سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

آکشن کا ایک معاملہ

سوال: عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں جب کسی گھر کو آکشن کے ذریعہ فروخت کیا جاتا ہے تو بعض متمول لوگوں کی طرف سے اسے کم قیمت پر حاصل کرنے کے لیے ایک مخفی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ آکشن میں شرکت کے لیے آتا ہے لیکن خفیہ طریقے سے کئی دوسرے ایسے لوگوں کو جو اس گھر کی خرید میں دلچسپی رکھتے ہیں، کچھ دے دلا کر بولی لگانے سے روک دیتے ہیں تاکہ گھر کی قیمت میں اضافہ نہ ہو سکے اور اس طرح وہ اس گھر کو اس کی اصلی قیمت سے کم میں خریدنے پر قادر ہو جاتا ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:اصل تو یہ ی ہے کہ آکشن کی بیع جائز ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس عمومی قول کے اندر آ جاتی ہے:

﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾( البقره: 275)

’’اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔‘‘

احادیث سے صراحۃً اس کا جواز ثابت ہے۔

سیدنا انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک اونٹ کی کمر پر رکھنے والا پالان اور ایک پیالہ فروخت کرنے کے لیے لوگوں سے کہا: کون ہے جو یہ پالان اور پیالہ خریدنا چاہتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں اسے ایک درہم میں خریدتا ہوں، نبیﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ایک درہم سے زیادہ دینا چاہتا ہے؟

تو ایک شخص نے اس کے دو درہم لگائے تو نبیﷺ نے اسے اس کے ہاتھ بیچ دیا۔ (احمد ، سنن اربعہ)

اس بیع کے جو از کی شرط یہ ہے کہ وہ چیز جو فروخت کی جا رہی ہے حلال ہو اور بولی لگانے والا اسے خریدنے کی نیت رکھتا ہو، صرف اس لیے نہ شریک ہو رہا کہ قیمت میں اضافہ ہوتا رہے، اسے ’نجش‘ کہا جاتا ہے جس سے نبیﷺ نے منع فرمایا ہے:

«لَا تَحَاسَدُوا، ولَا تَنَاجَشُوا» (صحیح مسلم)

’’آپس میں حسد نہ کرو اور نہ ہی (قیمت بڑھانے کی نیت) سے بولی لگاؤ۔‘‘

اور اس میں یہ صورت بھی آ جاتی ہے کہ ایک شخص کے مفاد کے لیے کوئی دوسرابولی نہ لگائے تو یہ ناحق مال کو حاصل کرنے کی ایک قسم ہو گی۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ جب عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ایک شخص کی املاک کو محجوز (روک دیا جانا) کر دیا جاتا ہے اور پھر انہیں قرض خواہوں کا قرض ادا کرنے کی نیت سے آکشن میں لایا جاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بولی کے دوسرے یا تیسرے راؤنڈ میں اس گھر پر لگی ہوئی بولی اس کی اصل قیمت سے کافی نیچے گر جاتی ہےاو رجس طرح یہ جائز نہیں کہ ایک شخص آکشن میں صرف قیمت بڑھانے کے لیے شریک ہو، اس طرح یہ بھی جائز نہیں کہ ایک شخص گھر کو کم قیمت پر حاصل کرنے کے لیے دوسرے خریداروں کو کچھ دے دلا کر انہیں بولی لگانے سے روک دے، اس میں اس شخص کا بہت بڑا نقصان ہو گا جو اپنا گھر اس لیے بیچنے پر مجبور ہے کہ وہ قرض خواہوں کا قرض ادا کر سکے، اور خود قرض خواہوں کا بھی نقصان ہے کہ جو اپنا پورا حق حاصل نہ کر پائیں گے۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے:

«لا ضَرَرَ ولا ضِرَارَ» (سنن ابن ماجہ، الحاکم، البیہقی)

’’نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ کوئی تمہیں نقصان پہنچائے۔‘‘

تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ کسی شخص کے لیے مذکورہ راستہ اختیار کرنا ناجائز ہے کہ جس سے وہ دوسروں لوگوں کو آکشن میں شمولیت سے روک دے اور خود اس کے لیے بھی اس طریقے سے کسی مال کو حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ واللہ اعلم (فتویٰ کونسل یورپ)

گاڑیوں کو اقساط پر خریدنا

سوال: گاڑی (موٹر کار) کو خریدنے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ سودا تو کمپنی کے ساتھ کیا جائے، مثال کے طور پر گاڑی کی قیمت تیرہ ہزار یورو ہے، لیکن کمپنی کے توسط سے ایک بنک کمپنی کو تیرہ ہزار یورو کی رقم ادا کر دے، لیکن بنک اس کی قیمت سولہ ہزار لگائے جو پانچ سال کے عرصہ میں ماہانہ اقساط کی شکل میں قابل ادائیگی ہو گا تو کیا ایسا کرنا جائز ہو گا؟

جواب:یہاں واضح طور پر خریدار اور کمپنی کے درمیان ایک بنک ہے جس سے کمپنی کو رقم دلوائی جا رہی ہے۔ بنک کمپنی کو اصل قیمت ادا کر دیتا ہے لیکن خریدار کو یہ ر قم بمع سود بنک کو ادا کرتا ہے۔ یہ تو وہی قرض ہوا جو کہ منافع کما کر دے رہا ہے، اور اسے ہی سود کہا جاتا ہے ، جس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرہ: 275)

’’اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘

اور پھر ارشاد فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ‎0‏ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ (سورۃ البقرہ: 278۔279)

’’اے ایمان والو! اللہ سےڈرو، اور جو سود (تمہارے ذمے) باقی ہے، اسے چھوڑ دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو، اگر تم ایسا نہ کرو ے تو پھر اللہ اور اس کےر سول کی طرف سے تمہیں اعلان جنگ ہے، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ لینا جائز ہے اور (اس طرح) نہ تم ناانصافی کرو اور نہ تم پر ناانصافی کی جائے۔‘‘ علامہ ابن عبد البر﷫ کہتے ہیں:

’’ہر قرض میں کوئی بھی اضافہ یا علیحدہ سے کوئی منفعت کہ جس سے قرض خواہ فائدہ حاصل کرے، چاہے وہ ایک مٹھی چارہ ہی کیوں نہ ہو، سود ہے، اور اگر وہ اس سودے میں بطور شرط کے ہو تو وہ بالکل ناجائز ہے۔‘‘

ایسا معاملہ چاہے وہ گاڑی کی خرید کے لیے ہو یا کسی اور چیز کےلیے، بالکل حرام ہے، البتہ اگر تم گاڑی خریدنے پر مجبور ہو یعنی گاڑی کےبغیر تمہیں اور تمہارے اہل وعیال کو آنے جانے میں بہت مشقت لاحق ہوتی ہو، اور تم گاڑی خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہو یعنی نہ تمہارے پاس کوئی اپنی جمع پونجی ہے اور نہ ہی کوئی قرض حسنہ دینے پر آمادہ ہے تو ایسی صورت میں ضرورت کی بنا پر تم اس صورت کو اختیار کر سکتے ہو۔

البتہ اگر تمہارا سودا کمپنی کےساتھ بلاواسطہ ہو اور کمپنی تمہیں وہ گاڑی قسطوں پر دینے پر آمادہ ہو اور اس وجہ سے وہ اسی گاڑی کو بجائے 13 کے 16 ہزار یورو پر فروخت کر رہی ہو تو ایسا کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ ایک مقررہ قیمت پر سودا کیا گیا ہے اور راجح قول کے مطابق اسے سود نہیں قرار دیا گیا۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

ڈلیوری سے متلق مسئلہ

سوال: میرا کام یہ ہے کہ میں ايمازون کمپنی میں کام کرتا ہوں اور خریداروں کے پتوں پر ان کی خرید کردہ چیزوں کے پارسل ؍پیکٹ پہنچاتا ہوں اور یہ ضروری نہیں کہ یہ چیزیں ساری کی ساری حلال ہوں، اس میں بعض دفعہ حرام مواد جیسے جنسی فلمیں، یا کھیل بھی ہو سکتے ہیں تو کیا یہ کام میرے لیے جائز ہے؟

جواب: اصل میں تو آپ کا کام خرید کردہ چیزوں کو ان کے خریداروں تک پہنچانا ہے اور اگر کمپنی کا سارا یا زیادہ تر کام حرام چیزوں سے متعلق ہے تب تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن اگر حرام مال شاذ ونادر ہو یا اس کی نسبت بہت کم ہو یا اس بات کا امکان ہو کہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جنہیں خریدار کسی حرام کام میں استعمال کر سکتے ہیں تو یہ آپ کے اصل کام کو حرام قرار نہیں دے سکتا اس لیے کہ جو چیزیں شاذ ونادر پائی جاتی ہو تو اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا، اور اسی طرح کوئی ایسی چیز جو بذات خود حلال ہے لیکن خریدار اسے حرام کام میں استعمال کرتا ہے تو آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

پبلک جگہوں پر عورت کے لیے ورزش کرنا

سوال: عورت کے لیے عمومی طور پر ورزش کرنا کیسا ہے؟ اور خاص طور پر وہ ورزش جو پبلک مقامات پر کی جائے؟

جواب: ورزش کے بے شمار فائدے ہیں، صحت، عقل اور نفس انسانی کے لیے، اس لیے اس کے کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں، ایک عورت اپنے گھر میں ورزش کر سکتی ہے، پبلک مقامات سے اسے بچنا چاہیے، لیکن اگر اس کے سوا چارہ نہ ہو تو وہ پبلک مقامات پر جا سکتی ہے بشرطیکہ وہاں وہ محفوظ ہو، وہاں کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہو جس سے کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہو، اور یہ کہ ستر وحجاب کی پابندی کرے، ایسا تنگ لباس نہ پہنے جس سے جسم نمایاں ہو یا پوشیدہ مقامات کا حجم نمایاں ہو، وہ ہر صورت شرم وحیا کا لحاظ رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ خاندان کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں، اس میں کوتاہی نہ آئے۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

بورکینی پہن کر ایک عورت کے لیے تیراکی کرنا

سوال: بورکینی( مسلمان عورت کے لیے تیراکی کا مخصوص لباس) پہن کر ، کیا ایک عورت اس تالاب میں تیراکی کر سکتی ہے جہاں تیرنے والوں کی حفاظت کے لیے ایک مرد محافظ کے طور پر موجود رہتا ہے؟

جواب: ایک مسلمان عورت تیراکی کے لیے کسی ایسے تالاب کو تالاش کرے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہو اور جہاں پر کوئی محافظ عورت ہی مقرر ہو، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسےبہر صورت تیراکی کے لیے وہ لباس پہننا چاہیے جو ستر کے شرائط پوری کرتا ہو، اسے ان تمام جگہوں سے بچنا چاہیے جہاں مردوں کی موجودگی ہو، اور جہاں تک بورکینی کا تعلق ہے تو یہ لباس اپنی وسعت، تنگی، کثافت اور شفافیت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے تو اسے وہی لباس پہننا چاہیے جو ستر کے شرائط پوری کرتا ہو۔ اور اگر عورتوں کے لیے کوئی تالاب مخصوص کر دیا جائے لیکن حفظ اور امان کی خاطر وہاں مرد کی موجودگی انتظامیہ کی طرف سے ضروری قرار دی جائے تو انتظامیہ سے مطالبہ کیا جائے کہ وہاں بجائے مرد کے کسی ایسی عورت کو مقرر کیا جائے جو اس کام میں مہارت رکھتی ہو۔

یورپ میں کام کا کوئی ایسا میدان باقی نہیں ہے جہاں عورت کا دخل نہ ہو اس لیے کسی محافظ عورت کا دستیاب ہونا کوئی مشکل نہ ہو گا۔

شرم وحیا کا تقاضا ہے کہ ایک مسلمان عورت اس وقت تک صبر سے کام لے جب تک کہ ایسی محافظ خاتون دستیاب نہ ہو جائے اور وہ اس لیے کہ تیراکی اتنی ضروری چیز نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے ایک مسلمان عورت ستر وحجاب کے لوازمات کو قربان کر دے۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

کورونا وباء کے علاج ے لیے انجکشن لگانا

سوال: کئی مسلمان یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا کورونا سے بچنے کےلیے انجکشن لگوانا جائز ہے؟ اور یہ سوال اس لیے کیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بات کثرت سے گردش کر رہی ہے کہ یہ انجکشن حرام ہے۔

جواب: کسی بھی انجکشن میں بصورت علاج حرمت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ اگر اس انجکشن میں الکحل، سؤر یا مردہ خلیوں جیسے حرام مواد بھی شامل ہوں تو وہ کیمیاوی طور پر استحالہ کے عمل سے گذرتے ہیں۔ یعنی کہ وہ ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھر اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ وہ کھائے جا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں پیا جا رہا ہے کہ جسے حرام قرار دیا گیا ہے۔

انجکشن کے حلال اور حرام ہونے میں مصلحت اور مفاسد کا اعتبار کیا جائے گا یعنی یہ کہ کسی مخصوص انجکشن کے لگانے میں صحت حاصل ہو گی یا اس کے لگانے سے مضرّ اثرات پیدا ہوں گے؟ اور اب تک کی طبی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اس مخصوص انجکشن سے لوگ اس وباء سے محفوظ ہوئے ہیں یا کورونا وائرس کے مضر اثرات بہت حد تک کم ہوئے ہیں کہ جن کی شدت بعض دفعہ مریض کی وفات کا باعث ہوتی ہے اور اس کے مقابلے میں اس انجکشن کے ضمنی آثار (سائڈ ایفکیٹ) بہت کم واقع ہوئے ہیں۔

لیکن ہم یہ کہے بغیر نہ رہیں گے کہ مزید طبی تحقیقات سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ بعض حالات اور عمر کے بعض حصوں میں اس انجکشن کے مضر اثرات بھی ظاہر ہوئے اور اس کا مطلب ہے کہ طبی سائنس کے اداروں کو اس ضمن میں مزید تحقیق کرنی چاہیے اور مطلوبہ دوا کو اس معیار پر لے آنا چاہیئے کہ اس انجکشن کے مضر اثرات یا تو بالکل ختم ہو جائیں یا ان میں شدت سے کمی پیدا ہو جائے جیسا کہ تمام دوسرے معروف انجکشن کی روایت ہے۔ واللہ اعلم (فتویٰ کونسل یورپ)

تبصرہ کریں