سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ!۔ مولانا عبد المالک مجاہد

یہ 5 ہجری کا زمانہ ہے۔ پہلی اسلامی ریاست کے مرکز مدینہ طیبہ میں غزوہ خندق اپنے اختتام کو چکا ہے۔ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کو ناکام و نامراد واپس لوٹا دیا ہے۔ یہود مد ینہ اس معاہدے کے پابند تھے کہ اگر باہر سے کوئی دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو وہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ مدینہ طیبہ کا دفاع کریں گے، لیکن اس نازک موقعے پر بنو قریظہ نے غداری اور بے وفائی کا مظاہر ہ کیا اور مسلمانوں سے تعاون ہی کا انکار کر دیا۔ اسی بدعہدی کی سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام لے کر جبریل امین حاضر خدمت ہوئے ۔

ظہر کا وقت تھا جب اللہ کے مقرب ترین فرشتے جبریل امین ایک چمڑے کی زمین والے سفید خچر پر سوار استبرق کا عمامہ پہنے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ جبریل اس شان سے آئے کہ انہوں نے بیش قیمت ریشم کی مخملی چادر پہن رکھی تھی۔ عرض کی:

أَوَضَعْتَ السِّلَاحَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟

’’اللہ کے رسول ! کیا آپ نے جو ہتھیار پہن رکھے تھے اتار دیے؟ ‘‘فرمایا: ہاں، ہم تو ہتھیار اتار چکے؟ جبریل امین نے عرض کیا:

فَمَا وَضَعَتْ الْمَلَائِكَةُ السِّلَاحَ بَعْدُ

’’مگر یا رسول اللہ! وہ فرشتے جو غزوہ خندق میں آپ کی مدد پر مامور تھے انہوں نے تو تا حال ہتھیار نہیں اتارے، وہ تو بدستور ہتھیار بند ہیں۔ مطلب یہ کہ انہیں ابھی ڈیوٹی ختم کرنے کا حکم نہیں ملا، اس لیے کہ کچھ ضروری کام باقی ہے۔ پھر کہنے لگے : میں بھی جان بچا کر بھاگنے والے قریش کا تعاقب کر رہا تھا۔ میں ابھی ابھی وہاں سے واپس لوٹا ہوں ۔ اللہ کے رسول! الله تعالیٰ نے آپ کی طرف یہ حکم ارسال فرمایا ہے کہ آپ فوری طور پر اپنے لشکر کے ساتھ بنو قریظہ کے محلے کی طرف پیش قدمی فرمائیں۔ یا رسول اللہ! میں بھی حکم الٰہی کے مطابق ادھر ہی جار ہا ہوں ۔ میں آپ کے لشکر سے پہلے جا کر ان کے ہاں زلزلہ برپا کرتا ہوں۔ انہیں خوفزدہ کرتا ہوں اور ان کے حوصلے پست کرتا ہوں تا کہ آپ کا کام آسان ہو جائے؛ چنانچہ جبریل امین یہ پیغام پہنچا کر فرشتوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

قارئین کرام! اندازہ کیجیے، ایک ماہ سے زیادہ آپﷺ گھر سے باہر رہے ۔ محاذ جنگ پر موجود رہے۔ ابھی گھرپہنچ کر کمر سیدھی کی ہے کہ جبریل امین تشریف لے آئے ہیں ۔ مؤمن کو اس دنیا میں آرام کہاں؟ اسے تو جنت میں جا کر ہی آرام و سکون میسر ہوگا۔

مسلم فوج کو تیاری کا حکم

رسول اللہ ﷺ نے حکم الٰہی موصول ہوتے ہی اس پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا۔ ایک منادی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مسلمانوں کے درمیان اس امر کا اعلان کر دے کہ تمام مسلمان مجاہد جن کی تعداد تین ہزار کے قریب تھی، بنو قریظہ کی بستی کی جانب روانہ ہو جائیں ۔ اس شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی منادی ان الفاظ میں کی: «مَنْ كَانَ سَامِعًا مُطِيْعًا فَلَا يُصَلِيَنَّ الْعَصْرَ إلَّا بِبَنِيْ قُرَيظَةَ»

” جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہے اور سمع و طاعت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ عصر کی نماز بنو قریظہ کے محلے میں جا کر پڑھے ۔‘‘

