سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

کمپنی کے لیے بحیثیت ایڈوائزر کام کرنا

سوال: میں کئی کمپنیوں کے لیے کام کرتا ہوں جو سفر وسیاحت کا کاروبار کرتی ہیں، میرا کام یہ ہے کہ میں ان کے کاروبار کو مزید ترقی دینے کے لیے ان کے بارے میں اعلیٰ درجے (یعنی پانچ ستاروں کے گریڈ کے برابر) رپورٹ لکھوں تاکہ لوگ ان کمپنیوں کی طرف رجوع کریں۔ مجھے اب اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ یہ کام غلط ہے، کیونکہ اس کی بنیاد دھوکہ دہی پر ہے اور مجھے اس کی خاطر چند مجہول قسم کی ویب سائٹس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

اب میں مندرجہ ذیل طریقے سے اپنے کام کو سدھارنا چاہتا ہوں کہ اعلیٰ درجے کی رپورٹ صرف اتنی کمپنیوں کے لیے لکھوں جو قانونی طور پر کام کر رہی ہیں اور اپنے صارفین کے لیے واقعی اعلیٰ درجے کی سہولیات بہم پہنچا رہی ہیں، لیکن ویب سائٹس پر اب بھی میری کچھ مشتبہ قسم کی رپورٹیں موجود ہیں۔

میں اس کام پر اس لیے بھی مجبور ہوں کہ میرے والد کچھ عرصہ پہلے ہی ریٹائر ہوئے ہیں، میری عمر اٹھارہ سال کی ہے اور میرے خاندان کے پاس اور دوسرا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے، میں نے اس کام سے چند ماہ میں تین ہزار ڈالر کمائے ہیں۔ برائے مہر بانی میری رہنمائی کریں!

جواب: سائل خود اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ اس کا کام دھوکہ دہی پر مشتمل ہے اور مقصود یہ ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان کمپنیوں کی طرف رجوع کریں۔ یہ کام تو پھر جھوٹی گواہی کے ضمن میں آتا ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے بلکہ ان گناہوں یعنی کبائر میں بھی سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔

سائل نے اس کام کو چھوڑ کر بالکل درست اقدام کیا ہے، اسے رپورٹ لکھنے میں سچائی کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہیے، چاہے اسے نفع ہو یا نہ ہو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ‎0‏ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ﴾ (سورة الطلاق: 2-3)

’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔‘‘

اور سائل کو کثرت سے استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کثرت سے استغفار کرنے والوں کے لیے خیر کثیر کا وعدہ کیا ہے۔ فرمایا:

﴿وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ ﴾ (سورة هود: 3)

’’اور اپنے رب سے (گناہوں کی) معافی مانگتے رہو اور پھر اس کی طرف (بطریق توبہ) رجوع کرتے رہو، اللہ تمہیں ایک معلوم وقت تک بہترین ساز وسامان مہیا کرتا رہے گا اور ہر صاحب فضل کو اپنے فضل سے نوازاتا رہے گا۔‘‘

اسے چاہیے کہ جو کچھ پہلے وہ کرتا رہا ہے اس کی حتی الامکان اصلاح کرتا رہے، تاکہ دوسرے لوگ مزید گمراہی کا شکار نہ ہوں۔

ایسا کام قطعاً جائز نہیں جس میں حقیقت کو چھپایا گیا ہو، کسی چیز کو ایسے بیان کیا گیا ہو جو اصل واقع کے اعتبار سے درست نہ ہو، اس میں کمی اور زیادتی کی گئی ہو اور جس سے صارفین یا کمپنی کو نقصان ہونے کا خدشہ ہو۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

ایسی کمپنی میں کام کرنا جس میں سود کا شائبہ ہو!

سوال: مجھے ایک ایسی کمپنی میں کام کرنے کا موقع مل رہا ہے جو انٹرنیٹ پر مشاورتی عمل سے متعلق ہے۔ میرا کام یہ ہے کہ میں صارفین کو اقتصادی ٹیکنیکل منصوبوں سے متعلق (IT) کے اسرار و رموز میں مشورہ دوں، اس میں بنک بھی آ جاتے ہیں اور اس میں فوریکس (FOREX) یعنی غیر ملکی کرنسی کے تبادلے کی موجودہ تجارت بھی آ جاتی ہے اور کرنسی کے تبادلے کے کام میں بعض دفعہ سود پر مبنی اندازے بھی لگانا پڑتے ہیں۔ میرا بنیادی کام مینجمنٹ نوعیت کا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرا تبادلہ ایسی نوعیت کے مشاورتی کاموں میں ہو جائے جہاں بنکوں سے معاملہ کرنا نہ پڑے۔ مجھے ایک غیر مالیاتی کمپنی میں کام کرنے کی دعوت بھی موصول ہوئی ہے لیکن اس کا میری خصوصی مہارت کے میدان سے تعلق نہیں ہے، معاہدہ بھی صرف 6 ماہ ہے اور اس کام میں مجھے کامیابی کی گارنٹی بھی نہیں ہے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس مدت کے گذر جانے کے بعد میرے کنٹریکٹ کی تجدید بھی نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ میں اپنے موجودہ کام کو جاری رکھوں یا یہ دوسرا عارضی کام قبول کر لوں؟

جواب:اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مسلمان جو کام بھی کرے اسے بہترین انداز سے کرنے کی کوشش کرے۔ آپ کی پہلی والی ملازمت آپ کی اپنی مہارت کے میدان سے متعلق ہے جہاں آپ عمدگی سے کام کرنے کے اونچے درجے تک پہنچ سکتے ہیں اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض اوقات فوریکس سے منسلک بعض تجارتی معاملات میں آپ کو سود کا حساب وکتاب کرنا پڑتا ہے تو وہ کسی سودی کنٹریکٹ کو قبول کرنے کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ صرف مشاورتی اور رہنمائی کی حد تک ہے اور اس لحاظ یہ کام آپ کے لیے دوسرے عارضی کام کے مقابلے میں بہتر ہے لیکن آپ اپنی اس ملازمت کے ساتھ ایسی ملازمت کو تلاش کرنے میں لگے رہیں جو ہر قسم کے شک وشبہ سے خالی ہو تاکہ آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، آپ کی روزی بالکل پاک ہو اور یوں اللہ کی رضا بھی حاصل رہے۔ واللہ اعلم (فتویٰ کونسل یورپ)

تیراکی کے لباس میں ٹیسٹ کرانا

سوال: جسمانی ورزش کرانے والی ایک خاتون کا سوال ہے کہ فی الوقت تیراکی سکھانے کے لیے ٹریننگ لے رہی ہے لیکن سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لیے اسے تیراکی کا امتحان دینا ہو گا اور اس مقصد کے لیے اسے امتحانی کمیٹی کے سامنے تیراکی کے لباس ہی میں پیش ہونا ہو گا اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کر دے تو اسے سرٹیفیکیٹ نہیں مل سکے گا اور اس کی ٹریننگ کے کئی سال بے کار چلے جائیں گے تو کیا وہ ایسا کر سکتی ہے؟

جواب: شریعت سے یہ بات تو صاف صاف ثابت ہے کہ ایک عورت کو اپنے ان اعضاء کو نامحرم لوگوں کے سامنے کھولنا نہیں چاہیے کہ جن کا چھپانے کا حکم ہے اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ آج کل کے تیراکی کا لباس صرف صنفی اعضاء کو ہی بمشکل چھپا پاتا ہے۔ گو سینہ ڈھکا ہوتا ہے پھر بھی یہ مختصر سا لباس ان اعضاء کے حجم کو واضح کرتا نظر آتا ہے اور باقی بدن تو بالکل برہنہ ہوتا ہے اور اس طرح بدن کی نمائش کرنا تو اجماعی طور پر بالکل حرام ہے، سوائے شوہر کے یاکسی ایسی اضطراری کیفیت سے نمٹنے کے لیے جس کا تعلق دین اوربدن کی حفاظت سے ہو۔

اب اگر وہ اس امتحان میں شریک نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟

یہ خاتون اس سرٹیفیکیٹ سے محروم ہو جائے گی جس کی بنیاد پر اسے کوئی ملازمت مل سکتی تھی اور یہ وہ نقصان ہے جس کا تعلق مال اور اس کی روزی سے ہے لیکن یہ اس نقصان کے برابر نہیں ہے جو عورۃ (یعنی عورت کے پوشیدہ مقامات) کو تیراکی کے لباس کی شکل میں ظاہر کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور علماء میں اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ نقصان (چاہے وہ ضرورت سے متعلق ہو یا حاجت سے) جو نسل اور عزت و آبرو سے متعلق ہے اس نقصان سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے جو مال کی حفاظت سے متعلق ہے اور اسے اس فقہی قاعدے سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اگر انسان کے سامنے دو برائیاں ہو تو وہ چھوٹی برائی کا ارتکاب کر لے تاکہ بڑی برائی سے بچ سکے۔

اور اس بنیاد پر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ صرف ٹریننگ کی تکمیل کا سرٹیفیکیٹ لینے کے لیے آپ امتحانی کمیٹی کے ممبران کے سامنے اپنے پوشیدہ مقامات کو ظاہر کریں۔

ہماری نصیحت ہو گی کہ آپ صبر کا مظاہرہ کریں، ثواب کی نیت رکھیں اور کسی ایسے کام کو تلاش کرتی رہیں جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو، اللہ کا وعدہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے کوئی دوسرا راستہ کھول دیتے ہیں اور وہاں سے رزق عطا کرتے ہیں جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

ہم اس بات کی بھی نصیحت کریں گے کہ آپ وہ سارے قانونی ذرائع اختیار کریں جن سے آپ ایک جائز طریقے سے امتحان میں شرکت کر سکیں اور اور اپنا حق بھی حاصل کر سکیں اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے ایسے باوقار لباس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے جو تیراکی کے لیے ہی بنائے گئے ہیں لیکن ان میں سارا بدن ڈھکا رہتا ہے۔

اور ہم متعلقہ حکام سے بھی عرض کریں گے کہ وہ یورپ میں مقیم مسلم اقلیات کے دینی جذبات کا خیال رکھیں اور اس بات میں مسلمانوں کی مدد کریں کہ وہ ان دونوں باتوں یعنی اپنے دین کے احکامات کو کماحقہ بجا لانے اور دیار غرب میں دوسروں کے ساتھ باہمی مشترک اقامت کے تقاضوں کو ایک توازن کے ساتھ بجا لانے میں کامیاب ہو سکیں۔ (فتویٰ کونسل یورپ)

زوال سے پہلے خطبہ جمعہ کا حکم

سوال: میں اپنے اسکول میں جمعہ کی نماز کا اہتمام کرتا ہوں، موسم سرما میں تو لنچ اوقات (سوا بارہ سے ایک بجے) تک جمعہ بآسانی ہو جاتا ہے لیکن موسم گرما میں ظہر کی اذان کا وقت لنچ کےبعد ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم نماز نہیں پڑھ پاتے، کیا یہ ہمارے لیے جائز ہو گا کہ ہم لنچ سے قبل خطبہ اور نماز جمعہ ادا کر لیں کیونکہ ظہر کا وقت ان دنوں سوا ایک کے قریب شروع ہوتا ہے : جس کے بعد ہماری کلاسز شروع ہو جاتی ہیں۔

جواب: بہتر تو یہی ہے کہ اگر آپ حضرات وقت پر جمعہ کی نماز ادا کریں اور اسکول کی انتظامیہ کو کلاسوں کے اوقات میں ردوبدل کرنے پر آمادہ کر سکیں، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو امام احمد﷫ کی رائے کے مطابق جمعہ کا خطبہ اور نماز زوال سے قبل بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ بطور دلیل انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن سیدان السلمی کی یہ روایت پیش کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو بکر کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی ہے، ان کا خطبہ اور نماز نصف النہار سے قبل ہو جایا کرتی تھی، پھر میں نے سیدنا عمر کے ساتھ پڑھی ہے اور ان کا خطبہ اور نماز نصف النہار تک ہو جایا کرتی تھی، پھر سیدنا عثمان کے ساتھ پڑھی ہے جو کہ زوال کے بعد ہوتا تھا اور میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے اسے معیوب جانا ہو یا اس پر نکیر کی ہو۔ (بروایت امام احمد اور الدار قطنی)

اور اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود، سیدنا جابر، سیدنا سعید اور سیدنا معاویہ سے بھی کی گئی ہے کہ انہوں نے جمعہ کی نماز زوال سے قبل پڑھی تھی۔ (بحوالہ نیل الاوطار: 3؍259)

یوں کہا جا سکتا ہے کہ زوال سے قبل اس کی ادائیگی ایک رخصت کے طور پر ہے اور زوال کے بعد تو وہ واجب ہے لیکن زوال کے بعد افضل ہے جیسا کہ سیدنا سلمہ بن اکوع کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ جمعہ زوال شمس کے بعد ادا کیا کرتے تھے اور پھر ہم سائے کے پیچھے پیچھے آتے تھے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

زوال سے پہلے اس لیے بھی جائز ہے کہ جمعہ کا دن یوم عید ہے اور اسے عیدین کے وقت میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر صہیب حسن)

تبصرہ کریں