سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

طلاق کے نتیجہ میں عورت کا خاوند کے نصف مال کا حقدار ہونا

 

سوال: اگر طلاق ہو جائے تو کیا عورت کو اس بات کا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی جائیداد اور اس کے نقد اموال کا آدھا حصہ طلب کرے؟

جواب: بیوی کے حقوق چاہے وہ طلاق سے پہلے کے ہوں یا بعد کے، شریعت اسلام میں متعین کر دیے گئے ہیں۔ جب طلاق اور جدائی ہو جائے تو طلاق دینے والے شوہر پر مندرجہ ذیل واجبات عائد ہو جاتے ہیں:

1۔ اگر رجعی طلاق کے نتیجہ میں علیحدگی ہوئی ہے تو تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ بیوی کو عدت کے دوران رہائش اور نان ونفقہ دیا جائے اور وہ اس لیے کہ رجعی طلاق کی بنا پر عورت کو بیوی کے بعض حقوق حاصل رہتے ہیں۔

اور اگر طلاق بائن ہو (یعنی رجوع کا حق حاصل نہ ہو) تو اس میں فقہاء کا اختلاف ہے:

ایک رائے یہ ہے کہ حاملہ اور رجعی طلاق والی عورت کی طرح اسے بھی رہائش اور نان ونفقہ کا حق حاصل ہے۔

دوسری رائے یہ ہے کہ اسے کوئی حق حاصل نہیں، اور ایک درمیانی رائے یہ ہے کہ اسے صرف رہائش کا حق حاصل ہے، تفصیل کے لیے فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔

2۔ مُتعہ کا حق اور اس سے مراد یہ ہے کہ شوہرعلیحدگی کے وقت اسے تحفے تحائف کے طور پر کچھ دے دلا دے تاکہ علیحدگی کی بنا پر اسے جس دکھ سے دوچار ہونا پڑا ہے، اس کا مداوا ہو سکے، یہ متعہ کتنا ہو؟ یہ شوہر کی مالی حالت پر انحصار کرتا ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ کیا متعہ کا ادا کرنا واجب ہے یا مستحب ہے؟ بہرحال ان دونوں باتوں کا فیصلہ شرعی عدالتوں یا اداروں پر چھوڑ دیا جائے۔

3۔ اگر مہر میں سے کچھ رقم ابھی تک ادا نہیں ہوئی تو اسے ادا کرے۔

4۔ اگر چھوٹے بچے عورت کی کفالت میں ہیں تو ان کی رہائش اور ان کے اخراجات بھی مرد کے ذمہ رہیں گے اور اس کا تعین بھی شرعی اداروں کے توسط سے ہو گا۔

اس کے علاوہ شوہر کے باقی مال وجائیداد میں سے عورت کے لیے کچھ لینا جائز نہیں ہے، الّا یہ کہ وہ شوہر کی رضا مندی سے ہو ، لیکن اس کی خواہش اور رضا مندی کے بغیر عورت کے لیے کچھ بھی لینا ناجائز ہے، حرام ہے۔ اور دلیل کے طور پر ملاحظہ ہو:

1۔ دین کے مسلّمات میں سے ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا مال بغیر رضا مندی کے ہڑپ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ﴾ (سورة النساء: 29)

’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ، الّا یہ کہ وہ باہمی تجارت کے نتیجے میں۔‘‘

نبیﷺ کا ارشاد ہے:

«كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ»

’’ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو حرام ہے۔‘‘

اور یہ بھی ارشاد فرمایا:

«لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بطِيْبِ نَفْسٍ مِنْهُ»

’’کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خواہش کے بغیر حلال نہیں ہے۔‘‘

گو یہ عام احکامات ہیں لیکن اس میں میاں بیوی بھی داخل ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا مال بغیر رضامندی کے نہیں لے سکتے۔

2۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَا تُنْفِقْ امْرَأَةٌ شَيْئاً مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: «ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا»

’’کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے کچھ خرچ نہ کرے مگر اپنے شوہر کی اجازت سے، پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول! کھانے کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ تو ہمارے بہترین مال میں سے ایک مال ہے۔‘‘

اس حدیث میں گھر کی اضافت شوہر کی طرف کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کوئی عورت اس میں سے کوئی چیز شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے اور اس بات کی دلیل ہے کہ عورت شوہر کے مال ومتاع میں حصہ دار نہیں ہے۔

3۔ سوال میں جس شراکت کے حصول کا پوچھا گیا ہے (یعنی طلاق کے بعد نصف مال کا حقدار ہونا) اس میں شراکت سے متعلق شرائط اور ارکان شراکت پورے نہیں اترتے، اسلام میں مالی شراکت کے کچھ شروط اور ارکان ہیں، جن میں سب سے زیادہ اہم باہمی رضامندی کا ہونا ہے اور اگر یہ شرائط اورارکان نہ پائیں جائیں تو پھر یہ شراکت صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی اثر پایا جائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر اگر عدالت ایسا فیصلہ دے بھی دے تو عورت کے لیے ایسا مال لینا حلال نہ ہو گا۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے: ’’میں تو صرف ایک بشر ہوں، تم لوگ میرے پاس اپنے جھگڑے لے کر آتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حجت بازی کر سکتا ہو، تو میں پھر اسے سن کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں تو اگر میں نے اسے اس کے بھائی کا حق دلا دیا ہو تو میں اسے آگ کا ایک قطعہ بخش رہا ہوں۔‘‘

البتہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا ایک بیوی نے اپنے شوہر کے ساتھ کسی قسم کی شراکت کی ہے؟ چاہے وہ اپنے مال سے ہو یا اس کی تجارتی، جدوجہد میں کسی طریقے سے معاونت کی ہو اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اس کے کارخانے، دکان یا فارم میں ہاتھ بٹاتی رہی ہو یا کسی جائیداد کی خرید میں اس کی شریک ہو۔ ایسی صورت میں وہ شوہر کے مال میں برابر کی شریک نہیں شمار ہو گی بلکہ اپنے حصے کے تعین کے لیے شرعی پنجایت (تحکیم) کا راستہ اختیار کرے گی۔اس ضمن میں جدہ کی مجمع الفقہ الاسلامی کی قرار داد نمبر 144 ملاحظہ ہو:

’’اگر ایک بیوی نے واقعتاً کسی رہائشی مکان یا جائیداد یا تجارت میں اپنے مال سے یا اپنی جدوجہد سے حصہ لیا ہو تو اس کا بقدر اس کے حصے کے اس چیز میں حق حاصل ہو گا۔‘‘

اور اگر طلاق دینے والا مرد شرعی تحکیم کے فیصلے کو قبول کرنے پر رضامند نہ ہو تو عورت کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اس ملک کی عدالتوں کی طرف رجوع کرے تاکہ اپنا حق حاصل کر کے اور وہ قطعاً گناہ گار نہ ہوگی کیونکہ عدالت کی طرف رجوع نہ کرنے کا مطلب ہے، اپنے حق کو ضائع کر دینا اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ نہ کسی کو ضرر پہنچاؤ اور نہ کوئی تمہیں ضرر پہنچائے۔ اب اگر عدالت نے اسے شوہر کا آدھا مال دینے کا حکم دیا ہے تو وہ اس میں سے اتنا ہی لینے کی مجاز ہے جو اس کا شرعاً حق بنتا ہے، باقی مال اسے شوہر کو لوٹا دینا چاہیے۔ اور اگر اس نے اپنے حق سے زائد لیا ہے تو وہ اس کے لیے مال حرام ہے جو اسے کبھی نہ بھائے گا۔

ہاں وہ عدالتی اخراجات بھی اس رقم سے لے سکتی ہے کیونکہ شوہر کے شرعی تحکیم کے فیصلے کو نہ قبول کرنے کی وجہ سے وہ عدالت جانے پر مجبورہوئی۔

اور آخر میں ہم دونوں میاں بیوی کو یہ نصیحت کریں گے کہ وہ شروع ہی سے اپنے اپنے حقوق، معاہدات اور ہبہ کی رقوم کو کسی وکیل یا قانونی ادارے میں رجسٹرڈ کرواتے رہیں تاکہ بعد میں کسی قسم کے التباس یا نزاع کا موقع نہ آنے پائے اور یوں ہر دو افراد کا حق محفوظ رہے۔ واللہ اعلم (فتویٰ کونسل یورپ)

کیا حادثات کے نتیجے میں ملنے والی رقم ترکہ میں شمار ہو گی؟

سوال: ایک مسلمان بھائی اٹلی میں کام کے دوران جل کر وفات پا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس کمپنی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حکم دیا کہ وہ اس کا معاوضہ ادا کرے، چنانچہ بیمہ کمپنی نے متوفی کے اہل وعیال کو لاحق ہونے والے مادی ضرر کے ازالہ کے لیے مناسب رقم ادا کر دی لیکن اس کے ورثاء نے یہ مقدمہ دائر کر دیا کہ انہیں بھی اس رقم میں سے حصہ ملنا چاہیے کیونکہ انہیں نفسیاتی ضرر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق صرف متوفیٰ کی بیوہ اور نابالغ بچی کو عوض کی رقوم ادا کی گئیں۔ متوفیٰ کے والد اور بھائیوں کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔

بیوہ کو ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار اور بیٹی کو دو لاکھ یورو ادا کیے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم میں باقی ورثا کا بھی حق ہے اور کیا یہ ساری رقم وراثت کے اصولوں کے مطابق تمام ورثا میں تقسیم کی جائے گی یا صرف عدالت کے فیصلے کے مطابق مذکورہ دو افراد تک محدود رہے گی؟

جواب:میراث کے بارے میں جتنی بھی آیات اور احادیث وارد ہوئی ہیں اور میراث کے احکام کے مقاصد اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ میراث کا معیار مالِ عوض کے معیار سے مختلف ہے۔ میراث کا معیار ان اموال سے ہے جو میت اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے، چاہے اس کا تعلق ترکہ سے ہو یا دیت سے ہو یا ان عوض کی رقوم سے ہو، جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہوں۔ یہ ساری کی ساری اس کی اپنی وراثت شمار ہو گی اور عوض میں دی جانے والی رقوم کا معیار ورد اور اَلم سے ہو جو کسی شخص کو لاحق ہوا ہے اور اس لیے دو اشخاص کو پہنچنے والا مادی یا معنوی ضرر ایک جیسا نہیں ہوتا اور اسی بنا پر عدالت نے بیوہ اور بیٹی میں اس لحاظ سے فرق روا رکھا ہے کہ بیٹی کو بیوہ سے زیادہ رقم بطور عوض ادا کی گئی ہے، اور ان دونوں رقوم کا تعین متوفیٰ کی موت کے بعد کیا گیا ہے۔ یعنی یہ متوفیٰ کے اموال میں سے نہیں دیا گیا۔ اس لیے اسے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی باقی ورثا اس میں کسی حصے کے حقدار ہوں گے اور یہ بات اس لیے بھی قابل قبول ہے کہ دعویٰ تو تمام ورثا کی طرف سے کیا گیا تھا لیکن عدالت نے دونوں چیزوں میں فرق رکھتے ہوئے صرف بیوی اور بیٹی کے لیے مال عوض کا فیصلہ دیا۔ یعنی عدالت کی نظر میں میت کے گذر جانے سے بیوی اور بیٹی کو جو نفسیاتی اور معنوی ضرر پہنچا وہ دوسرے ورثہ کو نہیں پہنچا۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ مال عوض ایک ہنگامی معاملہ ہے جو ایک شخص کی موت کے بعد پیش آیا ہے نہ کہ موت سے قبل، اور اس کا تعلق دیت سے بھی نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کیا اس مال عوض کے دیے جانے کا سبب اس شخص کی موت نہیں ہے؟ تو اس کے جواب میں بھی ہم کہیں گے کہ عدالت کے حکم کا سبب وہ نفسیاتی اور معنوی ضرر ہے جو ورثہ میں سے بعض اشخاص کو پہنچا تھا۔ اس لیے ان کا تعین کر دیا گیا۔ اس لیے اس حکم کو دوسرے ورثہ تک متعدی نہیں کیا جا سکتا اور یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ میت کے حق میں نہیں تھا کہ یہ مال اس کا ترکہ شمار کیا جاتا، بلکہ میت کے بجائے کچھ دوسرے لوگوں سے متعلق تھا جن کی اپنی اپنی ذمہ داریاں تھیں کہ جن کی وجہ سے وہ مالِ عوض کے مستحق قرار پائے۔

(فتویٰ کونسل یورپ)

قسطوں پر اضافی قیمت کے ساتھ خرید کا حکم

سوال: بڑے بڑے تجارتی اسٹورز اپنے گاہکوں کو قسطوں پر اشیاء بیچتے ہیں، چار قسطوں میں ادائیگی مطلوب ہوتی ہے۔ اگر گاہک راضی ہو تو اسے ایک فارم دیا جاتا ہے۔ وہ اس کے مندرجات پُر کرتا ہے اور اس کے ساتھ چند دستاویزات (شناختی کارڈ، ماہانہ تنخواہ گوشوارہ اور اپنے بنک کی تفصیلات) منسلک کرتا ہے۔ تاجر اِن کاغذات یا فائل کو بنک کے سپرد کر دیتا ہے۔ بنک مطلوبہ خرید کردہ چیز کی قیمت کی ادائیگی دو فیصد کٹوتی کے ساتھ کر دیتا ہے اور پھر بنک خریدار سے چاروں اقساط بغیر کسی اضافہ کے پوری کی پوری وصول کر لیتا ہے۔ اس قسم کی بیع وشراء کا معاہدہ مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے لوگوں میں معمول کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسے “ضَعْ وَتَعَجَّلْ”جیسا معاملہ شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی تاجر فوری قیمت وصول کرنے کے لیے دو فیصد رقم کم وصول کر کے اپنے پیسے کھرے کر لیتا ہے اور بنک خریدار سے پوری قیمت وصول کر لیتا ہے تو شرعاً اس معاملے کا کیا حکم ہے؟

 

 

جواب: پہلے “ضَعْ وَتَعَجَّلْ” (یعنی کچھ کمی کر دو اور جلد اپنی رقوم وصول کر لو) کا مطلب سمجھ لینا چاہیے۔

 

اس کی بنیاد بنی نضیر کے قصے پر ہے، جس وقت نبیﷺ نے یہود بنی نضیر کو مدینہ سے جلا وطن کرنے

کا حکم دیا تھا تو انہوں نے کہا: ہمیں تو ابھی لوگوں سے اپنا قرضہ وصول کرنا ہے تو نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

«ضَعُوْا وَتَعَجَّلُوْا» ’’یعنی لوگوں سے کہو کہ ہم تمہارا قرضہ کچھ کم کر دیتے ہیں لیکن تم فوری طور پر اسے ادا کر دو۔‘‘

یعنی یہ مسئلہ قرضدار اور قرض خواہ کے درمیان کا ایک معاملہ ہے۔ لیکن مذکورہ صورت میں تاجر اور بنک کے درمیان نہ قرض کا کوئی معاملہ ہے اور نہ بیع کا، اس لیے اسے “ضَعْ وَتَعَجَّلْ” کے زمرے میں شمار کرنا غلط ہے۔

“ضَعْ وَتَعَجَّلْ” کا جواز قرض خواہ اور قرضدار کے درمیان ہوتا ہے کہ پہلی پارٹی (جس نے قرض دیا ہے) وہ دوسری پارٹی (جس نے قرض لیا ہے) اس کی آسانی کے لیے اپنے قرض میں سے کچھ رقم چھوڑ دیتی

ہے۔ یعنی یہاں صرف دو اطراف کے درمیان کا معاملہ ہے، سہ اطراف نہیں۔

 

 

مذکورہ صورت میں قرض کی دستاویزات یا مؤخر ادائیگیوں کے چیک کو کچھ کٹوتی کے ساتھ فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ اسے ربا عکسی (سود کی ایک الٹی صورت) کہا جا سکتا ہے یا ایک قرض کو مؤخر قرض کے بدلے میں فروخت کرنے کا معاہدہ کہا جا سکتا ہے، اس لیے یہ جائز نہیں ہے۔

 

ملاحظہ ہو کہ اس صورت میں بنک تاجر کو مثال کے طور پر 98 ہزار یورو ادا کرتا ہے، اس ایک لاکھ یورو کے مقابلے میں جو وہ خریدار سے وصول کرے گا یہ تو عین ربا ہے جو کہ حرام ہے۔

ہاں جواز کی مندرجہ ذیل صورت ہو سکتی ہے کہ تاجر خریدار کو ایک چیز ایک مقررہ قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ یہ قیمت فوری ادائیگی والی بھی ہو سکتی ہے یا مؤخر ادائیگی والی بھی، لیکن اگر وہ اقساط میں دے رہا ہے اور اس بنا پر اس نے قیمت میں اضافہ کیا ہے تو وہ پہلے سے طے شدہ ہونا چاہیے اور اگر اسے مرابحہ کی اساس پر فروخت کر رہا ہے تو اپنے نفع کی نسبت کا ذکر کرنا چاہیے اور پھر بنک اس چیز کو خود خریدے اور خریدار کے ساتھ ایک مقررہ قیمت پر قسطوں میں فروخت کرنے کا معاہدہ کرے۔ واللہ اعلم

٭٭٭

عبادت میں سیلفی تلاوت میں سیلفی
امامت میں سیلفی خطابت میں سیلفی
عجب مرض ہے عادتِ خود نمائی
عیادت میں سیلفی سخاوت میں سیلفی
بِنا سیلفیوں کے گزارہ نہیں ہے
بشاشت میں سیلفی ندامت میں سیلفی
میرے دیس میں سیاسی لوگوں کی عادت
حمایت میں سیلفی مذمت میں سیلفی
رِیا کیا ہے ہم سے نہ پوچھے کوئی بھی
بنائیں گے ہم دیں کی خدمت میں سیلفی
میں علمائے دیں کو کہوں کیسے ہُد ہُد
ہمیں نہ پھنسا دے قیامت میں سیلفی
(ہُد ہُد الٰہ آبادی)

 

 

تبصرہ کریں