سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: ایک خاتون کا سوال ہے کہ میری پہلی بچی جواب ڈھائی سال سے زیادہ کی ہو چکی ہے، اسے میں نے دو سال اپنا دودھ پلایا ہے لیکن وہ دوسرے کسی بھی قسم کے دودھ جیسے گائے، بکری بھینس کے دودھ سے شدید الرجی رکھتی ہے، اب صورتحال یہ ہے کہ میری دوسری بچی اب میرا دودھ پی رہی ہے لیکن یہ اس کثرت سے پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مجھے زائد دودھ کو بذریعہ پمپ نکال کر ضائع کر دینا چاہیے، کیا اس سے بہتر یہ نہیں ہے کہ میں اس زائد دودھ کو کپ میں ڈال کر اپنی پہلی بچی کو پلا دوں، جو اس کے لیے قدرتی کیلشیم کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ چونکہ مدت رضاعت صرف دو سال ہے اس لیے کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز ہو گا؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ دو سال سے زیادہ دودھ پلانا نا جائز نہیں ہے۔ اکر بچہ دو سال کے بعد بھی دودھ پینے کا خواہشمند ہو تو اسے دودھ پلانے میں قطعاً کوئی حرج نہیں ، جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دے۔

اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں تو مدت رضاعت دو سال بتائی گئی ہے:

﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾

’’ اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں اس شخص کے لیے جو رضاعت کی پوری مدت (دودھ پلوانا چاہتا ہوں۔) (سورة البقرة: 233)

یہ آیت طلاق کے احکامات کے ضمن میں بیان ہوئی ہے، ایک عورت جو طلاق کے وقت حاملہ تھی، بچے کی ولادت ہوتے ہی اس کی عدت ختم ہو گئی، شوہر سے اس کا رشتہ ختم ہو گیا لیکن بچے کا باپ چاہتا ہے کہ وہ اسے دودھ پلائے۔

ایک مطلقہ عورت ہو سکتا ہے کہ یہ چاہے کہ میں اس بچے کو صرف ایک سال یا ڈیڑھ سال دودھ پلا کر فارغ کر دوں تو اللہ کی طرف سے حکم دیا جائے کہ عورت کو رضاعت کی پوری مدت یعنی دو سال دودھ پلانا چاہیے، دو سال سے زیادہ اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اسی لیے اس آیت کے فوراً بعد کہا گیا کہ جس مرد کا بچہ ہے وہ اس بات کا پابند ہے کہ اس دوران عورت کے رواج کے مطابق خرچ برداشت کرے۔

خاتون کا دوسرا سوال زائد دودھ کو ایک کپ میں ڈال کر پہلی بچی کو پلانے سے متعلق ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ یہ تو اس کی اپنی بچی ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے کے بچے کو یہی دودھ پلاتی تو پھر بربنائے رضاعت وہ اس کی رضاعی ماں کہلاتی۔ اس کا شوہر اس بچے کا رضاعی باپ اور اس کے اپنے بچے اس کے رضاعی بھائی بہن کہلاتے اور یہ بھی اس صورت میں ہے کہ یہ دودھ شروع کے دو سال میں پلایا جاتا اور کم ازکم پانچ مرتبہ پلایا جاتا تو پھر رضاعت کی وجہ سے حرمت ثابت ہوتی۔ واللہ الموفق

٭٭٭

سوال: ایک خاتون کا سوال ہے کہ آیا انگوٹھی کے نگینہ پر لفظ ’ اللہ‘ یا ’ محمد‘ کا نقش کرانا جائز ہے؟ خاتون نے اپنی انگوٹھی کی تصویر بھی ارسال کی ہے جس پر صرف ’ اللہ‘ کا نقش ہے۔

جواب: ہم علماء کی آراء درج کرنے سے قبل اس موضوع پر چند احادیث اور آثار نقل کرتے ہیں:

1۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوا رکھی تھی جس پر ’ محمد رسول اللہ‘ منقوش تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ہے اور جس پر ’محمد رسول اللہ‘ کا نقش کروایا ہے، تو کوئی شخص یہی نقش اختیار نہ کرے۔‘‘

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

2۔ سيدنا انس سے روایت ہے کہ جب نبی كريم ﷺ جب بیت الخلا میں داخل ہوئے تو انگوٹھی اتار دیتے۔ (سنن ابو داؤد)

