سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

غیر شرعی بچے کی نسبت باپ کی طرف کی جاسکتی ہے ؟

سوال : میرے ماں باپ بغیر نکاح کے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے، یعنی میں ان کی غیر شرعی اولاد ہوں۔ وہ دونوں لا دین میں، 20 سال قبل بھی یہ ایک مقبول طرز حیات رہا ہے۔ پاپا اسپین سے اور ماں جرمن ہے ، میرے باپ نے مجھے سگی اولاد کی طرح پالا ہے اور ہرلحاظ سے میرا خیال رکھا۔ ۔ اب میں شادی کے بعد اپنے شوہر کے وطن اردن آگئی ہوں، جہاں میرا واحد محرم میرا سسر ہے (عمر تقریبا 60 سال ) یعنی شوہر اور سسر کے علاوہ اور میرا کوئی محرم نہیں ہے اور خدا نخواستہ اگر انہیں کچھ ہو جاتا ہے تو میرے پاس کوئی جگہ نہیں جہاں میں جاسکوں ۔ نہ میری ماں کی جانب سے میرا کوئی محرم ہے ۔ اب اگر ایسی صور تحال ہو تو کیا میں اپنے باپ کی طرف نسبت کر سکتی ہوں ۔ کیا اس کا خاندانی نام لگا سکتی ہوں۔ جب میں ایک سال کی تھی ، اسوقت سے میرے ماں باپ کے درمیان جدائی ہو چکی تھی، ان دونوں میں تو کوئی تعلق نہیں رہا لیکن میرا رابطہ دونوں سے ہے۔ اگر والد کی طرف نسبت نا جائز ہو تو کیا میں اس سے ملاقات کے لئے جا سکتی ہوں یا اس کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر سکتی ہوں ؟

جواب:جو بچہ غیر شرعی طور پر پیدا ہوا ہو، تو آیا وہ اپنے خلقی والد (کے کہ جس کے مادہ منویہ سے وہ پیدا ہوا ہے) کی طرف نسبت کر سکتا ہے تو اس میں دو آراء پائی جاتی ہیں :

جمہور کے نزدیک صحت نسب کے لئے شرعی نکاح کا ہونا ضروری ہے اور جس کی دلیل ہے نبی کریم ﷺ کا یہ قول ہے کہ

الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ

بچے کی نسبت اس شخص کی طرف کی جائے گی جس کے بستر پروہ پیدا ہوا ہے اور زانی کے لئے صرف پتھر ہے۔ (یعنی اگر ایک شادی شدہ آدمی کی بیوی نے زنا کیا تو بچے کی نسبت اس عورت کے شوہر کی طرف کی جائے گی اور زانی مرد کو زنا کی سزا دی جائے گی)

اور دوسر ی رائے یہ ہے کہ صحت نسب کے لئے شرعی نکاح کا ہونا لازم نہیں ہے ، اس رائے کے قائل حسن بصری، ابن سیرین، عروہ بن زبیر اسحاق بن راہویہ اور سلیمان بن یسار﷭۔

ابن تیمیہ﷫ کے نزدیک صحت نسب لئے ضروری ہے کہ خلقی باپ خود اس بچے کی نسبت اپنی طرف کرے ۔ (جسے عربی میں استلحاق کہا جاتا ہے ۔) یعنی ایک زانی اپنے بچے کی نسبت اپنی طرف کرسکتا ہے بشرطیکہ کوئی دوسرا شخص اس کے باپ ہونے کا دعوی نہ کر رہا ہو۔

مذکورہ صورت میں خلقی باپ کا اپنی بچی کا خیال رکھنا ، ولادت سے لے کر شادی تک اس کی ضروریات کو پورا کرنا ، اس بات کی نشانی ہے کہ اُسے استلحاق کا پوراحق حاصل ہے ، وہ اُسے اپنا خاندانی نام دے سکتا ہے، اور بطور محرم بھی اس کے ساتھ خلوت میں بات چیت کر سکتی ہے۔

جہاں تک ماں کی طرف انتساب کرنا ہے تو اسمیں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ نص قرآنی ہے:

﴿إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ﴾ ( سورة المجادلہ: 2) سے معلوم ہوتا ہے کہ مائیں تو وہی ہیں کہ جنہوں نے ان کی (یعنی بچوں ) کی ولادت کی ہے ۔ اس لئے نہ صرف ماں کی طرف انتساب جائز ہے بلکہ ماں اور بچے میں وراثت بھی جاری ہوگی۔ البتہ خلقی باپ سے وراثت پانے میں اختلاف ہے۔ اور یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ بچہ اپنے خلقی باپ کا وارث نہ ہوگا۔

یہاں ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ مغرب میں معاشرتی آداب کافی مختلف ہو چکے ہیں ، جنین کے تعلقات کی نوعیت بھی بدل چکی ہے ۔ بعض تعلقات کو بالکل ہنگا می نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جن کے کوئی اثرات واقع نہیں ہوتے ، بعض تعلقات با ہمی مشارکت کی نوعیت کے ہوتے ہیں کہ دونوں سالہا سال ں اکٹھے رہتے ہیں لیکن عقد نکاح کے بغیر اور بعض اوقات کافی مدت کے بعد وہ دونوں شادی بھی کر لیتے ہیں اور عرف عام کے مطابق وہ میاں بیوی ہی سمجھے جاتے ہیں اور اس پہلو کو دیکھتے ہوئے اتنی رعایت دی جاسکتی ہے کہ بچے اپنی نسبت اپنے خلقی باپ کی طرف کر سکیں ۔ واللہ اعلم

کیا حمل کا اسقاط کرانا جائز ہے؟

سوال:مجھے ایک بہت ہی نا درقسم کا کینسر لاحق ہے جسے MEN2A کہا جاتا ہے، یہ گردن میں ایک ٹیومر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ۔ ہم دونوں میاں بیوی چاہتے ہیں کہ اولاد ہو لیکن یہ جینیاتی مرض اولاد میں منتقل نہ ہو ۔ اس کی ایک شکل تو یہ ہے کہ بیوی نارمل طور پر حاملہ ہو اور پھر جب جنین گیارہ سے پندرہ ہفتے کا ہو جائے تو مذکورہ مرض کے بارے میں جاننے کے لئے جنین کا اسکین کرایا جائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ وہ اس مرض کے اثرات سے خالی ہے یا نہیں ؟ اگر اسکین مثبت ہو تو اسقاط کا آپشن موجود ہے ۔ میں نے یہ پڑھا ہے کہ 120 دن کے بعد اسقاط کرانا جائز نہیں لیکن اس صورتحال میں یہ ممنوعہ مدت سے قبل کرایا جا سکتا ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا ؟

جواب: اصل تو یہی ہے کہ اسقاط کرانا سرے سے ناجائز ہے لیکن جنین کی عمر کے اعتبار سے اسقاط کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔

1۔ اگر جنین کی عمر چالیس دن کے اندر اندر ہو تو بعض فقہاء ( مالکیہ اور بعض شوافع) کے نزدیک اس مدت میں بھی اسقاط کرانا حرام ہے اور بعض کے نزدیک ( احناف اور بعض مالکیہ) اُسے مکروہ قرار دیتے ہیں ۔ احناف کے نزدیک شدید حاجت یا عذر کی بنا پر اسقاط جائز ہے لیکن میاں بیوی کی رضامندی کے ساتھ ، یعنی نہ ہی عورت شوہر کے علم میں لائے بغیر اسقاط کروائے اور نہ ہی شوہر بیوی کو اس پر مجبور کرے۔ مالکیہ میں سے فقیہ اللخمی جواز کے قائل ہیں اگر حمل زنا کی بناپر ہو۔

2۔ جنین کی عمر چالیس دن سے لیکر ایک سو بیس دن کے مابین ہو تو اسقاط کرانا حرام ہے الا یہ کہ کوئی قابل اعتبار ضرورت کی بنا پر ہو اور یا اتنی شدید حالت ہو جسے ضرورت کے قریب قریب سمجھا جاسکے، جیسے اگر اسقاط نہ کرایا جائے تو ماں کو شدید تکلیف ہو سکتی ہے یا بےحد نقصان پہنچ سکتا ہو یا اس بات کا خدشہ ہو کہ بچہ تو پیدا ہو جائے گا لیکن بہت ہی بگڑی ہوئی شکل کا ہوگا اور ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ ہو کہ جوں جوں جنین کی عمر بڑھتی چلی جائے گی ، بچے کے بگڑنے اور ناقص الخلقت پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔

3۔ جنین کی عمر 120 دن سے زیادہ کی ہو ، تو اسی صورت میں اسقاط بالکل ناجائز ہے الا یہ کہ ایک معتمد طبی کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرے کہ بچے کے باقی رہنے سے ماں کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی تو ایسی صورت میں اسقاط کرا یا جا سکتا ہے اور وہ اس لئے کہ بقول فقہاء کہ حقیقی زندگی کو مستعار زندگی کے مقابلے میں باقی رکھنا زیادہ ضروری ہےاور اس تفصیل کے مطابق مذکورہ سوال کے جواب میں کہا جائے گا کہ عورت 120 دن سے پہلے پہلے اسقاط کرا سکتی ہے ، بشرطیکہ ڈاکٹر اس بات پر اتفاق کریں کہ جنین مذکورہ عوارض کے ساتھ پیدا ہوگا۔

سوال : آنکھ کے نیچے حلقہ کو بھرنا (EYE FILLER ) آنکھ بھرائی سے مراد ہے آنکھ کے نچلے حصے کو چربی سے ایسے بھرنا کہ اس کی بدنمائی پر پردہ ڈالا جا سکے اور چہرے کا یہ حصہ تروتازہ اور بھر ابھرا نظر آئے ، علاج کے لئے مختلف طریقے اپنائے گئے ہیں،ان میں سے ایک طریقہ نو سے بارہ مہینے تک کے لئے کام کرتا ہے اور اُسے(TEAR THROUGH FILLER) کا نام دیا گیا ہے اور اس کا عمل ہونٹ بھرائی سے زیادہ دیرپا ہوتا ہے کیونکہ آنکھ کے نیچے کم حرکت ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھرا ہوا‎ حصّہ عموماً چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اس علاج کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے۔

جواب : چہرہ خوشنما نظر آئے ، یہ ایک فطرتی خواہش ہوتی ہے، اس لئے بدنمائی کو چھپانے کے لئے آنکھ بھرائی کا یہ عمل جائز ہے بشرطیکہ علاج میں استعمال ہونے والا مواد حلال ہو، اس میں حرام کی کوئی آمیزیشن نہ ہو۔

شراب کی ترسیل

سوال : میں اميزون ( Amazon ) کمپنی کے ساتھ اشیاء کو صارفین تک پہنچانے کے لئے شراکت کا معاہدہ کرنا چاہتا ہوں اور ان اشیاء میں شراب اور الکحل سے بنی مصنوعات کا پہنچانا بھی شامل ہے تو کیا یہ عمل میرے لئے جائز ہوگا ؟

جواب:قرآن میں صراحت کے ساتھ خمر (شراب) سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور احادیث میں واضح طور پر اس کی حرمت بیان کی گئی ہے لیکن مذکورہ صورت میں اصل عقد ( معاہدہ ) اشیاء کی ترسیل کا ہے اور ان اشیاء میں شراب کی ترسیل ضمنی طور پر آتی ہے اور فقہی قواعد کے مطابق ایک ضمنی عقد میں وہ رعایت دی جا سکتی ہے جو اصل عقد میں نا جائز ہے اور ایسے ہی جان بوجھ کر وہ رعایت نہیں دی جاسکتی جو ضمنی طور پر دی جا سکتی ہے اور اس لحاظ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصل عقد تو حلال اشیاء کی ترسیل پر ہی ہے جس میں ضمناً شراب بھی آجاتی ہے تو اسے گوارا کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر صرف شراب ہی کی ترسیل ہو تو یہ نا جائز ہوگا کیونکہ حدیث میں شراب کو اٹھا کر لے جانے والے کے لئے بھی لعنت کی گئی ہے۔واللہ اعلم

نکاح کے انعقاد میں ولی کاہونا

سوال: میری نشو و نما سعودی عرب میں ہوئی ہے اور میں ایک لڑکی کے لئے بوقت نکاح اس کے ولی یعنی باپ کی اجازت کا قائل ہوں ۔ جس لڑکی سے میری شادی ہوئی ہے ، اس کا تعلق مذہب احناف سے ہے ، اس کے ماں باپ مدت دراز سے علیحدہ ہو چکے ہیں لیکن والد نے اپنی اس خواہش کا اظہار کر رکھا تھا کہ جب بھی اس کی بیٹی کی شادی ہو اُسے بلایا جائے تاکہ نکاح کے وقت وہ موجود رہے لیکن لڑکی والوں نے اسے لا علم رکھا۔ نکاح کے وقت لڑکی کے سوتیلے بھائی اور ماموں کو بطور ولی نامزد کیا گیا ، اب باپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس رشتے کو تو منظور کرتا ہے لیکن اس کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیا جائے کیونکہ اسے حق ولایت حاصل ہے،میرا سوال یہ ہے کہ آیا یہ نکاح جائز ہوگا یا نہیں ؟

جواب: اس مسئلہ میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ولی اقرب ( قریب ترین ولی) کی موجودگی میں ولی اَبعد (دور کا ولی) لڑکی کا نکاح کرا سکتا ہے یا نہیں ؟

مذکور صورت میں خود مذہب احناف کے مطابق اگر ولی نکاح پر رضا مند نہیں تھا تو وہ دو اسباب کی بنا پر نکاح فسخ کرا سکتا ہے :

ایک تو یہ کہ لڑکی نے غیر کفوء ( ایسا شخص جو سماجی لحاظ سے اس کے برابر نہ ہو) سے شادی کی ہو یا اتنے کم مہر پر راضی ہو گئی ہو جو اس کے خاندان کے معیار سے پست شمار ہوتا ہو، لیکن مذکورہ صورت میں یہ بات واضح ہے کہ باپ اس رشتے کو منظور کرتا ہے لیکن اپنی موجودگی میں دوبارہ نکاح کروانے کا خواہشمند ہے ۔ گویا اس کی رضامندی حاصل ہے، اس لئے یہ کہا جائے گا کہ ایسی صورت میں ولی ابعد (سوتیلا بھائی) کی رضامندی سے ہونے والا نکاح جائز تھا اس لئے دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ واللہ اعلم

(یہ فتاوی، فتویٰ کمیٹی برطانیہ کے اجلاس منعقدہ 2 جون 2024ء میں بحث و تمحیص کے بعد منظور کئے گئے ۔)

تبصرہ کریں