سوالات کے جوابات-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

آج کی نشست کے ہمارے سوالات اور جوابات فتوی کمیٹی برطانیہ کے اجلاس منعقدہ 6 مارچ 2024ء زیر بحث آئے :

شراب والے ریسٹورنٹ میں کام کرنے کا حکم

سوال: میں ایک ایسے ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہوں جس میں شراب بھی پیش کی جاتی ہے،کیا یہ عمل ناجائز تصور ہوگا ؟

جواب : اللہ تعالیٰ نے شراب کو نص قطعی کے ساتھ حرام قرار دیا ہے، فرمایا:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ ﴾(سورۃ المائدہ: 90)

’’اے ایمان والو! بے شک شراب، جواء، غیر اللہ کے نام پر قربانی کے استھان اور جوتے کے تیر ناپاک ہیں، شیطان کے کام میں سے ہیں تو ان سے بچو۔‘‘

نبی کریمﷺ نے اس بارے میں شدید وعید کا ذکر کیا ہے، جواس کی حرمت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔ فرمایا :

«كل مسكر حرام»

’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘

«و إن على الله عهدا لمن يشرب المسكران يسقيه من طينة الخبال»

’’اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ عہد کیا ہے کہ جو بھی نشہ آور چیز پیئے گا اُسےوہ ’خبال‘ کی مٹی پلائے گا۔

قالوا يا رسول الله(ﷺ)! وماطينة الخبال؟

صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! یہ خبال کی مٹی کیا ہوتی ہے؟

قال: عرق أهل النار أو عصارة أهل النار

’’کہا : جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کی پیپ۔‘‘

بنیادی بات یہی ہے کہ شراب سے ملا جلا ہر کام حرام ہے ، سائل کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی دوسرا پاک اور صاف کام تلاش کرے اور اگر ایسا مشکل ہو تو پہلے تو مالک دکان سے درخواست کرے کہ اُسے شراب پیش کرنے سے استثناءدیا جائے یا کسی دوسرے غیر مسلم کام کرنے والے سے درخواست کی جائے کہ شراب سے متعلق تمام خدمات وہ سر انجام دیتا رہے اور آپ خود باقی دوسرے کام کرتے رہیں کہ جن میں کوئی شبہ نہیں ، اور اگر ایسا کرنا بھی نا ممکن ہو اور آپ کے پاس فی الحال دوسرا کوئی کام نہ ہو تو فی الحال کام میں لگے رہیں لیکن دوسرے حلال کام کی تلاش میں مصروف رہیں تاکہ جونہی ایسا کوئی کام مل جائے تو یہ ملازمت چھوڑ دیں ۔

فوریکس کی تجارت کا حکم

سؤال : فوریکس کی تجارت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مجھے اس لئے بھی اشتباہ ہے کہ غیر ملکی کرنسی کے کاروباری کمپنی جو قرض دیتی ہے تاکہ آپ کا منافع زیادہ سے زیادہ ہو سکے اور جسے LEVERAGE کہا جاتا ہے ، وہ حقیقی سودے کے ضمن میں نہیں آتا ؟

جواب: فوریکس کی تجارت بروکرز کے ذریعے کی جاتی ہے جو آپ کے لئے آن لائن اکاؤنٹ کھولتے ہیں ۔ آپ ایک معمولی رقم بطور ڈپازٹ ادا کرتے ہیں اور کمپنی کی طرف سے آپ اس رقم کا دس گنا کاروبار میں لگا سکتے ہیں، جیسے کے LEVERAGE نے کہا جاتا ہے۔

علماء اس تجارت کے بارے میں انشراح صدر نہیں رکھتے کیونکہ اس زمانے میں جب کہ سود کے بغیر کوئی معاملہ تجارت آگے نہیں بڑھتا ہے، اتنے بڑے پیمانہ پر آزاد قرضہ کیسے دیا جا سکتا ہے ؟ اس لیے عمومی طور پر یہی رائے متداول ہے کہ فوریکس تجارت شریعت کے مطابق نہیں ہے۔

بحرین کی AAOIFI کمیٹی کرنسی کی تجارت کے سلسلے میں معیارات ( STANDARDS ) کا تعین کر چکی ہے ، اس کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سود کے پیسوں سے مسجد کی تعمیر

