سوالات کے جوابات- ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

گندگی کتنے پانی سے صاف ہو سکتی ہے؟

سوال: سویڈن سے ایک صاحب سوال کرتے ہیں کہ مجھے اس مئلہ میں الجھاؤ ہے اور وہ یہ کہ اگر فرش پر پیشاب ہو تو ہم ایک بالٹی پانی بہا کر اسے صاف کر سکتے ہیں لیکن اگر پانی کے اندر گندگی گر جائے اور پانی دو قُلہ سے کم ہو تو وہ سارا پانی ناپاک ہو جاتا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرش پر موجود گندگی دو قُلہ پانی سے کم مقدار (یعنی ایک بالٹی بھر پانی) سے کیسے صاف ہو سکتی ہے کیونکہ دو قُلہ سے کم پانی گندگی کے ساتھ مل کر بھی ناپاک رہے گا؟

جواب: اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے پہلے ہم چند احادیث ذکر کرتے ہیں۔

1۔ سیدنا ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ آیا ہم بئر بضاعہ سے وضو کر سکتے ہیں کہ جس میں ہر طرح کی گندگی جیسے حیض سے لتھڑے کپڑے، مردہ کتے وغیرہ ڈال دیئے جاتے ہیں۔

نبی کریمﷺ نے جواب دیا: ’’پانی پاک کر دیتا ہے اور اسے کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔‘‘ (سنن ابو داؤد، جامع ترمذی اور امام احمد نے روایت کی)

سنن بیہقی میں اسی حدیث میں اتنے الفاظ اضافی بھی ہیں: پانی پاک کرتا ہے، الا یہ کہ گندگی کی وجہ سے اس کی بُو، اس کا رنگ یا اس کا ذائقہ تبدیل ہو جائے۔‘‘ (محدثین کے نزدیک یہ اضافی الفاظ ضعیف ہیں۔)

2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ سے ایسے تالاب کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس میں سے جنگلی جانور اکثر پانی پیتے رہتے ہیں، نبی کریمﷺ نے جواب دیا: اگر پانی دو قُلہ مقدار کو پہنچ جائے تو پھر وہ گندگی سے متاثر نہیں ہوتا۔ (بروایت سنن اربعہ اور امام احمد)

دو قُلہ، پانچ سو رطل عراقی (جو کہ 227 کیلوگرام کے مساوی ہے۔)

3۔ سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر کتا تمہارے کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات یا آٹھ دفعہ دھونا چاہیئے، اس میں ایک دفعہ مٹی سے (یعنی شروع میں اچھی طرح برتن کے اندر مٹی کو مَلا جائے اور پھر سات دفعہ اسے پانی سے دھویا جائے)

ان احادیث سے یہ باتیں معلوم ہوئیں:

1۔ پانی آلہ تطہیر ہے (یعنی پانی گندگی کو صاف کرتا ہے)

2۔ اگر کسے چھوٹے برتن میں پانی ہو اور اس میں ذرا سی بھی گندگی پڑ جائے تو وہ سارا پانی پھینک دینا چاہیئے۔

3۔ اگر پانی زیادہ ہو جیسے ٹینکی میں یا تالاب میں ہو اور اس میں گندگی گر جائے تو دیکھا جائے گا کہ اس کا رنگ، ذائقہ یا بُو تو نہیں بدلا، اور اگر ان تینوں اوصاف میں سے ایک وصف بھی بدل گیا تو وہ پانی نجس متصور ہو گا۔

4۔ پانی اگر دو قُلہ سے زائد ہوتو زیادہ تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اگر مذکورہ تین اوصاف میں سے کوئی ایک وصف پایا گیا تو پھر ایسے پأنی سے اجتناب کرے۔

