سوالات کے جوابات-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا حکم (3)

ہم اب ابو البرکات حسن بن عمار بن یوسف الشرنبلالی کی کتاب ’النظم المستطاب لحکم القراءۃ فی صلاۃ الجنازۃ بام الکتاب‘ سے ان دلائل کا خلاصہ پیش کرتے ہیں جو انہوں نے علماء احناف کے اعتراضات اور اشکالات کے رد میں پیش فرمائے ہیں۔ اگر کہیں مزید اضافات کی ضرورت ہو گی تو ہم اسے بھی حوالے کے ساتھ تحریر کرتے جائیں گے۔

پہلا اعتراض: نماز جنازہ سجدہ تلاوت کی مانند ہے۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ سجدہ تلاوت میں طہارت، قبلہ رخ ہونا، وغیرہ شرط ہے اور اس میں سورۃ الفاتحہ کی قراءت نہیں ہے تو ایسے ہی نماز جنازہ میں بھی وضو کا ہونا اور قبلہ رخ ہونا شرط ہے لیکن اس بنا پر وہ نماز کے حکم میں نہیں ہو سکتی۔

یہ بات کہ سجدہ تلاوت میں طہارت اور قبلہ رخ ہونا شرط ہے، تسلیم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ وہ صرف ایک سجود ہے، اس لیے اسے نماز کے احکامات نہیں دیئے جا سکتے، نماز تو تحریم (تکبیر کے ساتھ داخل ہونا) اور تحلیل (سلام کے ساتھ نمازختم کرنے) کا نام ہے اور اسی لیے صرف سجدہ تلاوت کرنا ہو تو وہ وضو کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے، تکبیر نہ بھی کہے اور قبلہ رخ نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں اور اس کی دلیل سیدنا ابن عباس کی یہ روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب سورۃ النجم کی آخری آیت پڑھی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ صحابہ نے بھی سجدہ کیا بلکہ مشرکین اور جن وانس نے بھی سجدہ کیا۔ (صحیح بخاری)

فتح الباری میں سیدنا عبد اللہ بن عمر کی بابت بھی نقل کیا گیا کہ وہ بغیر وضو کے خالی سجدہ کر لیا کرتے تھے۔ (فتح الباری: 2؍554)

اور اس مسلک کو شعبی، ابو عبد الرحمٰن السلمی اور امام ابن تیمیہ نے اختیار کیا ہے۔ اسی اعتراض کو الصاغانی نے بھی اٹھایا ہے اور اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ جس چیز یعنی سجدہ تلاوت پر قیاس کیا جا رہا ہے وہ اصلاً نماز ہے ہی نہیں، کیونکہ نماز جنازہ چار ارکان (یعنی چار تکبیرات بشمول تکبیرۃ التحریم) اور قیام پر مشتمل ہے اور چونکہ سیدنا ابن عباس اور دوسرے صحابہ سے اس نماز میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا ثابت ہے تو فعل صحابی کے مقابلے میں قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ (ص 35۔37)

2۔ سیدنا ابن مسعود کا قول: لم يوقت لنا رسول الله فيه قولا ولا قراءة

ہم شرنبلالی کا قول بعد میں نقل کریں گے۔ پہلے اس کا معنی ومطلب سمجھنے کے لیے یہ دو حوالے ملاحظہ ہوں:

الکتاب فی شرح الکتاب (قدوری) کے حاشیہ پر المراقی کے حوالہ سےلکھا ہے:

يقال لكل شيئ موقوت كما فى المصباح المنبر (وقت) والمراد لاتعين شيئ من الدعا كما هو نصَّ المراقي (ص 482 مع الطحطحاوي

’’مراد یہ ہے کہ اس میں کوئی دعا متعین نہیں ہے۔‘‘

اور ابن قدامہ صاحب المغنی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’لم یقدر‘‘ کہ آپ نے اس کی قدر نہیں بتائی کہ کتنا پڑھنا چاہیے اور پھر ابن المنذر نے تو سیدنا ابن مسعود کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے نماز جنازہ میں الفاتحہ پڑھی تھی۔ یعنی اتنا تو معلوم ہو گیا کہ کم سے کم کیا پڑھا گیا تھا۔ اس لیے سیدنا ابن مسعود کے اس قول کو ان کے اپنے عمل کی روشنی میں جانچنا چاہیئے۔

چونکہ سیدنا ابن مسعود نے نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ کی قراءت کی تھی، اس لیے ان کی روایت سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ قراءت فاتحہ کے واجب ہونے کی نفی کر رہے ہیں اور ان کی روایت کردہ خبر انہیں اس بات کا اختیار دے رہی ہے کہ وہ چاہے فاتحہ پڑھ لیں یا کہیں اور سے قراءت کر لیں، ان کی روایت کو ان کے فعل کی روشنی میں سمجھنا چاہیئے اور پھر یہ بھی علم میں رہے کہ ’لم یوقت لنا‘ کا ادنیٰ درجہ اباحت کا ہے کراہت کا نہیں ہے۔

(سیدنا ابن مسعود نے نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ کی قراءت کی‘ اسے ابن المنذر نے الاوسط نمبر 3167 میں اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ذکر کیا ہے، سعید بن المنصور کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اس روایت کو انہوں نے اپنی سنن میں درج کیا ہے لیکن وہ اس جزؤ میں ہو گا جو مفقود ہو چکا ہے۔)

یہ کہنا کہ اگر راوی اپنی روایت کے خلاف عمل کرے تو اس عمل کا اعتبار نہ ہو گا، اس لیے صحیح نہیں ہے کہ سیدنا ابن مسعود نے اپنی روایت کردہ خبر کی مخالفت تو نہیں کی۔ ان کی روایت میں جیسا کہ پہلے لکھا گیا ، اس بات کا احتمال ہے کہ اس میں فاتحہ پڑھنے کی وجوب کی نفی کی گئی ہو، یعنی ابن مسعود اس کو واجب نہیں سمجھتے تھے، لیکن مباح ضرور جانتے تھے، اس لیے اس کی قراءت کی۔ (شرنبلالی: ص 41۔43)

3۔ عبد الرحمن بن عوف اور عبد اللہ بن عمر کا سورۃ الفاتحہ کی قراءت کا انکار کرنا بھی اسی تناظر میں سمجھا جائے کہ وہ اس کے وجوب کا انکار کر رہے ہیں نہ کہ جواز کا۔

مجاہد تابعی کہتے ہیں کہ میں نے 18 کے قریب صحابہ سے سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ قراءت ہونی چاہیئے اور ایسی ہی روایت بحوالہ الاثرم عبد اللہ بن عمرو سے بھی منقول ہے۔ (ص 39)

4۔ سیدنا جابر کی احادیث یہ تایل کرنا کہ قراءت فاتحہ ثنا کی نیت سے پڑھی ہو گی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صرف ایک دعویٰ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ ثناء کی نیت سے پڑھنا ایک باطنی امر ہے، جس کا علم صرف پڑھنے والے کو ہو گا، اور یہاں فاتحہ پڑھنے والے اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ جب انہوں نے فاتحہ یعنی قرآن کی تلاوت کی تو پھر اسے تلاوت ہی کہا جائے گا، کسی اور معنیٰ میں نہیں لیا جائے کا اور نبی کریمﷺ کا فعل سنت ہے، تو ان کے اس فعل سے قراءت فاتحہ کا سنت ہونا ثابت ہو گیا نہ کہ قراءت کی نفی کرنا۔ (ص 51)

5۔ یہ قول کہ نماز جنازہ صرف دعا اور استغفار ہے اور وہ اس لیے کہ اس میں نماز کے ارکان نہیں پائے جاتے۔

یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ نماز جنازہ صرف دعا اور استغفار ہے، کیونکہ ایک اعتبار سے یہ نماز ہی ہے، کیا اس میں تکبیر تحریمہ، قیام اور قبلہ رخ ہونا نہیں ہے؟ کیا اس میں امام کی پیروی کرنا نہیں ہے کہ جو ہر نماز کی خصوصیت ہے۔

ابن الضیاء الصاغانی (ابو البقاء محمد بن احمد بن ضیاء الدین 854ھ) کا یہ کہنا کہ اگر فاتحہ کا پڑھنا مسنون ہوتا تو ہر تکبیر کے بعد اس کا پڑھنا جائز ہوتا، یعنی اگر تکبیر کو ایک رکعت کے قائم مقام مانا جائے تو ہر رکعت کے حساب سے اس کی ابتدا قراءت فاتحہ سے ہونی چاہیئے۔

صاغانی یہاں خود اپنے کلام کی نفی کرتے نظر آتے ہیں، انہوں نے اپنی اس بات کے آخر میں کہا: ’’ اگر فاتحہ دعاء کی نیت سے پڑھے تو جائز ہے۔‘‘ (المشرع فی شرح المجمع یعنی مجمع البحرین للساعاتی: ص 45)

گویا قراءت کی نفی تو نہیں کی جا رہی، چار تکبیروں کو چار رکعت کے برابر قرار دینا یہ بھی تو ان کا اپنا خیال ہے، پہلی تکبیر کے بعد فاتحہ کی قراءت سنت سے ثابت ہو گئی اور پھر صلاۃ علی النبی کا عمل بھی ادا ہو گیا اور چونکہ یہ نماز خاص طور پر میت کےلیے مغفرت کی دعا کے لیے ہے۔ اس لیے دعاؤں کا منقول ہونا تو ایک فطرتی بات تھی۔

6۔ صحابی کا یہ کہنا کہ یہ کام سنت ہے، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ کسی کی بھی سنت حسنہ ہے؟

پہلے ہم محدث حاکم نیثاپوری کا حوالہ دیتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا ابن عباس کی روایت اپنی سند سے درج کرنے کے بعد کہا:

’’یہ صحیح حدیث ہے کہ جو مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور ان کا (یعنی محدثین کا) اجماع ہے کہ صحابی کا یہ کہنا کہ یہ بات سنت ہے، مسند حدیث کا حکم رکھتا ہے۔ (1؍358)

امام ترمذی، امام ابن المنذر اور امام ابن حجر﷭ نے بھی کہا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے، یعنی صحابی کا یہ کہنا کہ یہ بات سنت ہے، مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔

صاحب الکتاب المستطاب لکھتے ہیں:

ابن الہمام نے بھی التحریر میں یہ بات لکھی ہے کہ ’’صحابی کا یہ کہنا کہ یہ کام سنت ہے۔‘‘ اور العراقی نے اسے یوں لکھا ہے:

قول الصحابي من السنة أو نحو أمرنا حكمه الرفع ولو بعد النبي قاله بأعصرعلى الصحيح وهو قول الأكثر

’’صحابی کا یہ کہنا یہ سنت میں سے ہے، یا یہ کہنا کہ یہ ہمارا طرزِ عمل رہا ہے، وہ مرفوع کے حکم میں ہے اگرچہ کہ بات اس نے نبیﷺ کےکافی بعد کہی ہو اور یہی بات صحیح ہے اور اکثر کا یہی قول ہے۔‘‘

ابن دقیق العید کہتے ہیں کہ اختلاف وہاں کیا جا سکتا ہے کہ جہاں روایت میں اجتہاد کی گنجائش ہو وگرنہ قطعی طور پر وہ مرفوع (یعنی قول نبی ﷺ) کے حکم میں ہے۔

اور یوں ابن الضیاء کا اسے کسی کا طریق حسن قرار دینا غلط ثابت ہو گیا۔ صیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد سنت نبوی ہے۔

اور اس بات کا بھی لحاظ رکھا جائے کہ صحابی اگر یہ نہ بھی کہے کہ یہ بات سنت ہے، تب بھی اس کے قول اور فعل کی تقلید کرنا واجب ہے اور اس کے مقابلے میں قیاس کو ترک کرنا ہوگا چہ جائیکہ یہ کہ اس نے اسے سنت بھی قرار دیا ہو۔ (ص 52)

7۔ صاحب الکافی (فی شرح الوافی لابی البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی الحنفی ، متوفیٰ 710) کا یہ قول کہ نماز جنازہ ایک لحاظ سے نماز ہے‘‘ کا کیا مطلب ہے؟

ان کے اس قول سے قراءت کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ قراءت کا اثبات ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ ایک لحاظ سے نماز اس لیے ہے کہ اسے بھی استحساناً سواری پر نہیں پڑھا جاتا، اس کی ابتداء تکبیر تحریمہ سے ہوتی ہے، قبلہ رخ نماز پڑھی جاتی ہے، قیام کیا جاتا ہے اور یوں وہ باقی نمازو ں کے حکم میں اشتراک رکھتی ہے‘‘ (الکافی فی شرح الوافی: ص 42)

کیونکہ قیام اور قراءت لازم ملزوم ہیں اس لیے کم سے کم قراءت کا جواز تو ثابت ہو گیا۔

8۔ صاحب النتف (یعنی النتف فی الفتاویٰ لجمال الدین القاسبی الغزنوی، متوفیٰ 913ھ) نے تو یہ کہہ کر معاملہ بالکل صاف کر دیا کہ یہ نماز دس اسباب کی بنا پر حقیقی نماز ہی کہلائے گی۔ وہ دس اسباب یہ ہیں:

1۔ تکبیر تحریمہ سے آغاز کرنا۔

2۔ آخر میں سلام سے ختم کرنا۔

3۔ قبلہ رخ ہونا۔

4۔ امام کا آگے کھڑا ہونا۔

5۔ لوگوں کا امام کے پیچھے کھڑا ہونا۔

6۔ باوضو ہونا۔

7۔ نماز میں بات چیت نہ کرنا۔

8۔ امام کی پیروی کرنا۔

9۔ پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کرنا۔

10۔ لوگوں میں اس بات کا معروف ہونا کہ یہ نماز ہے۔

سورۃ التوبہ میں اسے صلاۃ کہا گیا: ولا تصل على أحد منهم مات أبدا (84)

اور انہیں یعنی منافقین میں سے کوئی مر جائے تو اس پر کبھی صلاۃ نہ پڑھنا، میں (صاحب الکتاب المستطاب) اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہوں:

11۔ قیام کا ہونا۔

12۔ ستر عورۃ (یعنی ساتر لباس کا ہونا)

13۔ مصلی کا لازمی طور پر زمین پر کھڑا ہونا۔

14۔ اگر عذر نہ ہو تو جنازے کا زمین پر رکھا جانا۔

اور وہاں یہ کہ بعض روایات میں قراءت کی نفی کی گئی ہے تو وہاں وجوب یا لزوم کی نفی کی گئی ہے، جواز کی نفی تو نہیں کی گئی!! (ص 52)

9۔ ابن الضیاء الصاغانی کا قول بابت حدیث “لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب” کہ یہ حدیث مطلق ہے اور اس کا اطلاق نماز جنازہ پر نہیں ہوتا کہ وہ مقید ہے، اس کا یہ جواب ہے کہ ان کا دعویٰ اس قول سے ثابت نہیں ہوتا۔ نماز جنازہ چاہے مکمل نماز نہ ہو لیکن وہ کامل صلاۃ کا حکم رکھتی ہے، امام شافعی ﷫ کے نزدیک تو ایسا کرنا واجب ہے اور ہمارے نزدیک جائز ہے، اس لیے اس قول کی بنا پر فاتحہ نہ پڑھنے کا جواز نہیں نکالا جا سکتا۔ (الکتاب المستطاب: ص 50)

ہمارے نزدیک یہ مسئلہ اختلافی ہے، مطلق اور مقید کی چار صورتیں ہیں، جن میں یہاں چوتھی صورت کا اطلاق ہوتا ہے کہ

’’مطلق اور مقید کا حکم ایک ہو لیکن سبب مختلف ہو۔‘‘

یعنی دونوں صلاۃ کے حکم میں ہیں لیکن عام نمازوں کا سبب اور ہے اور نماز جنازہ کا سبب اور ہے، ایسی صورت میں حنفیہ کے نزدیک مطلق اپنی جگہ پر رہے گا اور مقید اپنی جگہ پر۔ یعنی عام نمازوں میں فاتحہ پڑھی جائے گی اور نماز جنازہ میں نہیں۔

لیکن شافعیہ اور جمہور کے نزدیک مطلق کا حکم مقید پر بھی وارد ہو گا۔

بلکہ صحیح صورت مسئلہ یہ ہو گی کہ “لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب” میں ہر نماز میں فاتحہ پڑھنا واجب بتایا گیا ہے اور سیدنا ابن مسعود سے مروی ر وایت میں نماز جنازہ میں قراءت کی نفی کی گئی ہے، تو یہ کہا جائے گا کہ مطلق قراءت کی نفی سے سورۃ الفاتحہ پڑھنے کی نفی نہیں ہوتی۔ سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا حد ادنی ہے، اس سے زائد قراءت نہیں ہو گی الّا یہ کہ کسی روایت سے مزید پڑھنے کا ثبوت بھی حاصل ہو جائے۔

10۔ امام مالک کی طرف منسوب یہ قول کہ اہل مدینہ کا اس پر عمل نہیں ہے۔

صاحب الکتاب المستطاب اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس قول میں دونوں احتمال ہیں کہ وہ اس کے واجب ہونے کی نفی کر رہے ہیں نہ کہ اس کے جائز ہونے کی۔ اس لیے یہ قول دعویٰ کو ثابت نہیں کرتا۔ (صفحہ 46)

ہم کہتے ہیں کہ امام مالک﷫ نے اس مسلک کو اس لیے اختیار کیا کہ سنت کی حفاظت ہو سکے، چونکہ اہل مدینہ سنت رسول کے محافظ رہے ہیں اس لیے اہل مدینہ کے تعامل پر زیادہ اطمینان حاصل رہتا ہے۔

لیکن یہاں جمہور کا مسلک راجح دکھائی دیتا ہے، سنت یا حدیث پر اطمینان راوی کے ثقہ اور عادل ہونے سے حاصل ہو جاتا ہے اور چونکہ صحابہ کرام سب کے سب تو مدینہ کے باسی نہ رہے تھے بلکہ مکہ مکرمہ، حجاز، نجد، شام، عراق، مصر اور شرق وغرب کے ممالک میں آباد ہو چکے تھے اس لیے وہ جہاں بھی گئے سنت رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔

گویا سنت تمام امت کے ساتھ وابستہ ہو گئی، اہل مدینہ تو امت کا ایک حصہ ہیں، نہ کہ کل امت، اس لیے اصل بات یہ ہے کہ سنت رسول اگر ثقہ راویوں سے ثابت ہو جائے تو وہ قابل عمل ہے۔ (الوجیز فی اصول الفقہ لعبد الکریم زیدان: ص 175)

یہاں پر ہم مالکی مذہب سے وابستہ مشہور عالم ابن عبد البر کی کتاب التمہید کا ایک حوالہ دیں گے کہ یہ ضروری نہیں کہ اہل مدینہ ہر سنت کی حفاظت کر سکیں، ان سے کوئی سنت چھوٹ بھی سکتی ہے۔

باب الصلاة على الجنائز بالمسجد میں امام مالک کی سند (عن أبی النضر مولی عمر بن عبید اللہ عن عائشة زوج النبيﷺ) سے یہ روایت درج کی ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص وفات پا گئے تو سیدہ عائشہ نے کہا کہ ان کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی ان کے لیے دعا کر سکیں تو لوگوں نے اس قول پر تعجب کا اظہار کیا۔ (فأنكر ذالك الناس عليها)

تو سیدہ نے کہا ہے: یہ لوگ کتنی جلد (بھول گئے ہیں) کہ اللہ کے رسول نے سہیل بن بیضاء پر مسجد ہی میں نماز پڑھتی تھی۔‘‘

ابو عمر (ابن عبد البر) کہتے ہیں:

سیدہ عائشہ کا یہ قول کہ “ما اسرع الناس” کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔

1۔ لوگوں کو کتنی جلدی نسیان لاحق ہو گیا ہے۔

2۔ لوگوں کو کتنی جلدی اب ان باتوں پر انکار کرنے لگے ہیں، جنہیں وہ خود جانتے نہیں ہیں، یا وہ بات ان کی پسند کی نہیں ہے یا وہ خود اس سے جاہل ہیں یا اسے بھول چکے ہیں یا لوگ عیب نکالنے یا طعنہ زنی میں کتنی جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پھر یہ کہہ کر انہوں نے اپنی دلیل پیش کی اور وہ اس لیے کہ انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص کے جنازے کو مسجد میں لانے پر انکار کیا تھا۔ وہ خود مدینہ سے دس میل کے فاصلے پر وادی العقیق میں اپنے قصر میں انتقال کر گئے تھے ور انہوں نے (اور سعید بن زید) نے بھی یہ وصیت کی تھی کہ انہیں العقیق سے لوگوں کے کندھوں پر بقیع لے جا کر دفن کیا جائے کیونکہ بقیع کی فضیلت سب کے علم میں تھی۔

