سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مالی جرمانے کا حکم

سوال: میں نے ایک پارٹی سے کاروبار کے لیے ایک دکان تعمیر کروانے کا معاہدہ کیا ہے، میں ماہوار ادائیگی کا پابند ہوں، مجھے معاہدہ کی تفصیلات کی اس شق کا بعد میں علم ہوا کہ اگر میں کوئی قسط بروقت نہ دے پایا تو مجھے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اب میں کچھ رقم بطور ایڈوانس دے چکا ہوں تو کیا میں اس معاہدے کو منسوخ کر دوں؟ اور ایسی صورت میں مجھے اپنی دی گئی رقم سے محروم ہونا پڑے گا اور کیا یہ معاہدہ سودی معاملہ اعتبار ہو گا؟

جواب: یہ بات درست ہے کہ اگر آپ قسط بروقت ادا نہ کر سکے تو آپ کو جو جرمانہ ادا کرنا ہو گا وہ سود کے زمرے میں آئے گا اور اس لیے اس قسم کی شرط کا معاہدے میں رکھنا صحیح نہیں ہے۔ اس قسم کی شرط کسی غیر مالی معاہدے میں رکھی جا سکتی ہے جیسے یہ کنٹریکٹر کے بارے میں یہ شرط رکھنا کہ اگر اس نے وقت پر بلڈنگ تیار نہ کی تو اس پر ایک خاص رقم کو بطور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

اسلامک بنکنگ نے اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے، وہ اس لیے کہ اگر ایک پارٹی وقت پر قسط کی ادائیگی نہیں کرتی تو کنٹریکٹر کو نقصان ہو سکتا ہے اور اس لحاظ سے خریدار پر قسط نہ ادا کرنے کی صورت میں کسی بھی قسم کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور سود سے بچنے کے لیے اس کا یہ حل تجویز کیا گیا ہے کہ وہ جرمانہ تو ادا کرے گا لیکن جرمانے کی رقم کنٹریکٹر کے اپنے فائدے کے لیے نہیں ہو گی بلکہ وہ اسے کسی رفاہی کام کرنے والی تنظیم کو دینے کا پابند ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کنٹریکٹر اس رفاہی ادارے کے نام سے علیحدہ اکاؤنٹ کھولنے کا پابند ہو گا کہ جس میں جرمانے کی رقم ادا کی جائے گی۔

سائل نے چونکہ پہلے ہی سے ایک ایڈوانس رقم جمع کروا دی ہے اور کنٹریکٹر بھی مسلمان ہے تو ہم اس کے سامنے دو تجاویز رکھتے ہیں:

1۔ وہ کنٹریکٹر کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ اس حل کو اپنائے جو اسلامک بنکنگ نے تجویز کیا ہے یعنی مارگیج سے متعلق معاملات میں بر وقت قسط نہ ادا کرنے پر جو جرمانہ عائد کیا جائے گا وہ کسی چیریٹی کو جائے گا، کنٹریکٹر کے اپنے مفاد کے لیے نہ ہو گا۔

2۔ چونکہ سائل پہلے ہی ایک رقم بطور ایڈوانس دے چکا ہے جو ناقابل واپسی ہے، اس لیے وہ اس معاہدے کو جاری رکھے لیکن اس نیت کے ساتھ کہ وہ ہر قسط بروقت ادا کرتارہے گا تاکہ جرمانہ دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس رائے کی بنیاد نظریہ ضرورت پر ہے، جیسے ویزا کارڈ کا استعمال کرنا کہ اس کے بغیر مفر نہیں ہے۔

اور وہ اس طرح کہ آج کل بعض جگہوں پر بغیر کارڈ کے ادائیگی نہیں ہو سکتی اور کارڈ میں یہ شرط شامل ہے کہ اگر کارڈ سے ادا کردہ رقم 28 دنوں تک ادا نہ ہوئی تو کارڈ کے حامل کو یہ رقم سود کے اضافے کے ساتھ ادا کرنی ہو گی۔

سائل اپنی لاعلمی کی بنا پر ایسے معاہدے کا پابند ہوچکا ہے جس میں ویزا کارڈ سے ملتی جلتی صورت کا سامنا ہے۔ اس لیے اس کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ واللہ اعلم

فال لینے کا حکم

سوال: دعوت وتبلیغ کے علاوہ میں زندگی کے اجتماعی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بھی مختلف کام کرتا رہتا ہوں، اس میں ایک پروگرام ازدواجی زندگی میں بہتری پیدا کرنا بھی ہے اور اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رجولت یعنی مردانگی کیا ہے؟

آج کل کے ماحول میں ہمارے اپنے نوجوان طبقہ کے نزدیک مرد وہ ہے جو خوب مال کماتا ہو، خوبصورت ماہ جبینوں کے ساتھ میل ملاپ رکھتا ہو، جسمانی لحاظ سے بھی توانا اور تندرست ہو، ہم نے اس غلط مفہوم کے سدباب کے لیے انسانی ذات کی نشوونما کا نظام ترتیب دیا ہے جس میں اسلامی خطوط پر رجولیت کے اوصاف نمایاں کیے گئے ہیں، اس میں ایک شخص کا مسجد سے تعلق، شریعت کا علم، مثالی شوہر کا کردار، محبت اور نفرت دونوں حالتوں میں ایک متوازن طرز حیات شامل ہیں اور اس کے علاوہ تجارت اور صحت کے اعتبار سے بھی بحث کی گئی ہے۔ ہم دراصل انبیاء﷩ کے بعد صحابہ کرام کو بہترین رجال کار کی حیثیت سے پیش کرنا چاہتے ہیں اور ہم نے اس پروگرام کے لیے عدد 313 کو عنوان بنایا ہے جس سے ہماری مراد غزوہ بدر کے صحابہ ہیں۔ ہم نے یہ عدد اپنے اس پروگرام کی تشہیر اور اسے قابل قبول بننے کے لیےبنایا ہے۔ ہمارا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم اس عدد سے تبرک حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اسے تقرب الی اللہ کا زینہ بنانا چاہتے ہیں تو اس بارے میں آپ کیا حکم صادر کریں گے؟

جواب: میرے نزدیک یہ ایک اچھوتا پروگرام ہے جس کی افادیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، قرآن مجید کی کئی آیات میں’رجال‘ کے لفظ کیساتھ ان خصوصیات کا بیان ہوا ہے جو ایک مسلمان مردوں کی سوسائٹی میں ہونی چاہئیں۔ مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:

سورۃ النساء کی آیت جس میں مرد کے بحیثیت قوام ہونے کی ذمہ داریوں کو بتایا گیا ہے، سورۃ التوبہ کی آیت 108 رجال کا تعلق ایسی مسجد سے جو تقویٰ وطہارت کی بنیاد پر بنائی گئی ہو۔

سورۃ النور کی آیت 37 اس میں بھی ان ’رجال ‘ کی مدح کی گئ ہے جو مسجد سے تعلق رکھتے ہیں، سورۃ الاحزاب کی آیت 23 وہ رجال جنہوں نے ساری زندگی اللہ کے ساتھ کیے گئے عہدوپیمان کی پاسداری میں گزاری ہے۔

سورۃ الفتح کی آیت 25 جس میں مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی شہر مکہ میں موجودگی کی بنا پر کفار قریش پر چڑھائی کرنے سے اجتناب کیا گیا۔

سیدنا عمر بھی اپنے دور خلافت میں کہا کرتے تھے کہ “أين الرجال؟” (مرد کہاں ہیں؟) یعنی وہ رجال کار جو اپنی ہمت، عزیمت اور قوۃ ارادہ کی بنا پر بڑے بڑے کام سرانجام دے سکتے ہیں۔

اس پروگرام کے لیے 313 کے عدد کا بطور عنوان انتخاب کرنا اچھی فال لینے کے ضمن میں آتا ہے، نبی کریمﷺ کبھی کوئی اچھی بات سنتے یا اچھا نام آپ کے سامنے لیا جاتا تو اسے بابرکت سمجھتے اور اس کا اظہار بھی کرتے۔ آپ نے اچھا شگون لینے کو جائز قرار دیا اور بدشگونی سے منع فرمایا۔ اچھا شگون انسان کو ہمت اور بہادری عطا کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں بدشگونی انسانی کی ہمت کو پست کرتی ہے۔

ہم یہاں صرف ایک واقعہ پیش کریں گے جس کے راوی سیدنا بریدہ بن حصیب الاسلمی ہیں، وہ فرماتے ہیں:

’’اور جب نبیﷺمدینہ کے قریب پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات ابو عبد اللہ بریدہ بن حصیب الاسلمی سے ہوئی جو اپنی قوم کے ستر افراد کے ساتھ آئے تھے، نبیﷺ نے ان سے پوچھا: تم کون ہو؟ کہا: بریدہ، تو نبی کریمﷺ نے سیدنا ابو بکر سے کہا: «برد أمرنا وصلح»’’ہمارا کام ٹھنڈا ہو گا اور ٹھیک رہے گا۔‘‘

پھر پوچھا: کس قبیلے سے؟ کہا: قبیلہ اسلم سے۔

تو پھر ابو بکر سے کہا: “سلمنا” (ہم سلامتی کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

پھر پوچھا: کس کی اولاد میں سے ہو، کہا: بنی سہم سے،

تو ابوبکر سے کہا: «خرج سهمك يا أبا بكر» ’’تیرا حصہ نکل آیا ، اے ابوبکر۔‘‘

تو بریدہ نے نبی کریمﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟

کہا: میں ہوں محمد بن عبد اللہ، اللہ کا رسول!

تو بریدہ نے کہا: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله

اور یوں بریدہ بھی مسلمان ہو گئے اور جتنے لوگ ان کے ساتھ آئے تھے سب کے سب مسلمان ہو گئے، بریدہ نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ بنو سہم بغیر کسی دباؤ کے، اپنی مرضی سے اسلام لے آئے۔

جب صبح ہوئی تو بریدہ نے نبیﷺ سے فرمایا:

’’اے اللہ کے رسول! آپ جب مدینہ میں داخل ہوں تو آپ کے ساتھ ایک جھنڈا ہونا چاہیے! پھر خود ہی اپنا عمامہ کھولا، پھر اسے ایک نیزے میں باندھا اور پھر وہ آپ کے آگے آگے چلتے گئے یہاں تک کہ سب مدینہ میں داخل ہو گئے۔ (دلائل النبوہ، بیہقی)

اب ملاحظہ ہو کہ نبیﷺ کیسے ہر اچھے نام سے ایک اچھا مطلب رہے ہیں۔ اسے ہی فال حسن کہا جاتا ہے۔

عدد کے اعتبار سے کئی مثالیں ذہن میں آ سکتی ہیں:

فرض کیجیے کہ کوئی شخص آپ کے سامنے ’عشرہ (10)‘ کہتا ہے تو آپ کہتے ہیں:

ان شاء اللہ۔ عشرة مبشرة بالجنة ’’وہ 10 صحابی جن کو جنت کی بشارت دی گئی۔‘‘

ایسے ہی اگر آپ 313 عدد بطور عنوان رکھیں گے تو قارئ اور سامع کے ذہن میں فوراً اصحاب بدر کا خیال آئے گا جو کہ ایک نیک فال تصور ہو گا۔ اس لیے ہماری رائے یہی ہے کہ اس عنوان کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کا تعلق تبرک سے نہیں ہے۔ واللہ اعلم

مال مسروق کا حکم

سوال: مال مسروق کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ، رقم بڑی ہے اور اس کا ادا کرنا بھی کافی مشکل ہے، چوری کرنے والے نے مالک کے نام خط لکھ کر اس سے معافی بھی مانگی ہے لیکن مالک نے کوئی جواب نہیں دیا، تو چوری کرنے والے نے دوبارہ خط لکھ کر اس سے بنک کی تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ وہ اپنی مالی حیثیت کی بنا پر تھوڑا تھوڑا کر کے رقم اس کے بنک میں تحویل کرتا رہے۔ یہ شخص شرم کے بارے اس سے ملاقات کرنے کی ہمیت نہیں کر پاتا۔ دوسرے خط کا جواب بھی اس نے نہیں دیا تو اب وہ کیا کر سکتا ہے؟

جواب: چور پورا مال ادا کرنے کا ذمہ دار ہے الا یہ کہ مالک مال اسے معاف کر دے، بہرصورت وہ کچھ بچت کرتا رہے اور مال مسروقہ کے برابر رقم جمع کرنے کی کوشش کرے، ادائیگی کی ایک صورت تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ یہ رقم ایک ملفوف میں رکھ کر اس کے پتے پر خود ڈال آئے یا کسی کے ذریعہ بھجوا دے اور اگر ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہو تو اسے کسی حاجت مند کو دے دے تاکہ اس کی ضرورت پوری ہو سکے اور اللہ سے دعا کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اخروی محاسبہ اور عقوبت سے بچا لیں اور اگر بعد میں کسی بھی وقت وہ شخص اس مال کا مطالبہ کرے تو اسے یہ مال اسے ادا کر دینا چاہیے، اگر اس کے لیے قرض بھی لینا پڑے تو قرض لے کر اس مال کی ادائیگی کرے۔ اسے شکر کرنا چاہیے کہ صاحب مال نے اس کا خط ملنے کے باوجود قانون تک رسائی حاصل نہیں وگرنہ وہ سزا کا مستحق ہوجاتا۔ واللہ اعلم

تبصرہ کریں