امام ابو حنیفہ﷫ کے شاگرد امام ابو یوسف﷫ نے ایک حمام کے پانی سے غسل کیا اور پھر جمعہ کی نماز کی امامت کرائی۔ نماز کے بعد لوگ بھی جا چکے تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ جس کنویں سے حمام کا پانی آ رہا تھا اس میں ایک مردہ چوہا پایا گیا ہے تو انہوں نے کہا: کوئی بات نہیں، آج ہم اپنے مدینہ کے بھائیوں کے قول پر عمل کرلیتے ہیں کہ اگر پانی دو قُلہ مقدار کا ہو تو اس پر گندگی کا اثر نہیں ہوتا۔

البتہ اکر پانی دو قُلہ سے کم ہو تو اسے دیکھ لینا چاہیئے کہ آیا اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ گندگی کی وجہ سے بدلا ہوا تو نہیں ہے تاکہ اگر ایسا ہو تو پھر اس پانی سے طہارت حاصل نہ کی جائے۔

واضح ہو کہ البیہقی کا اضافہ گو ضعیف ہونے کی بنا پر قابل حجت نہیں ہے لیکن ان تینوں اوصاف کے بارے میں علماء کا اجماع ہو چکا ہے، اس لیے اجماع کی بنا پر یہ اضافہ قابل حجت بن جاتا ہے۔

ایک شکل یہ بھی ہے کہ آیا گندگی پر پانی ڈال کر اسے زائل کیا گیا ہے یا پانی میں گندگی ڈالی گئی ہے جس کا پاک کرنا مقصود ہے؟

یہاں ہمیں اس واقعے سے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے جو مسجد نبوی میں پیش آیا، اللہ کے رسولﷺ مسجد میں موجود تھے جبکہ ایک بدوی مسجد کے صحن میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ نے اسے روکنا چاہا تو نبی کریمﷺ نے انہیں منع کیا۔ جب وہ پیشاب کر چکا تو اللہ کے رسولﷺ نے بڑی شفقت سے اسے سمجھایا کہ مساجد نمازوں اور اللہ کے ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں نہ کہ انہیں ناپاک کرنے کے لیے اور پھر صحابہ سے کہا کہ مسجد کے فرش پر پانی بہا دو تاکہ نجاست زائل ہو جائے۔ یہاں اتنا پانی درکار ہو گا کہ جس سے نجاست بالکل باقی نہ رہے، لیکن اگر پانی میں کوئی گندگی گر گئی اور اس کا نکالنا ممکن ہو تو پہلے اس غلاظت کو نکالا جائے گا اور اگر غلاظت پانی میں تحلیل ہو چکی ہو تو پھر اتنا پانی تو نکالا جائے کہ جس سے پانی کے یہ تینوں اوصاف اپنی اصلی حالت میں آ جائیں، یعنی بُو باقی نہ رہے، اگر رنگ بدلا تھا تو وہ صاف ہو جائے اور اگر ذائقہ بدلا تھا تو وہ بھی درست ہو جائے۔

اس مسلم قصائی کا ذبیحہ جو نمازی نہ ہو

سوال: سویڈن سے ایک بنگلہ دیش نوجوان سوال کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں جب کسی قصائی کی دکان پر جاتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا وہ نماز بھی پڑھتا ہے یا نہیں؟ تو کیا میں اس سے پوچھوں یا بغیر پوچھے گوشت خرید سکتا ہوں؟

جواب: حلال ذبیحہ کے لیے ایک تو ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا یا اہل کتاب میں سے ہونا ہے۔ اس کا بسم اللہ پڑھ کر حلال کرنا آپ کے اطمینان کے لیے کافی ہے، ایک مسلمان ملک میں تو اسے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہاں کی اکثر آبادی مسلمان ہے۔ یہ جاننا کہ وہ نماز پڑھتا ہے یا نہیں؟ اس کے کریدنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

خواتین کے ماڈرن شوخ لباس کا حکم

سوال: آکسفورڈ سے ایک خاتون نے سوال کیا ہے کہ کیا ایک مسلمان خاتون کے لیے ایسا لباس پہننا جائز ہے جس پر نقش ونگار ہوں، ایسے جیکٹ جس پر Polkaٹائپ کے نقوش ہوں، یا آڑھی ترچھی لکیریں ہوں؟

