سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم

نومبر کے اواخر میں مفتی پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی کا انتقال ہوا، ان کے برادرخورد مفتی تقی عثمانی نے ان کی نماز پڑھائی۔ گو انہوں نے سری طور پر نماز پڑھائی لیکن مائیک نے ان کی پست آواز کی قراءت بھی قابل سماعت بنا دی۔ انہوں نے پہلی تکبیر کے بعد سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی تھی اور چونکہ حنفی مذہب کے مطابق صرف ثناء پڑھی جاتی ہے، اس لیے یہ بات ان کے مقتدیوں کے لیے اچنبھے کا باعث بنی۔ انہیں وضاحت دینی پڑی کہ حدیث سیدنا ابن عباس کی روشنی میں ان کار جحان سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا ہے۔ دیوبندی علماء نے اسے موضوع بحث بنایا۔

میں نے 2 علماء کے یوٹیوب پر مفصل بیانات سنے ہیں، ایک مولانا محمد الیاس گھمن تھےاور دوسرے پاکستان سے باہر ایک چینل پر مفتی منیر احمد اخون۔

انہوں نے اپنے مسلک کی ترجمانی یوں کی کہ پہلی تکبیر کے بعد صرف ثناء پڑھی جائے گی اور کوئی قراءت نہ ہو گی، دوسری تکبیر کے بعد درود اور تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے مسنون دعائیں اور چوتھی تکبیر کے بعد دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا لیکن اگر کوئی شخص سورۃ الفاتحہ بطور قراءت نہیں بلکہ بطور دعا پڑھ لے تو مذہب میں اس کی گنجائش ہے، یہ بھی کہا کہ الفاتحہ کو بطور قراءت پڑھنا مکروہ کہلائے گا، لیکن پھر یہ کہنا کہ ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہو گا، حدیث سیدنا ابن عباس کے ہوتے ہوئے ایک بہت بڑی جسارت ہے۔ ایسی جسارت جس کی توقع ایک دیوبندی عالم سے نہیں کی جا سکتی۔ کیا کہیں گے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کے بارے میں جنہوں نے حجۃ اللہ البالغہ میں صاف صاف لکھا ہے کہ ’’نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا سنت ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ:2؍36)

اور ان کی اسی جسارت نے مجھے اس تحریر کے لکھنے پر آمادہ کیا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس مسئلہ میں امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ ﷭ اور عام اہل حدیث کا اختیار کردہ مسلک ہی راجح ہے اور احناف کے جن جید علماء نے اس مسلک کو اختیار کیا ہے، انہوں نے امام ابو حنیفہ﷫ ہی کی رائے پر عمل کیا ہے کہ اگر کوئی بات سنت سے ثابت ہو جائے تو اسی پر عمل کیا جائے اور ان کے قول کو چھوڑ دیا جائے۔ (حاشیہ ابن عابدین: 1؍63)

ہمارے نزدیک راجح مسلک کے دلائل یہ ہیں:

1۔ امام بخاری﷫ نے باب کا عنوان دیا ہے:

“باب قراءة الفاتحة الكتاب على الجنازة” اور پھر تحریر کیا:

اور الحسن (یعنی حسن بصری ﷫) نے کہا: بچے پر فاتحۃ الکتاب پڑھے اور کہے: اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سَلَفاً وَفَرَطَاً وَأَجْراً

اور پھر یہ حدیث (نمبر 1335) درج کی:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ

’’امام بخاری﷫ نے اپنی سند طلحہ بن عبد اللہ بن عوف تک بیان کر نے کے بعد کہتے ہیں کہ طلحہ نے کہا: میں نے عبد اللہ بن عباس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو انہوں نے الفاتحہ کی تلاوت کی، اور پھر کہا: تاکہ تم لوگ جان لو کہ یہ سنت ہے۔‘‘

1۔ اسی واقعہ کو امام ابن خزیمہ﷫ اور امام نسائی﷫ نے یوں نقل کیا ہے (اور یہ روایت شعبہ کے طرق سے آئی ہے)

’’میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اس بارےسوال کیا تو سیدنا ابن عباس نے کہا: ہاں! میرے بھتیجے! یہی حق اورسنت ہے۔‘‘

2۔ امام حاکم﷫ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا:

میں نے ان سے پوچھا: کیا قراءت ہو گی؟

انہوں نے کہا: ہاں۔ یہی حق اور سنت ہے۔

3۔ امام ترمذی﷫ نے عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے روایت کی اور یہ الفاظ کہے:

’’یہ سنت میں سے ہے یا سنت کے پورا ہونے سے ہے (من تمام السنہ)

4۔ امام نسائی﷫ نے ابراہیم بن سعد کے طریق سے یہ الفاظ درج کیے:

’’تم فاتحۃ الکتاب پڑھو گے اور ایک سورت بھی اور پھر انہوں نے بلند آواز سے قراءت کی اور ہمیں اپنی آواز سنائی، جب نماز ہو چکی تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے اور حق ہے۔

5۔ امام حاکم﷫ نے ابن عجلان کے طریق سے روایت کی کہ انہوں نے سعید بن ابی سعید کو یہ کہتے سنا کہ سیدنا ابن عباس نے ایک جنازہ کی نماز پڑھائی تو ’الحمد‘ کو بلند آواز پڑھا پھر کہا: میں نے اس لیے بلند آواز پڑھا تاکہ تم جان لو کہ یہ بات سنت ہے۔

6۔ امام ابن حجر﷫ لکھتے ہیں: اسی بات پر اجماع ہے کہ اگر صحابی کسی بات کو سنت کہے تو وہ حدیث مسند ہے یعنی وہ اللہ کے رسول کی سنت ہے۔

7۔ امام ترمذی﷫ نے ایک دوسری سند سے سیدنا ابن عباس کا یہ قول نقل کیا کہ نبی کریمﷺ نے جنازے پر فاتحۃ الکتاب پڑھی۔

اور پھر کہا: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس نے کہا تھا کہ یہ سنت ہے۔

8۔ امام حاکم﷫ نے شرحبیل بن سعد کے طریق سے روایت کی کہ سیدنا ابن عباس نے ’ابواء‘ کے مقام پر نماز جنازہ پڑھائی، پھر اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے الفاتحہ کی تلاوت کی، پھر نبی کریمﷺ پر درود پڑھا، پھر یہ دعا پڑھی: اَللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ….

اور آخر میں کہا: اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلاَ تَفْتِنَا بَعْدَهُ

انہوں نے تین تکبیریں کہیں اور پھر پلٹے اور کہا: اے لوگو! میں نے اس جنازہ پر بلند آواز سے نہیں پڑھا مگر تمہیں یہ بتانے کے لیے کہ یہ سنت ہے۔‘‘

امام حاکم﷫ہیں کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم نے شرحبیل سے روایت نہیں لی ہے۔ لیکن میں نے یہ روایت اس لیے بیان کی ہے کہ یہ روایت پہلی تمام روایتوں کی تائید کرتی ہے۔ شرحبیل کے ثقہ ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف واقع ہوا ہے۔

اس روایت سے اس مقام کا علم بھی ہوا کہ جہاں سیدنا ابن عباس نے نماز جنازہ پڑھائی اور یہ مقام ابواء ہے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان کہ جہاں نبی کریمﷺ کی والدہ مدفون ہیں اور سیدنا ابن عباس کا یہ کہنا کہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔

اس سے مراد دونوں باتیں ہو سکتی ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا سنت ہے یا یہ کہ سورۃ الفاتحہ تو ہر صورت پڑھی ہی جائے گی لیکن اسے بآواز بلند پڑھنا بھی سنت ہے۔

دوسری دلیل:

امام شافعی﷫ اپنی سند سے بروایت سیدنا جابر نقل کرتے ہیں:

كانَ رسولُ اللهِ ﷺ يُكَبِّرُ على جَنائزنا أربعًا، ويقرَأُ بفاتحةِ الكتابِ في التَّكبيرةِ الأولى (الحاکم: 1؍385؛ البہیقی: 4؍39)

’’اللہ کےر سولﷺ ہمارے جنازوں پر 4 تکبیرات کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر کے بعد فاتحۃ الکتاب پڑھا کرتے تھے۔‘‘

تیسری دلیل:

امام نسائی﷫ اپنی اسناد کے ساتھ ابو امامہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

السُّنَّةُ في الصَّلاةِ على الجِنازة أن يقرأَ في التكبيرةِ الأُولى بأمِّ القرآنِ مخافَتَةً، ثم يُكبِّرُ ثلاثًا، والتَّسليمُ عند الآخِرةِ (سنن نسائی: 1991)

’’نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد ام القرآن (یعنی سورۃ الفاتحہ کو آہستہ سے پڑھے اور اس کے بعد تین تکبیرات کہے اور آخری تکبیر کے بعد سلام پھیرے۔‘‘

امام شافعی﷫ نے اپنی سند سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (الام: ص 579)

چوتھی دلیل:

امام ابن ماجہ﷫ اپنی اسناد کے ساتھ ام شریک انصاریہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

«أَمَرَنَا رَسُولُ الله ﷺ أَنْ نَقْرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»(سنن ابن ماجہ: 1496)

’’اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جنازے میں فاتحۃ الکتاب پڑھیں۔‘‘

امام ابو بکر بن ابی شیبہ اپنی اسناد کے ساتھ امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ابو امامہ کو سنا کہ وہ سعید بن المسیب کو بتا رہے تھے کہ نماز جنازہ کی یہ سنت ہے کہ تم فاتحۃ الکتاب پڑھو پھر نبی کریمﷺ پر درود بھیجو پھر میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرو یہاں تک کہ نماز پوری ہو جائے اور صرف ایک ہی دفعہ قراءت کرو پھر سلام پھیر دو۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 11497)

پانچویں دلیل:

امام ابن ابی شیبہ اپنی اسناد عبید بن السباق تک لے جاتے ہیں اور ان کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن حنیف کو دیکھا کہ انہوں نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر پہلی تکبیر کے بعد ام القرآن (یعنی الفاتحہ) کی تلاوت کی پھر اپنی تکبیرات کے دوران دعائیں کرتے رہے اور پھر جب ایک تکبیر باقی رہ گئی تو نماز والا تشہد پڑھا پھر تکبیر کہی اور لوٹ گئے۔‘‘ (ابن ابی شیبہ: 11510۔ 11517)

چھٹی دلیل:

ابن ابی شیبہ اپنی اسناد کے ساتھ سیدنا عمر کے آزاد کردہ غلام فضالۃ کا قول نقل کرتے ہیں کہ جس نے سیدنا ابو بکر یا سیدنا عمر کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، اس نے فاتحۃ الکتاب کی تلاوت کی تھی۔ (ابن ابی شیبہ: 11521) امام بخاری﷫ نے اپنی تاریخ میں بھی یہ اثر نقل کیا ہے۔

ساتویں دلیل:

امام شافعی﷫ اپنی اسناد کے ساتھ عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد ام القرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے اور یہی بات ہمیں سیدنا ابو بکر صدیق کے بارے میں بھی پہنچی ہے اور ایسے ہی سہل بن حنیف اور دوسرے صحابہ نبی ﷺ سے بھی۔ (الام: ص 580)

آٹھویں دلیل:

امام ابن حزم﷫ لکھتے ہیں:

574 مسئلہ: پھر جب پہلی تکبیر کہے تو لازمی ہے کہ ام القرآن پڑھے اور پھر اللہ کے رسول ﷺ پر درود بھیجے، اگر مسلمانوں کے لیے دعا بھی کرے تو مستحسن ہے اور پھر باقی نماز میں میت کے لیے دعائیں کرے۔

اور جہاں تک ام القرآن کے پڑھنے کا سوال ہے تو وہ اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے اس نماز کو صلاۃ کہا ہے ، جب انہوں نے ایک صحابی کی میت کے بارے میں کہا:«صلوا على صاحبكم» اپنے ساتھی پر نماز پڑھو۔

اور نبی کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا:

«لا صلاة لمن لم يقرأ بأم القرآن» ’’اس کی نماز نہیں ہوتی جو ام القرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔‘‘

اور اس کے بعد ابن حزم نے طلحہ بن عبد اللہ بن عوف کی روایت بابت سیدنا ابن عباس نقل کی (جس کا ذکر دلیل اول میں آ چکا ہے۔)

اور پھر الضحاک بن قیس اور ابو امامہ کے اقوال ذکر کیے (تیسری دلیل میں ذکر کیا گیا) اور پھر سیدنا ابن مسعود کے بارے میں نقل کیا کہ وہ جنازے میں ام الکتاب کی قراءت کیا کرتے تھے۔ چند اور صحابہ جیسے سیدنا ابو ہریرہ، ابو درداء، انس بن مالک ، المسور بن مخرمہ کا ذکر کیا جو نماز جنازہ میں ام الکتاب پڑھا کرتے تھے اور پھر تابعین میں سے امام مجاہد، امام حسن بصری اور امام ابن ابن شہاب الزہری اور امام سعید بن المسیب﷭ کا بھی ذکر کیا جو اس سنت پر عامل تھے۔ (المحلیٰ: 5؍130)

اب آئیے ان لوگوں کے مذہب کی طرف جو نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں:

1۔ مسند الامام الاعظم بروایۃ القاضی صدر الدین موسیٰ بن زکریا الحصکفی (وفات 650ھ) میں قراءت کی بابت امام ابو حنیفہ﷫ کی صرف ایک روایت سیدنا ابو ہریرہ سے نقل کی گئی ہے جس میں کہا گیاکہ نبی کریمﷺ جب میت پر جنازہ کی نماز پڑھتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اللهم اغفر لحينا وميتنا …. الخ

شارح محمد حسن سنبلی نے حاشیہ پر لکھا کہ یہ روایت امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام نسائی، امام احمد، امام ابن حبان اور امام حاکم ﷭نے روایت کی ہے۔

2۔ السرخسی (ابو بکر محمد بن احمد ابی سہل (وفات 490ھ) نے مذہب احناف کو یوں بیان کیا ہے:

’’جنازے کی نماز میں قرآن مجید سے کچھ نہ پڑھے (پھر امام شافعی﷫ کے مذہب یعنی فاتحہ کے پڑھنے کا حوالہ دیا ہے)

اور ہمارے نزدیک اگر فاتحہ کو دعا یا ثناء کی حیثیت سے پڑھے تو مکروہ نہ ہو گا۔ امام شافعی ﷫نے حدیث «لا صلاةإلا بفاتحة الكتاب» سے استدلال کیا ہے اور اس قول سے بھی کہ “لاصلاة إلا بقراءة” کوئی نماز بغیر قراءت کے نہیں ہے اور چونکہ اس میں طہارت اور قبلہ رخ ہونے کی بھی شرط ہے ۔ اس لیے اس کا حکم نماز ہی کا ہے اور سیدنا جابر نے ایک دفعہ نماز جنازہ پڑھائی تو اس میں فاتحۃ الکتاب پڑھی اور بلند آواز سے قراءت کی اور کہا: میں نے بلند آواز سے اس لیے پڑھی کہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔

اور ہماری دلیل سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی یہ روایت ہے کہ ان سے نماز جنازہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا اس میں قراءت ہے تو انہوں نے کہا:

“لم يوقت لنا رسول الله قولا ولا قراءة”

’’اللہ کے رسولﷺ نے ہمارے لیے نہ اس میں کسی قول کا نہ قراءت کا وقت بتایا ہے۔‘‘

ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’ نہ دعا کا نہ قراءت کا، تو جب امام تکبیر کہے تو تکبیر کہو اور اچھے کلام میں سے جو چاہو اختیار کرو۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے کہ دعاؤں میں سے جو بہترین ہو اس کا انتخاب کرو۔

اور سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمر سے منقول ہے کہ اس میں قرآن سے کوئی بھی قراءت نہیں ہے۔

اور وہ اس لیے کہ یہ نماز دعا کے لیے مشروع کی گئی ہے اور دعا کا آغاز حمد وثنا اور نبی کریمﷺ پر درود سے ہوتا ہے نہ کہ قراءت سے۔

اور امام شافعی ﷫ کا یہ کہنا کہ ” لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب” و “لا صلاة إلا بقراءة” نماز جنازہ کو شامل نہیں ہے کیونکہ یہ نماز حقیقت میں نماز نہیں ہے، بلکہ یہ تو میت کےلیے دعا اور استغفار کرنا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس میں رکوع اور سجود جیسے رکن نہیں ہیں کہ جن سے نماز بنتی ہے۔ اسے نماز اس لیے کہا گیا کیونکہ اس میں دعا پائی جاتی ہے۔

اور جہاں تک اس میں طہارت کا ہونا اور قبلہ رخ ہونا بتایا گیا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حقیقی طور پر نمازہے جیسے کہ سجدہ تلاوت۔اس پر صلاۃ کا حکم نہیں لگایا جائے گا کیونکہ وہ مطلق صلاۃ نہیں ہے۔ (المبسوط)

امام الکاسانی﷫ نے اپنی کتاب ’بدائع الصنائع‘ میں یہ پوری عبارت نقل کرنے کے بعد یہ اضافہ کیا ہے۔

اور سیدنا ابن عباس والی حدیث کے مقابلے میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عوف کی احادیث ہیں، اور سیدنا جابر کی حدیث کی تایل یہ کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے فاتحہ کو قرآن کی حیثیت سے نہیں بلکہ ثناء کی حیثیت سے پڑھا ہو گا ور یہ بات ہمارے نزدیک بھی مکروہ نہیں ہے۔

اور ہر تکبیر کے بعد وہ جو کچھ پڑھے بلند آواز سے نہ پڑھے کیونکہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ سنت اس میں پست آواز سے پڑھنا ہے۔ (بدائع الصنائع: 1؍313۔314)

فتاویٰ تاتار خانیہ میں یہ زائد الفاظ ہیں:

’’حسن بن زیادہ نے امام ابوحنیفہ﷫ کا قول نقل کیا ہے کہ اگر ثناء کے بدلے وہ سورۃ الفاتحہ پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

اور فتاویٰ سمرقندیہ میں یوں لکھا ہے:

’’جس نے جنازہ میں دعا کی نیت سے فاتحہ پڑھی تو کوئی حرج نہیں اور اگر قراءت کی نیت سے پڑھی تو اس کا پڑھنا جائز نہیں کیونکہ نماز جنازہ صرف دعا کے لیے ہے، قراءت کے لیے نہیں۔‘‘ (فتاویٰ تاتار خانیہ: ص 119) (جاری ہے)

٭٭٭

تبصرہ کریں