو دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہے۔‘‘

(صحیح ابن حبان: 7053 [7095] وسندہ صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 10 ح 6729 ووافقہ الذہبی)

رسول اللہ ﷺ کے بستر مبارک پر آنے والی آپ کی سب ازواج یقینا جنت میں بھی آپ کی ازواج ہوں گی لیکن آپ نے خاص طور پر اپنی بیوی سیدہ عائشہ سے فرمایا:

«أما إنك منھن»

’’تم تو انہی میں سے ہو۔‘‘

(صحیح ابن حبان: 7054 [7096] وسندہ صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 13 ح 6743 ووافقہ الذہبی)

سیدنا علی بن ابی طالب کے خاص ساتھی سیدنا عمار بن یاسر نے خطبہ دیتے ہوئے (علانیہ) فرمایا:

“اني لأعلم أنھا زوجته فی الدنیا والآخرة ……”(صحیح بخاری: 3772)

’’بے شک میں جانتا ہوں کہ وہ (عائشہ ) آپ ﷺ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔‘‘

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فضل عائشة علی النساء كفضل الثرید على سائر الطعام»

’’سیدہ عائشہ ( ) کی فضیلت عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: 3770، صحیح مسلم: 2446 [6299])

ثرید اس لذیذ کھانے کو کہتے ہیں جسے روٹی کو چُور کر گوشت کے شوربے میں بھگوکر بنایا جاتا ہے۔

نبی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمہ سے فرمایا:

«أي بنية! ألستِ تحبین ما أحب؟»

’’اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟‘‘

انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا:

«فأحبي هٰذہ»

’’پس تم اس (عائشہ ) سے محبت کرو۔‘‘

(صحیح مسلم: 83/ 2442 [6290])

سیدنا عمرو بن العاص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:’’آپ لوگوں میں سے کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا: «عائشة» میں سب سے زیادہ عائشہ سے محبت کرتا ہوں۔

(صحیح بخاری: 3662، صحیح مسلم: 2384 [6177])

نبی کریم ﷺ نے (ایک دفعہ) سیدہ عائشہ سے فرمایا:

«یا عائش! هٰذا جبریل یقرئكِ السلام»

’’اے عائش (عائشہ)! یہ جبریل تجھے سلام کہتے ہیں۔

عائشہ نے فرمایا:

“وعلیه السلام ورحمة اللہ.”

’’اور ان پر (بھی) اللہ کی رحمت اور سلام ہو۔‘‘

(صحیح بخاری: 6201 وصحیح مسلم: 91/ 2447 [6304])

ایک روایت میں “وعليه السلام ورحمة اللہ وبرکاته” کے الفاظ ہیں۔ (صحیح بخاری: 3768)

رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ سیدہ ام سلمہ سے فرمایا:

«لاتؤذیني في عائشة، فإنه واللہ ما نزل علي الوحي وأنا في لحاف امرأةٍ منکن غیرها»

’’مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو، بے شک اللہ کی قسم! مجھ پر تم میں سے صرف عائشہ کے بستر پر ہی وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 3775)

سیدنا ابو موسیٰ الاشعری نے فرمایا:

’’ہم، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر جب بھی کسی حدیث میں اشکال ہوا تو ہم نے سیدہ عائشہ سے پوچھا اور ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا۔‘‘

(جامع ترمذی: 3883 وقال: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘ وسندہ حسن)

سیدنا عبداللہ بن عباس نے سیدہ عائشہ کے مرض الموت میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’آپ (امت میں) پہلی خاتون ہیں جن کا بے گناہ ہونا آسمان سے نازل ہوا۔‘‘

(فضائل الصحابۃ للامام احمد 2/ 872 ح 1636 وسندہ صحیح)

اس کے علاوہ انہوں نے سیدہ عائشہ کی اور بہت سی خوبیاں بیان کیں تو سیدہ نے فرمایا:

“دعني منك یا ابن عباس! والذي نفسي بیدہ! لوددت أني کنت نسیًا منسیًا.”

’’اے ابن عباس! مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی ہوئی گمنام ہوتی۔‘‘

(مسند احمد: 1؍ 277 ح 2496 وسندہ حسن، طبقات ابن سعد 8/ 74 وسندہ صحیح) نیزدیکھئے صحیح بخاری (3771)

نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری زمانہ سیدہ عائشہ کے گھر میں گزرا۔ (صحیح بخاری: 3774)

بلکہ آپ کی وفات سیدہ عائشہ کی گود میں ہوئی۔ (صحیح بخاری: 4449 وصحیح مسلم: 2443)

عیسیٰ بن دینار (ثقہ راوی) نے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ﷫ سے سیدہ عائشہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا:

“استغفر اللہ لھا.”

’’میں ان کے لئے اللہ سے استغفار (مغفر ت کی دعا) کرتا ہوں۔‘‘(طبقات ابن سعد: 8؍ 74 وسندہ صحیح)

مشہور ثقہ فقیہ عابد تابعی ابو عائشہ مسروق بن الاجدع الکوفی ﷫ نے فرمایا:

“حدثتني الصدیقة بنت الصدیق، حبیبة حبیب اللہ، المبرّأة.”

’’مجھے صدیق کی بیٹی (عائشہ) صدیقہ نے حدیث بیان کی (جو) اللہ کے حبیب کی حبیبہ ہیں (اور) پاک دامن ہیں۔‘‘(مسند احمد: 6؍241 ح 26044 وسندہ صحیح)

اُم ذرہ (ثقہ راویہ) سے روایت ہے کہ

’’ سیدنا ابن زبیر نے سیدہ عائشہ کے پاس دو بوریوں میں ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا تو انھوں نے ایک ٹرے منگوا کر اسے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔‘‘

اس دن آپ روزے سے تھیں۔

جب شام ہوئی تو آپ نے فرمایا:

میری افطاری لے آؤ۔اُم ذرہ نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ یہ نہیں کر سکتی تھیں کہ جو مال تقسیم کر دیا ہے، اس میں سے پانچ درہم بچا کر ان سے گوشت خرید لیتیں اور اس سے روزہ افطار کرتیں؟

سیدہ عائشہ نے جواب دیا:

مجھے ملامت نہ کرو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتیں تو میں یہ کر دیتی۔(طبقات ابن سعد: 8؍ 67 وسندہ صحیح)

ایک دفعہ حفصہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے سیدہ عائشہ کے پاس گئیں تو انہوں نے اس دوپٹے کو پھاڑ دیا اور حفصہ کو موٹا گاڑھا دوپٹہ اوڑھا دیا۔ (الموطأ، روایۃ یحییٰ 2/ 913 ح 1758، وسندہ صحیح)

سیدہ عائشہ صدیقہ کے بھانجے سیدنا عروہ بن الزبیر﷫ فرماتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تین سال پہلے سیدہ خدیجہ فوت ہو گئی تھیں۔ آپ نے تقریباً دوسال بعد سیدہ عائشہ سے نکاح کیا اور ان کی عمر 6 سال تھی پھر 9 سال کی عمر میں وہ آپ کے گھر تشریف لائیں۔(صحیح بخاری: 3896، صحیح مسلم: 1422)

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچی کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن رخصتی بلوغ کے بعد ہوگی۔

6 یا 7 سال کی عمر میں سیدہ عائشہ کے نکاح اور نوسال کی عمر میں رخصتی والی حدیث متواتر ہے۔

1۔ عروہ بن الزبیر

2۔اسود بن یزید [صحیح مسلم: 72/ 1422 وترقیم دارالسلام: 3482]

3۔یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب [مسند ابی یعلیٰ: 4673 وسندہ حسن]

4۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف [سنن النسائی 6/ 131ح 3381 وسندہ حسن]

5۔عبداللہ بن صفوان [المستدرک للحاکم 4/ 10 ح 6730 وسندہ صحیح وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی]

اسے ان سب نے سیدہ عائشہ سے بیان کیا ہے۔

عروہ سے ہشام بن عروہ اور زہری (صحیح مسلم: 1422) نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ ہشام بن عروہ نے سماع کی تصریح کر دی ہے اور وہ تدلیس کے الزام سے بری ہیں۔ (دیکھئے الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین:1؍30۔31)

ہشام بن عروہ سے یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی الزناد المدنی رحمہ اللہ (مسند احمد: 6؍118؛ ح 24867 وسندہ حسن، المعجم الکبیر للطبرانی: 23؍21؛ ح 46 وسندہ حسن) نے بیان کر رکھی ہے۔

تابعین کرام﷭ میں سے درج ذیل تابعین سے اس مفہوم کے اقوال ثابت ہیں:

1۔ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف(مسند احمد: 6؍211 ح 25769 وسندہ حسن)

2۔یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب (ایضاً وسندہ حسن)

4۔ابن ابی ملیکہ (المعجم الکبیر 23/ 26 ح 62 وسندہ حسن)

4۔عروہ بن زبیر (صحیح بخاری: 3896، طبقات ابن سعد: 8؍ 60 وسندہ صحیح)

5۔ زہری (طبقات ابن سعد: 8؍61، وھو حسن)

لہٰذا اس کا انکار کرنا باطل و مردود ہے۔

اس مسئلے پر اجماع ہے۔ (دیکھئے البدایہ والنہایہ: 3؍129)

سیدہ عائشہ سے 2ہزار 2سو 10 (2210) احادیث مروی ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: 2؍139)

قولِ صحیح کے مطابق آپ کی وفات ستاون ہجری (57ھ) میں ہوئی۔ (تقریب التہذیب: 8633)

اور آپ کی نمازِ جنازہ سیدنا امیرالمومنین فی الحدیث الامام الفقیہ المجتہد المطلق ابو ہریرہ نے پڑھائی تھی۔

(التاریخ الصغیر للبخاری: 1؍128، 129، وسندہ صحیح؛ ماہنامہ الحدیث: 32 ص 11)

رضي اللہ عنہا وعن سائر المؤمنین والمؤمنات. آمین

٭٭٭

امام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

وكل مؤمن تقيٍّ: وليٌّ لله

’’ہر پرہیز گار مومن، اللّٰہ کا ولی ہے!‘‘

(جامع المسائل:2؍ 66)

٭٭٭

برمنگھم کی ہر دلعزیز شخصیت اور بے لوث خدمت گار محمد بشیر کا انتقال

برمنگھم کے ہر دلعزیز محمد بشیر حافظ آبادی کی وفات، قاری ذکاء اللہ سلیم نے گرین لین مسجد میں نماز جنازہ پڑھائی، برمنگھم میں تدفین عمل میں آئی۔ ہر ذی روح کو ایک دن اس دنیائے فانی سے دار البقا کو جانا ہے۔

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ (سورۃ آل عمران: 185)

مگر بعض لوگ اپنے حسن کردار سے ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ بھولنا چاہیں بھی تو بھول نہیں پاتے ہین، ان ہی باکردار لوگوں میں محمد بشیر حافظ آبادی گوجرانوالہ تھے، ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ مجھ سے مخلص اور ہمدرد ہیں، صحیح معنوں میں یہ ہر دلعزیز اور بے لوث خدمت کرنے والے تھے۔ 60 سال پورے ہونے میں صرف ایک دن باقی تھا کہ اچانک برین ہمریج اور چند گھنٹوں وہ سب عزیز واقارب کو داغ مفارقت دے کر اللہ کو پیارے ہو گئے، ہر خیر کے کاموں میں وہ آگے آگے رہتے، الہجرہ ٹرسٹں کے ٹرسٹی بھی تھے اور جمعہ کےبعد مسجد کے لیے چندہ مانگتے تھے، گرین لین مسجد یا الہجرہ مسجد میں مولانا عبد الہادی العمری کی خواتین وحضرات کے لیے قرآن حکیم کی کلاسز لگتی تو مرحوم سب سے پہلے آ کر تمام کے لیے کرسیاں لگاتے اور کلاسز ختم ہونے کے بعد تمام کرسیوں کو اپنی جگہ لگانا وہ اپنے فرائض منصبی سمجھتے تھے ہر ایک سے مسکرا کر ملنا ان کا طرۂ امتیاز تھا –

اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

’’تم دوسروں سے ایسے ملو کہ تمہارے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور تبسم ہو ۔‘‘

گویا کہ اس حدیث کا وہ مصداق تھے، جامع مسجد گرین لین میں جب وہاں کے امام وحطیب قاری ذکاء اللہ سلیم نے نماز جنازہ سے قبل کہا کہ محمد بشیر کی برادری کے لوگ یہاں بہت قلیل ہیں کہ ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے مگر یہاں مسجد کا وسیع وعریض ہال اور خواتین کا اتنا بڑا ہال سب کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ اتنے سارے لوگ کہاں سے آئے ہیں پھر انہوں نے ہی کہا کہ یہ مرحوم کے حسن اخلاق اور ہر ایک کی خدمت کرنے اور پیار ومحبت اورخلوص سے ملنے کا نتیجہ ہے ہر ایک انہیں اپنی برادری کا سمجھتے ہیں۔

اللهُ أكبرُ كبيرًا والحمدُ للهِ كثيرًا وسبحانَ اللهِ بكرةً وأصيلًا

ایک بیٹا، بیٹی، داماد، محمد اقبال، عامر اقبال، محمد سہیل، محمد صالحین اجمیری، محمد فاروق نسیم، افتخار احمد جگنو، مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، سید یعقوب علی، محمد سجاد، خالد کھوکھر، حاجی اصغر بٹ، حاجی اکبر بٹ، حاجی محمد صدیق، شیخ یحییٰ الیمانی، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب، قاری عبد العزیز، قاری عبد السمیع، قاری عبد الصمد اور دیگر حضرات و خواتین شریک جنازہ تھے، سٹن کولڈ فیلڈ قبرستان برمنگھم میں تدفین عمل میں آئی، پیشہ کے اعتبار سے وہ بلیک کیپ چلاتے تھے اوراسی میں بچت کر کے یہاں اور پاکستان میں مستحقین کی مدد کرتے تھے، اللہ پاک ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں کو درگزرفرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ان کے فرزند کا نام حسن بشیر ہے، یہ بیٹ بھی والد مرحوم کی طرح سیدھا سادھا ہے ، شاطر اور بہت زیادہ چالاک نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایسے لوگ جنت کے مستحق ہیں، سچ ہے۔

اب ہم بھی ٹھہرے ہوئے ہیں کوئی دم بھر کے واسطے

دوستو فانی ہے دنیا ساتھ والے چل بسے

٭٭٭

تبصرہ کریں