سوالات کے جوابات(قسط 2)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سوال: اتباع ٹی وی کے توسط سے چند سوالات موصول ہوئے جن کےجوابات بزبان انگریزی دیئےگئے، انہی سے ایک سوال کرونا وبا کے حوالے سے چند احادیث کے بارے میں تھا کہ جن میں مرض کے متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہےاور اس کے بالمقابل ایسی احادیث بھی بیان کی جاتی ہیں جن میں کوڑھی سے دور رہنے بلکہ اس سے بھاگ جانےکی ہدایت کی گئی ہے تو دونوں احادیث متضاد معلوم ہوتی ہیں، تواس کےبارے میں وضاحت کریں!

جواب: جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےاور اس میں کئی چیزوں کی نفی کی گئی ہے ، ان میں سب سے پہلی بات ہے : “لاعدوی” یعنی مرض کا متعدی ہونا غلط ہے ۔

اور پھر اس کے متضاد حدیث بھی روایت کی ہے :

«لايورد الممرض على المصح»  ’’بیمار اونٹوں والا شخص اپنے اونٹوں کو بھلے چنگے اونٹوں والے کی گملہ میں نہ لے جائے‘‘ (صحیح مسلم)

اور پھر یہ روایت بھی ہے :

«فِرَّ مِنْ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنْ الْأَسَدِ» (مسند أحمد: 9720)

’’کوڑھی سےایسے بھاگو جیسے تم شیر کودیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہو۔‘‘

بظاہر تو یہ احادیث متضاد معلوم ہوتی ہیں لیکن غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پہلی حدیث کا تعلق اعتقاد سے ہے اور باقی دو کاتعلق اسباب سے ہے ۔

ایک مسلمان کا اعتقادیہ ہونا چاہیے کہ اس کائنات میں اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی چیز واقع نہیں ہوتی، گو ہرچیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب نظر آتا ہے جیسے آگ حلانے کا سبب بنتی ہے لیکن وہ بھی اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا:

﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾   (الانبیاء : 69)

’’ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا۔‘‘

لیکن اسباب کی نفی نہیں کی گئی ۔ کسی چیز کےحصول کےلیے جائز اسباب کا اختیار کرنا شریعت کاتقاضا ہے جیسے جنت کے حصول کےلیے ایمان اورعمل صالح مطلوب ہےاور ایسے ہی خطرات سے بچنے کے لیے اسباب کا سہارا لینا بھی ضروری ہے ، جہنم سے بچنے کے لیے ان تمام قبیح حرکات سےدور رہنا ضروری ہے جو جہنم کی طرف لے جاتی ہیں لیکن اس اعتقاد کے ساتھ کہ سبب کا پیدا کرنے والا بھی اللہ ہی ہے، اس کی مرضی و منشا سے سبب میں تاثیر پیدا ہوتی ہے ۔بلکہ اللہ چاہے تو بغیر سبب کے بھی کسی چیز کو وجود میں لا سکتا ہے ۔

اور اس بات کی وضاحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ  روایت کے باقی حصے سے ہوجاتی ہے کہ جب رسول اللہﷺنے “لاعدوی” کہا تو ایک دیہاتی نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول! تو پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ صحراء میں اونٹ ،ہرنوں کی طرح بھلے چنگے ہوتے ہیں تو پھر ایک خارش زدہ اونٹ ان کے گملے میں داخل ہوتا ہے اور سب کو خارش میں مبتلا کر دیتا ہے ؟

تو نبی کریمﷺنےکہا: تویہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نےخارش میں مبتلا کیا؟ یعنی وہ اونٹ جس نے سب اونٹوں کو اس مرض میں مبتلا کیا ، اُسے یہ بیماری کہاں سے لگی؟

اب یہ تو رہی اعتقاد کی بات! لیکن چونکہ یہ دنیا اسباب پر قائم ہے اس لیے ہر صورت کسی بھی چیز کے حصول کے لیے یا کسی مضر چیز سے بچنے کے لیے اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے ، ہمارا اعتقاد ہے کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے لیکن یہ رزق چھپا ہوا ہے ، اسے تلاش کرنا پڑے گا۔

﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ ﴾

’’وہی (اللہ) ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم و گداز بنایا تو پھر اس کی گھاٹیوں میں چلو پھرو اور اس کے رزق میں سے کھاؤ۔‘‘ (الملک :15)

ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ انسان بیمار ہوتا ہےتو اللہ ہی شفا دینے والا ہے ،لیکن اللہ تعالیٰ ہی نے بیشمار جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جو بیماریوں کے لیے نسخہ شفاء ثابت ہوتی ہیں تو انہیں استعمال کرنے کا حکم دیا۔

اور اسی قبیل سے یہ بات بھی ہے کہ بعض مرض ایسے بھی ہیں جن کا دائرہ کار مریض تک محدود نہیں رہتا بلکہ جوشخص اس کے قریب آتا ہے وہ اس کےجسمانی لمس، اس کے پسینے، اس کی سانس یااس کی استعمال شدہ چیز کے مس سے اس مرض کے جراثیم قبول کر لیتا ہے اور پھر اس مرض میں مبتلا ہو جاتاہے۔ تو اس لیے کہا گیا کہ وہ اسباب اختیار نہ کرو جو تمہیں مرض کے قریب لاکھڑا کریں ۔

کیا آج کل جو شخص کرونا  کے جراثیم کا شکار ہو جاتا ہے ، وہ اپنے علاج کےلیے ممکنہ اسباب نہیں اختیار کرتا، کیا ہسپتال میں اس کے لیے اسے مصنوعی تنفس کی مشین پر نہیں ڈالا جاتا؟حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ شفا دینے والا اللہ ہی ہے !!

آخر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کاایک اسوہ ملاحظہ ہو جس میں اعتقاد اور اسباب دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔

صحیح مسلم کی اس روایت کے راوی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کے سفر پر روانہ ہوئے ، جب مقام سرغ پر پہنچے تو علاقائی امراء، ابوعبید اللہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء ملاقات کے لیے آئے اور انہوں  نے بتایا کہ شام میں طاعون کی وباء  پھیل چکی ہے ۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےکہا کہ پہلے پہلے ہجرت کرنے والے صحابہ کو لے کر آؤ تو میں نے انہیں بلایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا، انہیں بتایا کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے( تو کیا کرنا چاہیے؟)

تو انہوں نے اختلاف رائے کا اظہار کیا ، کچھ کا کہنا تھا کہ آپ ایک خاص مقصد کےلیے آئے ہیں اور ہمارےخیال میں آپ کو (اسے پورا کیےبغیر) واپس نہیں جانا چاہیے ،اور کچھ کا کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ باقی لوگ ہیں ،رسول اللہ کے صحابہ ہیں اور ہمارےخیال میں آپ انہیں اس وباء میں لے کر نہ جائیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ آپ لوگ جائیں اور مجھ سے کہا کہ انصار کو لے کر آؤں، تو میں (وہاں موجود) انصاریوں کو لےکر آیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےان سے بھی مشورہ کیا، توان کا طرز عمل بھی مہاجرین سے مختلف نہ تھا،انہوں  نے بھی ویسا ہی اختلاف کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےان کو بھی چلے جانے کا کہا اور پھر مجھ سے کہا کہ یہاں قریش میں جتنے بھی وہ لوگ ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد ہجرت کی انہیں بلا لاؤتومیں انہیں بلا لایا تو ان میں سے کسی نے بھی اس بات سے اختلاف نہیں کیا کہ انہیں واپس جانا چاہیے اور لوگوں کووباء کا سامنا نہیں کرنا چاہیے ، تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منادی کرادی کہ میں علی الصبح واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں تو تم سب بھی تیار رہو۔ ‘‘

اس پر حضرت ابوعبید اللہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نےکہا: کیا اللہ کی (بتائی ہوئی) تقدیر سے بھاگنے کا ارادہ ہے؟ ‘‘

تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کاش یہ بات تم نے نہیں، کسی اور نے کہی ہوتی!! اے ابوعبیدہ! (اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی مخالفت ناپسند کرتے تھے) ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ بتاؤ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوتے اورتم ایک ایسی وادی میں اترتے جہاں دو گھاٹیاں ہوتیں ، ایک زرخیز اور ایک بنجر ، تو پھر اگر تم اپنےاونٹوں کو زرخیز گھاٹی میں چراتے تووہ اللہ کی تقدیر سے ہوتا اور اگر بنجر زمین میں چراتے وہ بھی اللہ ہی کی تقدیر سے ہوتا؟ ‘‘

اتنےمیں عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آن پہنچے جو اپنی کسی ضرورت کی بناء پر کہیں گئے ہوئے تھے، انہوں نے کہا :اس بارے میں میرے پاس کچھ علم ہے ، میں نے اللہ کے رسولﷺکو کہتے ہوئے سنا ہے:

’’اگر تم سنو کہ وباء کسی خطہ زمین میں پھیل گئی ہے تو وہاں مت جاؤ، اور اگر تم ایسی جگہ پر پہلے سے موجود ہو جہاں وباء پھیل چکی ہے تو وہاں سے بھاگ کر نہ جاؤ‘‘ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا  اور واپسی کی راہ اختیار کی ۔ ‘‘

موجودہ دور میں قرنطینہ (چالیس دن کا احتیاطی قیام) اسی نبوی ہدایت کاایک عملی اظہار ہے ۔ یعنی احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا لازم ہے اور پھر معاملے کو اللہ کے سپرد کرنا ہے ۔ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ کون اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے اور کون صحیح سالم رہتا ہے ۔

سوال: ایک دوسرا سوال حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سےمروی ایک حدیث کے بارے میں کیا گیا ہے جس میں سورج کا عرش کے نیچے سجدہ کرنے، اذن طلب کرنے اور قرب قیامت کے نزدیک لوٹ جانے اور مغرب سے طلوع ہونے کا ذکر کیاگیا ہے، اس حدیث کی وضاحت مطلوب ہے کہ اس کا سجدہ کرنا ا مر واقعہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمین کے کسی نہ کسی حصے میں یقیناً طلوع کی حالت میں رہتا ہے ؟

جواب: پہلے تو اس حدیث کا متن ملاحظہ ہو۔یہ حدیث صحیح بخاری میں نمبر 3199 کے تحت مندرج ہے ۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبیﷺنے ارشاد فرمایا جب کہ سورج غروب ہو رہا تھا۔ اے ابی ذر !کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے؟ میں نےکہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ علم رکھتے ہیں۔نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا: یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے ،پھر اجازت طلب کرتا ہے تو اسے (دوبارہ طلوع ہونے)  کی اجازت دی جاتی ہے اور عنقریب ایک وقت آئے گا کہ جب یہ سجدہ کرے گا  تو اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور اجازت طلب کرے گا تو اجازت نہ دی جائے گی، اور اس سے کہا جائے گا ،وہیں لوٹ جاؤ جہاں سے تم آئے ہوتو پھر وہ مغرب سے طلوع ہو گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾  (یٰسین: 38)

یہاں تو باتوں کی وضاحت ضروی ہے وہ یہ ہے کہ سورج کے چلنے سے اور عرش کے نیچے سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے ؟

ملاحظہ ہو کہ انسان بھی چلتا ہےاور سورج کےلیے بھی یہی لفظ (یعنی یذهب) حدیث میں آیا ہے ۔ اور “تجري” قرآن میں آیا ہے ۔ یعنی اس کا اپنے مدار پر چلنا یا گھومنا تو ثابت ہے ۔

زمین سے سورج کا فاصلہ تقریباً 93ملین میل کا ہے

اور اس متعین فاصلے میں یہ حکمت ہے کہ اگر یہ فاصلہ اس سے آدھا ہوتا تو زمین پر درجہ حرارت اس قدر حدّت اختیار کر لیتا کہ انسان سمیت ہر چیز بھسم ہو جاتی اور اگر یہ فاصلہ دگنا ہوتا تو ہر چیز منجمد ہو کر رہ جاتی، گویا اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ یہاں اتنا درجہ حرارت ہو جو انسان سہہ سکے اور یہ کہہ سکے کہ میں دھوپ میں  (یعنی سورج کےنیچے نیچے) چل رہا ہوں۔ گو سورج ہم سے لاکھول میل دور ہے لیکن پھر بھی ہم اپنی زبان میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں “تحت الشمس” (سورج کےنیچے نیچے) چل رہا ہوں ۔

تو پھر سورج کا اپنی مقررہ چال میں ایک وقت  عین عرش کے نیچے آجانے میں کیا تعجب ہو سکتا ہے جب کہ سورج اورعرش کا فاصلہ ہمارے فہم سے بھی بالاتر ہے ، اور یہ ضروری ہے کہ سجدہ کرنے کے لیے چال میں توقف آئے، کیا ہم دوران طواف جب حجر اسود کے سامنے سے گزرتے ہیں تو بغیر ٹھہرے اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں ، اور اس سے طواف میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔

یعنی سورج اپنی چال باقی رکھتا ہے لیکن سجدہ بھی کر لیتا ہے ، البتہ سورج کا سجدہ ہمارے سجدے سے مختلف ہے۔

انسان اپنے سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے لیکن دنیا کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے جیسا کہ سورۃ الحج کی اس آیت میں ارشاد فرمایا:

﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ﴾  (الحج:18)

’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہےوہ اللہ کے لیے سجدہ کرتاہے، اور ایسے ہی سورج، چاند ، ستارے،پہاڑ ،درخت ، جانور اور بہت سے لوگ بھی۔‘‘

گویا باقی اشیاء کا سجدہ ہماری طرح زمین پر پیشانی رکھ کر نہیں ہےبلکہ اللہ کے حکم کو ماننے کے معنی میں ،یعنی باقی تمام مخلوقات اس طرح زندگی بسر کرتی ہےجیسے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے۔ او راللہ تعالیٰ کو ان کے سجود کا علم ہے۔ گو ہمیں وہ سجود دکھائی نہیں دیتا ، ان کا یہ سجود ، ان کی تسبیح کی مانند ہے جس کے بارے میں مندرجہ ذیل آیات بتا رہی ہیں کہ ہم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ۔

فرمایا:

﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ﴾  (النور: 41)

’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے بھی جو پر پھیلائے ہوئے ہیں، ہر مخلوق اپنی نماز اور تسبیح کو جانتی ہے او راللہ جانتا ہے وہ کیا کرتے ہیں ۔‘‘

اور سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا :

﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا﴾  (الاسراء: 44)

’’اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ، اور کوئی چیز نہیں جو اس کی تعریف و تسبیح بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے ،بیشک وہ بردبار ہے ،مغفرت کرنے والا ہے ۔ ‘‘

یعنی ہم اپنی زبان سے اور اپنی انگلیوں پر سبحان اللہ ، سبحان اللہ کہتےہیں ، یہ ہماری تسبیح کاانداز ہے لیکن آسمان اور زمین اور بہت سی دوسری مخلوقات کی ہماری طرح نہ  زبان ہے نہ انگلیاں ہیں لیکن پھر بھی وہ تسبیح میں مشغول ہیں اور بنص قرآنی ہم ان کے اس انداز تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے ، اسی طرح سورج اور تمام دیگر اشیاء کے سجود کوسمجھنا چاہیے یعنی سورج اپنے مدار پر رواں دواں رہتا ہے ، اللہ کے حکم کا تابع رہتا ہے اور ہر لمحہ اللہ ہی کے اذن سے اپنی رفتار قائم رکھتا ہےاور پھر قیامت کے نزدیک جب اسے بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع ہونے کا حکم دیا جائے گا تو وہ یہ حکم بجالائے گا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں