سوالات کے جوابات- ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں کی جائے؟

سوال: ایک خاتون کا سوال ہے کہ میں اللہ کی عبادت کیوں کروں جب کہ میں نے اللہ سے تو کبھی یہ نہ چاہا تھا کہ وہ مجھے پیدا کرے ؟

جواب : آپ نے اپنے اختیار کی بات کی ہے ، پہلے یہ بتائیے کہ اختیار پہلے آئے گا یا وجود انسانی؟ اختیار تو اسی وقت اپنا یا جاسکتا ہے، جب ایک انسان اس دنیا میں آجاتا ہے اور پھر وہ ایک خاص عمر تک پہنچ جاتا ہے کہ جب وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکتا ہے۔

آپ نے ایک بھیڑ خریدی ہے ، وہ آپ کی ملکیت ہے ، آپ اس کا دودھ دوھنا جاتے ہیں ، کیا آپ بھیڑ سے سوال کرتے ہیں کہ تم مجھے دودھ دوھنے کی اجازت دیتی ہو یا نہیں؟

ماں کے پیٹ میں اللہ نے ایک جان کو ودیعت کیا ہے جو ایک گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں پرورش پا رہا ہے ، کیا آپ اس سے سوال کر سکتے ہیں کہ آیا وہ پیدا ہونا چاہتا ہے یا نہیں ؟

ان دونوں صورتوں میں جواب نفی میں ہوگا کیونکہ دونوں میں اختیار یا عدم اختیار کا احساس ہی نہیں ہے۔

ہماری بھی یہی صورت حال ہے کہ اللہ ہمارا مالک، ہمارا خالق ہے، اس نے اپنی مرضی سے ہمیں ایک خاص وقت ہیں، ایک خاص جگہ پر اور ایک خاص ماں باپ کے ہاں پیدا کیا ہے۔ یہ اس کی مرضی تھی کہ اس نے ہمیں حیوانات کی طرح بغیر عقل و شعور کے نہیں پیدا کیا ملکہ ہمیں اس دنیا میں ایک خاص مقصد کے لئے بھیجا کے یعنی اللہ کی عبادت کے لئے اسی دنیا میں اللہ کے عبد (غلام) کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کے لئے ، لیکن اس نے ہمیں مجبور محض نہیں بنایا بلکہ بلوغت کے بعد اس بات کی آزادی دی ہے کہ ہم اپنے عقل و شعور کے ساتھ نیکی وبدی میں تغیر کریں اور کفر و ایمان میں سے صحیح راستہ اختیار کریں ۔ فرمایا:

﴿فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ﴾ (سورۃ الكہف: 29)

’’تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘

لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کا راستہ سجھا دیا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہ سکے کہ اے اللہ ! یہ حساب و کتاب کیسا ؟ آپ نے تو ہمیں بتایا ہی نہ تھا کہ کیا ایمان ہے اور کیا کفر ہے ؟

﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ﴾ ’’ ہم نے اسے راستے کی ہدایت دی ہے، تو چاہے وہ شکر گزار ہویا ناشکرا ہو۔‘‘(سورۃ الانسان: 3)

تو پہلے ہمیں اپنی حیثیت جاننی چاہیے اور اس کے بعد اپنے اختیار کی بات کرنا چاہیئے، جس طرح ایک شخص اپنی ماں سے یہ سوال کرنے کا مجاز نہیں ہے کہ اس نے اُسے کیوں پیدا کیا ، اسی طرح اسے یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ اللہ سے یہ سوال کرے۔ کہ اے اللہ ! تم نے مجھ سے کیوں نہیں پوچھا کہ تم اس دنیا میں آنا چاہتے ہو یا نہیں ؟

عشاء اور فجر کی نماز کے اوقات

سوال: ایک صاحب نے عشاء کی نماز کے بارے میں استفسار کیا ہے ، آج کل مغرب رات کے نو بجے ہو رہی ہے ، اور مسجد میں عشاء کی نماز ساڑھے دس بجے ادا کی جاتی ہے جب کہ لندن کی مرکزی مسجد کے ٹائم ٹیبل کے مطابق نماز کا وقت 10.40 دکھایا گیا ہے تو کیا میں اپنی مسجد میں نماز ادا کر سکتا ہوں ؟

جواب : پہلے ہم عشاء اور فجر کے وقت کے بارے میں اپنی معروضات پیش کرتے ہیں ، آخر میں آپ کو اپنے سوال کا جواب خود مل جائے گا ۔

1۔نمازوں کے اوقات کے لئے شریعت میں سورج کے اتار چڑھاؤ کو معیار بنایا گیا ہے۔ فجر کی نماز طلوع شمس سے قبل فجر صادق کے بعد ادا کی جاتی ہے اور مغرب کی نماز غروب شمس کے بعد ادا کرنا مطلوب ہے ، اور اس کا وقت شفق کے غروب ہونے تک باقی رہتا ہے اور اس کے معاً بعد عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو آدھی رات تک رہتا ہے لیکن اگر کسی کی نماز عشاء رہ بھی جائے تو وہ فجر تک اسے ادا کر سکتا ہے ۔

ظہر زوال کے بعد ادا کی جائے گی اور اس کا وقت جب تک باقی رہتا ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے اور اسے ایک مثل سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جونہی ظہر کا وقت ختم ہوتا ہے، عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔

احناف کے ہاں ایک مثل نہیں بلکہ دو مثل (یعنی سایہ دگنا ہو جا ئے) کے بعد عصر کا وقت شروع ہوگا ۔

شفق سے مراد ایک حدیث کے مطابق شفق أحمر (سرخ روشنی) کا غائب ہونا ہے۔ احناف کے نزدیک اس سے شفق ابیض (سفید روشنی ) مراد لی جاتی ہے۔

جغرافیائی اور سائنسی اکتشافات کے بعد آسے درجوں کے حساب سے ناپ لیا گیا، بالکل ایسے ہی جیسے گھڑی کی ایجاد کے بعد اب لوگ ظہر اور عصر کے لئے سائے کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ گھڑی سے اس کا وقت معلوم کر لیتے ہیں۔

زمین سورج کے گرد چوبیس گھنٹے میں ایک دور مکمل کر لیتی ہے جسے 360 ڈگری کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی ہر دو درجوں کے درمیان 4 منٹ کا وقفہ ہے ، گویا ایک گھنٹے میں 15 درجے طے ہوتے ہیں۔

البیرونی نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ جب سورج غروب ہو جانے کے بعد افق سے 180 ڈگری نیچے آجائے تو شفق ابیض مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے اور خط استوا ء پر اس کا دورانیہ 75 منٹ کے برابر ہوتا ہے یعنی 18 ڈگری سے اوپر اور 19 ڈگری سے ذرا کم۔

اس کا مطلب ہوا کہ شفق احمر جو 60 منٹ میں غائب ہو جاتی ہے وہ 15 ڈگری کے برابر ہے ، معتدل علاقوں یعنی خط استواء سے دونوں طرف 48 خط عرض بلد تک اسی حساب سے نماز عشاء اور نماز فجر کے اوقات متعین کئے جاتے ہیں ۔

خیال رہے کہ فجر کا وقت بھی اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب سورج کے دوبارہ طلوع ہونے میں 18 درجے کی مسافت باقی رہ جاتی ہے ۔ گویا فجر طلوع شمس سے سوا گھنٹہ قبل اور عشاء غروب شمس کے سوا گھنٹے بعد ادا کی جاسکتی ہے ۔

2۔اب آئیے کره شمالی میں ان علاقوں کی طرف جو 48 عرض بلد کے اوپر واقع ہیں جیسے لندن (°50) عرض بلد ، اوسلو (ناروے : ° 60 عرض البلد)

ان علاقوں میں گرمیوں کے مہینوں ( مئی ، جون، جولائی) میں دن لمبے اور راتیں مختصر ہوتی ہیں ۔ لندن میں ماہ جون میں مغرب ساڑھے نو بجے تک اور اوسلو میں ساڑھے دس بجے تک چلی جاتی ہے۔

اب ان علاقوں میں عشاء اور فجر کے وقت کا کیسے تعین کیا جائے ؟

شقق احمر کے حساب سے تو یہ اوقات بنتے ہیں :

شفق احمر غروب شمس کے بعد ایک گھنٹے تک غائب ہو جاتی ہے، اس لیے عشاء ساڑھے دس بجے (لندن کے حساب سے) سے ادا کی جاسکتی ہے ۔ ماہ مئی اور جون اور جولائی میں شفق احمر کوئی ڈیڑھ گھنٹےتک غروب ہوتی ہے تو عشاء کی نماز گیارہ بجے تک ادا کی جاسکتی ہے۔ ایسے ہی فجر صادق کا تعین بھی 15 ڈگری کے مطابق طلوع شمس سے سوا گھنٹہ قبل اور ماہ مئی اور جون، جولائی میں پونے دو گھنٹے قبل ادا کی جاسکتی ہے۔

برطانیہ میں حزب العلماء نے کئی سال قبل سال بھر کے مشاہدات کے بعد مذکورہ اوقات کی صحت کو تسلیم کیا تھا اور اس کے مطابق سال بھر کی تقویم بھی تیار کی تھی۔ ان کے مشاہدات کے مطابق شفق کے غروب ہونے میں کم سے کم ایک گھنٹہ 7 منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ چالیس منٹ کا وقت مشاہدے میں آیا ہے ۔

اور ایسے ہی صبح صادق ، طلوع شمس سے کم سے کم ڈیڑھ گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے قبل مشاہدے میں آئی ہے۔

اور ان مشاہدات کی بنا پر لندن کی مرکزی مسجد (ریجنٹ پارک) اور دوسری کئی مساجد نے اس فارمولے کو اپنایا ہے کہ فجر طلوع شمس سے ایک گھنٹہ 40 منٹ قبل اور عشاء غروب شمس کے ایک گھنٹہ 40 منٹ بعد ادا کی جا سکتی ہے۔

3۔ مسلک احناف کے مطابق چونکہ شفق سے مراد شفق ابیض ہے۔ تو گرمیوں کے تین ماہ کے علاوہ تو مذکورہ بالا توقیت پر بآسانی عمل ہو سکتا ہے یعنی نماز 18 درجے ڈگری کے فارمولے کے مطابق ادا کی جائے اور ظاہر ہے کہ اس فارمولے کے مطابق عشاء تاخیر سے ادا ہوگی ، لیکن گرمیوں کے مہینوں میں (جس کا دورانیہ لندن میں 21 مئی سے 24 جولائی یعنی دوماہ اور تین دن کا ہے) شفق ابيض غائب نہیں ہوتی بلکہ ساری رات افق پر موجود رہتی ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ سورج 18 ڈگری تک نہیں جاتا بلکہ کہیں 15 ڈگری ، کہیں 12 ڈگری اور مزید شمالی علاقوں میں 6 ڈگری سے نیچے نہیں جاتا۔ اس لئے آدھی رات تک شفق کی روشنی اور بعد ازاں فجر کی روشنی آپس میں گڈ مڈ ہو جاتی ہیں ۔ یعنی نہ ہی عشاء کا وقت داخل ہوا اور نہ ہی فجر کا تعین ہوسکا ۔ اب اس مشکل کو کیسے حل کیا جائے ؟ یعنی ان علاقوں میں جہاں نماز کے وقت کی علامات نہیں پائی گئیں تو وہاں نماز کیسے ادا کی جائے گی ؟ احناف کی جانب سے چند حل پیش کئے گئے ہیں جن میں نمایاں آراء یہ ہیں :

1۔ صاحبین (امام ابویوسف اور امام محمد) کی رائے پر عمل کر لیا جائے ۔ یعنی شفق احمر کے غائب ہونے کو مان لیا جائے جو کہ اصلاً شوافع اور اصل حدیث کا مسلک ہے اور اس مسلک کے مطابق نماز کے اوقات ہم نے اوپر تحریر کر دیئے ہیں ۔

2۔ نصف اللیل کا اعتبار کیا جائے۔

یعنی غروب آفتاب سے لیکر طلوع آفتاب کے وقت کو رات شمار کیا جائے، تو اس کا پہلا نصف عشاء کی نماز کے لئے اور دوسرے نصف کے آغاز میں فجر ادا کی جاسکتی ہے۔گو یا اگر رات سات گھنٹے کی بنتی ہے تو نصف رات کے ایک بجے کے قریب ہوگا ہوگا کہ یہ وہ آخری وقت ہے، جب عشاء کی نماز ادا کی جاسکتی ہے اور ایک بجے کے بعد فجر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے ، اس رائے میں ان لوگوں کے لئے آسانی ہے جو صبح آٹھ ، نو بجے کام پر جانا چاہتے ہوں ۔ وہ نماز فجر کے بعد اپنی نیند پوری کر سکتے ہیں۔

3۔ سُبع الليل : رات کو سات حصوں پر تقسیم کیا جائے۔ ساتواں حصہ ایک گھنٹہ بنتا ہے (کہ جہاں رات سات گھنٹے کی ہو) یعنی مغرب کے ایک گھنٹہ بعد عشاء کی نماز پڑھ لی جائے اور طلوع آفتا ب سے ایک گھنٹہ قبل فجر کی نماز ادا کر لی جائے ۔

4۔ أقرب الأيام : یہ دیکھا جائے کہ گرمیوں کے مہینوں میں وہ آخری دن کون سا تھا کہ جس دن شفق أبيض غائب ہوئی تھی اور اس وقت کو اگلے دو یا تین ماہ تک عشاء کی نماز کے لئے اختیار کر لیا جائے تا آنکہ شفق ابیض دوبارہ غائب ہوتی نظر آئے ۔ اس رائے میں کوئی آسانی نہیں ہے۔ عشاء کی نماز کے لئے مغرب کے بعد کم از کم دو ڈھائی گھنٹے ہر صورت انتظار کرنا پڑے گا ۔

5۔ أقرب البلاد : یہ دیکھا جائے کہ ان علاقوں سے وہ کونسا شہر قریب ترین ہے، جہاں ان دنوں میں بھی شفق ابیض غائب ہوتی ہے، یعنی 48 خط عرض البلد پر واقع کسی شہر کے اوقات کو اپنایا جائے ۔ اس لحاظ سے فرانس قریب ترین ملک ہے ۔

6۔ ایک حل ان ممالک میں مقیم عرب علماء اور اہل حدیث کی طرف سے پیش کیا گیا ہے کہ گرمیوں کے مذکورہ مہینوں میں عشاء بہر صورت تاخیر ہی سے ہوگی ۔ جن دنوں شفق ابیض غائب نہیں ہوتی، اس کا دورانیہ ان چار شہروں میں یوں بنتا ہے۔

لندن: 21 مئی تا 24 حولائی: دو ماہ تین دن (عرض البلد: 51.30N)

مانچسٹر : 13 مئی تا 31جولائی : دوماه 23 دن (عرض البلد: 53.28N)

انڈ نبرا : 5 مئی تا 9 اگست، تین ماه 5دن (عرض البلد: 55.56N)

اوسلو(ناروے) 21 ا پریل تا 24 اگست: چارماه 5دن (عرض البلد: 60.00N)

تو جو لوگ رات کو نماز کے انتظار میں زیادہ دیر تک نہیں جاگ سکتے،وہ مغرب کے ساتھ ہی عشاء کو جمع کر لیں ، اس سے مقصود لوگوں کو حرج اور مشقت سے بچانا ہے ، نبی ﷺسے مدینہ میں کبھی کبھار بغیر کسی عذر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرنا ثابت ہے ۔اس لیے مذکورہ ایام میں مغرب و عشاء کو جمع کر لینا بھی جائز ہوگا۔

خیال رہے کہ یہ اوقات صرف 48 عرض البلد اور 66 عرض البلد میں واقع ممالک کے ہیں حن میں برطانیہ ، آئر لینڈ، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے جنوبی علاقے اور آئس لینڈ شامل ہیں +70 عرض البلد کے بعد قطب شمالی تک جہاں جہاں بھی آبادی ہے وہاں ایسے دن بھی آتے ہیں جب کہ سورج سرے سے غروب نہیں ہوتا ۔

مثال کے طور پر ملاحظہ ہو :

“70” عرض البلد ، ناروے کی آخری حدود اور فن لینڈ : سال میں 70 دن سورج غروب نہیں ہوتا ۔

°80عرض البلد، گرین لینڈ، سال میں چار ماہ اور پانچ دن سورج غروب نہیں ہوتا ۔

°89 عرض البلد ، کوئی زمینی علاقہ نہیں ہے ، برف ہی برف ہے ، قطب شمالی کا علاقہ ، یہاں چھ ماہ کے لئے سورج غروب نہیں ہوتا ۔ یہاں جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں ، ان کے لئے یہی حکم ہے کہ حدیث دجال کے مطابق وہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں نیند پوری کرنے کے لیے آٹھ گھنٹے مختص کر دیں اور باقی سولہ گھنٹوں میں مناسب وقفوں کے ساتھ پانچوں نمازوں کی ادائیگی کرتے رہیں ۔ اور یہی حکم روزے کا بھی ہوگا ۔

 

تبصرہ کریں