قارئین کرام! اہل ایمان کا لشکر جو تھکا ماندہ محاز جنگ سے واپس مدینہ پہنچا ہی تھا، اسے دو گھنٹے کے نوٹس پر بنو قریظہ کے محلے میں پہنچنے کا حکم ملا تو پورا لشکر حسب علم بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو جاتا ہے ۔ آپ اندازہ لگائیں یہ کتنا فوری ایکشن تھا کہ ظہر کے وقت حکم نازل ہوتا ہے اور عصر کی نماز لشکر کا ایک بڑا حصہ بنوقریظہ میں جا کر ادا کرتا ہے۔ حالانکہ یہ قریبا 6 میل یعنی 10 کلو میٹر کی مسافت تھی۔ آپ ﷺ نے عبد اللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا حاکم مقرر فرمایا اور سیدنا علی بن ابو طالب کو لشکر کا جھنڈا دے کر اپنی روانگی سے کچھ پہلے ارسال فرمادیا۔

یہود کی فطری خباثت

سیدنا علی جب ان کے قلعوں کے قریب پہنچے تو اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں یہودکوکمینگی اور خباثت کا اظہار کرتے ہوئے پایا۔ وہ اپنی فطری خباثت کی وجہ سے اسلام اور پیامبر اسلام کو گالیاں دے رہے تھے۔ سیدنا على یہ سن کر واپس پلٹے اور راستے میں اللہ کے رسولﷺ سے ملاقات کی۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان خیثوں کے قریب نہ جائیں۔ آپﷺ نے پوچھا: کیوں، لگتا ہے تم نے ان سے میرے بارے میں کچھ تکلیف دہ باتیں سنی ہیں؟ عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول ! ایسا ہی ہے۔ فرمایا: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ایسی کوئی بات نہ کرتے۔ جب آپ ان کے قلعوں کے قریب پہنچے تو یہود کو مخاطب کر کے بلند آواز سے فرمایا:

يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ هَلْ أَخْزَاكُمُ اللَّهُ وَأَنْزَلَ بِكُمْ نقمته؟

’’اے مسخ شدہ بندرو اور خنزیرو کے بچو! کیا اللہ تعالی نے تمہیں ذلیل اور خوار نہیں کر دیا اور تم پر اپنا عذاب نازل نہیں فرما دیا؟ ‘‘

کہنے لگے: ابو القاسم ! تم ساری صورت حال کو اچھی طرح جانتے ہو۔ ہمارے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

سيدنا جبریل دحیہ کلبی کی شکل وصورت میں

جب آپ بنو قریظہ کی طرف رواں دواں تھے تو راستے میں چند صحابہ کرام سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ پوچھا: کیا تمہارے پاس سے ابھی کوئی سوار گزرا ہے؟ کہنے لگے: ہاں اللہ کے رسول! ہم نے دحیہ کلبی کو دیکھا، وہ ایک سفید خچر پر سوار یہاں سے گزرے تھے۔ خچر پر چمڑے کی خوبصورت زین تھی اور وہ ریشم کی ایک بیش قیمت مخملی چادر اوڑھے ہوئے تھے ۔ فرمایا: وہ جبریل امین تھے جنہیں اللہ نے یہود کے قلعوں میں زلزلہ برپا کرنے اور ان کے دلوں میں رعب ڈالنے کے لیے بھیجا تھا۔ جب آپﷺ بنوقریظہ کے قریب پہنچے تو وہاں ”انا“ نامی ایک کنویں کے قریب پڑاو ڈالا۔

بنو قریظہ کا محاصره

اللہ کے رسول ﷺ نے تین ہزار مجاہدین کے لشکر جرار کے ساتھ یہود کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ جب اسی حال میں 25 راتیں گزر گئیں تو یہودیوں پر زمین تنگ ہو گئی۔ سخت پریشانی کے عالم میں وہ سر جوڑ کر بیٹھے کہ اب کیا کیا جائے ۔ حیی بن اخطب جو بنونضیر کا سردار تھا اور یہود کا بہت بڑا عالم بھی تھا وہ بھی غزوہ خندق ختم ہونے پر بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد سے دوستی اور وفا کا اظہار کرتے ہوئے اس کے قلعے میں چلا گیا تھا۔ وہ بھی انہیں کے ساتھ محصور تھا۔

سردار یہودی قوم کو نصیحت

کعب بن اسد نے بھانپ لیا کہ اس مرتبہ رسول اللہﷺ ان کا محاصرہ ختم کریں گے، نہ ہی اپنے لشکر کو واپس لے جائیں گے، جب تک اس جنگ کا کوئی واضح نتيجہ سامنے نہیں آتا۔ اس نازک صورت حال میں کعب نے زعمائےیہود کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

اے گروہ یہود! تم لوگ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کر چکے ہو۔ ان حالات میں تمہارے لیے مناسب یہ ہوگا کہ میری تین تجاویز میں سے ایک پر عمل کر لو۔ کہنے لگے تجاویز پیش کرو۔ اس نے کہا:

پہلی صورت یہ ہے کہ ہم محمدﷺپر ایمان لے آئیں اور ان کا اتباع کر لیں ۔ اللہ کی قسم ! تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ تمہاری کتابوں میں ان کا ذکر پوری تفصیل سے موجود ہے۔ اگر تم ان کے پیروکار بن جاؤ تو تمہارے اموال، تمہاری جانیں، تمہاری خواتین اور تمہارے بچے محفوظ ہو جائیں گے ۔ انہوں نے یہ تجویز ماننے سے صاف انکار کر دیا اور کہا: ہم کسی قیمت پر تورات کے احکام تبدیل کر سکتے ہیں نہ ان سے انحراف کر سکتے ہیں ۔ دوسری تجویز پیش کرو۔ کعب نے کہا:

دوسری صورت یہ ہے کہ ہم سب لوگ اپنی خواتین اور بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر دیں اور پھر سر پر کفن باندھ کر ہاتھوں میں تلواریں لیے میدان میں آجائیں اور مسلمانوں کا جم کر مقابلہ کریں۔ پھر اگر مارے بھی جائیں تو ہمیں یہ غم نہ ہوگا کہ ہمارے بچے اور عورتیں کہاں جائیں گے۔ لیکن اگر ہم فتح یاب ہو گئے تو میری زندگی کی قسم! تمہیں عورتیں بھی نئی مل جائیں گی اور ان میں سے اولادیں بھی پیدا ہو جائیں گی۔ کہنے لگے: ان مسکینوں کو ہم اپنے ہاتھوں کیسے قتل کر دیں؟ پھر ان کے بعد زندگی کا مزہ ہی کیا رہ جائے گا ؟! یہ تجویز بھی ہمارے لیے ناقابل عمل ہے۔ تیسری تجویز پیش کرو۔ کعب نے کہا:

تیسری تجویز یہ ہے کہ آج رات ہفتے کی رات ہے۔ آؤ ہم محمد اور ان کے ساتھیوں پر اچانک حملہ کر دیں ۔ مسلمان غفلت میں مارے جائیں گے کیونکہ انہیں یقین ہو گا کہ یہود ہفتے کے روز لڑائی نہیں کرتے۔ کہنے لگے : ہم اپنا عبادت کا دن کیسے خراب کر لیں ۔ تم جانتے ہو کہ ہم سے پہلے جن لوگوں نے ہفتے کے دن حکم الٰہی سے تجاوز کیا تھا انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا تھا۔ جب انہوں نے یہ تیسری تجویز بھی مسترد کر دی تو سردار کعب بن اسد نے جھنجھلا کر کہا:

مَا بَاتَ رَجُلٌ مِنْكُمْ مُنْذُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ لَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ الدَّهْرِ حَازِمًا

’’جب سے تمہاری ماؤں نے تمہیں جنم دیا ہے، تم میں سے کسی شخص نے ایک رات بھی عقل مندی کے ساتھ نہیں گزاری۔‘‘

