سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: حلقہ درس کے ایک طالب علم نے سوال کیا ہے کہ وہ حدیث جس میں کہا گیا ہے کہ ’’وہ قوم فلاح نہیں پائے گی جو ایک عورت کو اپنا امیر بنا لیتی ہے‘‘ اسی کے راوی ابو بکرۃ ہیں ور ان کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ سیدنا عمر کے زمانہ میں انہیں قذف کی بنا پر کوڑے مارے گئے تھے تو کیا ان کی روایت کو قبول کیا جائےگا؟

جواب: حضرت ابو بکرۃ نفیع بن مسروح کے بارے میں خیال رکھا جائےکہ وہ صحابی رسول ہیں۔ طائف کے محاصرہ کے بعد وہ ان چند غلاموں میں سے تھے جو اسلام لے آئے تھے، اور نبی ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا تھا۔ اسی لیے وہ نبیﷺ کے آزاد کردہ غلاموں یعنی موالی میں سے شمار ہوتے ہیں۔ آخر حیات میں وہ بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور بقول حسن بصری جو لوگ بصرہ میں آباد ہوئے ان میں عمران بن حصین اور ابو بکرہ افضل ترین لوگوں میں سے تھے۔ بصرہ میں ان کی اولاد علم اور شرافت کے لحاظ سے نمایاں تھی۔

دوسری بات یہ ہےکہ امام بخاری﷫ نے ان کی مذکورہ روایت کو اپنی صحیح احادیث کے مجموعہ میں جگہ دی ہے۔

اور جہاں تک قذف کے واقعے کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ سن 17ھ میں صحابی رسول المغیرہ بن شعبہ پر یہ تہمت لگی تھی کہ وہ بنی ہلال کی ایک خاتون کے پاس آتے جاتے ہیں۔ سیدنا عمر کے پاس چار گواہ بھی پیش ہوئے اوروہ تھے حضرت ابو بکرہ، ان کے بھائی نافع، سہل یا شبل بن معبد اور ان کے ماں جایہ بھائی زیاد، جب گواہی دینے کا وقت آیا تو پہلے تین حضرات نے تو گواہی دے دی لیکن زیاد نے اپنی گواہی میں لیت ولعل سے کام لیا۔

اب چونکہ گواہی کا نصاب پورا نہ ہو پایا، اس لیے شریعت کے مطابق باقی تین گواہوں کو قذف (یعنی تہمت لگانے کے الزام میں) کوڑے مارے گئے۔ پھر حضرت عمر نے ان تینوں گواہوں سے کہا کہ وہ توبہ کریں تاکہ ان کی شہادت کو آئندہ زندگی میں تسلیم کیا جا سکے۔ دو حضرات نے تو توبہ کر لی لیکن حضرت ابو بکرہ نے حضرت عمر سے کہا: تم مجھ سے توبہ اس لیے چاہتے ہو کہ میری گواہی تسلیم کی جائے، انہوں نے کہا: ہاں! تو ابوبکرہ کہتے ہیں تو پھر جان لو کہ آئندہ کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان گواہی نہ دوں گا۔‘‘

امام ذہبی ﷫کہتے ہیں: گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں نے المغیرہ پر جھوٹی تہمت نہیں لگائی، بلکہ میں تو صرف گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا تھا، یعنی ان کی رائے میں قذف اور گواہی میں فرق ہے کیونکہ غلطی ان کی تو نہیں تھی، وہ تو گواہی کا نصاب پورا نہیں ہوا، ا س لیے قانون کے مطابق انہیں سزا دی گئی، اگر چوتھا گواہ بھی گواہی دے دیتا تو زانی کو رجم کیا جاتا اور ان چاروں گواہوں پر قذف کی تہمت نہ لگتی۔ اس وضاحت کے بعد ان کی عدالت پر شک نہیں ہونا چاہیے اور ان کی روایت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

سوال: ایک نوجوان لکھتے ہیں کہ

’’میرا سوال یقین کے مرتبہ تک پہنچنے کا ہے جو کہ ایمان کی بنیاد ہے اور کیا ’’ممکنات میں توازن‘‘ کی بنیاد پر دین میں بھرپور یقین حاصل ہو سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ہمارے وجود کے لیے دین کا ہونا ہی سب سے بہترین حل ہے اگر اس تھیوری کے مقابلہ میں تمام متبادل نظریات کو رکھا جائے؟ کیا اس طرح یقین حاصل کرنے کی مطلوبہ شرائط پوری ہو سکیں گی؟

جواب: آپ نے ’’ممکنات میں توازن‘‘ کا ذکر کیا ہے، عربی میں اسے ’غلبۃ الظن‘ کہا جاتا ہے، ’ظن‘ کے دو کنارے ہیں، سب سے نچلا کنارہ شکوک وشبہات والا ہے اور جوں جوں اوپر جاتے جائیں، شکوک کم ہوتے جاتے ہیں اور یقین بڑھتا چلا جاتا ہے اورسب سے اونچا کنارہ یقین کامل کے مترادف ہے اور انہی معنوں میں یہ آیات آئی ہیں:

﴿ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ (سورة البقرة: 46)

’’اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اس کی طرف پلٹنے والے ہیں۔‘‘

اور اسی طرح طالوت جالوت کے قصہ میں اہل ایمان (یعنی اصحاب طالوت) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:

﴿ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو اللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ﴾ (سورة البقرة: 249)

’’اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، انہوں نے کہا: کتنی ہی مرتبہ ایک چھوٹی سی جماعت اللہ کے اذن سے ایک بڑی جماعت پر غلبہ حاصل کرتی رہی ہے۔‘‘

اس لیے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ’امکانات میں توازن‘ کے ذریعہ بھی یقین کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ نوجوان نے لکھا کہ ان کی اس جواب سے تشفی نہیں ہوئی ہے تو پھر یہ دوسرا جواب تحریر کیا گیا:

ہم اس معاملے کو ایک دوسری طرح دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم دین اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ وہ دین برحق ہے یا نہیں؟

چودہ سو سال پہلے سرزمین عرب میں ایک شخص ظاہر ہوا اور اس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں اور یہ کہ جبرائیل کے توسط سے مجھ پر قرآن نازل ہوا ہے اور یہ کہ موجودہ عالم صرف ایک جائے امتحان ہے اور یہ کہ جو شخص اللہ پر، اس کے رسول پر، آخرت کی جزا سزا پر ایمان لے آتا ہے، اللہ کے احکامات کی پابندی کرتا ہے اور محرّمات سے اجتناب کرتا ہے، جنت اس کے لیے مقدر کی جا چکی ہے اور جو ان تمام باتوں کا انکار کرتا ہے، جہنم اس کا ٹھکانہ ہے۔

اب یہ وہ چیلنج ہے جو سیدنا محمدﷺ نے تمام عالم کے سامنے رکھا ہے اور یہ مسئلہ آپ کے آخری انجام سے متعلق ہے، جنت یا جہنم میں داخل ہونے یا نہ ہونے کا چیلنج ہے جسے آپ غفلت یا تغافل کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔

اور پھر جس قرآن کو محمد عربیﷺ لے کر آئے اس میں کئی ایسی نشانیاں ہیں جو اس دعوے کی سچائی کو ظاہر کرتی ہیں۔

جیسے عربوں کو یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہےتو قرآن جیسی کتاب یا صرف قرآن کی سورتوں جیسی دس سورتیں یا صرف ایک سورت ہی لا کر دکھا دو، لیکن اہل عرب اپنی فصاحت وبلاغت کے باوجود ایسا نہ کر سکے جو قرآن کی حقانیت کا ایک ثبوت بن گیا۔

یہاں چونکہ اختصار ملحوظ ہے اس لیے میں بطور ثبوت صرف تین پیشینگوئیوں کا ذکر کروں گا جو قرآن مجید میں بیان کی گئی اور سب نے پورا ہوتے دیکھا:

1۔ سورۃ یونس میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان ہوا۔ فرعون کی غرقابی کا ذکر ہوا اور پھر یہ ارشاد ہوا:

سوال: حلقہ درس کے ایک طالب علم نے سوال کیا ہے کہ وہ حدیث جس میں کہا گیا ہے کہ ’’وہ قوم فلاح نہیں پائے گی جو ایک عورت کو اپنا امیر بنا لیتی ہے‘‘ اسی کے راوی ابو بکرۃ ہیں ور ان کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ سیدنا عمر کے زمانہ میں انہیں قذف کی بنا پر کوڑے مارے گئے تھے تو کیا ان کی روایت کو قبول کیا جائےگا؟
جواب: حضرت ابو بکرۃ نفیع بن مسروح کے بارے میں خیال رکھا جائےکہ وہ صحابی رسول ہیں۔ طائف کے محاصرہ کے بعد وہ ان چند غلاموں میں سے تھے جو اسلام لے آئے تھے، اور نبی ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا تھا۔ اسی لیے وہ نبیﷺ کے آزاد کردہ غلاموں یعنی موالی میں سے شمار ہوتے ہیں۔ آخر حیات میں وہ بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور بقول حسن بصری جو لوگ بصرہ میں آباد ہوئے ان میں عمران بن حصین اور ابو بکرہ افضل ترین لوگوں میں سے تھے۔ بصرہ میں ان کی اولاد علم اور شرافت کے لحاظ سے نمایاں تھی۔
دوسری بات یہ ہےکہ امام بخاری﷫ نے ان کی مذکورہ روایت کو اپنی صحیح احادیث کے مجموعہ میں جگہ دی ہے۔
اور جہاں تک قذف کے واقعے کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ سن 17ھ میں صحابی رسول المغیرہ بن شعبہ پر یہ تہمت لگی تھی کہ وہ بنی ہلال کی ایک خاتون کے پاس آتے جاتے ہیں۔ سیدنا عمر کے پاس چار گواہ بھی پیش ہوئے اوروہ تھے حضرت ابو بکرہ، ان کے بھائی نافع، سہل یا شبل بن معبد اور ان کے ماں جایہ بھائی زیاد، جب گواہی دینے کا وقت آیا تو پہلے تین حضرات نے تو گواہی دے دی لیکن زیاد نے اپنی گواہی میں لیت ولعل سے کام لیا۔
اب چونکہ گواہی کا نصاب پورا نہ ہو پایا، اس لیے شریعت کے مطابق باقی تین گواہوں کو قذف (یعنی تہمت لگانے کے الزام میں) کوڑے مارے گئے۔ پھر حضرت عمر نے ان تینوں گواہوں سے کہا کہ وہ توبہ کریں تاکہ ان کی شہادت کو آئندہ زندگی میں تسلیم کیا جا سکے۔ دو حضرات نے تو توبہ کر لی لیکن حضرت ابو بکرہ نے حضرت عمر سے کہا: تم مجھ سے توبہ اس لیے چاہتے ہو کہ میری گواہی تسلیم کی جائے، انہوں نے کہا: ہاں! تو ابوبکرہ کہتے ہیں تو پھر جان لو کہ آئندہ کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان گواہی نہ دوں گا۔‘‘
امام ذہبی ﷫کہتے ہیں: گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں نے المغیرہ پر جھوٹی تہمت نہیں لگائی، بلکہ میں تو صرف گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا تھا، یعنی ان کی رائے میں قذف اور گواہی میں فرق ہے کیونکہ غلطی ان کی تو نہیں تھی، وہ تو گواہی کا نصاب پورا نہیں ہوا، ا س لیے قانون کے مطابق انہیں سزا دی گئی، اگر چوتھا گواہ بھی گواہی دے دیتا تو زانی کو رجم کیا جاتا اور ان چاروں گواہوں پر قذف کی تہمت نہ لگتی۔ اس وضاحت کے بعد ان کی عدالت پر شک نہیں ہونا چاہیے اور ان کی روایت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
سوال: ایک نوجوان لکھتے ہیں کہ
’’میرا سوال یقین کے مرتبہ تک پہنچنے کا ہے جو کہ ایمان کی بنیاد ہے اور کیا ’’ممکنات میں توازن‘‘ کی بنیاد پر دین میں بھرپور یقین حاصل ہو سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ہمارے وجود کے لیے دین کا ہونا ہی سب سے بہترین حل ہے اگر اس تھیوری کے مقابلہ میں تمام متبادل نظریات کو رکھا جائے؟ کیا اس طرح یقین حاصل کرنے کی مطلوبہ شرائط پوری ہو سکیں گی؟
جواب: آپ نے ’’ممکنات میں توازن‘‘ کا ذکر کیا ہے، عربی میں اسے ’غلبۃ الظن‘ کہا جاتا ہے، ’ظن‘ کے دو کنارے ہیں، سب سے نچلا کنارہ شکوک وشبہات والا ہے اور جوں جوں اوپر جاتے جائیں، شکوک کم ہوتے جاتے ہیں اور یقین بڑھتا چلا جاتا ہے اورسب سے اونچا کنارہ یقین کامل کے مترادف ہے اور انہی معنوں میں یہ آیات آئی ہیں:
﴿ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ (سورة البقرة: 46)
’’اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اس کی طرف پلٹنے والے ہیں۔‘‘
اور اسی طرح طالوت جالوت کے قصہ میں اہل ایمان (یعنی اصحاب طالوت) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:
﴿ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو اللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ﴾ (سورة البقرة: 249)
’’اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، انہوں نے کہا: کتنی ہی مرتبہ ایک چھوٹی سی جماعت اللہ کے اذن سے ایک بڑی جماعت پر غلبہ حاصل کرتی رہی ہے۔‘‘
اس لیے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ’امکانات میں توازن‘ کے ذریعہ بھی یقین کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ نوجوان نے لکھا کہ ان کی اس جواب سے تشفی نہیں ہوئی ہے تو پھر یہ دوسرا جواب تحریر کیا گیا:
ہم اس معاملے کو ایک دوسری طرح دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم دین اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ وہ دین برحق ہے یا نہیں؟
چودہ سو سال پہلے سرزمین عرب میں ایک شخص ظاہر ہوا اور اس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں اور یہ کہ جبرائیل کے توسط سے مجھ پر قرآن نازل ہوا ہے اور یہ کہ موجودہ عالم صرف ایک جائے امتحان ہے اور یہ کہ جو شخص اللہ پر، اس کے رسول پر، آخرت کی جزا سزا پر ایمان لے آتا ہے، اللہ کے احکامات کی پابندی کرتا ہے اور محرّمات سے اجتناب کرتا ہے، جنت اس کے لیے مقدر کی جا چکی ہے اور جو ان تمام باتوں کا انکار کرتا ہے، جہنم اس کا ٹھکانہ ہے۔
اب یہ وہ چیلنج ہے جو سیدنا محمدﷺ نے تمام عالم کے سامنے رکھا ہے اور یہ مسئلہ آپ کے آخری انجام سے متعلق ہے، جنت یا جہنم میں داخل ہونے یا نہ ہونے کا چیلنج ہے جسے آپ غفلت یا تغافل کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔
اور پھر جس قرآن کو محمد عربیﷺ لے کر آئے اس میں کئی ایسی نشانیاں ہیں جو اس دعوے کی سچائی کو ظاہر کرتی ہیں۔
جیسے عربوں کو یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہےتو قرآن جیسی کتاب یا صرف قرآن کی سورتوں جیسی دس سورتیں یا صرف ایک سورت ہی لا کر دکھا دو، لیکن اہل عرب اپنی فصاحت وبلاغت کے باوجود ایسا نہ کر سکے جو قرآن کی حقانیت کا ایک ثبوت بن گیا۔
یہاں چونکہ اختصار ملحوظ ہے اس لیے میں بطور ثبوت صرف تین پیشینگوئیوں کا ذکر کروں گا جو قرآن مجید میں بیان کی گئی اور سب نے پورا ہوتے دیکھا:
1۔ سورۃ یونس میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان ہوا۔ فرعون کی غرقابی کا ذکر ہوا اور پھر یہ ارشاد ہوا:
﴿فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً﴾ (سورة يونس: 92)
’’آج ہم تیرے بدن (تیری لاش) کو بچا کے رکھیں گے تاکہ تو نشان عبرت بن جائے ان لوگوں کے لیے جو تیرے بعد آئیں۔‘‘
اب دیکھیے کہ اس واقعے پر تین ہزار سال سے زیادہ گزر چکے ہیں، پھر قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ حنوط شدہ لاشوں پر تحقیق کی جاتی ہے اور بالآخر عمیس دوئم کی لاش کو پہچان لیا جاتا ہے اور وہ اس اعتبار سے کہ اس شخص کے چہرے پر غرقابی کی بنا پر انتہائی خوف کے اثرات تھے اور اس تحقیق کو منظر عام پر لانے والےکوئی مسلمان نہیں تھے بلکہ علم الآثار کے غیر مسلم ماہرین علماء تھے۔
2۔ سورۃ الروم کی پہلی آیات میں بازنطینی حکمرانوں کی شکست اور پھر چند سالوں میں دوبارہ غلبہ کی پیشینگوئی کی گئی ہے:
﴿الم 0 غُلِبَتِ الرُّومُ 0‏ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ‎0 فِي بِضْعِ سِنِينَ﴾
’’الم، رومن پست ترین زمین میں مغلوب ہوئے اور پھر وہ اپنی اس شکست کے بعد چند سالوں میں دوبارہ غلبہ حاصل کریں گے۔‘‘
﴿ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ 0‏ بِنَصْرِ اللَّهِ ۚ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾ (سورة الروم: 1-5)
’’اور پہلے بھی اور بعد میں بھی اختیار اللہ ہی کا ہے اور اس دن اہل ایمان اللہ کی مدد آنے پر خوب شادمان ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، بے شک وہ طاقتور ہے مہربان ہے۔‘‘
ان آیات میں جو باتیں بتائی گئیں وہ یہ تھیں:
1۔ فلسطین میں بحر میت کا علاقہ دنیا کا پست ترین علاقہ ہے، یعنی یہ سطح سمندر سے چار سو میٹر نیچے واقع ہے اور اسی علاقہ میں بازنطینی رومی عیسائیوں اور فارسی آتش پرستوں کے درمیان معرکہ لڑا گیا جس میں رومیوں کو شکست ہوئی۔
2۔ یہ شکست عارضی ہو گی اور چند سالوں (بضع سنین) میں دوبارہ انہیں فتح حاصل ہو گی اور چونکہ اہل کتاب مشرکین کے مقابلہ میں مسلمانوں سے زیادہ قربت رکھتے ہیں، اس لیے مسلمان ان کی فتح پر خوش ہوں گے۔
حضرت ابوبکر اس وقت اللہ کےر سول ﷺ کے ہمراہ مکہ میں تھے، اور انہیں قرآن کی آیات پر اتنی صداقت اور یقین تھا کہ انہوں نے مشرکین مکہ کے ایک سردار امیہ بن خلف سے شرط لگا لی کہ رومن سات سے نو سال کے دوران فتحیاب ہوں گے۔ ہم قصے کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ اتنا عرض کرتے ہیں کہ نو سال کے اندر اندر بازنطینی رومن نے دوبارہ فارسی آتش پرستوں پر غلبہ حاصل کر لیا اور حضرت ابو بکر نے شرط جیت لی۔
3۔ سورۃ النور کی یہ آیت بھی ایک عظیم پیشینگوئی کی حامل تھی:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ﴾ (سورة النور: 55)
’’اللہ نے وعدہ کیا ہے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے کہ وہ انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا، جیسے ان لوگوں کو خلافت دی جو ان سے پہلے تھے اور یہ کہ وہ ان کے لیے اس دین کی تمکین مہیا کرے گا جیسے کہ اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور یہ کہ ان کی حالت خوف کو امن وامان سے بدل دے گا، (بشرطیکہ) وہ لوگ میری عبادت کرین اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘
اور پھر یہ بات اسی طرح پوری ہوئی کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد ایک قلیل مدت میں مسلمانوں نے دو عظیم سلطنتوں، روم اور فارس کو شکست دی، جہاں انہوں نے ایک عادلانہ حکومت قائم کی اور پھر یہ خلافت شرق وغرب اور شمال وجنوب پھیلتی گئی اور پھر نہ صرف کہ انہوں نے ان علاقوں میں امن وامان کو قائم کیا بلکہ تمام انسانیت کو بھی صداقت وراستی کا پیغام پہنچایا۔
اب دنیا کے تمام لوگوں کے سامنے یہ ایک چیلنج رکھا جا چکا ہے کہ یا تو وہ اس چیلنج کو غلط ثابت کریں اور اپنے راہ ورسم پر چلتے رہیں اور یا پھر نبیﷺ کی صداقت کو قبول کریں، دائرہ اسلام میں داخل ہوں اور پھر دنیا وآخرت دونوں جگہ شاد کام اور کامران رہیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں