سوالات کے جوابات- ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

عقیدہ کے بارے میں شکوک و شبہات

سوال : ہندوستان سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ میں جب سے صحیح عقائد کی طرف مائل ہوا ہوں تو شکوک وشبہات جان نہیں چھوڑتے ، میں جانتا ہوں کہ یہ شیطان کی طرف سے وسوسے کی ایک شکل ہے، جو عقائد، غیبیات جیسے آخرت کا واقع ہونا ، عذاب قبر کا ہونا ، جنت اور جہنم کا پایا جانا وغیرہ وغیرہ ، بعض دفعہ خیالات اتنا ہجوم کر جاتے ہیں کہ مجھے اللہ کی راہ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ اگر یوم آخرت نہ ہو تو یہ دنیا بہت ہی تکلیف دہ بن کر رھ جاتی ہے کہ یہاں قتل و غارت ہے ، نا انصافی ہے ، تو کیا یہ سب لوگ کوئی جزا سزا نہ پائیں گے کیونکہ دنیا میں تو وہ اپنے تعلقات کی بنا پر صاف چھوٹ جاتے ہیں۔ پھر اس عذاب قبر کے بارے میں سوچتا ہوں اور یہ بھی مانتا ہوں کہ نبی کریمﷺ نے اس کے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے لیکن پھر یہ خیال آتا ہے کہ کیا وہ حقیقی طور پر موجود رہے تھے ؟ اور پھر ان خیالات کو جھٹک دیتا ہوں ، ان کی سوانح حیات موجود ہے ۔ لوگوں نے انہیں دیکھا‎ ہے، غیر مسلموں نے بھی ان کے بارے میں لکھا ہے ، ان کی قبر کا موجود ہونابتاتا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں زندہ تھے ، میں وہ پہلا آدمی تو نہیں کہ جسے اس قسم کے خیالات سے سابقہ پڑا ہو، تو پھر یقیناً کافی تبادلہ خیال کیا گیا ہو گا ، تو کیا آپ اس بارے میں کچھ وضاحت کر سکیں گے، کچھ مثالیں دے سکیں گے ۔ میں صرف اپنے ایمان و یقین کو پختہ کرنا چاہتا ہوں اور کچھ نہیں۔ یہی وسوسہ وضو، غسل اور نماز کی ادائیگی کے وقت بھی آتا ہے ۔ گو مجھے ان تمام باتوں پر یقین ہے لیکن کیا کروں یہ خیالات میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے ، کیا آپ میری رہنمائی کر سکتے ہیں؟ اصل مسئلہ غیبیات ہی سے متعلق ہے اور وہی اہم ہے

جواب: غیب پرایمان لانا ہمارے ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے لیکن کونسا غیب؟ وہی غیب جس کےبارے میں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بتایا ہے ۔

عذاب قبر ہی کو لے لیجئے۔ پہلے ہم خود قبر کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔ جب ہم کسی مردہ بھائی کو دفنا رہے ہوتے ہیں تو اس کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں: سوچتے ہیں کہ ہمارا یہ بھائی ایک تنگ ، سوراخ نما قبر میں دفنایا جا رہا ہے جہاں تاریکی ہے ، تنہائی ہے۔

لیکن ذرا غور فرمائیں۔ وہ بچہ جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے ، ابھی وہ اس دنیا میں نہیں آیا ہے ، فرض کر لیجئے کہ سائنس اتنی ترقی یافتہ ہو گئی ہے کہ ہم کسی آلہ کے ذریعے اس سے بات چیت کر سکتے ہیں اور پھر اس سے یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ اے طفل نا مولود! جس دنیا میں تم رہ رہے ہو وہ ایک بہت سی تنگ قبر نما جگہ ہے جہاں تم رحم مادر میں اپنی ماں کے خون پر گزارا کر رہے ہو لیکن ہماری دنیا جہاں تم آنے والے ہو، بہت ہی وسیع و عریض ہے ۔

اس میں سورج اور چاند ہیں ، دن اور رات ہیں ، جنگل اور پہاڑ ہیں ، صحراء اور گلستان ہیں، سواری کے لئے جانور، گاڑیاں اور جہاز ہیں۔ کھانے کے لئے انواع واقسام کے پھل اور آگ پر پکے ہوئے مطعومات ہیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ بچہ جو ابھی جنین کی شکل میں رحم مادر کا جزء ہے ، آپ کی بات کو تسلیم کرے گا اور وہ اس لئے کہ ابھی اس کا دماغ اس قابل نہیں کہ وہ آپ کی بات کو سمجھ سکے، لیکن کیا اس کے تسلیم نہ کرنے سے حقیقت بدل جائے گی!