مطلب یہ کہ تم سب احمقوں کا ٹولہ ہو، تم سے عقل مندی کی بات کرنا ہی فضول ہے۔

ابو لبابہ کی آمد اور خطا کا ارتکاب

بنو قریظہ نے سوچا کہ اب ان کے سامنے سوائے مسلم فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے اور کوئی آپشن باقی نہیں بچا، مگر کیوں نہ اس سے پہلے اپنے پرانے حلیفوں ا سے کچھ صلاح مشورہ کر لیا جائے ۔ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ ان کی طرف بنو عمرو بن عوف کے سردار ابولبابہ کو بھیجا جائے ۔ یہ جلیل القدر صحالی ہیں ۔ ان کا نام بشیر بن عبد المنذر تھا۔ یہ ان خوش قسمت انصار مدینہ میں شامل تھے جنہوں نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ جب اللہ کے رسولﷺ غزوہ بدر کے لیے تشریف لے گئے تو مدینہ پر امیر سیدنا ابولبا بہ ہی کو مقرر فرمایا تھا۔

بنو عمرو زمانہ قدیم سے قریظہ کے حلیف چلے آرہے تھے۔ یہود نے کہا:

’’سیدنا ابولبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیجئے ہم ان کے ساتھ کچھ اہم امور پر مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ جب وہ آئے تو یہودی مرد و خواتین بے تابی سے ان کی طرف لپکے اور بچے بھی جا کر ابو لبابہ سے چمٹ کر سسکیاں بھرنے ، لگے۔ ‘‘

سیدنا ابو لبابہ کو ان پر بہت ترس آئے گا۔ کہنے لگے :

’’ ابولبابہ یہ بتاؤ کیا ہم محمدﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں؟‘‘

سیدنا ابولبابہ نے کہا: ’’ہاں ڈال دو۔‘‘

اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا، گویا انہیں اشارے سے بتلا دیا کہ تم ہتھیار ڈال تو دو لیکن لگتا یہ ہے کہ ذبح کر دیئے جاؤ گے۔

سیدنا ابو لبابہ کہتے ہیں:

’’ اشارہ تو میں کر بیٹھا، لیکن وہاں کھڑے کھڑے ہی مجھے پوری شدت سے احساس ہونے لگا کہ ابولبابہ ! تم نے کیا کر دیا؟! یہ تو اللہ اور اس کے رسول کی امانت میں خیانت ہوگئی ۔ یہ تو ایک قومی اور ملی راز تھا جس کی بھنک دشمن کو کسی بھی قیمت پر پڑنا نہیں چاہیے تھی۔‘‘

سیدنا ابولبابہ وہاں سے نکلے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے بلکہ سیدھے مسجد نبوی میں پہنچ گئے ۔ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ خود کو رسیوں سے باندھ لیا اور کہا:

’’میں اس وقت تک یہاں سے نہیں ہلوں گا جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر کے مجھے معاف نہ فرما دے۔ ان کی بعض زمینیں اور اموال بنو قریظہ میں تھے، تاہم انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ وہ آج کے بعد بھی بنو قریظہ کی طرف نہیں جائیں گے اور نہ ہی اس سرزمین پر رہیں گے جہاں ان سے یہ غلطی سرزد ہوئی۔‘‘

سیدنا ابولبابہ نے کہا:

’’اس ستون ہے مجھے کوئی کھولنے کی کوشش نہ کرے۔ اب اللہ کے رسولﷺ ہی اپنے دست مبارک سے میری رسیاں کھولیں گے۔‘‘

قارئین کرام! عہد نبوی میں مسجد نبوی میں کجھور کے تنوں کے ستون تھے ۔ مگر مختلف ادوار میں جب کبھی مسجد نبوی کی تعمیر نو کی گئی یا اس میں توسیع کی گئی تو ان ستونوں کی الگ پہچان قائم رکھی گئی۔ آج بھی آپ وہاں جائیں تو آپ کو منبر نبوی کے قریب ایک ستون نظر آئے گا جس پر ’’اُسطوانہ ابو لبابہ‘ لکھا ہوا ہے۔ اسے’’اسطوانہ التوبہ‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی وہ ستون جہاں سیدنا ابولبا بہ کی تو یہ قبول ہوئی تھی۔ یہ منبر شریف سے مشرقی جانب چوتھا اور قبر مبارک سے شمالی جانب دوسرا ستون ہے۔

اس موقع پر نازل ہونے والی آیات

ابوقتادہ فرماتے ہیں: اس واقعے کی مناسبت سے سیدنا ابولبابہ کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (سورة الأنفال: 27)

’’اے ایمان والو! دیدہ دانستہ اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ ہی تم آپس کی امانتوں میں خیانت کرد۔‘‘