سوال : ہماری مسجد کی عمارت ان عمارات میں داخل ہے، جنہیں ایک قومی ورثہ کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے، اور اس لیے ہمیں ٹھیک ٹھاک رکھنے کے لئے کافی رقم کی ضرورت ہے ، ہمیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ہم یہ رقم اسکاٹش ہیر یٹیج (ورثہ اسکاٹ لینڈ) سے بطور امداد حاصل کر سکتے ہیں، ہمیں اس بات کا بھی علم ہے کہ مذکورہ ادارے کو نیشنل لاٹری سے فنڈز بھی مہیا کئے جاتے ہیں، کیا ہم اس ادارے سے گرانٹ حاصل کرنے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں ، کیا ایسا کرنا اسلامی لحاظ سے جائز ہوگا ؟

جواب: قومی ورثہ کی لسٹ میں شامل عمارتوں کی تزئین و آرائش نہ صرف مالکان بلکہ دوسرے اہالیان مملکت کی ذمہ داری میں بھی شامل ہے اور اس لحاظ سے آپ کے لئے جائز ہوگا کہ آپ مذکورہ ادارے سے اس مقصد کے لئے گرانٹ کی درخواست دیں ۔ کونسل اور گورنمنٹ اداروں کی آمدنی مختلف مدات سے حاصل ہوتی ہے۔ اور یوں جب یہ رقم مذکورہ ادارے تک پہنچتی ہے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے جسے ہاتھ بدلنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، جیسے کیسی رفاہی ادارے کو کوئی شخص وہ سود کی رقم بطور عطیہ دیتا ہے۔ جو اسے بنک میں اپنے ڈپازٹ پر حاصل ہوئی تھی ، اب یہ رقم اس رفاہی ادارے کی ملکیت میں ہے ، اور اگر یہ رفاہی اداره کسی نادار شخص کو یا کسی خیراتی کو یہ رقم بطور گرانٹ دیتا ہے تو اس شخص یا تنظیم کے لئے یہ پیسہ جائز ہو گا۔ بہر حال چونکہ اس معاملے میں تھوڑا بہت اشتباه پایا جاتا ہے،اس لیے فتوی یہ دیا گیا ہے کہ ایسی گرانٹ کو قرآن کی طباعت اور مساجد کی تعمیر کے لئے استعمال نہ کیا جائے ۔ کیونکہ یہ دونوں کام ایسے ہیں کہ ان میں خالص وہ رقم لگائی جا سکتی ہے جو بالکل پاک و صاف ہو اور اس میں کوئی اشتباه نہ ہو۔

بزنس کمپنی سے 3 سال کا معاہدہ اور زکاۃ کا حکم

سوال: میں اپنا بزنس شروع کرنا چاہتا ہوں اور بہتر منافع کے لیے میں ٹیکس پلان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں ۔ میری تجارتی اسکیم کا خاکہ یوں بنے گا کہ میں تین سال تک کوئی منافع نہ لوں گا اور اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ٹیکس 30 فیصد سے کم ہو کر صرف 15فیصد رہ جائے گا ، تین سال تک تو منافع کمپنی کے نام تھا لیکن اس کے بعد میں خود اس منافع کا مالک بن جاؤں گا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا مجھے پہلے تین سال کے منافع پر زکاۃ ادا کرنا ہوگی یا نہیں ۔ کیونکہ یہ منافع کمپنی کا تھا اور میں نے اس میں سے کچھ اپنے لئے نہیں لیا تھا ؟

جواب: جو منافع تین سال تک جمع ہوتا رہا ، وہ آپ ہی کی آمدنی سمجھا جائے گا ، اور جب آپ اسے وصول کر لیں گے تو آپ کو تین سال کی زکاۃ ادا کرنا ہوگی ۔

غیر مسلم ملکوں میں بنکوں کی شرائط کی پاسداری کا حکم

سوال: مذکورہ سوال کی دوسری شق یہ ہے کہ میں بحیثیت مالک اور ڈائریکٹر، کمپنی کے اکاؤنٹ سے 50 ہزار یورو کا قرض شخصی طور پر اپنے لئے لوں گا۔ گورنمنٹ کے قوانین و ضوابط کے اعتبار سے اس پر سود کی ادائیگی لازم ہوگی، یعنی جب میں یہ قرضہ کمپنی کو واپس کروں گا تو اس پر مقررہ سود بھی ادا کرنے کا پابند ہوں گا۔

فرض کیجیے کہ سود کی شرح 5فیصد رکھی گئی ہے تو مجھے 50 ہزار یورو پر 2500 یورو سود ادا کرنا ہوگا ، اور ایسا کرنا اس لئے لازم ہے تاکہ گورنمنٹ اس رقم پر ٹیکس وصول کر سکے، اگر میں سود ادا نہ کروں گا تو یہ فراڈ شمار ہوگا کیا ایسا کرنا جائز ہوگا ؟

تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ رقم میری ملکیت ہی میں رہی تھی ، حکومت سود کی ادائیگی کو لازم قرار دے کر اس پر ٹیکس حاصل کرنا چاہتی ہے۔

جواب: آب حکومتی قواعد و ضوابط کی بنابر اپنی ہی کمپنی کو سود ادا کر رہے ہیں، ا سے حسابات کو درست رکھنے کيلئے ایک قسم کی موافقت (ADJUSTMENT) سمجھا جائے گا اور اس لحاظ سے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

مرتد کی وراثت کا حکم

سوال: ایک شخص وفات پا گیا اور اس نے اپنے پیچھے بیوی (جو کتابیہ ہے) اور 2 مسلمان بیٹے چھوڑے ہیں۔ ترکہ کی تقسیم سے پہلے بیوی مسلمان ہو جاتی ہے اور ایک بیٹا مرتد ہو جاتا ہے تو ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟ یعنی ورثہ کی حالت کا اعتبار بوقت موت کا ہوگا یا نہیں؟

جواب : اصل قاعدہ تو یہ ہے کہ مورث کی وفات کے وقت ورثہ میں سے جو مسلمان تھا، وہ حصہ پائے گا اور جو غیر مسلم تھا اُسے حصہ نہ ملے گا لیکن یہاں بحث و تمحیص کے بعد مقاصد شریعت کا لحاظ رکھا گیا ہے ، اور یورپین کونسل برائے فتوی اور تحقیق کے اس فتوی کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے، جس میں ایک مسلمان اولاد کو اپنے کا فربا پ سے حصہ دلوایا گیا ہے، بشرطیکہ والد کا فر حربی نہ ہو اور اس بنا پر کمیٹی اس بات کو جائز سمجھتی ہے کہ بیوی کو اسلام لانے کی بنا پر حصہ دیا جائے ، اور جو بیٹا مرتد ہو گیا ہے اُسے حصہ وراثت سے محروم کیا جائے۔ واللہ اعلم

٭٭٭

مولانا شیر خان جمیل کے والد کا انتقال

مولانا شیر خان جمیل احمد عمری کے والد حاجی شیر خان اسحاق 90 سال کی عمر میں ضلع کرناٹک کے شہر دھونی میں وفات پا گئے۔إنا للہ وإنا إلیه راجعون

وہ اپنے علاقہ کے لینڈلارڈ تھے۔ الہ نے دولت کے ساتھ دل بھی دیا تھا۔ مساجد ومدارس اور کیمونٹی کی مدد کرتے تھے۔ مہمان نواز اور سخی تھے۔ شیر خان اسحاق مرحوم کی اچانک وفات پر دل بے انتہا مغموم ہو گیا، آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔

مرحوم ہر نماز کی اذان سے قبل مسجد میں آ جایا کرتے اور کئی بار خود اذان دیتے تھے، بڑے تہجد گزار اور راتوں میں آپ کے کمرہ سے قرآن مجید پڑھنے کی آواز آتی تھی۔ بڑی عظیم المرتبت اور اعلیٰ اخلاق وکردار سے متصف تھے، ان کی مسجد میں آنے والا ہر سفیر مرحوم کا مہمان ہوتا تھا، ہر جمعہ امام مسجد اور دیگر علماء کا ظہرانہ آپ کے گھر پر ہوتا، ہمیشہ امام کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ اپنی پیرانہ سالی اور ناساز طبیعت کے باوجود دروس یومیہ اور دیگر جویل دینی پروگراموں میں بھی پوری پابندی کے ساتھ شرکت کرتے، بطور خاص مرحوم ہر ایک سے خیر خیریت دریافت کرتے اور پریشان پاتے تو ہر ممکنہ مساعدہ فراہم کرنے کی کوشش کرتے، بڑی اللہ والی شخصیت تھی، زندگی میں ایسی شخصیت بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ ان کی وفات کی خبر سن کر مولانا شیر خان جمیل احمد عمری فوری انڈیا میں ادھولی کرناٹک اسٹیٹ چلے گئے ہیں۔ برطانیہ میں مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا شعیب احمد میرپوری، برادر عجائب خان، ڈاکٹر بہاؤ الدین محمد سلیمان، مولانا حئی عبد الحق مدنی، مولانا عبد الباسط العمری، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور بہت سے علماء ومشائخ نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین (ڈاکٹر عبد الرب ثاقب)

تبصرہ کریں