جو لوگ عمل اہل مدینہ کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی اس حدیث سے یہ مطلب لے سکتے ہیں کہ اہل مدینہ کا عمل حجت ہے لیکن دیکھا جائے تو اس حدیث سے عمل اہل مدینہ کا حجت نہ ہونا بھی دکھائی دیتا ہے کیونکہ سیدہ عائشہ صدیقہ نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا، کہ اہل مدینہ اتنی جلدی سنت نبوی کو کیسے بھلا بیٹھے ہیں کہ انہوں نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی تھی۔ گویا اصل چیز سنت کا ثابت ہونا ہے۔

ابو عمر پھر یہ بھی لکھتے ہیں کہ سیدنا عمر نے سیدنا ابوبکر کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی تھی، صحابہ اس وقت حاضر تھے اور کسی نے ان پر انکار نہیں کیا تھا۔ (ہدایۃ المستفید من کتاب التمہید، ترتیب عطیہ محمد سالم: مجلد 5؍330۔335)

اب آخری بات رہ جاتی ہے کہ ان تمام واضح دلائل کے باوجود احناف نے نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ کو مکروہ تحریمی کیوں قرار دیا؟

یہاں شرنبلالی کی اس تصریح کا ذکر کرتا چلوں۔

وہ اپنے رسالہ کی ابتداء ہی میں کہتے ہیں کہ میں نے کوئی ایسی صریح نص نہیں دیکھی جو امام صاحب نے کہی ہو اور جس میں نماز جنازہ میں فاتحہ کی قراءت کو مکروہ قرار دیا گیا ہو، زیادہ سے زیادہ جو المبسوط میں دیکھا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ

“لا يقرأ في صلاة الجنازة بشيئ من القرآن”

’’نماز جنازہ میں قرآن سے کوئی قراءت نہ کی جائے۔‘‘

یعنی مکروہ تحریمی تو دور کی بات ہے انہوں نے مطلق مکروہ کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ ذرا تحقیق کریں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا سبب احناف کے نزدیک مکروہ کا مفہوم ہے، اور اس بات کو سمجھنے سے قبل یہ جان لیجیئے کہ جمہور فقہاء کے نزدیک اگر کسی چیز پر حکم لگانا ہو تو وہ احکام خمسہ میں دائر رہے گا۔

یعنی

1۔ فرض یا واجب کہ جس کا کرنا لازم ہے، حکم بجا لانے پر ثواب اور نہ کرنے کو گناہ سمجھا جائے گا کہ جس پر وہ شخص عقاب کا مستحق ہو گا۔

2۔ مندوب: جسے سنت، مستحب اور نفل بھی کہا گیا کہ جس کے اداء کرنے پر ثواب حاصل ہو گا، کبھی کبھار ترک کردیا تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر اکثر اوقات میں ترک کرتا رہا تو ایسا شخص ملامت کا مستحق ہو گا۔

3۔ حرام: جس کے چھوڑنے پرثواب ہو اور جس کا کرنا گناہ ہو، جو کہ پھر سزا کا مستحق ہو۔

4۔ مکروہ: جس کا چھوڑنا زیادہ بہتر ہو اور اسی لیے وہ مکروہ عمل کے اللہ کی خاطر ترک کرنے پر ثواب کا مستحق ہو گا اور کرے گا تو پھر اللہ کے ہاں ملامت کا حقدار ہو گا۔

5۔ مباح: جسے حلال بھی کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اسے کرے یا نہ کرے، کرے تو قابل تعریف نہیں، نہ کرے تو قابل مذمت نہیں۔

یہاں فقہاء احناف نے دلیل کے قطعی یا ظنی ہونے کی بنا پر دو حکموں کا اضافہ کر دیا۔ فرض کے بعد واجب کا یعنی فرض وہ امر ہے جو قطعی دلیل (قرآن) سے ثابت ہو اور واجب وہ ہے جو ظنی (حدیث آحاد) سے ثابت ہو۔

اور اسی طرح مکروہ کی دو قسمیں قرار دے ڈالیں۔

مکروہ تحریمی: دلیل ظنی کی بنا پر کسی چیز کے نہ کرنے کا حتمی مطالبہ کیا گیا ہو (بمقابل حرام جس میں دلیل قطعی کی بنا پر کسی چیز سے منع کیا گیا ہو) اور اس کا حکم حرام کے قریب قریب ہی رہتا ہے۔

اورمکروہ تنزیہی: کسی چیز سے منع تو کیا گیا ہے لیکن اسے لازمی طور پر منع نہیں کیا گیا اور اس کا کرنے والا نہ قابل مذمت ہے اور نہ قابل تعریف، اسے خلاف اولیٰ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

یہ تقسیم اس لحاظ سے قابل قبول سمجھی جائے گی کہ جسے یقین کے مقابلے میں ’ظن‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ ظن اپنے ادنیٰ درجہ میں وہم یا خیال یا غیر یقینی صورتحال کا تقاضا کرتا ہے اور ایسے ظن کی مذمت کی گئی ہے۔

اور وہ ظن جو یقین سے قریب قریب ہو اسے ظن غالب بھی کہا جاتا ہے اور پھر اسے قابل عمل بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

ایسے ہی ہم کراہت کے درجات کے حساب سے ایک عمل کو بالکل چھوڑ دینے یا کبھی کبھار چھوڑ دینے کے پیمانے سے جانچنے کی کوشش کریں گے۔

اب یہ ایک متقی عالم کا کام ہے کہ کسی فعل پر مکروہ تحریمی کا حکم لگانے سے پہلے ہزار بار سوچے کہ وہ ایک غلط حکم تو نہیں لگا رہا ہے؟

ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ جن ائمہ (امام ابو حنیفہ، صاحبین وغیرہم) کے فتویٰ پر اعتبار کیا جاتا ہے انہوں نے یہ لفظ قطعاً استعمال نہیں کیا۔

ابن عابدین نے متن (یعنی الدر المختار) کی عبارت “وتكره بنية القراءة” پر لکھا کہ بظاہر یہ کراہت تحریمی دکھائی دیتا ہے۔‘‘

ابن عابدین (محمد امین بن عمر تیرہویں صدی کے عالم ہیں، ان کی وفات 1252ھ میں ہوئی) متاخرین احناف میں سے ہیں۔

اب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ قول متاخرین احناف کا ہے اور یہ انہی فقہاء کا قول ہو سکتا ہے کہ جن کی رسائی صرف کتب فقہ تک رہی، انہوں نے احادیث کے ذخیرے کو چھاپنے کی کوشش نہ کی اور شرنبلالی کی مانند جس فقیہ نے بھی سنت، آثار کا گہرا مطالعہ کیا وہ متاخرین حنفیہ کی اس جسارت کو ہضم نہ کر سکے اور اس سنت کو بیان کرنے کے لیے قلم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔

عصر حاضر کے جن علماء احناف نے اس سنت کا اقرار کیا، چاہے دبی زبان ہی سے کیا ہو وہ عند اللہ ماجور ہوں گے اور جواَب بھی ڈھٹائی سے سنت کو مکروہ تحریمی بنانے پر مصر ہوں وہ پھر اپنی عاقبت کی فکر کریں۔ بہرحال ایک دن انہوں نے بھی حوض کوثر پر حاضری دینی ہے، جہاں اللہ کے رسول ﷺ ان تمام لوگوں کو دھتکار دیں گے جو احداث فی الدین (دین میں نئی من گھڑت بات) داخل کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔

اور آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم اہل اسلام کو دین حق پر قائم رکھے، ہماری سنت سے شیفتگی برقرار رکھے اور قیامت کے دن اللہ کے رسول کی شفاعت نصیب فرمائے۔ وصلى الله تعالى على نبيا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

٭٭٭

تبصرہ کریں