اللہ کے رسول ﷺنے سیدنا ابولبابہ کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا تھا۔ جب ان کے واپس آنے میں خاصی دیر ہوگئی تو آپﷺ نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا : ابولبا بہ کا کیا ہوا؟ لوگوں نے ان کے معاملے کی خبر آپﷺ تک پہنچائی تو آپﷺ نے فرمایا: اگر وہ میرے پاس آجاتے اور معافی طلب کرتے تو میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی معافی کے لیے دعا کردیتا ۔ لیکن اب انہوں نے جو کر نا تھا کرلیا اب میں ان کی رسیاں کھولنے کے لیے اس وقت تک تیارنہیں ہوں جب تک اللہ تعالیٰ خود ہی ان کی توبہ قبول نہ فرما لیں۔

ابو لبابہ کی توبہ کی قبولیت کا نزول

ابولبابہ مسلسل 6 راتوں تک اسی ستون سے بندھے رہے۔ ان کی اہلیہ ہر نماز کے وقت انہیں کھول دیتیں اور وہ کھانے حاجات ضروریہ سے فارغ ہونے اور نماز ادا کرنے کے بعد پھر اسی ستون سے خود کو باندھ لیتے۔

ساتویں دن جب اللہ کے رسولﷺ سیدہ ام سلمہ کے گھر میں تشریف فرما تھے، سحر کے وقت آپ پر سیدنا ابولبابہ کی توبہ کی قبولیت کے سلسلے میں آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ آپ ہنس رہے تھے۔ سیدہ نے عرض کی :

مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ

اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے ہنس رہے ہیں، اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے؟ فرمایا: ابولبابہ کی توبہ قبول کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر آپ ان پر یہ آیت نازل ہوئی۔

﴿وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾

’’اور دوسرے لوگ جنہوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیا ۔ وہ ملے جلے عمل کرتے رہے، کچھ اچھے اور کچھ برے، امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے کیونکہ وہ بخشنے والا اور بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔‘‘(سورة التوبہ: 102)

سیدہ ام سلمہ بیان فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: أفلا أبشره یا رسول الله؟) اللہ کے رسول! کیا میں انہیں یہ خوش خبری نہ دے دوں؟، فرمایا: ( بلى إن شئت) ” کیوں نہیں ! اگر تم چاہو تو ایسا کر سکتی ہو۔‘‘

سیدہ اسی وقت اپنے تجرے کے دروازے کے سامنے کھڑی ہو گئیں، اس وقت تک مسلم خواتین کے لیے پردہ کرنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے زور سے آواز دی : ابولبابہ ! خوش ہو جاؤ، اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرمالی ہے ۔ لوگ ابولبابہ کی طرف دوڑ پڑے تا کہ وہ انہیں رسیوں سے آزاد کر دیں مگر انہوں نے سب کو منع کر دیا۔فرمایا: کوئی مجھے کھولنے کی کوشش نہ کرے جب تک خود اللہ کے رسول ﷺ اپنے دست مبارک سے مجھے اس قید سے آزاد نہ کریں۔ تھوڑی دیر بعد جب اللہ کے رسول ﷺ نماز فجر کے لیے مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے بنفس نفیس سیدنا ابولبابہ کو اس قید سے آزاد فرمایا۔

آیئے اب بنو قریظہ کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ

ابولبابہ کی واپسی کے بعد ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔ بنو قریظہ کے پاس اسلحہ اور سامان خورد ونوش کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ ایک لمبے عرصے تک محاصره برداشت کر سکتے تھے اور مسلمان کھلے میدان میں سخت سردی میں موسم کے جھٹکے برداشت کر رہے تھے، لیکن سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا زبیر بن عوام نے ان کے قلعوں پر چڑھائی کا عزم مصمم ظاہر کیا تو وہ خوفزدہ ہو گئے ۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور نہایت عجلت میں انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ اللہ کے رسول علم کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ جب وہ قلعوں سے نیچے اتر آئے اور خود کو مسلم فوج کے حوالے کر دیا تو اول کے لوگ ان آنے عرض کرنے لگے: يا رسول اللہ! یہ قریظہ والے ہمارے پرانے حلیف ہیں۔ ان سے پہلے خزرج کے حلیف بنو قینقاع کے بارے میں آپ جو فیصلہ فرما چکے ہیں وہ آپ کو معلوم ہی ہے۔

قارئین کرام ! وہ معاملہ اس طرح پیش آیا تھا کہ بنو قینقاع جب قلعوں سے اترے تو عبد اللہ بن ابی نے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ کے رسول سے حاصل کرلیا۔ عبد اللہ بن اُبی نے انہیں مدینہ سے نکل جانے کے لیے کہا اور وہ لوگ مدینہ سے چلے گئے۔ یہ واقعہ 2 ہجری میں پیش آیا تھا۔

اب بنو قریظہ کا مسئلہ پیش آیا اور اوس نے ان کی سفارش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اس کے پیارے ساتھیو! کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ بنوقریظہ کے مستقبل کا فیصلہ تمہی میں سے ایک شخص کردے؟‘‘ کہنے لگے :

’’کیوں نہیں اللہ کے رسول! ہم دل و جان سے راضی ہیں۔‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ان کا فیصلہ تمہارے سردار سعد بن معاذ کریں گے۔ ‘‘

سعد بن معاذ کو غزوہ خندق کے دوران بازو کی بڑی رگ میں ایک تیر لگا تھا ۔ وہ ان دنوں مسجد نبوی کے جوار میں بنو اسلم کی ایک خاتون رفیدہ کے خیمے میں زیر علاج تھے۔ یہ خاتون اللہ تعالیٰ سے اجر لینے کے لیے مسلمان زخمی فوجیوں کا مفت علاج کیا کرتی تھی۔ جب سعد زخمی ہوئے تو اللہ کے رسول نے بذات خود یہ حکم جاری فرمایا : انہیں رفیدہ کے خیمے میں زیر علاج رکھو، تا کہ میں قریب رہ ان کی کر ان کی خبر گیری کرسکوں۔

جب اللہ کے رسول نے انہیں بنو قریظہ کے معاملے کا فیصل بنا دیا تو اوس کے لوگ آئے اور انہیں تکلیف کے با وجود ایک گدھے پر سوار کر کے بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے سواری پر ایک نرم تکیہ ان کے ٹیک لگانے کے لیے ساتھ لے لیا۔ راستے بھر اوس کے لوگ انہیں تلقین کرتے رہے کہ اپنے حلیفوں کے بارے کوئی اچھا اور نرم فیصلہ کرنا ۔ وہ یہ بھی کہتے رہے: اللہ کے رسول نے آپ کو اس لیے معاملے کا امیج بنایا ہے کہ ان کے بار ے میں کوئی اچھا فیصلہ ہو سکے۔ سعد سنتے رہے حتی کہ جب ان کا تقاضا شدت اختیار کر گیا تو فرمانے لگے:

’’وہ وقت آن پہنچا ہے کہ جب سعد کو اللہ کے دین کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہو۔‘‘

مطلب یہ تھا کہ سعد ایسا فیصلہ کرے گا جس سے الله راضی ہو، لوگ چاہے کچھ بھی کہتے رہیں۔ چلتے چلتے سعد کی سواری بالآخر بنو قریظہ بن گئی۔ آپ نے ساتھیوں سے فر مایا:

«قُوْمُوْا إِلَى سَيِّدِكُمْ»

’’اٹھو! اپنے سردار کو آرام سے سواری سے اتار لاؤ۔‘‘ جب سعد سواری سے اتر ے تو استقبال کرنے والے صحابہ کرام ان سے کہنے لگے : ابوعمرو! اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کو اس قضیے کا منصف بنایا ہے۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے اس پر من وعن عمل ہوگا۔ سعد سواری سے اترے، تھوڑی دیر آرام کیا، بنو قریظہ کے معاملے کا پوری گہرائی سے جائزہ لیا اور پھر فرمانے لگے: ساتھیو!سنوان غداروں کے بارے میں میرا فیصلہ ہے کہ ان کے تمام مردوں کوقتل کردیا جائے بچوں اور خواتین کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے تمام ہتھیاروں ، قلعوں اور مال ودولت پر اسلامی لشکر کے مجاہدین قبضہ کر لیں۔

سعد کے دور کے تاریخی فیصلے پر خراج تحسین

رسول اللہ ﷺ نے سعد کے اس تاریخی فیصلے پر ان الفاظ میں ان کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

«لَقَدْ حَكَمْتَ فيهم بحُكْمِ اللهِ عزوجل وَحُكْم رَسُوْلِه»

’’تم نے بالکل وہی فیصلہ کیا جو اللہ تعالیٰ چاہتا تھا اور جو اس کا رسول چاہتا تھا۔‘‘

اب ان تمام قیدی مردوں کو اور عورتوں کو مدینہ لایا گیا۔ مدینہ میں ان قیدیوں کو بنونجار کی ایک خاتون بنت حارث کے گھر میں قید کر دیا گیا۔ ان میں کفر کے بڑے بڑے سرغنے، حیی بن أخطب اور کعب بن اسد جیسے سرداران قوم بھی شامل تھے۔ آپﷺ اگلے روز مدینہ کے بازار کی طرف تشریف لائے۔ وہاں ان کے لیے زمین میں خندقیں کھدوائیں اور حکم دیا کہ یہودی قیدیوں کو 10، 20، 20 کے گروپوں میں ان خندقوں کے پاس لایا جائے۔ جب یہ گروپ روانہ ہوتا تو یہ اپنے سردار کعب بن اسد سے پوچھتے :

ہمارا انجام کیا ہونے جا رہا ہے؟ کہنے لگا: تم لوگوں کو کسی بھی موقع پر عقل نہیں آتی۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ بلانے والا کسی کو چھوڑتا نہیں اور تم میں سے جو جا رہا ہے وہ لوٹ کے آ نہیں رہا۔ اللہ کی قسم! یہ سوائے قتل کے اور کچھ نہیں۔ تمام یہودی قیدیوں کو باری باری خندقوں کے قریب لا کر قتل کر کے انہی خندقوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ مرد قیدی قریبا700 کی تعداد میں تھے۔

حیی بن اخطب کو قتل کرنے کے لیے لایا گیا تو اس کے دونوں ہاتھ گردن کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ اس نے ایک شاندار ریشمی حلہ زیب تن کیا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ کی طرف دیکھ کر کہنے لگا: محمد! مجھے آپ کی مخالفت پر کوئی افسوس نہیں ۔ اللہ جسے خوار کرنا چاہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے حکم پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ بنو اسرائیل کا یہ انجام تقدیر الٰہی کے فیصلے کے عین مطابق ہے۔ ہم ان کی تقدیر پر راضی ہیں ۔ پھر زمین پر بیٹھ گیا اور اس کی گردن اڑا دی گئی۔

مردوں کے ساتھ ساتھ ایک یہودی عورت کا قتل

یہودی خواتین قیدیوں میں سے ایک عورت کو بھی قتل کیا گیا۔ یہ بہت مزاحیہ طبیعت رشتی گی۔ یہ سیدہ عائشہ کے پاس بیٹھی تھی اور ہنسی مذاق کی باتیں کر کر کے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔ اچانک اس کا نام پکارا گیا کہ فلاں عورت کہاں ہے؟ کہنے لگی: میں یہاں ہوں۔

ام المومنین کہتی ہیں: میں نے پوچھا: تمہارا نام کیوں پکارا گیا ہے؟ کہے گی: مجھے قتل کیا جائے گا۔ میں نے کہا: کس لیے؟ کہنے لگی:

’’ میں نے ایک جرم ایسا کر لیا تھا جس کی سز قتل ہے۔ اس کی بھی گردن اڑا دی گئی ۔‘‘

اس موقعے پر یہ تنہا عورت تھی جو قتل کی گئی۔ اس کے سوا کسی عورت کو قتل نہیں کیا گیا۔

سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں:

’’اللہ کی قسم! اس کی خوش مزاجی، لطیفہ گوئی اور ہنسی مذاق والی طبیعت مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ اس خاتون کا نام بنانہ تھا اور اس کا جرم یہ تھا کہ اسی نے غزوہ بنو قریظہ کے واحد شہید سید نا خلاد بن سويد پر ایک قلع کی چھت سے چکی کا پاٹ گرا دیا تھا جس سے وہ شہید ہو گئے تھے۔ ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’خلاد کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں