سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

پوپ کی شکل کا گڈّا بنانا

سوال: میری ایک سہیلی ہاتھ سے گڑیاں بنانے کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے، اسے نئے سال کی مناسبت سے پوپ ’نوبل‘ کی ہیئت سے گڈّا بنانے کا کام سونپا کیا گیا ہے، وہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا یہ کام اس کے لیے جائز ہے؟

جواب: جہاں تک بچوں کے لیے گڑیا، گڈا بنانے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر یہی کھلونا جو کہ اصلاً ایک بت کی شکل میں ہوتا ہے، مذہبی تقدس کا بھی حامل ہو تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔

ابو الہیاج الاسدی روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا علی بن ابی طالب نے کہا، کیا میں تمہیں اس مشن پر نہ روانہ کروں جس پر مجھے رسول اللہﷺ نے روانہ کیا تھا، کہ تم کوئی بت نہ دیکھو گے مگر اس کو مٹا دو گے اور کوئی اونچی قبر نہ دیکھو گے مگر اسے برابر کر دو گے؟‘‘ (صحیح مسلم)

اب جہاں تک پوپ نوبل کی ہیئت کا گڈا بنانے کا مسئلہ ہے تو ظاہر ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک اسے بہت تقدس حاصل ہے اور اسی تقدس کی روشنی میں اسے بنا سنوار کر رکھا جائے گا اور یہ وہی کیفیت ہے جو قوم سیدنا نوح کی بتائی گئی ہے، سورۃ نوح کی یہ آیت ملاحظہ ہو:

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ‎0‏ وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا﴾ (سورۃ النوح: 23۔24)

’’اور انہوں نے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ہی چھوڑنا وُدّ کو اور سواع کو اور نہ ہی یغوث، یعوق اور نسر کو اور انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا ہے اور (اے اللہ!) ان ظالموں کو اور زیادہ کر گمراہی میں۔‘‘

سیدنا ابن عباس اس آیت کی تفسیرت میں ارشاد فرماتے ہیں:

یہ ان بتوں کے نام ہیں جو سیدنا نوح کے زمانے میں پوجےجاتے تھے۔‘‘

امام ابن جریر طبری﷫ لکھتے ہیں:

’’یہ ان نیک لوگوں کے نام تھے جو سیدنا آدم اور سیدنا نوح کے درمیان پائے گئے تھے، ان کے بہت سے پیروکار تھے جو ان کی پیروی کیا کرتے تھے، جب ان نیک لوگوں کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے کہا: کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہم عبادت میں زیادہ انہماک حاصل کر سکیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ان کی تصویریں بنانا شروع کر دیں، جب یہ نسل بھی ختم ہو گئی اور ایک نئی نسل وجود میں آ گئی، تو شطیان نے انہیں بہکایا: تمہارے آباؤ اجداد تو ان کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان کی وجہ سے ان پر بارش آتی تھی، تو پھر انہوں نے ان کی پوجا شروع کر دی۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر: 4؍3۔5)

گویا یہ عمل شرک کا دروازہ کھولنے کا موجب ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اس کام سے اجتناب کیا جائے، روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا وعدہ ہے:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ‎0‏ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾ (سورة الطلاق: 2۔3)

’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایک راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (ص ح)

شمسی دستے نصب کرانے کے لیے سود پر قرض لینا

سوال: میں گھر کو گرم رکھنے کے لیے بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو دیکھتے ہوئے سولر پینل (شمسی توانائی جذب کرنےوالے دستے) لگوانا چاہتا ہوں لیکن میں بذات خود اتنی بچت نہیں رکھتا کہ یہ کام کروا سکوں تو کیا میں اس غرض کے لیے بنک سے سود پر قرض لے سکتا ہوں؟

جواب: ایک مسلمان پر یہ امر مخفی نہیں ہے کہ سود کا لینا دینا کتنا بڑا گناہ ہے، قرآن میں اسے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ کھولنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، قرآن کی آیات اور احادیث رسول اس بارے میں واضح ہیں، ہم نے اس سے قبل شدید حاجت جو کہ بمنزلہ ضرورت ہے، کی بنا پر بقدر حاجت سودی قرضے کو لینے کا فتویٰ صادر کیا تھا، مراد ہے وہ فتویٰ جو یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ نے جاری کیا تھا اور حاجت سے مراد وہ حاجت ہے کہ جس کے بغیر زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو جائے اور ایسی حاجت کو اضطرار کے حکم پر قیاس کر کے اس کے جواز کا فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔

عام حالات میں تو اس خاص حاجت کو بمنزلہ ضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر بعض ممالک میں جہاں شدید سردی پڑتی ہے اور بجلی سے گھر گرم رکھنے کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، تو ایسی خاص صورت میں مذکورہ بالا فتویٰ کا اس صورت پر بھی اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ انسان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ جتنا سود سے بچ سکے بچنے کی کوشش کرے کہ اسی میں عافیت ہے۔ (ص ح)

قرض خواہ اگر مفقود ہو تو قرض کسے ادا کرے

سوال: میں عرصہ 20 سال سے اٹلی میں مقیم ہوں، میں نے اس وقت فیکٹری میں اپنے ایک ساتھی سے کچھ رقم بطور قرض لی تھی۔ یہ شخص اس فیکٹری میں کام کرتا تھا اور ساتھ ساتھ ایک چرچ میں بھی پارٹ ٹائم کام کیا کرتا تھا۔ طے پایا تھا کہ میں یہ رقم بالاقساط اسے ادا کرتا رہوں گا اور میں نے ایسا ہی کیا اور پھر جب ایک دوسرے شہر منتقل ہو گیا تو پھر بھی ہر مہینے اس کے پاس جاتا اور مطلوبہ قسط اسے لوٹا دیتا، یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ وہ وفات پا گیا ہے۔ پاس پڑوسیوں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ شخص غیر شادی شدہ تھا اور تنہا رہتا تھا، اس کا ایک بھائی بھی اسی کی طرح تنہا زندگی گزار رہا تھا لیکن معلوم ہوا کہ وہ بھی وفات پا چکا ہے۔ اب میں کافی فکر مند ہوں کہ یہ مال کیسے لوٹاؤں، کیا اسے کسی مسلم ممالک میں بطور صدقہ بھیج دوں؟

جواب: پہلے تو ہم اس شخص کی ہمت کی قدر دانی کرتے ہیں کہ اس نے قرض واپس کرنے کی پوری کوشش کی، قرض خواہ کی موت کے بعد اس کے عزیز و اقارب کی کھوج لگائی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا صرف ایک بھائی تھا اور وہ بھی انتقال کر چکا ہے اور اگر ایسی صورتحال ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس رقم کو ان لوگوں میں صدقہ کر دے جو اس سے دوستی یا قرابت کا تعلق رکھتے ہوں یا عام حاجت مند ہوں۔

شیخ عبد الرزاق عفیفی﷾ جو کہ لجنہ کبار العلماء (سعودی عرب) کے ممبر رہے ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ ایک بدّو نے کسی دوسرے شخص کے اونٹ غصب کر لیے اور پھر اپنی وفات سے قبل اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ یہ اونٹ اسے لوٹا دے، لیکن اس کے بیٹے نہ اسے جانتے ہیں نہ اس کے والی وارثوں کو تو شیخ نے جواب دیا کہ وہ ان اونٹوں کی موجودہ قیمت نکالے اور اسے فقراء اور محتاجین پر صدقہ کر رہے اور مسلمانوں کے فائدے کے کسی بھی کام میں لگا دے۔ (بحوالہ فتاوی ورسائل سماحۃ الشیخ عبد الرزاق عفیفی: ص 474) (ص ح )

لکڑی کے ایک ٹکڑے کی بیع کا مسئلہ

سوال: اٹلی میں میرے ایک مسلم دوست کا لکڑی کا کارخانہ ہے، اس سے ایسے لکڑی کے ٹکڑے بنانے کا آرڈر دیا گیا ہے جو شراب کی بوتلوں پر بطور ڈاٹ استعمال ہوں گے اور ان بوتلوں میں شراب بھری جائے گی تو کیا وہ ایسے آرڈر کو قبول کر سکتا ہے؟

جواب: ایک مسلمان کے لیے کوئی بھی مباح کام کرنا جائز ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ آیا اس کی بنائی ہوئی چیز کسی حلال غرض کے لیے ہے یا حرام کے لیے، یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص نے کسی کو ایک چھری فروخت کی اور اس نے اس چھری سے کسی کو قتل کر ڈالا، ایسی صورت میں بائع ضامن نہیں ہو گا، ایسے ہی اگر کسی شخص نے کہیں جانے کے لیے گاڑی اجرت پر لی، لیکن وہ اس نے چوری کرنے کے لیے استعمال کر لی تو گاڑی کا ڈرائیور جوابدہ نہ ہو گا۔

اس میں یہ اصول کار فرما ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں سبب اور علت جمع ہو جائیں تو حکم علت کی بنیاد پر ہو گا نہ کہ سبب پر، یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک انسان نے اپنے باغ میں کنواں کھودا جس میں ایک دوسرا شخص گر گیا، تو کنویں کا مالک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور وہ اس لیے کہ کنواں سبب ہے، لیکن آدمی کے اس میں گر جانے کی علت نہیں ہے اور ایسے ہی اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کے مال کی نشاندہی کی اور اس نے جا کر وہ مال چرا لیا یا اس نے کسی قافلے کے بارے میں بتایا اور جسے بتایا تھا اس نے قافلے کو لوٹ لیا تورہنمائی کرنے والے کو ضامن قرار نہیں دیا جائے گا۔

اور اس اصول کے مطابق آپ کا اٹلی والا دوست اگر یہ لکڑی کا ٹکڑا کسی کو فروخت کرتا ہے توایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے لیکن اگر خریدار اسے کسی حرام یا مکروہ کام کے لیے استعمال کرتا ہے تو آپ کا دوست اس گناہ کا مرتکب قرار نہیں دیا جائے گا چاہے اسے مشتری کا قصد معلوم کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ بیع اس کے حرام فعل کی علت نہیں ہے۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

گود لی بچی کو زکوٰۃ دینا

سوال: میں نے ایک بچی کو گود لے کر پالا ہے؟ کیا اسے زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟

جواب: اصول یہ ہے کہ جن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی ان میں مالدار حضرات، خود اپنی بیوی اور تمام آبائی یا صلبی اولاد کہ جن کا نان ونفقہ انسان پر واجب ہے، شامل ہیں، ان کے علاوہ وہ رشتہ دار جن میں بھائی بہن، چچا، پھوپھی اور خالائیں شامل ہیں، انہیں اور ان کی غریب اور مستحق اولاد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے اور اس عمل میں دہرا اجر ہے، ایک تو صدقہ دینے کا اور دوسرے صلہ رحمی کا۔

جامع ترمذی کی روایت ہے کہ سلمان بن عامر الضبی نے نبیﷺ سے نقل کیا: کہ ایک فقیر کو صدقہ دینا، ایک صدقہ کے برابر ہے لیکن اپنے قریبی رشتہ کو دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔

یہ روایت دوسرے محدثین سے بھی مروی ہے اور یہ بات علماء میں معروف ہیں بلکہ ان کا اس بات سے بالکل اتفاق بھی ہے۔

اور جس بچی کو آپ نے بچپن سے پالا پوسا ہے، وہ آپ کی حقیقی بیٹی نہیں ہے، بلکہ اور اس کے اور آپ کے درمیان کوئی رحمی رشتہ بھی نہیں ہے تو اگر وہ مستحق ہے تو اسے صدقہ دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی بھی فقیر اور محتاج کو دیا جائے اور یہاں بھی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ اس عمل میں بھی کسی کی مدد کا جذبہ اور احسان شامل ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ اجر دوبالا ہو جائے گا کیونکہ ہر وہ عمل جس میں لوگوں کے درمیان رشتوں کی تقویت مقصود ہو وہ شرعاً محبوب اور مرغوب ہے۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

ایک عیسائی کی تحدید نسل کے لیے آپریشن کرنا

سوال: میں خود ایک ڈاکٹر ہوں اور میرے پاس عیسائی مریض بھی آتے ہیں جو تحدید نسل کی خاطر مادہ منویہ کو آپریشن کے ذریعے کاٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تو کیا ایسا کرنا جائز ہو گا؟

جواب: ایک مسلمان مرد یا عورت کے لیے ایسا آپریشن کرانا کہ جس میں آئندہ اولاد ہونے کا راستہ ختم ہو جائے یا عورت کبھی بھی حاملہ نہ ہو سکے، جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بات شریعت کے مقاصد کی نفی کرتی ہے، البتہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر عارضی طور پر ایسا کیا جا سکتا ہے، ایک مسلمان ڈاکٹر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایک مسلمان مریض کے لیے کوئی غیر شرعی کام کرے، البتہ غیر مسلم حضرات اسلامی شریعت کے احکام کے پابند نہیں ہیں، تو اگر وہ خود یہ آپریشن کروانا چاہتا ہو اور ایک مسلمان ڈاکٹر سے اس کام کے لیے رجوع کرے تو ایسے مسلمان ڈاکٹر کے لیے اس کی خواہش پوری کرنے میں کوئی حرج نہیں ہےلیکن شرط یہ ہے کہ ایسا کرنا ملکی قانون کے واٹرے سے باہر نہ ہو۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

اسقاط شدہ بچے کی نماز جنازہ اور غسل کا حکم

سوال: نوٹنگھم سے ایک صاحب علم نے دریافت کیا ہے کہ اگر ایک چھ سات ماہ بچے کا حمل ساقط ہو جائے تو اسے غسل دینے اور اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ وہ خود سنن ابو داؤد کی ایک حدیث کے مطابق اسے جائزسمجھتے ہیں، لیکن ایک دوسری رائے کے مطابق ایسا کرنا ضروری نہیں ہے تو آیا ایسے بچے کی قبر پر عرصہ دراز کے بعد نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے؟

جواب: جمہور فقہاء (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی﷭) کے نزدیک اگر بچہ مردہ پیدا ہوا ہے تو دیکھا جائے گا کہ بوقت ولادت اس کی آواز (چیخ، چھینک)سنی گئی تھی یا نہیں؟ اگر سنی گئی تھی تو اسے غسل بھی دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی اور اس کی دلیل سیدنا جابر سے مروی حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

«الطفل لايصلى عليه ولا يرث ولا يورث حتى يستهل» (رواه الترمذى وابن ماجه إلا أنه لم يذكر ولا يورث)

’’بچےپر نماز نہ پڑھی جائے گی، نہ وہ کسی کا وارث ہو گا اور نہ کوئی اس کا وارث ہو گا جب تک کہ اس کی آواز نہ نکلے۔‘‘

(جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، آخر الذکر میں: ’’کوئی اس کا وارث نہ ہو گا۔‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔

تابعین میں سے اس رائے کے حامل امام زہری، امام نخعی، امام حماد اور امام شعبی﷭ بھی ہیں۔

دوسری رائے امام احمد﷫ کی ہے اور وہ یہ کہ اگر چار ماہ کے بچے کا بھی اسقاط ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے کیونکہ چار ماہ کے بعد جنین میں روح پھونک دی جاتی ہے ور اس کی دلیل سیدنا مغیرہ بن شعبہ کی روایت کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«والسقط يصلى عليه ويدعى بوالديه بالمغفرة والرحمة»

(سنن ابو داؤد، مسند احمد، جامع ترمذى، سنن نسائى، سنن ابن ماجہ)

’’اسقاط شدہ بچے پر نماز پڑھی جائے اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے۔‘‘

سیدنا ابو بکر صدق اور سیدنا عبد اللہ بن عمر صحابہ میں سے اور سعید بن المسیب، ابن ابی لیلیٰ اور محمد بن سیرین تابعین میں سے اس رائے کے حامل ہیں۔

سیدنا جابر والی حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں اور دوسری سیدنا جابر سے روایت کرنے والے ابو الزبیر مکی ہیں جو کہ مدلس ہیں اور اس روایت میں انہوں نے سیدنا جابر سے سماعت کی صراحت نہیں کی ہے۔

اس اختلاف رائے کی بنا پر یہ کہنا درست ہو گا کہ اسقاط شدہ بچے پر نماز جنازہ پڑھنا افضل ہے لیکن اگر نہ پڑھی کئی تو اس پر بھی نکیر نہیں کی جائے گی۔

اب رہا دوسرا مسئلہ کہ ایسے بچے پر اگر نماز نہیں پڑھی گئی تو عرصہ دراز کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟

اس مسئلہ کو اگر وسیع تناظر میں لیا جائے کہ آیا کسی بھی میت پر بعد از دفن نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟

تو اس میں اس بات کی گنجائش نکلتی ہے کہ اگر میت پر سرے نماز نہیں پڑھی گئی یا کوئی شخص نماز میں حاضر نہ ہو سکا اور وہ نماز پڑھنا چاہتا ہے تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے۔ نبی کریمﷺ کو معلوم ہوا کہ اس عورت کو جو کہ مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ان کے علم میں لائے بغیر دفنا دیا گیا تو نبی کریمﷺ قبرستان تشریف لائے اور قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔

لیکن ایسا کرنا بعد از دفن کتنی مدت تک جائز ہو گا؟

حنبلی مذہب میں اس بارے میں یہ آرا ملتی ہیں:

1۔ جس شخص کی نماز جنازہ فوت ہو جائے وہ ایک ماہ کے اندر اندر نماز ادا کر سکتا ہے۔

2۔ ایک سال تک ایسا کر سکتا ہے۔

3۔ اس وقت تک نماز پڑھنے کی گنجائش ہے جب تک کہ یہ یقین حاصل ہو کہ میت کی ہڈیاں گل چکی نہ ہوں گی۔

4۔ بجائے نماز پڑھنے کے میت کے لیے دعا کرتا رہے، خاص طور پر اگر وہ والدین ہوں۔ (بحوالہ الانصاف، للمرداوی الحنبلی)

ظاہر ہے کہ اسقاط شدہ بچے کی نماز میں ویسے ہی اختلاف ہے چہ جائیکہ اس کے دفن پر عرصہ دراز گذر چکا ہو۔ (ص ح )

٭٭٭

تبصرہ کریں