سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا حکم (2)

موجودہ جمہوریہ ترکی کی مجلس اعلیٰ برائے دینی امور کے فتاویٰ کی جلد شائع ہوئی ہے۔ جس میں مذہب احناف کے مطابق نماز جنازہ ادا کرنے کی کیفیت یوں بیان کی گئی ہے:

’’نماز جنازہ بغیر رکوع کے ہے اور اس کے دو رکن ہیں: قیام اور تکبیرات

تکبیرات افتتاح کے بعد اس میں چار تکبیرات ہیں اور سلام پھیرناواجب ہے۔ اور اس کی سنتیں ہیں: حمد وثناء اللہ تعالیٰ کے لیے اور نبی کریمﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھنا اور میت کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے دعا کرنا۔ نماز میں تمام جماعت قبلہ رخ کھڑے ہوں، امام کے پیچھے صف باندھیں اور پھر دعا استفتاح (سبحانك اللهم وبحمدك …)پڑھیں اور اس کے آخر میں اضافہ کریں: و جلّ ثناؤك

اور پھیر بغیر ہاتھ اٹھائے دوبارہ تکبیر کہیں اور یہ دعا پڑھیں:

اللهم صل على محمد ….وبارك …اور پھر بغیر رفع یدین کے تیسری تکبیر کہیں اور جو جنازہ کی دعا جانتا ہو تو وہ دعا پڑھے اور جو نہ جانتا ہو تو دعاء کی نیت سے فاتحہ پڑھےیا کوئی اور دعا پڑھے، پھر چوتھی تکبیر کہیں اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیریں اور اس عمل سے نماز پوری ہو جاتی ہے۔‘‘

(حاشیہ پر صحیح مسلم کا ایک اور سنن ترمذی کے چار حوالے ہیں۔) (الفتاویٰ: ص 221)

شیخ وہبہ الزحیلی نے اپنی کتاب ’الفقہ الاسلامی و ادلتہ‘ میں حنفی ، مالکی اور شافعی مذہب کو یوں بیان کیا ہے:

مالکی مذہب: نماز جنازہ میں فاتحہ کی قراءت نہیں ہے لیکن وَرَع کا تقاضا ہے کہ اختلاف کا لحاظ رکھا جائے۔

اور احناف کے نزدیک فاتحہ کی قراءت، تلاوت کی نیت کے ساتھ ہو تو مکروہ تحریمی ہے لیکن دعا کی نیت کے ساتھ جائز ہے۔

مالکیہ کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اور دوسروں کے نزدیک وہ رکن ہے۔ شوافع کے نزدیک دعائے استفتاح (یعنی ثناء) نہ پڑھے کیونکہ یہ نماز تخفیف پر مبنی ہے اور اسی لیے اس میں فاتحہ کے بعد سورت نہیں رکھی گئی ہے۔ (الفقہ الاسلامی و ادلتہ: 2/ 1519۔1523)

مذہب احناف کے بارے میں تفصیلی نقول کا بیان ہو گیا۔ معاملہ چونکہ نماز کے صحیح یا فاسد ہونے کا ہے، یعنی ایک رائے (جیسے شوافع، حنابلہ، اہل الحدیث) کے مطابق نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا لازمی ہے اور یہی طریقہ رسول (یعنی سنت) رہا ہے اور دوسری رائے کے مطابق سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی، صرف حمدوثنا پر اکتفا کیا جائے گا، لیکن اگر فاتحہ دعا کی نیت سے پڑھ بھی لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (احناف اور مالکیہ)

یہاں تک تو بات دائرہ استدلال تک محدود تھی، لیکن پھر جب یہ کہا گیا کہ اگر فاتحہ تلاوت کی نیت سے پڑھی گئی تو مکروہ ہو گئی۔ مالکیہ نے مکروہ تنزیہی کہا لیکن بعض علماء احناف کی تصریح کے مطابق وہ مکروہ تحریمی قرار دے دی گئی، تو یہ بات یقیناً محل نظر ہے۔

بالکل واضح ہے کہ اس مسئلہ میں صحابہ اور تابعین اور پھر ائمہ عظام میں دو رائیں رہی ہیں، پہلی رائے یعنی نماز جنازہ میں فاتحہ پڑھی جائے کے قائلین میں سے مندرجہ ذیل ہستیاں ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا ابو امامہ، سیدنا ام شریک الانصاریہ، سیدنا فضالہ مولی عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو الدرداء، سیدنا انس بن مالک﷭، سیدنا المسور بن مخرمہ، سیدنا الضحاک، سیدنا خبیب بن مسلمہ، سیدنا الحسن بن علی، سیدنا عبد اللہ بن الزبیر، سیدنا حسن بصری، سیدنا سعید بن المسیب، سیدنا مکحول، سیدنا مجاہد، سیدنا محمد بن شہاب الزہری اور ائمہ میں سے امام شافعی، امام احمد، اور امام اسحاق بن راہویہ﷭۔

اور دوسری رائے یعنی نماز جنازہ میں صرف ثناء پڑھی جائے کے حاملین میں سے ہیں:

سیدنا علی، سیدنا ابو ہریرہ (بروایت مؤطا امام مالک) سیدنا ابو بردہ، امام الشعبی، امام سفیان ثوری، امام محمد بن سیرین، امام ابو العالیہ، امام فضالہ بن عبید، امام عطاء، امام ابو الحسین، امام طاوؤس، امام بکر بن عبد اللہ، امام میمون، امام سالم، اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام ابو حنیفہ﷭

اب ہم سنت کے ذخیرہ میں سے قدیم ترین مآخذ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ائمہ کی اصلی آراء کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔

1۔ امام مالک﷫ (متوفیٰ 179ھ) نے مؤطا میں صرف سیدنا ابو ہریرہ کا اثر نقل کیا ہے کہ جس میں صرف دعا مغفرت (اللهم اغفر ليحنا وميتنا) کا ذکر ہے۔

اور پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر کے اس اثر کا ذکر ہے کہ وہ نماز جنازہ میں قراءت نہیں کرتے تھے۔ (مؤطا، اثر نمبر: 260)

البتہ مدونہ میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ سورۃ الفاتحہ پڑھنے پر ہمارا عمل نہیں ہے اور اس بنیاد پر متاخرین فقہاء مالکیہ نے سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا مکروہ تنزیہی قرار دیا ہے۔

2۔ امام محمد بن حسن الشیبانی (متوفیٰ 189ھ) نے کتاب الآثار میں ابراہیم النخعی کے تین آثار پیش کیے ہیں:

نمبر 234: جنازے میں کوئی قراءت نہیں، نہ رکوع، نہ سجود لیکن دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرے جب تکبیر سے فارغ ہو۔

امام محمد نے کہا: اور ہم اسی قول کو اختیار کرتے ہیں اور یہی قول امام ابو حنیفہ﷫کا۔

نمبر 235: میت پر نماز میں کوئی موقت شئے نہیں ہے۔ لیکن جب نماز شروع کرو تو اللہ کی حمد بیان کرو اور نبی کریمﷺ پر صلاۃ (درود) بھیجو اور پھر اپنے لیے اور میت کے لیے جو پسند ہو، وہ دعا کرو۔

نمبر236: پہلی تکبیر کے بعد اللہ کی ثنا، دوسری کے بعد نبیﷺ پر صلاۃ اور تیسری کے بعد میت کے لیے دعا اور چوتھی کے بعد سلام پھیرو۔

3۔ امام شافعی (متوفیٰ 204ھ) کتاب الام میں تحریر کرتے ہیں:

573۔ امام شافعی نے کہا: اور ہم کہتے ہیں کہ (امام) جنازے پر چار تکبیریں کہے، پہلی تکبیر کے بعد ام القرآن پڑھے، پھر نبیﷺ پر درود بھیجے اور پھر میت کے لیے دعا کرے۔

اور کچھ لوگوں نے کہا: جنازے کی نماز میں وہ نہ پڑھے۔

امام شافعی﷫ کہتے ہیں: جب ہم نماز جنازہ پڑھتے ہیں، ہم یہ جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی اس نماز کی ادائیگی میں کیا سنت تھی اور اسی لیے اگر ہمیں اس بارے میں کوئی سنت ملتی ہے تو ہم اس کی اتباع کرتے ہیں، دیکھیے! اگر کوئی یہ کہے کہ تم جتنی تکبیریں کہتے ہو، میں اس سے زائد کہوں گا کیونکہ وہ فرض تو نہیں ہیں، یا یہ کہے کہ میں سرے سے تکبیر نہیں کہوں گا اور صرف میت کے لیے دعا کروں گا، تو ہمارے پاس (اس کی بات رد کرنے کے لیے) سوائے اس کے اور کیا دلیل ہو گی کہ تم نے سنت کی مخالفت کی ہے اور اسی طرح جو کہے کہ اس (نماز میں) قراءت نہیں ہے تو پھر (یہی کہا جائے گا) کہ یہ شخص وہ ہے جسے اس بارے میں سنت کا علم نہ ہوا، اور پھر امام شافعی﷫ نے نمبر 574 سے لے کر 579 تک نماز جنازہ میں فاتحہ پڑھنے سے متعلق وہ احادیث اور آثار پیش کیے جو سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا طلحہ بن عبد اللہ بن عوف، سیدنا سعید بن ابی سعید المقبری، سیدنا ابو امام اور سیدنا الضحاک بن قیس سے مروی ہیں۔

اس کے بعد وہ کہتے ہیں:

’’لوگ اپنے امام کی اقتدا کرتے ہیں، وہی کچھ وہ کرتے ہیں جو وہ کرتا ہے اور سیدنا ابن عباس اور سیدنا الضحاک بن قیس صحابہ میں سے دو اشخاص ہیں اور جب وہ کہتے ہیں کہ یہ بات سنت ہے تو ان شاء اللہ وہ سنت رسول اللہﷺ ہی مراد لیتے ہیں۔

اور پھر نمبر 580 کے تحت وہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی روایت پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ (الام: ص 208)

امام شافعی﷫ کا مرکزی استدلال یہ ہے:

1۔ نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے پر اتنی روایات ہیں کہ اس کے مقابلے میں جن صحابہ یا تابعین کے بارے میں یہ وارد ہوا ہے کہ وہ نہیں پڑھتے تھے، تو ان کے بارے میں یہ حسن ظن رکھنا چاہتے کہ انہیں سنت رسول کا علم نہیں ہوا۔

2۔ یہ بھی ایک اصولی قاعدہ ہے کہ المثبت مقدم على النافي

کہ جو شخص کسی بات کا اثبات کر رہا ہے تو اس کی بات کو نفی کرنے والے پر فوقیت دی جائے گی۔

3۔ عبادات کے بارے میں سنت کا جاننا ضروری ہے، اگر سنت سے کوئی بات معلوم ہو جائے تو پھر چوں چناں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

4۔ صحابی اگر یہ کہہ دے کہ یہ بات سنت ہے تو اسے سنت رسول ہی سمجھا جائے گا۔

4۔ امام طحاوی (متوفیٰ321ھ) کی معانی الآثار میں کتاب الجنائز سے متعلق گیارہ ابواب ہیں:

لیکن ان میں ایک باب بھی قراءت سے متعلق نہیں ہے۔

کل احادیث وآثار کی تعداد 221 کے لگ بھگ ہے۔

البتہ ’باب التكبير على الجنائز كم هو‘ (جنازے پر کتنی تکبیریں ہیں؟) میں نمبر 2868 کے تحت وہ سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف (جس کا ذکر تیسری دلیل کے طور پر آ چکا ہے) کی روایت درج کرتے ہیں لیکن اس میں فاتحۃ الکتاب پڑھنے کا ذکر ہے۔

پوری روایت ابن ابی داؤد، ابو الیمان، شعیب، الزہری کی سند کے ساتھ یوں ہے کہ مجھے ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے بتایا اور وہ انصار کے علماء اور برگزیدہ لوگوں میں سے تھے اور ان لوگوں کی اولاد میں سے تھے جنہوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا، آنحضورﷺ کے ساتھ، کہ مجھے اللہ کے رسول کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بتایا کہ

نماز جنازہ کی سنت میں سے ہے کہ امام تکبیر کہے اور پھر سری طور پر سورۃ الفاتحہ پڑھے اور پھر تین تکبیروں کے ساتھ نماز ختم کر دے۔ اور نمبر 2869 میں یہ اضافہ ہے:

الزہری کہتے ہیں کہ یہ بات جو ابو امام نے مجھے بتائی میں نے محمد بن سوید الفہری سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے الضحاک بن قیس کو یہ کہتے سنا ہےکہ انہوں نے ابو امامہ کی یہی بات حبیب بن مسلمہ سے روایت کی ہے۔‘‘

امام طحاوی﷫ کا یہ اثر لانا کہ

جس میں فاتحہ پڑھنے کا صراحۃً ذکر ہے وہ واحد حدیث ہے جو وہ جنازے سے متعلق تمام موضوعات کے ضمن میں لائے ہیں اور اس بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ متقدمین احناف کا اس بارے میں کیا مسلک تھا۔

5۔ امام ابوحنیفہ﷫ سے 15 مسانید منسوب ہیں لیکن ان کی تدوین بہت بعد میں کی گئی ، امام ابو حنیفہ﷫ کی 15 مسانید کے جامع ہیں۔

ابو المؤید الخوارزمی (متوفیٰ 566ھ) یا پھر الحصکفی (قاضی صدر الدین موسیٰ بن زکریا، متوفیٰ 650ھ) جنہوں نے مسند الامام الاعظم کے نام سے امام ابو حنیفہ﷫ کی احادیث کو جمع کیا ہے لیکن ان دونوں مسانید میں جہاں صلاۃ الجنازہ کاذکر ہے وہاں سیدنا ابو ہریرہ کی اس روایت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب نبی کریمﷺ کسی میت کی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے:

اللهم اغفر لحينا وميتنا … الخ

اور یا پھر امام صاحب کی سند کے ساتھ سیدنا ابن مسعود کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:

من السنة أن تحمل بجوانب السرير الأربع فما زدت على ذالك فهو نافلة

’’اور سنت میں سے ہے کہ تم (جنازے کی) چارپائی کو چاروں پایوں سے پکڑو، اور اگر اس سے زائد بھی پکڑا تو وہ نفل شمار ہو گا۔‘‘

(خورازمی: مخطوطہ کا ورق نمبر: 151) اور الحصکفی: ص 100)

مسند الامام الاعظم پر محمد حسن سنبلی کا حاشیہ ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ان کی سند میں عبید بن نطاس، ابو عبیدہ سے اور وہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں:

’’جو شخص جنازہ کے ساتھ آتا ہے تو اسے چارپائی کے چاروں کونوں کو پکڑنا چاہیے اور یہ بات سنت میں سے ہے۔‘‘

افسوس ہے کہ امام صاحب سے منسوب ان دونوں مصادر میں نمازجنازہ میں قراءت کی بابت اس سے زیادہ کچھ بیان نہیں کیا گیا ہے۔

6۔ مصنف ابو بکر بن ابی شیبہ (متوفیٰ 235ھ) تقریباً اکثر مسائل میں دونوں متضاد آراء سے متعلق آثار پیش کر دیتے ہیں۔

فاتحہ کے جواز سے متعلق انہوں نے 11 آثار پیش کیے ہیں جن میں کچھ کا تذکرہ پہلے آ چکا ہے اور مانعین کے اسماء کے ساتھ 12 آثار پیش کیے ہیں۔

7۔ امام احمد (ف 241ھ) اور پھر کتب ستہ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) اور الحاکم (متوفیٰ 405ھ) مؤلف المستدرک کے حوالہ جات کا بھی ذکر ہو چکا ہے۔

ہمارے خیال میں ان چار صدیوں کے مصادر کا ذکر کافی ہے اور ان احادیث وآثار کی روشنی میں یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ نماز جنازہ میں الفاتحہ کا پڑھنا سنت نبوی ہے اور جس پر اکثر صحابہ کا عمل رہا ہے۔

متاخرین حنفیہ نے اسے مکروہ تحریمی کہا جس پر ہم آخر میں مستقل کلام کریں گے لیکن یہاں مصر کے ایک مشہور ومعروف حنفی فقیہ شرنبلالی (ابو البرکات حسن بن عمار بن یوسف (متوفیٰ 1069ھ) کا ذکر کرتا چلوں جنہوں نے اس مسئلہ میں جمہور کا ساتھ دیا ہے اور نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ کے پڑھنے کے جواز میں 34 صفحات کا ایک رسالہ بعنوان ’ النظم المستطاب لحکم القراءۃ فی صلاۃ الجنازۃ بام الکتاب‘ تالیف کیا ہے اور اس میں انہوں نے حنفیہ کے تمام اعتراضات، اشکالات اور دلائل کا تفصیلی جواب دیا ہے۔ ہم مناسب سمجھیں گے کہ ان کے دلائل کو یہاں بالاختصار بیان کرتے چلیں۔

صاحب کتاب نے جن اعتراضات کا جواب رقم کیا ہے، انہیں ان 10 نقاط میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ نماز جنازہ سجدہ تلاوت کی مانند ہے۔

2۔ ابن مسعود کے قول کا کیا مطلب ہے؟

3۔ ابن عوف اور ابن عمر کے قراءت نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟

4۔ سیدنا جابر کی حدیث کی تاویل کرنا کہاں تک درست ہے؟

5۔ قول: نماز جنازہ صرف دعا اور استغفار ہے، کہاں تک درست ہے؟

6۔ صحابی کا کہنا کہ ’ یہ بات سنت ہے‘ کا کیا مطلب ہے؟

7۔ صاحب ’الکافی‘ کا یہ قول کہ یہ ایک لحاظ سے تو نماز ہی ہے۔

8۔ صاحب ’النتف‘ کا یہ قول ہےکہ یہ حقیقی اعتبار سے نماز ہے۔

9۔ الصاغانی کا قیاس سے استدلال کرنا کہاں تک درست ہے۔

10۔ امام مالک کا قول بابت عمل اہل مدینہ۔

(اگلی قسط میں ان 10 نقاط کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔)

(جاری ہے)

٭٭٭

تبصرہ کریں