ایسے ہی جب ہم قبر کے دھانے پر کھڑے ہوئے اپنے مردہ بھائی کو دفنا رہے ہوتے ہیں ۔تو ہمیں صرف وہ گڑھا نظر آرہا ہوتا ہے جہاں انسان کا مدفن ہے، لیکن ہماری عقل اس بات کا احاطہ کرنے سے قاصر رہ جاتی ہے کہ یہ گڑھا ، اگر انسان ایمان اورعمل صالح کی دولت سے مالا مال ہے تو وہ اس کے لئے جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری بن چکی ہے اور اگر اس کا برعکس ہے تو وہ آگ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔

دوسری بات یہ کہ عذاب قبر بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے ، ذرا اس مثال پر غور فرمائیں، نبی کریمﷺ نے نیند کو موت کی بہن قرار دیا ہے۔ یعنی نیند موت کی مانند ہے ، ایک ہی بستر پر 2 اشخاص محو استراحت ہیں ، ایک کے منہ پر سوتے وقت مسکراہٹ نظر آتی ہے اور دوسرے کا چہرہ فق نظر آتا ہے بلکہ اس کے کراہنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔

کیوں ؟ وہ اس لئے کہ پہلا شخص ایک اچھا خواب دیکھ رہا ہے اور دوسرا ایک بھیانک خواب کا تماشائی ہے ۔

بعض دفعہ ایک شخص دن بھر جن کاموں میں مصروف رہتا ہے وہی اُسے خواب میں بھی نظر آتے ہیں۔ ایک کھلاڑی کو خواب میں بھی گیند بلا اور ایک دکاندار کو گاہکوں کی ریل پیل نظر آتی ہے ، گویا دن بھر کی زندگی کا عکس اب اس کے خواب میں نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں مرنے کے بعد قبر میں انسان کی ساری زندگی کا عکس اس کے سامنے آجاتا ہے۔ ایک نیک شخص کے لئے جنت سے آنے والی خوش گوار ہوا اورپُر لطف نیند کی شکل میں اور ایک بدکردار ، بے ایمان شخص کے لئے عذاب کے کوڑوں کی شکل میں !!

مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں ، اتنے پر اکتفا کریں اور قرآن کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں کہ قرآن کے مطالعہ سے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوتا ہےاور دل کو سکون اور قرار حاصل ہوتا ہے۔

متعدد آپریشن کے بعد بچے دانی کا منہ بند کرنے کا حکم

سوال :یہ پانجویں دفعہ ہے کہ میرے بچے کی ولادت سیز یرین آپریشن کے ذریعہ ہوئی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر کا کہنا کہ مجھے آئندہ حمل سے بچنے کے لیے رحم کا منہ بند کروا دینا چاہیے کیونکہ حمل ہونے کی صورت میں جان کو شدید خطرہ لاحق رہے گا، انٹرنیٹ پر میں نے بہت کچھ پڑھا ہے، اکثر یہ کہا گیا ہے کہ یہ نسل کشی کی صورت ہے جو کہ حرام ہے اور اس کا متبادل منصوبہ بندی ہے جس میں تین یا پانچ سال کا وقفہ دیا جا سکتا ہے۔

جواب : اگر پانچ دفعہ ایسا ہو چکا ہے اور خود ڈاکٹر کی بھی یہ رائے ہے تو اس کا لحاظ کیا جانا چاہئے ۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ جہاں ضرر لاحق ہوتا ہو تو اس کا ازالہ کیا جانا چاہیے ، اور ایک عورت کے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا جائز متصور ہوگا ۔

شرابی شخص سے نومولود کے کان میں اذن دلوانا

سوال: ایک شخص شراب پینے کا عادی ہے یا وہ خود نشے کی حالت میں ہے کہ جب سے اسے نومولود کی بشارت دی گئی تو کیا وہ اس کے کان میں اذان دے سکتا ہے یا اُسے کسی دوسرے شخص کو اذان دینے کے لئے کہنا چاہیے ؟

جواب: بہتر تو یہی ہے کہ

ایسا شخص اذان دے جو معصیت میں مبتلا نہ ہو، لیکن اگر کوئی دوسرا شخص میسر نہیں ہے تو وہ خود بھی اذان دے سکتا ہے لیکن وہ اس وقت نشے میں نہیں ہونا چاہیے۔

شروع اسلام میں جب کہ شراب پینا ابھی حرام نہیں قرار دیا گیا تھا تو ایسا ہوا کہ ایک شخص نشے کی حالت میں نماز پڑھا رہا تھا اور اس کی زبان سے غلط قراءت ہو رہی تھی تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾

’’اے ایمان والو ! اگر تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ تاکہ تم یہ جان سکو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟‘‘ (سورۃ النساء: 43)

اس شخص کو شراب چھوڑنی چاہیے ، آئندہ کے لئے توبہ کرے تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ سکے۔

حیض والی عورتوں کا خطبہ سننے کا حکم

سوال : میں درجہ ثانویہ عا لیہ کا طالب علم ہوں ، ہم جمعہ ایک کلاس روم میں پڑھتے ہیں ، چند طالبات حیض کی بنا پر نماز میں تو شریک نہیں ہو سکتیں لیکن وہ خطبہ سننے کے لئے آنا چاہتی ہیں؟

جواب: کلاس روم مسجد کے حکم میں نہیں ہے ۔ بلکہ یہ وقتی طور پر جمعہ اور جماعت کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے ایسی خواتین ایک کنارے پر تشریف رکھیں اور خطبہ کی سماعت کر لیں تو کوئی حرج نہ ہوگا ۔

نبی کریمﷺ نماز عید کے لئے تمام خواتین ، بشمول حائضہ ، کو آنے کی ہدایت دیتے تھے اور صرف اس لئے کہ ایک خیر کی بات میں شریک ہو سکیں ، یعنی خطبہ سن سکیں ، صدقہ دے سکیں اور اپنی اس حاضری کا ثواب بھی حاصل کر سکیں، اور یہ نماز کھلے میدان میں ادا کی جاتی تھی نہ کہ مسجد میں ۔

وراثت کا ایک مسئلہ

سوال : میرے چچا کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے ۔ ان کی دو بیویاں تھی، جن سے ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ بیٹا اب نامبیبا میں ہے اور بیٹیاں انگولا میں، اب ان کی وفات ہو چکی ہے اور ان کے والد (یعنی ہمارے دادا) کی وراثت کی تقسیم کا مسئلہ ہے ۔ اس نے اپنی وفات سے قبل خاندان کے بعض افراد کو بتایا تھا کہ اس کے کئی بچے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ آیا وہ جائز اولاد تھی یا ناجائز؟ کیونکہ اس ماحول میں مسلمان اور عیسائی سب ہی رہتے ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ وہ اولاد نا جائز ہو ، ہمارے پاس ان بچوں کا کوئی اتہ پتہ بھی نہیں ہے تو ہم اپنے چچا کا حصہ کیسے تقسیم کریں ؟

جواب : سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دادا کی کوئی صلبی اولاد باقی نہیں رہی، کیونکہ اگر ان کا کوئی بیٹا زندہ ہوتا تو پھر وفات شده بیٹے کی اولاد وارث نہیں بن سکتی۔ اس لیے اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ان کا چچا اپنے والد کی وفات کے وقت با حیات تھااور اسے وراثت کا حق حاصل تھا جو کہ اب سے اُسے بچوں کو ملنا چاہیے تو پھر وہ وراثت کے حقدار ہوں گے۔

لیکن آیا وہ جائز اولاد تھے یا نہیں ؟ تو یہاں شریعت کے اس قا عدے پر عمل ہوگا کہ

’’شک کی بنا پر یقین کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘

جیسے اگر ایک شخص ایک مسلمان کی اولاد ہے تو انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا الا یہ کہ اس بات کا کوئی ثبوت ہو کر وہ اولاد سرے سے ناجائز اولاد تھی یا اسلام چھوڑ چکی تھی ۔

سائل کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے، صرف ایک اندیشہ ہے، جو کہ انہیں ناجائز اولاد قرار دینے کے لئے کافی نہیں ہے ۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ان کا حصہ علیحدہ سے بطور امانت محفوظ کر لیا جائے ، ان کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے ، اور اگر پھر بھی ان کا سراغ نہ ملے تو کسی دار القضا يا عدالت سے رجوع کر کے ان کے مفقود ہونے کا حکم حاصل کیا جائے تو پھر ایسی صورت میں یہ امانت باقی موجود ورثہ کو بقدر ان کے حصص کے ، ان میں تقسیم کی جا سکتی ہے ۔

نکاح میں خلاف شریعت شرائط کی پاسداری کا حکم

سوال: پانچ سال قبل میری طلاق ہو چکی ہے ، میرے دو بچے ہیں اورانہی کی خاطر میں اُسی خاتون سے دوبارہ شادی کرنے پر آمادہ ہوں لیکن وہ یہ شرائط رکھ رہی ہے ۔

1۔ بیوی سے جنسی تعلق رکھنے کے حوالے سے میرا کوئی حق نہ ہوگا نہ ہی میں اس بارے میں اس سے کوئی سوال کر سکتا ہوں ۔

2۔ تمام مالی معاملات اس کے ہا تھ میں ہوں گے ۔

3۔ میں کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کروں گا۔

میں نے بچوں کی خاطر یہ شرائط قبول کر لی تھیں کیونکہ ہماری طلاق کی وجہ سےبچوں کی حالت بہت بگڑ گئی تھی ۔ وہ ڈپریشن اور خود کشی کے رجحانات کی طرف مائل ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن اب میرے لئے ان شرائط کی پاسداری کرنا نا ممکن ہوتا جار ہا ہے ۔

اس کے علم میں لائے بغیر دوسری شادی کرنا جانتا ہوں ۔ مجھے یاد نہیں کہ اس نے اس بارے میں کیا کہا تھا ۔ شاید یہ کہا تھا کہ اگر میں دوسری شادی کرتا ہوں تو وہ مطلقہ متصور ہو گی ، ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ ساری شرائط زبانی تھیں اور شادی سے قبل طے کی گئی تھیں !

جواب : نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ

«وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطاً حَرَّمَ حَلَالاً أَوْ‏ أَحَلَّ حَرَاماً »

’’مسلمانوں کو اپنی طے شدہ شرائط کی پابندی کرنی چاہیے سوائے ان شروط کے جو کسی حرام کو حلال قرار دیں یا حلال کو حرام قرار دے دیں۔‘‘

اس لیے کسی بھی معاہدے میں ایسی شرط ناقابل قبول ہو گی جو اس معاہدے کی روح کے منافی ہو جیسے ایک شخص گھوڑا خریدتا ہے اور بائع یہ شرط لگاتا ہے کہ

تم اس پر سواری نہ کرو گے، تو ایسی شرط ناقابل قبول ہے کہ گھوڑے کی خریدکا اصل مقصد اس پر سواری کرنا ہے نہ کہ اس کی نمائش کرنا ہے۔

اب جو تین شرطیں اس خاتون نے رکھی ہیں ان میں پہلی دو شرطیں نکاح کے معاہدے کے منافی ہیں ۔ یعنی جنسی تعلق رکھنے میں مرد کی مرضی کا نہ ہونا ۔

دوسری شرط الله تعالیٰ کے قول:

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ (سورۃ النساء: 34) کے منافی ہے الا یہ کہ مرد کماؤ نہ ہو ، عورت ہی کماتی ہو تو پھر اسے مالی معاملات میں تصرف کا اختیار حاصل ہوگا ۔

رہی تیسری شرط تو دوسری شادی کرنا کوئی فرض یا واجب نہیں ہے ۔ مرد کو بشرط عدل اس کی اجازت دی گئی ہے اور اگر کسی مصلحت کی بنا پر وہ یہ شرط قبول کر لیا ہے تو اس کی اجازت ہے۔

اب یہ اُس پر موقوف ہے کہ وہ اس شرط کی پاسداری کر کے اپنی ازدواجی زندگی کو بچالے اور یا پھر شادی تو کرلے لیکن اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہے۔

یعنی اگر اس کا راز کھل گیا تو وہ پھر اپنی پہلی بیوی کے مطالبہ خلع کو پورا کرنے کا پابند ہوگا ۔

٭٭٭

امام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

فَمن ظَن أَنه يَأْخُذ من الْكتاب وَالسّنة بِدُونِ أَن يقْتَدى بالصحابة، وَ يَتبعُ غير سبيلهم فَهُوَ من أهل الْبدع والضلال وَمن خَالف مَا أجمع عَلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ فَهُوَ ضال ….

(مختصر الفتاوی المصریہ لابن تیمیہ: ص : 556)

’’جس کا وہم ہے کہ وہ صحابہ کرام کی پیروی کیے بغیر قرآن و سنت پر عمل کر لے گا، اور وہ ان ( صحابہ) کے راستے سے ہٹ کر چلتا ہے تو ایسا شخص اہل بدعت و ضلال میں سے ہے ، اور جس نے بھی اجماع امت کی مخالفت کی وہ گمراہ ہے ۔‘‘

٭٭٭

اجازت لینا لازمی ہے

سعید مقبری کہتے ہیں میں ایک مرتبہ کہیں سے گذر رہا تھا تو سیدنا ابن عمر ایک شخص کے ساتھ بات کر رہے تھے تو میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا، تو انہوں نے میرے سینے پر مارا اور فرمایا:

’’جب تم دیکھو دو لوگ بات کر رہے ہیں تو نہ انکے ساتھ کھڑے ہو اور نہ بیٹھو جب تک دونوں سے اجازت نا لے لو۔‘‘

(الأدب المفرد للبخاری: 1166)

٭٭٭

تبصرہ کریں