اور اس پر ’محمد رسول اللہ‘ لکھا ہوا تھا۔

3۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ چند آثار درج کیے گئے ہیں: عبد اللہ بن عمر کی انگوٹھی کا نقش ان کا اپنا نام تھا۔ سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابو عبیدہ کا نقش تھا: الحمد للہ

سیدنا علی کا نقش تھا: اللہ الملک

حضرات الحسن اور الحسین سے منقول ہے کہ انگوٹھی پر اللہ کا ذکر (یعنی نقش) قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں اور یہی قول عطا سے بھی منقول ہے۔

تابعین میں سے ابراہیم نخعی﷫ کا نقش ’باللہ‘ اور مسروق کا ’بسم اللہ‘ تھا۔

ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر ’حسبی اللہ‘ لکھوائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

ان آثار کی روشنی میں علماء یہ آراء رکھتے ہیں:

شیخ ابن باز، شیخ محمد بن العثیمین اور شیخ صالح الفوزان﷭ کی رائے میں صرف ’ اللہ‘ یا صرف ’محمد‘ لکھنا جائز نہیں ہے، الّا یہ کہ وہ کسی نام کا جزء ہوں جیسے ’ عبد اللہ‘ یا عبد الرحمٰن یا کوئی دوسرا نام جس کا جزو محمد(ﷺ) ہو۔

کئی دوسرے علماء جن میں صالح المنجد، محمد العریفی، محمد العدوی، عبد الشکور البابیدی شامل ہیں۔ جواز کے قائل ہیں لیکن سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی کوئی صورت نہیں ہونی چاہیے جس سے ’اللہ‘ اور ’محمد(ﷺ)‘ کے ناموں کی تحقیر ہوتی ہو۔ اس لیے بیت الخلاء جاتے وقت یا تو انگوٹھی کو باہر اتار دے یا اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی میں لے لے اور وہ بھی اس صورت میں کہ باہر چھوڑے جانے پر اس کے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہو۔

یہ دوسری رائے راجح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کے رسول کی انگوٹھی میں نام محمد (ﷺ) شامل تھا، جس چیز سے منع کیا گیا تھا وہ یہ پوری عبارت تھی: محمد رسول اللہ

اور پھر نبی ﷺ کے دونوں نواسوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی رائے بھی اس کے حق میں ہے، لیکن بہر صورت انگوٹھی کی تحقیر کسی صورت میں نہیں ہونی چاہیے، اگر اس پر اللہ یا ’محمد (ﷺ)‘ کا نقش موجود ہے۔

٭٭٭

سوال: ایک حدیث اکثر پیش کی جاتی ہے کہ ’’میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہے ‘‘ تو اس بارے میں وضاحت کریں۔

جواب: اس بارے میں میں اپنے شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کی تحقیق کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔

“اِخْتِلَاف أُمَّتِي رَحْمَة” کے الفاظ پر مشتمل اس قول کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف درست نہیں ہے۔ امام سیوطی﷫ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ شاید حفاظ حدیث کی کسی کتاب میں اس قول کی کوئی سند بیان کی گئی ہو جو ہم تک نہیں پہنچی۔ (الجامع الصغیر)

تاج الدین السبکی  رحمہ اللہ  کہتے ہیں کہ ’’ ایسی کوئی حدیث محدثین کے ہاں معروف نہیں ہے، باوجود کوشش کے مجھے اس کی کوئی سند، صحیح یا ضعیف یا موضوع (بناوٹی) نہیں ملی۔‘‘

معنیٰ کے اعتبار سے بھی یہ حدیث قابل انکار ہے۔

امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’یہ کہنا تو بالکل فاسد معلوم ہوتا ہے، اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اگر اختلاف رحمت ہے تو اتفاق ناراضگی کا باعث ہو گا اور یہ کہنا تو ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے، وہ اس لیے کہ یا اتفاق ہو گا اور یا اختلاف، اسی طرح یا رحمت ہو گی یا زحمت (ناراضگی)۔ (الاحکام فی اصول الاحکام: 5؍64)

اس مکذوب حدیث کے رواج پا جانے کی وجہ سے امت میں ایک انتشار برپا ہے اور اسی کو حجت مان کر چاروں مذاہب کے درمیان شدید اختلاف کو بھی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، بلکہ قرآن اور مستند سنت کی طرف رجوع کرنا بھی دائرہ نسیان کی نذر ہو گیا ہے، حالانکہ ائمہ اربعہ نے خود اسی بات کا حکم دیا تھا کہ اگر ہمارا قول حدیث کے خلاف پایا جائے تو حدیث ہی کو مانا جائے نہ کہ ہمارے اقوال کو اور اسی قول کو ماننے کا مطلب تو یہ ہے کہ شریعت میں تناقض یا تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:

﴿ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ‎ ﴾ (سورة النساء:82)

’’اور اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘

گویا اختلاف کا ہونا اللہ کی طرف سے نہیں ہے، تو پھر اختلاف خود ایک شریعت کیسے بن سکتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود تو کہتے ہیں کہ اختلاف ایک برائی ہے۔ لیکن ائمہ اربعہ کے بعد اکثر مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ بہت سے اعتقادی اور عملی مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں اور صرف اس لیے کہ وہ اختلاف کو رحمت گردانتے ہیں، قرآن اور حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ اپنے اپنے مذہب پر سختی سے قائم رہتے ہیں، اور اسی اختلاف کا شاخسانہ ہے کہ چاہے مسجد میں اول وقت پر نماز کھڑی کی جائے تو ایک شخص صرف اپنے امام کی تقلید میں اس جماعت میں شامل نہ ہو گا کیونکہ اس کے نزدیک یہ جماعت قائم کرنا درست نہیں ہے۔ حالانکہ اللہ کےر سول ﷺ تو یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ

«إذا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلَاةَ إلَّا الْمَكْتُوبَةَ » (صحیح مسلم)

’’جب نماز کھڑی کر دی جائے تو اس وقت سوائے اس فرض نماز کے اور کوئی نماز جائز نہیں ہے۔‘‘

گویا یہ نماز ہمارے لیے نہیں بلکہ کسی اور شریعت کے مطابق ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ شریعت میں اختلاف ایک قابل مذمت امر ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے اور وہ اس لیے بھی کہ اس کی وجہ سے امت مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ﴾ (سورة الانفال: 46)

’’ اور جھگڑا نہ کرو کہ پھر تم ناکام ہو جاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے۔‘‘

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ تو تمام لوگوں سے افضل تھے تو ان میں بھی اختلاف پیدا ہوا تھا؟ ابن حزم ﷫ نے اس سوال کا جواب دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ ہرگز نہیں! انہیں ایسی کوئی مذمت لاحق نہیں ہو گی کیونکہ ان میں سے ہر شخص راہِ حق کا طالب تھا، اگر ان میں سے کسی سے غلطی بھی ہوئی تو ان کی نیک نیتی کی بنا پر اسے ایک اجر ملے گا، انہیں اس غلطی کی بنا پر کوئی گناہ لاحق نہ ہو گا کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر کبھی ایسا نہیں کیا اور ان میں سے جس کی رائے صائب ہوئی اسے دہرا اجر ملے گا اور یہی معاملہ پھر قیامت تک ہر مسلمان کا بھی رہے گا کہ وہ غیر منصوص امور میں اجتہاد کریں گے تو غلطی پر ایک اور درست رائے پر دگنے ثواب کے مستحق ہوں گے۔

مذمت کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو نص جان لینے کے بعد اللہ کی رسی قرآن کو اور سنت رسول ﷺ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے کسی مقتدی یا امام کی تقلید اختیار کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کریں، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اگر قرآن وسنت ان کی آراء سے متفق ہیں تب تو انہیں قبول کر لیتے ہیں لیکن اگر متفق نہ ہوں تو وہ اپنی آراء ہی کو اختیار کیے رہتے ہیں۔ یہی لوگ قابل مذمت ہیں۔ ایک قسم ان لوگوں کی بھی ہے جو دین اور تقویٰ میں کمزور ہونے کی بنا پر ہر اس شخص کا قول قبول کر لیتے ہیں جو ان کی اپنی خواہش کے مطابق ہو۔ انہیں ہر عالم کی دی گئی رخصت مطلوب ہوتی ہے، انہیں اس بات کی غرض نہیں ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا منشا ومطلب کیا ہے اور اسی کو ’تلفیق‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کہ کسی بھی عالم کا قول بغیر کسی دلیل کے قبول کر لیا جائے کیونکہ وہ رخصت عطا کرتا ہے اور ان کی خواہش کے مطابق بھی ہوتا ہے۔ علماء نے اس کے جائز ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے لیکن حق بات یہی ہے کہ ایسا کرنا حرام ہے۔ یہ لوگ دلیل کے طور پر ایک ضعیف اثر کو پیش کرتے ہیں:

” من قلّد عالما لقي اللّه سالما “

’’جس نے کسی عالم کی تقلید کی تو وہ اللہ سے سلامتی کے ساتھ ملے گا۔‘‘

ایسے ضعیف اقوال سے بچنا چاہیے، اگر قیامت کے دن نجات مطلوب ہے تو یہ آیت پیش نظر رہے:

﴿يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ 0‏ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾ (سورة الشعراء: 88۔89)

’’جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے، سوائے اسی شخص کے جو اللہ کے پاس ایک سلامت سے بھرپور دل کے ساتھ آئے۔‘‘

شیخ البانی رحمہ اللہ  کی کتاب ’سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ: 1؍276۔278)

٭٭٭

سوال: لندن سے ایک طالب علم سوال کرتے ہیں کہ میں ایک یونیورسٹی میں Chiropractic (جوڑو ں اور ہڈیوں کے دردوں کا علاج) کا طالب علم ہوں جہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ دوران تعلیم ہمیں ہاتھ سے ریڑھ کی ہڈی، کندھے تک پورا ہاتھ، کولہے سے پاؤں تک اور پھر مختلف جوڑوں اور ہڈیوں کو برہنہ حالت میں معائنہ کرنا ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے طلبہ اور طالبات اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تاکہ اس طریق علاج کا عملی مطالعہ ہو سکے، یہاں یہ چند سوال پیدا ہوتے ہیں:

1۔ مسلم طالبات کے لیے حجاب اور شرم وحیا کے تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے کہاں تک عملی طور پر ان کلاسز میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے؟

2۔ خود مرد حضرات کے لیے بھی درست رویہ کیا ہو گا؟

3۔ اس علم کو ہماری کمیونٹی میں مقبول بنانے کے لیے کیا تجاویز رکھی جا سکتی ہیں؟

جواب: جہاں تک اس علم کا تعلق ہے تو اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، دوسری میڈیکل شاخوں کی طرح ایک طالب علم کو اس علم میں بھی مہارت حاصل کرنی چاہیے:

1۔ جہاں تک طالبات کی شمولیت کا تعلق ہے تو ان کے لیے علیحدہ کلاسز کا مطالبہ کیا جانا چاہیے جہاں تدریس کے لیے معلمات متعین کی جائیں۔

اس طریقہ علاج میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ کپڑے (جیسے بنیان) کے اوپر سے بھی مسّ کیا جا سکتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ کپڑا اتارا جائے۔

اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو طالبات ضرورت کی بنا پر عملی تجربات میں شریک ہو سکتی ہیں لیکن ضرورت کا تعین اس کی مطلوبہ مقدار سے ہوتا ہے۔ یعنی جسم کا وہ حصہ اتنا ہی ظاہر کیا جائے جتنا مطلوب ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

2۔ مردوں کے لیے چونکہ حجاب اور ستر کی وہ پابندیاں مطلوب نہیں ہیں جو خواتین سے متعلق ہیں تو ان کی شمولیت میں زیادہ قباحت نہیں ہے لیکن پھر بھی مخلوط تجربات کے دوران انہیں بھی ضرورت سے زیادہ کسی عضو کا اظہار جائز نہیں۔

3۔ اگر طالبات کے لیے علیحدہ کلاسز کا اہتمام ہو سکے تو مسلمان خواتین کے لیے اس طریقہ علاج کے سیکھنے میں زیادہ اشتیاق پیدا ہو سکتا ہے۔

٭٭٭٭

حاجی عبد المتین کی خوشدامن پاکستان میں وفات پا گئیں

جامع مسجد کوٹنس کراس ڈڈلی کے ذمہ دار حاجی عبد المتین نمبردار کی خوشدامن بدرہ منیر 85 سال کی عمر میں پاکستان میں وفات پا گئیں۔ مرحومہ نیک وصالحہ اور توحید وسنت کی پابند تھیں۔

مانچسٹر کی دینی، سماجی وکاروباری شخصیت حاجی اشرف انتقال کر گئے

مانچسٹر کی دینی سماجی اور کاروباری شخصیت حاجی اشرف کورونا کے باعث داغ مفارقت دے چکے ہیں، جس کے باعث برمنگھم کی معروف باجی محترمہ باجی نوید خوشی جو مرحوم کی چھوٹی بہن ہیں، بڑی ہی دکھی ہیں، امام وخطیب مکی مسجد مانچسٹر حافظ حمود الرحمٰن مکی اوردیگر مکی مسجد کے نمازی سب سوگوار ہیں اور محمد اسحاق عزیز اور عبد الرحمٰن عزیز سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی۔

تبصرہ کریں