سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

 

سوال: میں نے اسلام کی تشہیر اور تبلیغ کےلیے ایک جھنڈا ڈیزائن کیا ہے، جو اگر مساجد میں رکھا جائے تو فائدہ مند رہے گا۔ اس پر بالترتیب یہ فقرات لکھے گئے ہیں:

لا إله إلا الله

محمد رسول الله

عيسى رسول الله

موسى رسول الله

یہی الفاظ مختلف زبانوں میں بھی لکھے جا سکتے ہیں۔

لیکن میرا اصل سوال یہ ہے کہ نَو مسلم کو اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ نماز کو اپنی مادری زبان میں ادا کر ے اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کچھ لوگ اس لیے بھی اسلام قبول نہیں کرتے کہ انہیں عربی زبان نہیں آتی اور اگر وہ عربی کی تحصیل میں لگے رہیں تو پھر نماز سے غافل ہو جائیں گے اور یہ بات تو طے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زبان کو جانتے ہیں۔

جواب:

1۔ مذکورہ فقرات کے ساتھ جھنڈے کا بنایا جانا اور مساجد میں آویزاں کرنا ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن محمد رسول اللہ کے بعد ’خاتم النبین‘ کا اضافہ ضرور کیا جائے تاکہ سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہما السلام کے مقابلے میں نبیﷺ کی حیثیت واضح ہو جائے کہ وہی آخری نبی ہیں اور اس لحاظ سے وہی قابل اتباع ہیں۔

2۔ نماز دین اسلام کاستون ہے اور نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا رکن ہے۔ اس لیے اسے عربی ہی میں پڑھنا ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے، اس لیے کہ سورۃ الفاتحہ کی حد تک صرف اس کا ترجمہ پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ جب تک وہ سورۃ الفاتحہ سیکھ نہیں لیتا وہ اس حدیث کے مطابق عمل کرتا رہے۔

صحابی رسول عبد اللہ بن اَبی اَوفی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں قرآن سے کچھ نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجیے جو مجھے کافی ہو۔ تو نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

تو یہ الفاظ کہ لو : سبحان اللہ، الحمد للہ، ولا إله إلا اللہ، واللہ أکبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ العلی العظیم (بروایت احمد، سنن ابو داؤد، سنن النسائی)

یعنی جو شخص سورۃ الفاتحہ پڑھنے پر قادر نہ ہو تو وہ مذکورہ تسبیحات پڑھتا رہے وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (سورة التغابن: 16)

’’اور اللہ سے ڈرتے رہو جتنی استطاعت ہو۔‘‘

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:

«إذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا منه ما اسْتَطَعْتُمْ»

’’جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جو کچھ تم کر سکتے ہو تو اسے کرو۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

امام ابو حنیفہ﷫ کے نزدیک فارسی زبان میں نماز پڑھنا جائز ہے چاہے وہ عربی زبان پر قدرت بھی رکھتا ہو اور ان کے دونوں شاگردوں (ابو یوسف اور محمد) کے نزدیک صرف اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ وہ عربی زبان میں پڑھنا نہ سیکھ لے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہ﷫ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا اور صاحبین کے قول کو اختیار کر لیا تھا اور مذہب حنفی میں صاحبین کےقول پر ہی فتویٰ دیا جاتا ہے۔

عورت کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا

سوال: ایک عورت ہر جھگڑے پر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے، ایک موقع پر شوہر نے تنگ آ کر اسے یہ الفاظ کہے: “عِصْمَتُكِ بيدك”

’’تمہارا نکاح میں رہنا یا نہ رہنا تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے۔‘‘ تو اس عورت نے فوراً کہا: تو پھر تجھے طلاق ہے، یہ نہیں کہا کہ میں تمہاری طرف سے اپنے آپ کو طلاق دیتی ہوں۔ تو کیا یہ طلاق واقع ہو گئی؟

جواب: طلاق دینے کا حق شریعت میں شوہر کو دیا گیا ہے اور اس کے بالمقابل عورت کو خلع کا حق حاصل ہے۔ رہا یہ کہ مرد اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ

“الأمر بيدك” ’’یہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ تو اسے بحیثیت وکالت دیکھا جائے گا، یعنی ایک شوہر کسی دوسرے شخص کو یا اپنی بیوی ہی کو وکیل بنا دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے اسے طلاق دے دے۔ اس بارے میں چند آثار منقول ہیں، جنہیں ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب ’مصنف‘ میں ذکر کیاہے۔ (اثر نمبر 18379)

سیدنا مسروق﷫ تابعی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے طلاق کا معاملہ اپنی بیوی کے سپرد کر دیا تھا تو اس نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے ڈالیں، تو انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟تو انہوں نے کہا: میری رائے میں وہ ایک طلاق ہوئی اور اس کا شوہر اب بھی اس کا مالک ہے (یعنی رجوع کر سکتا ہے) تو سیدنا عمر نے کہا: میری بھی یہی رائے ہے۔‘‘ (اثر نمبر: 18381)

سیدنا ابو الہلال العتکی﷫ روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدناعثمان کے پاس آئے اور پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو (طلاق دینے) کا اختیار دے دیا، تو کیا حکم ہے؟تو سیدنا عثمان نے کہا: تو پھر اس کی بیوی کو اختیار ہے۔ (اثر نمبر: 18393)

سیدنا نافع ﷫سیدنا عبد اللہ بن عمر کا قول نقل کرتے ہیں کہ اگر شوہر بیوی کے ہاتھ میں طلاق دینے کا معاملہ سپرد کر دے تو پھر وہی فیصلہ ہو گا جو وہ کرے گی، لیکن اگر دونوں میں اس بات پر اختلاف ہو جائے تو مرد سے کہا جائے گا کہ وہ قسم اٹھائے (کہ اس نے یہ اختیار دیا تھا یا نہیں۔)

مذکورہ سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت نے اپنے آپ کو بحیثیت وکیل طلاق نہیں دی بلکہ شوہر کو طلاق دے دی۔ تو اس نے بالکل غلط کہا۔ یہ طلاق نہیں ہوئی جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس کا فتویٰ ہے کہ یہ طلاق نہیں ہوئی۔

شراب فروخت والے کلب میں کام کرنے کا حکم

سوال: میں ایک فٹبال کلب کے لیے کام کرتا ہوں اور اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کلب سے متصل کھیلوں کے لباس کے ایک سٹورمیں بھی اضافی کام کرتا ہوں۔ اس اسٹور میں ڈھائی سو کے قریب قابل فروخت اشیاء میں جن میں دو شراب کی بھی اقسام ہیں لیکن ان کے خریدنے والے معدودے چند افراد ہوتے ہیں تو کیا میں یہ کام جاری رکھ سکتا ہوں؟ اور اس بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ میرے کام کے تمام ساتھی میرا اور میرے دین کا بہت احترام کرتے ہیں اور یہاں کام کرنے کی بنا پر میرے کلب کے ساتھ مستقل کام کیے جانے کے امکانات روشن ہوتے چلے جائیں گے۔

جواب: کسی حرام چیز کا تناول کرنا، اس کا خریدنا اور فروخت کرنا بالکل ناجائز ہے اور عمومی اصول یہی ہے کہ گناہ کے کسی کام پر تعاون نہ کیا جائے، خاص طور پر شراب کے بارے میں تو شدید وعید آئی ہے اور اس حدیث کے مطابق یہ وعید کئی لوگوں کو شامل ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد(ﷺ)! اللہ تعالیٰ نے خمر (شراب) پر لعنت بھیجی ہے اور اس پر بھی جو اسے نچوڑتا ہے اور پھر اس سے (انگور سے) شراب بناتا ہے اور اس پر بھی جو اسے پیتا ہے یا پلاتا ہے، اس پر بھی جو اسے اٹھاتا ہے یا جس کے پاس وہ لائی جاتی ہے اور اس پر بھی جو اسے خریدتا ہے یا بیچتا ہے اور جو اس کے پلانے کا انتظام کرتا ہے۔ (بروایت احمد، عبد بن حُمید اور ابن حبان)

اس شدید وعید کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مسلمان کو ایسی جگہ کام کرنے سے بچنا چاہیے جہاں شراب فروخت کی جاتی ہو۔

آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ ایسا کام تلاش کریں جہاں شراب فروخت نہ کی جاتی ہو۔ اگر فی الحال ایسا ممکن نہ ہو تو آپ اس وقت تک یہ کام کرتے رہیں جب تک شک وشبہ سے پاک کام نہ مل جائے، لیکن پھر بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ جہاں تک ہو سکے شراب کی بوتلوں کو خود ہاتھ نہ لگائیں اور نہ ہی انہیں اٹھائیں اور اگر کبھی کبھار ایسا ہو جائے تو اپنی کمائی کو پاک کرنے کی کوشش کریں اور وہ اس طرح کے اپنی تنخواہ میں سے کچھ معمولی رقم صدقہ وخیرات کر دیا کریں۔ معمولی رقم اس لیے کہ اس اسٹور میں شراب کی بوتلوں کا حصہ بالکل معمولی سا ہے، جس کمائی میں ناجائز چیز شامل ہو جائے تو اس کے بقدر صدقہ خیرات کرنا اس حدیث کے مطابق ہو گا اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے گروہ تاجران! بازار میں لغویات کا دخل رہتا ہے اور ایسے ہی جھوٹی قسم کا، تو پھر اسے صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔‘‘ (بروایت طبرانی)

عورت کا اپنے شوہر سے خلع لینے کا حکم

سوال: ایک عورت جو 18 ماہ سے اپنے شوہر سے جدا ہو، کیا وہ خلع لے سکتی ہے اور اگر وہ پھر دوسرا نکاح کر لے تو کیا اس کے لیے اس نکاح کی تشہیر کرنا ضروری ہے؟

جواب: عورت کا خلع طلب کرنا اس کا ویسے ہی حق ہے جیسے ایک مرد اگر اپنی بیوی سے ناخوش ہو تو وہ اسے طلاق دے دے۔

ایک عورت کو بغیر کسی معقول وجہ کے خلع طلب نہیں کرنا چاہیے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

«إِنَّ الْمُخْتَلِعَاتِ وَالْمُنْتَزِعَاتِ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ»

’’بے شک خلع طلب کرنے اور علیحدہ ہو جانے والیاں منافق عورتیں ہیں۔‘‘ (مسند احمد، طبرانی)

اور یہ بھی ارشاد فرمایا:

«أَيُّمَا اِمرأةٍ سَأَلَت زَوجَهَا طَلَاقًا في غيرِ مَا بأسٍ فَحَرَامٌ عَلَيهَا رِائِحَةُ الجَنَّةِ»

’’ جو کوئی عورت اپنے شوہر سے بغیر کسی مشکل کے طلاق طلب کرتی ہے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘‘ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد،سنن ابن ماجہ)

یہ تو اس کا شرعی حکم ہے لیکن اگر عورت ناخوش ہو تو خاندانی روابط کو قائم رہنے کے لیے اسے پہلے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ (سورة النساء: 35)

’’اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان نزع کا ڈر ہو تو پھر مرد کی جانب سے ایک منصف اور بیوی کی جانب سے ایک منصف کو بلا بھیجو، وہ دونوں اگر صلح چاہیں گے تو اللہ ان دونوں کے درمیان صلح کی توفیق بخش دے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا ہے۔ باخبر ہے۔‘‘

پھر بھی اگر بیوی کو شوہر کی طرف سے ضرور لاحق ہے، یا بے اعتنائی کا شکوہ ہے، یا شوہر کی سختی کی بنا پر دونوں میں لمبے عرصے کی جدائی ہو چکی ہے تو پھر وہ خلع طلب کر سکتی ہے اور اس صورت میں اگر مہر عورت نے وصول کر لیا ہے تو اسے واپس کرنا ہو گا اور ایسے ہی کوئی دوسرا مطالبہ جس پر دونوں اتفاق کریں۔

خلع مرد اور عورت کی باہمی رضامندی سے بھی ہو سکتا ہےیا پھر قاضی کے حکم سے اور اگر شوہر بلاسبب رضامند نہ ہو تو قاضی اس نکاح کو فسخ بھی کر سکتا ہے، اور پھر عدت گزر جانے کے بعد یہ عورت اپنے ولی کی اجازت سے دوسرا نکاح کر سکتی ہے، دو گواہوں کی موجودگی سے نکاح کی شرعی شرائط پوری ہو جاتی ہیں، اگر ملکی قوانین نکاح کو رجسٹر کرانے کو ضروری سمجھتے ہوں تو پھر ایسے نکاح کو رجسٹرڈ بھی کرایا جائے۔

زیادہ عرصہ گھر سے دور رہنے والے خاوند سے طلاق کا حکم

سوال: جرمنی میں شامی مہاجرین میں سے ایک خاتون نے یہ سوال کیا ہے کہ اس کا شوہر ابھی تک شام میں ہے اور جدائی پر چار سال گذر چکے ہیں، شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہے تو اس کا کیا حل ہو سکتا ہے؟

جواب: پہلے چند چیزوں کی وضاحت مطلوب ہے:

کیا شوہر نے خاتون کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ جرمنی جائے اور وہاں سیاسی پناہ طلب کر لے، اگر ایسا ہے تو اسے شوہر کا انتظار کرنا چاہیے، لیکن اگر چار سال گذر جانے کے بعد بھی شوہر وہاں آنے پر قادر نہیں ہو سکا تو خاتون کو چاہیے کہ یا تو شوہر سے بلاواسطہ بات کرے یا کسی رشتے دار کی وساطت سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے، پھر بھی اگر کامیاب نہ ہو تو کسی بھی اسلامی مرکز یا شریعہ کونسل کی وساطت سے خلع حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ملکی عدالتوں کے توسط سے نکاح کو فسخ کروا لےاور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ خاتون کا شام واپس جانا مشکل ہے اور زوجین کو سالہا سال تک ایک دوسرے سے دور رہنا بھی مناسب نہیں ہے اور اگر یہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر دیار غیرچلی آئی ہے تو اسے شادی کا یہ بندھن نہیں توڑنا چاہیے، بلکہ اگر واپسی خطرات سے خالی ہو تو اسے واپس جانا چاہیے۔

ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بدسلوکی کی بنا پر شام چھوڑ کر آئی ہو، تو اسے خلع طلب کرنے کا حق حاصل ہے چاہے وہ شوہر سے بلاواسطہ حاصل ہو جائے یا عدالت کے ذریعے سے حاصل ہو۔

وراثت کے شرعی اصولوں کے مخالف وصیت کا حکم

سوال: کیا شرعاً ایک برطانوی مسلمان کی وہ وصیت قابل قبول ہو گی جو وراثت کے شرعی اصولوں کے مخالف پڑتی ہو؟

جواب: اگر وصیت اسلام کے قانون وراثت کے خلاف ہو تو ورثہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس وصیت کو درست کرنے کی کوشش کریں تاکہ میت کو غیرشرعی وصیت کرنے کے گناہ سے نجات مل سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ (سورۃ البقرہ: 182)

’’جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا اندیشہ دیکھے تو پھر وہ ورثہ کے درمیان صلح کروا دے تو اس پر گناہ نہ ہو گا، بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے، مہربان ہے۔‘‘

اصلاح کا مطلب یہ ہے کہ ہر وارث کو بغیر کسی کمی یا اضافہ کے اس کا حصہ دیا جائے اور اگر کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی گئی ہے تو وہ ایک تہائی سے تجاوز نہ کرے۔ البتہ یہ بات جائز ہے کہ اگر ایک وارث کے لیے اس کے حصے سے زائد وصیت کی گئی ہے اور باقی ورثہ اس بات کوقبول کر لیں کہ ان کے اپنے حصص میں تخفیف کر دی جائے تاکہ مذکورہ حصہ دار کو زائد حصہ مل سکے اور اس کی بنیاد یہ حدیث ہے:

«إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابو دؤد، سنن نسائی)

’’اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے تو اب کسی وارث کےلیے وصیت نہیں۔‘‘

اور بروایت ابن عباس سنن الدار قطنی میں یہ اضافہ ہے: «إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ»

’’الا یہ کہ ورثہ چاہیں۔‘‘ اور اس اضافے کی اسناد حسن درجہ کی ہے۔

٭٭٭

 

سلف کی مخالفت، گمراہی کا سبب

الشیخ العلامہ الدکتور محمد بن سعید رسلان ﷾ فرماتے ہیں :

“من خالف السلف ضل، كل من خالف السلف لا بد أن يضل، لأن العصمة في الكتاب والسنة، والكتاب والسنة لا تفهم نصوصهما إلا من طريق سلفنا من الصحابة ومن تبعهم بإحسان فمن اعتمد على عقله ضل لأن العقل ليس بمعصوم والعقول متفاوته.”

’’جس نے سلف صالحین کی مخالفت کی گمراہ ہو گیا، جس نے بھی سلف کی مخالفت کی وہ ضرور گمراہ ہو گا کیونکہ عصمت صرف کتاب سنت میں ہے اور کتاب و سنت کی نصوص کو ہمارے سلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کی نیکی میں پیروی کرنے والوں کے راستے کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے، جس نے اپنی عقل پر اعتماد کیا گمراہ ہوگیا کیونکہ عقل معصوم نہیں اور عقول متفاوت ہوتی ہیں۔‘‘

٭٭٭

 

تبصرہ کریں