جواب: خواتین کے لیے جو ملبوسات جائز ہیں، ان کے لیے یہ تین موٹی موٹی شرائط کا لحاظ رکھنا چاہیئے:

1۔ لباس ساتر ہو سوائے ان اعضاء کے جن کا ظاہر کرنا جائز ہے۔

2۔ لباس اتنا شفاف نہ ہو کہ اس سے جسم چھلکے، جیسے وہ مہین قسم کے کُرتے کہ جن سے بازو صاف نظر آتے ہیں۔

3۔ اتنے بھڑکیلے نہ ہوں کہ جاذب نظر ہوں۔

آپ نے اپنے سوال میں جن ملبوسات کا ذکر کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ ممنوع لباس کی تعریف میں نہیں آتے۔

یوٹیوب کے ایک پروگرام کے بارے میں سوال

سوال: میرا یہ فعل کفر یا شرک تو شمار نہ ہو گا کہ میں یوٹیوب پر ایک کارٹون کا پروگرام دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر پروگرام کے ناشر کے ٹائٹل کی طرف گئی۔ اس کا عنوان تھا (God of Memes) یعنی خدائے میمز ، میں نے استغفر اللہ کہا اور اسے فوراً بند کر دیا۔ مجھے یہ احساس کھائے جا رہا ہے کہ کہیں میں نے کفر وشرک کا ارتکاب تو نہیں کر لیا اور پھر میں نے اللہ سے یہ عہد بھی کیا کہ آئندہ پروگرام کے ناشر کا نام اور ٹائٹل دیکھے بغیر کوئی پروگرام یا شو (Show) نہیں دیکھوں گا۔

جواب: میں پہلے تو آپ کی حمیت اور احساس مسؤلیت کی تحسین کرتا ہوں اور پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کوئی بھی پروگرام دیکھیں، اسے اس کی نوعیت اور مندرجات کے اعتبار سے جانچا جائے گا۔ ناشر یعنی (User Name) کے بارے میں یہ بات واضح رہے کہ لفظ ’اللہ‘ (بمعنیٰ معبود واحد) اور انگریزی کے لفظ (God) میں فرق ہے۔

مذکورہ لفظ میں ’الوہیت‘ کا مفہوم ظاہر نہیں ہے۔ بلکہ یہ لفظ ’رب‘ (بمعنیٰ پالنہار، آقار) سے زیادہ قریب ہے اور قرآن میں ’رب‘ کا لفظ اللہ کے لیے بھی آیا ہے جیسے رب العالمین، رب السموات والارض اور گھر کے سربراہ یا بادشاہ کے لیے بھی آیا ہے جیسے سورۃ یوسف میں سیدنا یوسف کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے قید کے دوران بادشاہ کے پیغامبر سے کہا تھا:

“قال ارجع إلى ربك فاسأله…. “

’’اپنے رب (یعنی بادشاہ) کے پاس واپس جا اور اس سے سوال کر کہ ان عورتوں کا کیا ماجرا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔‘‘ (آیت: 50)

عربی زبان میں : ” رب الأسرة (خاندان کا سربراہ) ایک مشہور محاورہ ہے، ایسے ہی یہاں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ ٹیوب کے پروگرام کے ناشر کا نام ایسے ہی ہے جیسے اردو میں کہا جائے:

’’ میمز کا بادشاہ‘‘ اور اس لحاظ سے اس ترکیب میں کفروشرک کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

میت کی تصاویر کا نشر کرنا

سوال: جرمنی سے ایک صاحب سوال کرتے ہیں کہ اس وقت علوم اسلامیہ میں ڈاکٹریٹ کر رہا ہوں، میری رہنمائی کریں کہ

