سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

بچے کی نیشنلٹی کا حصول

سوال: میں ایک یورپی ملک میں رہائش رکھتا ہوں، جہاں اللہ نے مجھے ایک نومولود سے نوازا ہے۔ پیدائش کے اعتبار سے وہ اس ملک کی نیشنلٹی کا حقدار ہے، جس کے لیے کسی قسم کی یا کسی اور قسم کے حلفیہ بیان کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ کسی غیر مسلم ملک کی قومیت لینا حرام ہے، سوائے شدید ضرورت کے جائز نہیں ہے، کیا ایک باپ کی حیثیت سے میں اس کی قومیت لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کر سکتا ہوں یا پھر اسے بچے پر چھوڑ دوں کہ وہ بالغ ہو کر خود اپنا فیصلہ کر لے؟ اس مسئلہ میں میں اس وقت ایک ذہنی کشمکش کا شکار ہوں، صرف اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر ایسا کرنا حرام ہے تو کہیں میں اس گناہ کا مرتکب نہ ہو جاؤں۔

جواب: تمام اشیاء میں اصل تو مباح ہونا ہے، اپنے لیے یا بچے کے لیے قومیت لینا جائز ہے، کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو شہریت یا وطنیت کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ ایک شخص جس جگہ پیدا ہو، یا عمر کا ایک واجبی حصہ وہاں گذارا ہو تو اس کی طرف نسبت کرنا اور اس کے لیے بھلائی چاہنا ایک فطری امر ہے۔ نبی کریمﷺ جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو مکہ سے باہر نکلتے وقت ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر آپ نے یہ الفاظ کہے:

’’اللہ کی قسم! اے مکہ! تم اللہ کی زمینوں میں سے سب سے بہتر جگہ ہو، مجھے بھی سب سے زیادہ عزیز ہو اور اگر تیرے رہنے والوں نے مجھے نہ نکالا ہوتا تو میں وہاں سے کبھی نہ نکلتا۔‘‘ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

نبی ﷺ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے ، حالانکہ اس وقت مکہ شرک کا گڑھ تھا اور خود انہیں ان کے اہل وعیال، ان کے ساتھیوں کو اہل مکہ کی جانب سے شدید اذیت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم تھی کہ مکہ ان کا وطن اور ان کی جائے پیدائش تھی۔ یہ بات بھی ثابت ہے کہ جب آپ بحیثیت اپنے نئے وطن، مدینہ پہنچے تو انہوں نے یہ دعا کی تھی:

’’ اے اللہ! ہمیں مدینہ بھی اتنا ہی محبوب بنا دے جتنا کہ مکہ کو ہمارے لیے محبوب بنایا تھا بلکہ کچھ زیادہ ہی بنا دے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

قومیت کا کارڈ اسی نسبت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے حامل کو بہت سے حقوق عطا کرتا ہے۔ کسی ملک کی طرف نسبت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس ملک کے اکثریتی دین کی طرف نسبت ہو رہی ہے۔ عیسائی اسلام کے آغاز سے لے کر اب تک مسلم ممالک میں رہتے آئے ہیں، تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ان کی نسبت اسلام کی طرف ہو گئی، وہ اس لیے کہ وہ اپنی دینی خصوصیات کو برقرار رکھتے رہے، اور بالکل اسی طرح اگر ایک مسلمان کسی یورپی ملک کی طرف نسبت رکھتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ان کے دین کی طرف بھی نسبت رکھتا ہے۔ بلکہ یہ بات تو معروف ہے کہ یورپی ممالک کے قوانین اس ملک کے شہریوں کو کوئی بھی عقیدہ رکھنے اور اپنے دینی شعائر کی ادائیگی کی کھلی اجازت دیتے ہیں اور اس حق میں وہ باقی لوگوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

تو آپ کےلیے بہتر شکل یہی ہے کہ قومیت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیں اور جو آپ کے ذہن میں تردد اور اجنبیت کا احساس ہے، اسے پوری طرح جھٹک دیں کہ اس کے آپ کے اپنے اوپر اور اپنے اہل وعیال کے اوپر منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

آپ کو اپنی شہریت کے کامل شعور کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے چاہئیں اور ان تمام حقوق کو بروئے کار لانا چاہیے جن کی دستور اور قانون ضمانت دیتا ہے اور اگر اس مقصد کے لیے حلف بھی اٹھانا ہو تو وہ بھی جائز ہے کیونکہ اس کا تعلق بھی ایک جائز امر کے لیے اور وہ ہے ملک کے ساتھ وفاداری ور اس کے قوانین کا احترام کرنا اور وفاداری کا یہ تقاضا ایک فطری امر ہے جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے اور یہ تقاضا دین اور عقیدے کے ساتھ وفاداری سے متعارض نہیں ہے۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

گھریلو جانوروں کو خصی کرنا

سوال: ہم دوستوں کے درمیان یہ مسئلہ بحث کا باعث بنا ہوا ہے کہ آیا گھریلو جانور جیسے بلی، خرگوش وغیرہ کو خصی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جرمنی میں یہ بات معروف ہے کہ ایسے گھریلو جانور کی پیدائش کے بعد ایک سال کے اندر اندر اسے خصی کر دیا جاتا ہے تاکہ ان کی افزائش نہ ہو اور خود اسے بھی تنہا پن کا احساس نہ ہو۔

جواب: اس طرح کے جانوروں کے بارے میں اصل تو اس کا ناجائز ہونا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان حیوانات کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ ان میں افزائش ہو۔ جانوروں کو بھی ہماری طرح اُمت کہا گیا ہے۔ ارشاد ہے:

﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ﴾ (سورة الأنعام: 38)

’’اورزمین میں کوئی رینگنے والا جانور نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پرندہ جو اپنے پروں سے اڑتا ہو، الا یہ کہ وہ تمہاری طرح کئی امتیں ہیں، ہم نے اس کتاب میں کوئی کوتاہی روا نہیں رکھی ہے، پھر وہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔‘‘

کئی مالکی اور شافعی اہل علم نے اس کے عدم جواز کا صراحۃً ذکر کیا ہے اور ان کی دلیل سیدنا ابن عمر سے مروی یہ حدیث ہے کہ

نبی ﷺ نے گھوڑوں اور مویشیوں کو خصی کرنے سے منع کیا ہے۔ (مسند احمد)

اور ایسے ہی مادہ جانوروں کے رحم کو کاٹ پھینکنا بھی ناجائز ہے الا یہ کہ ایسا کرنے میں کوئی مصلحت مقصود ہو یا کسی بگاڑ کو دور کرنا ملحوظ ہو اور اگر ایسا کرنے کی نوبت بھی آ جائے تو یہ کام ایسے لوگوں سے کروایا جائے جو اس کے ماہر ہوں تاکہ جانوروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ کونسل تمام مسلمانوں کو یہ بھی ہدایت کرتی ہے کہ جو شخص پالتو جانور رکھتا ہو یا ان کا نگہبان ہو تو وہ ان کے کھانے، پینے ، رہنے اور علاج معاملہ کا پورا پورا خیال رکھے۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

انسان یا جانور سے اخذ کردہ بالوں کا استعمال

سوال: کیا ایسے بالوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے جو کسی انسان یا حیوان سے مستعار لیے گئے ہوں؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلقت، صورت، قامت، ہیئت کے اعتبار سے سب سےبہترین انداز میں پیدا کیا ہے اور بعض اوقات اس میں جو بگاڑ اور نقص ظاہر ہو جاتا ہے تو وہ ان امراض اور آزمائشوں کا ایک حصہ ہے جو انسان کو اس دنیا میں پیش آتے ہیں۔ ان کا علاج اور ان کی درستگی شریعت کے ضوابط اور اخلاقی حدود ہی کے ضمن میں کی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ‎0‏ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ 0‏ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ﴾ (سورة الانفطار: 6۔8)

’’اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈالا ہے؟ کہ جس نے تجھے پیدا کیا ، تیری نوک پلک سنواری، تجھے متوازن بنایا اور پھر جس شکل میں چاہا تجھے ایک روپ عطا کر دیا۔‘‘

اور ارشاد فرمایا:

﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾

’’بے شک ہم نے انسان کو بہترین قامت میں پیدا کیا۔‘‘ (سورة التين:4)

اللہ تعالیٰ نے بالوں کے ذریعہ مرد اور عورت دونوں کو زینت عطا کی اور جہاں تک مانگے تانگے کے بالوں کا تعلق ہے تو اگر وہ انسان کے اپنے بالوں کے ساتھ جوڑ کر پہنے جائیں تو وہ ’وصل‘ کی وہ شکل ہے جس سے نبیﷺ سے منع کیا ہے۔ ارشاد ہوا:

«لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ» (صحيح مسلم)

’’اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتے ہیں، اس عورت پر جو بالوں کو (مستعار بالوں) سے جوڑتی ہے اور جو اس کا مطالبہ کرتی ہے اور اس عورت پر جو اپنے بدن کو گدواتی ہے اور جو اس کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘

مالکی فقہا نے تو اسے بالکل حرام قرار دیا ہے اور شافعی فقہاء کے نزدیک بھی وہ حرام ہے اگر مستعار بال انسان کے ہوں، اگر ضرورت پڑے تو اس کا علاج بھی مشروع طریقے سے ہونا چاہیے۔

جدید طریقہ علاج میں یہ سہولت موجود ہے کہ ایک گنجے انسان کے اپنے ہی سر پر بال اگائے جا سکیں اور یہ ایک جائز طریقہ ہے کہ جس سے مرد اور عورت دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ البتہ وہ عورتیں جو کسی علاج (جیسے کیموتھراپی) یا کسی اور سبب کی بنا پر بالوں سے محروم ہو چکی ہوں اور ان کے اپنے بال نہ اگائے جا سکتے ہوں اور خود انہیں بھی اس صورتحال سے شدید پریشانی لاحق ہو تو وہ وِگ کا استعمال کر سکتی ہیں کیونکہ جو چیز منع ہے وہ اپنے بالوں میں نقلی بالوں کا ملانا ہے، نہ کہ مطلق بالوں کا پہننا۔

نیشنل لاٹری سے خیراتی کاموں کے لیے مدد طلب کرنا

سوال: برطانیہ میں ایک ایسی تنظیم موجود ہے جو خیراتی اور رفاہی اداروں کو فنڈز مہیا کرتی ہے، یہ تنظیم نیشنل لاٹری کے نام سے معروف ہے تو کیا اسلامی اداروں کو ایسی تنظیم سے فنڈز مانگنے کی اجازت ہے؟

اور آیا اگر یہ تنظیم اسلامی اداروں کی مدد کے لیے از خود فنڈز مہیا کرنے کا عندیہ ظاہر کرے تو یہ فنڈز لیے جا سکتے ہیں؟

اور کیا مسلم سرکردہ حضرات کو اس تنظیم کی مشاورتی کمیٹی میں شمولیت کی اجازت ہو گی؟

جواب: مال کے قبول کرنے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسے کیسے حاصل کیا گیا ہے، اگر یہ مال کسی جہت سے بحیثیت عطیہ (Donation) دیا گیا ہے تو وہ جائز شمار ہو گا، چاہے اس کے لیے درخواست دی گئی ہو یا بغیر درخواست کے ملا ہو، مشہور واقعہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی اہلیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ کی آزاد کردہ لونڈی نے نبیﷺ کو بطور ہدیہ گوشت بھیجا۔ نبیﷺ کو بتایا گیا کہ یہ گوشت بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا تھا، تو نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

«هِيَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ» (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

’’یہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ہمارے ہدیہ ہے۔‘‘

اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نبیﷺ اور آپ کی آل پر صدقہ کا مال حرام ہے، لیکن اگر کوئی چیز بطور ہدیہ انہیں پیش کی جائے تو وہ جائز ہے۔ اسے انتقال ملکیت کہا جاتا ہے ۔ یعنی اصلاً وہ ایک ناجائز مال تھا لیکن وہ ایک دوسرے شخص کے پاس ایک جائز طریقے سے پہنچا تو پھر حکم بھی بدل جائے گا۔

البتہ ایسی تنظیم سے بطریق عطیہ کسی بھی مال کو قبول کرنے میں ان باتوں کا خیال رکھا جائے کہ

1۔ مذکورہ تنظیم کی طرف سے یہ شرط نہ عائد کی جائے کہ قبول کرنے والا ادارہ اس تنظیم کی ترویج کی خاطر پروپیگنڈہ کرنے کا پابند ہو گا۔

2۔ یا یہ کہ مذکورہ عطیات کسی خلاف ِ شرع کام میں استعمال ہوں گے۔

3۔ یا یہ عام پبلک کی مصلحت کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

رہی دوسری بات کہ آیا اس تنظیم کی مشاورتی کمیٹی میں شامل ہوا جا سکتا ہے تو ہم اسے ناجائز سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ اس تنظیم کی کمائی حرام طریقے سے استعمال ہوئی ہے، یعنی جوئے کی رقم سے اور ان کی مشاورتی کمیٹی میں شمولیت کا مطلب ہے کہ ان کے غیر اسلامی کاموں میں حقیقی اور عملی طور پر معاونت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورة المائده: 2) ’’اور گناہ اور سرکشی پر تعاون نہ کرو۔‘‘ (فتویٰ کونسل یورپ)

کونسل کے ایک پرانے فتویٰ میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ

مسلم یا غیر مسلم ارادوں یا حکومتوں سے عطیات قبول کیے جا سکتے ہیں چاہے ہمارے ظن غالب کے مطابق وہ اسلامی نقطۂ نظر سے مشروع نہ بھی ہوں۔ البتہ اگر وہ بذات خود حرام ہوں جیسے شراب اور سؤر تو وہ جائز نہیں ہیں اور یہ اس لیے کہ ان کی طرف سے عطیات کا قبول کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہدیہ قبول کیا جائے اور یہی جمہور فقہاء کی رائے ہے۔

اور جب یہ عطیات ہمارے تصرف میں آجائیں تو انہیں شریعت کے قانون کے مطابق ہی خرچ کرنا لازم ہے۔

لیکن دو صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں یہ عطیات قبول نہیں کیے جائیں گے:

1۔ اگر ان عطیات کی بنا پر ایک مسلمان کی اسلام اور اہل اسلام سے وفاداری کمزور ہوتی نظر آئے۔

2۔ یہ عطیات مشروط ہوں یعنی کسی ایسی شرط کے ساتھ ہوں جس سے مسلمانوں کی اپنی مصلحتیں متاثر ہوں۔ (کونسل کے پانچویں اجلاس منعقدہ مئی 2002ء کے فتاویٰ)

ایک رائے یہ بھی ہے کہ

یہ عطیات مساجد کی تعمیر اور قرآن کریم کے نسخوں کی طباعت کے لیے جائز نہیں ہوں گے۔ میں اس رائے کو قوی سمجھتا ہوں۔ (ص ، ح)

الیکٹرانک کھیلوں کی پروگرامنگ کرنا

سوال: میں نے اللہ کے فضل سے پروگرامنگ کے موضوع پر اپنی تعلیم کو مکمل کر لیا ہے، مجھے (UIBISOFT) کمپنی سے ملازمت کی پیشکش موصول ہوئی ہے جو کہ الیکٹرانک کھیلوں کا کاروبار کرتی ہے، میرا کام اس گروپ کے ساتھ ہو گا جو جنگ پر مبنی ایک کھیل سے متعلق ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام میرے لیے جائز ہے جب کہ میں یہ جانتا ہوں کہ یہ کھیل صرف وقت کا ضیاع ہے اور اس کھیل میں نری لڑائی ہے ، قتل وغارت ہے، تو کیا ایک مسلمان کے لیے ایسا کھیل کھیلنا بھی جائز ہے؟

جواب: اسلام میں کھیلوں کے حکم کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ان کی ماہیت کیا ہے؟ ان کا ہدف اور ان کا مقصد کیا ہے؟

کھیل چاہے الیکٹرانک ہو یا کچھ اور ہو، اگر وہ اصلاً جائز ہو، اس میں کوئی حرام چیز استعمال نہ ہوتی ہو، نہ ہی وہ جوئے کا حصہ ہو اور نہ ہی رِھان ہو (جیسے مروجہ شرطیہ گھڑ دور وغیرہ) تو پھر یہ اباحت کے حکم میں آتا ہے، حسب حالت ان پر شریعت کے پانچ احکامات میں سے کوئی حکم لگایا جائے گا (یعنی حلال، مستحب، مباح، حرام، مکروہ) چنانچہ وہ کھیل جو انسان کی علمی، فنی، فکری اور ٹیکنیکل صلاحیتوں کو جلابخشیں تو وہ سب مستحب ہوں گے بلکہ اپنی اپنی اہمیت کے اعتبار سے بعض دفعہ فرض کفایہ بھی ہو سکتے ہیں اور یہی کھیل حرام قرار دیے جائیں گے اگر ان میں مندرجہ ذیل قباحتیں پائی جائیں:

کھیل کے آلات بذات خود حرام ہوں، یا جوئے، ناجائز مقابلوں پر مشتمل ہوں، یا اسلام کے بنیادی اصولوں کی مخالفت پر مشتمل نشانات یا نعرے رکھتے ہوں۔

یا بدی یا شہوت کو ابھارتے ہوں یا سرکشی اور نسلی تفریق کے داعی ہوں۔

یا ایسے مواد پر مشتمل ہوں جن سے خود انسان کو، اس کے معاشرے اور ماحول کو نقصان پہنچے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا کہ کہیں ان کی وجہ سے نمازیں تو ضائع نہیں ہو رہیں یا کسی کا حق تو مارا نہیں جا رہا۔

ہم دو مزید باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں:

1۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی، اپنے دین اور اپنی دنیا میں اولیات کا تعین کرے یعنی جو چیزیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، انہیں سرفہرست رکھے اور پھر اس کے بعد جو چیز اہم ہو، اس کا خیال کرے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک آدمی کے قدم روز محشر سے نہیں ہٹائیں جائیں گے، جب تک کہ وہ ان باتوں کا جواب نہ دے، عمر کہاں گنوائی؟ جونی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اپنے علم کے مطابق کہاں تک عمل کیا۔‘‘ (جامع ترمذی، سنن دارمی)

2۔ یہ کھیل چاہیے مباح کیوں نہ ہوں، انہیں اگر بہت وقت دیا جائے تو لازمی طور پر ایسا شخص ان تمام ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرے گا جو اس پر اس کے رب، اس کے اپنے نفس، اپنے خاندان اور اپنی امت کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال کو اصول فقہ کی نظر میں تحریم الوسائل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یعنی ایک چیز اس لیے حرام قرار دی جاتی ہے کہ وہ حرام کا ارتکاب کرنے کا راستہ بنتی ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ان کھیلوں سے بچا جائے۔

اب رہا یہ سوال کہ ایسی کمپنی میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟

تو اس کا حکم بھی کھیل کی نوعیت کے مطابق ہو گا، یعنی اگر وہ کھیل مباح ہے تو اس کا کام بھی مباح ہو گا۔ اگر مباح نہیں ہے تو یہ کام بھی جائز نہیں۔

اور اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ اگر یہ کھیل ضرر رساں ہے تو دوسروں تک اس کا ضرر پہنچنے کی وجہ سے ایسی پروگرامنگ کا گناہ بھی بڑا ہو گا۔

اور اس کے برعکس اگر یہ پروگرامنگ مضر نہیں ہے تو پروگرامنگ کرنے والا اس عمل کے ذریعے اپنی صلاحیتوں اور تجربوں کو مزید نکھار سکتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو محض اسے کھیلنے والا نہیں حاصل کر سکتا، اس لیے اس کے بارے میں جو بھی حکم لگایا جائے گا وہ مؤخر الذکر کے مقابلے میں ہلکا ہی ہو گا۔

آخر میں کونسل تمام مسلمانوں سے یہی چاہے گی کہ وہ اس بات کا پوری پوری کوشش کریں کہ وہ ایسا ہی کام کریں جو دنیا اور آخرت میں ان کے لیے فائدہ مند ہو اور اپنے بچوں کو بھی مفید علم کی تحصیل اور نیک اعمال کی ادائیگی پر آمادہ کرتے رہیں۔ ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ ہر عمل میں سنجیدگی، عمدگی اور حسن کو ملحوظ رکھیں اور وہی اعمال کریں کہ جن سے اللہ کے بندوں کو اور تمام خلائق کو نفع ہو۔ واللہ اعلم

===

غلامانِ شہِ ابرار

(قرآن حکیم۔۔۔ سورۂ فاتح۔۔۔ کی روشنی میں)

جو غلامانِ شہِ ابرار ہیں

دُور ان سے سب غم وآزار ہیں

ہیں برائے دوستاں نرم ورحیم

دشمنوں کے واسطے تلوار ہیں

فضل وخوشنودئ رب کی جستجو

جب بھی دیکھو اس میں ہی سرشار ہیں

سربکف دن کو خدا کی راہ میں

یادِ حق میں رات بھر بیدار ہیں

گریۂ شب سے ہیں دامن ان کے تر

خلوتوں میں محوِ استغفار ہیں

بدگمانی، بدزبانی سے وہ دور

خوش دل وخوش فکر وخوش اطوار ہیں

نورِ ایماں سے منور ان کے دل

پاک ان کے سیرت وکردار ہیں

ان کے ہاتھوں پر عیاں داغِ سجود

ان کے چہرے مطلعِ انوار ہیں

ان کا ذکر انجیل میں، تورات میں

جا بجا قرآن میں آثار ہیں

ایک کھیلتی کی سی ہے ان کی مثال

لہلہاتے جس کے برگ وبار ہیں

سامنے اللہ کے جھکتے ہیں وہ

رشکِ شاخِ نخلِ میوہ دار ہیں

ان سے ہے وعدہ خدائے پاک کا

مغفرت اور اجر کے حق دار ہیں

خواجہ محمد عارف

تبصرہ کریں