مردہ لاشوں کی چاہے وہ عام حالت میں ہوں، یا حادثے کی بنا پر کٹی پھٹی اور بھیانک صورت ہو چکی ہوں، کی تصاویر کا مارکیٹ کی خاطر یا ویسے ہی پیش کرنا کیسا ہے اور اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: مردہ لاشوں کی تصاویر کا چاہے وہ عام حالت میں ہوں یا بھیانک شکل اختیار کر چکی ہوں، نشر کرنا ناجائز ہے۔ یہ انسان کی حرمت کے منافی ہے ، الّا یہ کہ یہ کام ضرورۃً کیا جائے جیسے طب کی تعلیم یا علاج کی غرض ہو اور یا کسی مشتبہ موت کی بنا پر بغرض تفتیش اس کی ضرورت محسوس ہو۔

سوال: حدیث “تقتلك الفئة الباغية” سے سیدنا علی اور سیدنا معاویہ کے مابین جنگ کے تناظر میں کچھ اشکالات پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ سیدنا عمار بن یاسر کا سیدنا علی کے جیش میں ہونا اور پھر سیدنا معاویہ کے جیش کے ہاتھ ان کا قتل کیا جانا، صحابی رسول سیدنا معاویہ کے بارے میں شکوک وشبہات جہنم دیتا ہے؟ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: مندرجہ ذیل امور ملاحظہ ہوں کہ جن کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب مل جائے گا۔

1۔ عام طور پر اس مسئلہ میں صرف دو پارٹیوں ہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ایک سیدنا علی کی اور دوسرے سیدنا معاویہ کی، کہ جنہیں باغی گروپ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ وہاں ایک تیسرا گروپ بھی موجود تھا اور وہ تھے قاتلین خلیفہ ثالث سیدنا عثمان کہ جن کے ہاتھوں سیدنا عمار کا قتل ہوا تھا اور جن کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“تقتلك الفئة الباغية”

’’باغی جماعت تجھے قتل کرے گی۔‘‘

2۔ صحیح بخاری کی وہ حدیث ملاحظہ ہو جس میں کہا گیا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ دو جماعتوں میں ایک بڑی جنگ نہ ہو گی جبکہ ان دونوں جماعتوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔

یہ بات علماء اسلام میں تقریباً طے ہے کہ اسے کب اور کیسے انجام دیا جائے جبکہ قاتلین عثمان دونوں جماعتوں میں اور خاص طور پر سیدنا علی کے گروپ میں چھپے ہوئے تھے۔

3۔ دونوں جماعتیں اہل ایمان کی جماعتیں تھیں۔ اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق اس لڑائی میں شریک ہوئیں۔ سیدنا معاویہ کا خیال تھے کہ سیدنا عثمان ناحق قتل کیے گئے ہیں اور وہ بطور ان کے ولی کے قصاص کا مطالبہ کرنے میں برحق ہیں، اور ان کا سیدنا علی سے مطالبہ تھا کہ وہ امور خلافت میں سب سے پہلے اس کام کی طرف توجہ دیں۔

دوسری طرف سیدنا علی کا خیال یہ تھا کہ سیدنا معاویہ کو سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنی چاہیے تاکہ ان کی خلافت مستحکم ہو سکے۔ گویا دونوں نے اجتہاد سے ایک رائے قائم کی اور نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق جس کا اجتاد درست ہو گا وہ دُھرا ثواب کمائے گا اور جس کا اجتہاد غلط ہو گا وہ صرف اکہرے ثواب کا مستحق ہو گا۔

سورۃ الحجرات کی آیت 9 کے مطابق دونوں گروپ مؤمنین کا لقب پائیں گے، فرمایا:

﴿ وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾

’’اگر مؤمنین میں سے دو جماعتیں ایک دوسرے سے قتال کریں تو ان میں صلح کرانے کی کوشش کرو۔‘‘

4۔ صحابہ میں کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے لڑائی میں شرکت کرنے سے توقف کیا، وہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ شریک نہ ہوئے۔

ان میں اس حدیث کا کہ

’’اے عمار! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ کے چار راوی بھی تھے یعنی ابو ایوب انصاری، ابو ہریرہ، ام سلمہ اور ابو سعید الخدری ۔

دوسرے چار راوی بشمول عمار، ابو قتادہ، خزیمہ بن ثابت اور ابو الیسر سیدنا علی کے کیمپ میں تھے، مزید دو راوی سیدنا معاویہ کے گروپ میں تھے۔

اس حدیث کے کل چھبیس (26) راوی ہیں جن میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بھی شامل ہیں جو اس لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

وہ اپنے والد عمرو بن العاص کے ساتھ سیدنا معاویہ ہی کے کیمپ میں تھے۔ ان سے سیدنا معاویہ نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ تم ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ میں تو صرف اپنے والد کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہوں، کیونکہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ اپنے باپ کا ساتھ نہ چھوڑنا۔‘‘

پیچھے رہ جانے والوں میں سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا محمد بن مسلمہ بھی شامل تھے۔

محمد بن اسیرین کہتے ہیں:

’’یہ وہ زمانہ تھا جب دس ہزار صحابہ موجود تھے، لیکن اس لڑائی میں تیس سے زائد صحابہ شریک نہیں ہوئے۔‘‘

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک خالص اجتہادی مسئلہ تھا اور اسی لیے اختلاف رائے کا اظہار ہوا۔

5۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ سیدنا عمار کو باغی گروپ نے قتل کیا تھا، یعنی وہ لوگ تھے جو سیدنا عثمان کے قتل میں شریک تھے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی صحابی سیدنا عمار کے قتل سے راضی نہ تھا۔

جب سیدنا معاویہ سے پوچھا گیا کہ

’’عمار تمہارے آدمیوں کے ہاتھ قتل ہوئے؟ تو انہ﷫ں نے جواب دیا تھا:

’’وہ ان لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوئے جو ان کو لے کر آئے تھے۔‘‘

جب دو آدمیوں یعنی ابن جوی السکسکی اور ابو غادیہ الفرازی نے دعویٰ کیا کہ

عمار ان کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے تو عمرو بن العاص نے ان سے یہ الفاظ کہے تھے:

’’اللہ کی قسم! تمہارے ہاتھوں نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ تم نے اللہ کو ناراض کیا ہے۔‘‘

زیاد بن الحارث کہتے ہیں کہ میں دوران جنگ میں عمار کے اتنے قریب تھا کہ میرا گھٹنا ان کے گھٹنے کو چھو رہا تھا۔ ایک شخص نے بآواز بلند کہا:

شام کے لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے؟ تو سیدنا عمار نے جواباً کہا:

’’ ایسا مت کہو!‘‘

ان کا یہ کہنا کہ اللہ کے نبیﷺ کی اس بات کی تصدیق کرتا ہے:’’عمار! انہیں اللہ کی طرف (یا ایک دوسری روایت کے مطابق جنت کی طرف) بلاتا ہے اور وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہیں۔‘‘

یعنی وہ انہیں اس راستے کی طرف بلا رہے ہیں جو انہیں جنت کی طرف لے جاتا ہے، سیدنا عمار اس اعتبار سے معاویہ اور ان کے لشکر یوں کو خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے دعوت دے رہے تھے اور مخالفین انہیں اس راہ سے باز رکھنے کی دعوت دے رہے تھے جو کہ جہنم کی طرف بلانے کے مترادف تھا۔

6۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سیدنا عمار کا سیدنا علی کے کیمپ میں ہونا، اس بات کی علامت تھا کہ ان کے مخالفین یعنی سیدنا معاویہ اور ان کے ساتھی جہنمی تھے؟

تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ صحابہ کی ایک اچھی بھلی تعداد سیدنا عمار کی فضیلت کے بارے میں حدیث کو جانتے بوجھتے کیسے سیدنا معاویہ کے ساتھ رہے؟

اور یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیدنا معاویہ باغی تھے تو سیدنا علی اس بات کا علم رکھنے کے باوجود ان سے صلح کی کوشش کیوں کرتے رہے؟

اور جس طرح وہ بعد ازاں خارجیوں کے ساتھ مسلسل لڑتے رہے، انہوں نے سیدنا معاویہ کے ساتھ جنگ کیوں نہ جاری رکھی؟

اور اس سے بھی ایک قدم آگے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیدنا حسن کو بھی سیدنا معاویہ کے باغی ہونے کا علم تھا تو انہوں نے سیدنا علی کی شہادت کے بعد اپنے چھ ماہ کے دور حکومت کے بعد سیدنا معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری کیوں کی؟ بلکہ ان کا یہ عمل تو رسول اللہﷺ کے اس قول کی صداقت ظاہر کرتا ہے کہ جو انہوں نے سیدنا حسن کے بارے میں کہا تھا جبکہ وہ ابھی بچے تھے:

’’میرا یہ بیٹا سید ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر مسلمانوں کے دوبڑے فریقین کے درمیان صلح کرا دیں گے۔‘‘

یہ حدیث بھی دونوں گروہوں (بشمول معاویہ ) کے مسلمان ہونے کی شہادت دے رہی ہے، اور اس بات کی تردید کر رہی ہے کہ سیدنا معاویہ باغی یا گمراہ تھے۔

اور پھر کیا یہ درست نہیں ہے کہ بالآخر سیدنا معاویہ کے کیمپ کی طرف سے مصحف کو لہرایا گیا تھا کہ اسے فریقین کے درمیان حکم بنایا جائے!!

انہوں نے تو صلح کی خاطر یہاں تک کہا تھا کہ

اگر ہم اسی طرح باہمی جنگ وجدال میں مصروف رہے تو اسلامی ریاست کی حدود کی حفاظت کون کرے گا اور بت پرستوں اور کفار کے خلاف جہاد کون کرے گا؟

7۔ بہرحال ایک بات تو واضح ہے کہ

سیدنا عمار کا قتل اس بات کی گواہی بن گیا کہ سیدنا علی برحق تھے کیونکہ نبی کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جب لوگ اختلاف کریں گے تو حق وہاں ہو گا جہاں سمیہ کا بیٹا ہو گا۔‘‘

اور چونکہ سیدنا عمار ، سیدنا علی کے کیمپ میں تھے، اس لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ

مذکورہ مسئلہ میں سیدنا علی کا اجتہاد درست تھا اور سیدنا معاویہ اپنے اجتہاد میں غلطی پر تھے، یہاں ہمیں رسول اللہﷺ کا وہ قول بھی یاد رکھنا چاہیے جو انہوں نے مجتہد کے بارے میں کہا تھا

کہ اگر اس کا اجتہاد درست ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اگر غلط ہو تب بھی اکہرا ثواب ملتا ہے۔ ہم اپنی اس بات کو امام ابن تیمیہ﷫ کے اس قول پر ختم کرتے ہیں۔

حدیث کے یہ الفاظ ” ويح عمار، يقتلك الفئة الباغية” ’’ہائے افسوس عمار! تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘

اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتے کہ

سیدنا معاویہ اور اس کے ساتھی اس قضیہ میں ملوث ہوں گے، بلکہ ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ

جنہوں نے عمار پر حملہ کیا اور انہیں قتل کیا، وہ لشکر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا اور جو لوگ بھی عمار کے قتل سے خوش تھے، ان پر بھی یہ قول صادق آتا ہے (یعنی باغی ہونے کا) اور یہ بات طے شدہ ہے کہ

لشکر میں سیدنا عبد اللہ بن عمر اور ان جیسے کئی دوسرے لوگ تھے جو عمار کے قتل پر راضی نہ تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جیسے سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن العاص جنہوں نے قتل کی مذمت کی تھی۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 4؍236)

٭٭٭

تبصرہ کریں