سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

آج کی نشست میں یورپین کونسل برائے فتویٰ و ریسرچ کے فتاوی میں سے چند فتاویٰ کا انتخاب کیا گیا ہے جو کونسل کے اجلاس منعقدہ دسمبر 2021ء میں زیربحث آئے۔

قبلہ سے انحراف کا حکم

سوال: ہم طلبہ یونیورسٹی کے ایک کمرہ میں نماز ادا کرتے ہیں اور سہولت کے لیے کمرے کے مطابق رخ سیدھا رکھتے ہیں لیکن قبلے سے تھوڑا سا انحراف ہو جاتا ہے۔ اب تک تو یہی معمول چلا آرہا ہے کہ جس کا فتویٰ ہمارے ایک فاضل دوست جو کہ جامعہ مدنیہ کے فارغ ہیں، نے دیا تھا، لیکن چونکہ اکثر حاضرین کا اطمینان قلبی نہیں ہو پا رہا تھا، اس لیے ایک صاحب نے انٹرنیٹ اور کمپاس کی مدد سے مندرجہ ذیل معلومات جمع کیں:

1۔ کعبہ سے ہمارےشہر کا فاصلہ 4975 کلومیٹر ہے۔

2۔ کعبہ کی سمت سے ہم تقریباً 35 درجے کا انحراف رکھتے ہیں۔

3۔ ہماری اگلی پچھلی نماوں کا کیا حکم ہو گا؟

اور اگر اس جہت میں نماز پڑھنا ناجائز ہے تو کیا ہم اسی مصلیٰ میں علیحدہ جماعت سے نماز پڑھ لیا کریں یا انفرادی ادا کریں اور وہ اس لیے کہ دوسری کوئی جگہ موجود نہیں ہے؟

جواب: یہ بات طے شدہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا نماز کی صحیح ادائیگی کے لیے شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۗ﴾

’’تو پھر آپ اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنے چہروں کو اسی کی طرف پھیر لو۔‘‘ (سورة البقرة: 144)

اس لیے ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو، قبلہ کا رخ ہر ممکن طریقے سے جاننے کی کوشش کرے چاہے وہ علامات یا آلات قبلہ کی مدد سے ہو یا اس علاقے کے ثقہ لوگوں کے بتانے سے حاصل ہو۔

قبلے کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:

«ما بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب قِبْلة»

’’مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔‘‘

امام احمد﷫ کہتے ہیں کہ وونوں جہتوں کے بالکل درمیان کا رخ کریں۔ (المغنیٰ: 1؍457)

یہاں مشرق اور مغرب کا ذکر مدینہ منورہ کے اعتبار سے ہے۔

اہل علم کے ہاں اس بات میں اختلاف رائے ہے کہ آیا کعبہ کی طرف بذات خود رخ کرنا ضروری ہے یا صرف اس کی جہت کی طرف رخ کرنا کافی ہے؟

شافعیہ کے نزدیک پہلی رائے اور جمہور کے نزدیک دوسری رائے راجح ہے۔ جمہور کی رائے اس حالت کے بارے میں ہے کہ جب عین کعبہ کا رخ کرنا مشکل ہو، لیکن جیسی آپ لوگوں کی صورتحال ہے تو اس میں عین کعبہ کی جہت کا معلوم کرنا واجب ہو گا۔

حنبلی امام بہوتی﷫ کہتے ہیں:

’’اس حدیث کے مطابق تھوڑا سا انحراف چاہیے، دائیں طرف ہو یا بائیں طرف تو وہ معاف کیا جائے گا۔ کیونکہ عین کعبہ کا رخ کرنا تو واقعی مشکل ہے۔ اس لیے اس کی جگہ کعبہ کی جہت کو ضرورۃً ملحوظ رکھا جائے گا۔ (شرح منتہیٰ الارادات للبہوتی: 1؍346)

اور اس بات کی تائید عبد اللہ بن عباس کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ جب نبیﷺ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو اس کی ہر جانب دعا کی لیکن نماز ادا نہیں کی اور جب باہر نکل آئے تو کعبہ کے رخ پر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کی اور کہا: یہی قبلہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب عین کعبہ معلوم ہو یا اس کی طرف رخ کرنا بالکل واضح ہو تو پھر نماز پڑھنے والے کو عین کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں، اور اس کے لیے جائز نہیں کہ بغیر ضرورت صرف جہت کا اعتبار کرے اور اسی بات کو بعض محققین جیسے امیر صنعانی﷫ نے لکھا ہے:

’’حدیث ابو ہریرہ ’’بین المشرق والمغرب قبلة‘‘ کا تقاضا ہے کہ اگر عین کعبہ کی طرف رخ کرنا متغدر ہو تو صرف جہت کا اعتبار کر لیا جائے۔ (سبل السلام: 1؍260)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ صرف جہت کی طرف رخ کرنا صرف اسی کے لیے جائز ہے جو کعبہ سے دور ہونے کی بنا پر عین کعبہ کا استقبال نہ کر سکتا ہو، تو جو شخص عصر حاضر میں ماڈرن آلات کی مدد سے عین کعبہ کی جہت کو متعین کر سکتا ہو تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو اس شخص کا ہے جو کعبہ کے سامنے کھڑا ہو اور کعبہ کو دیکھ رہا ہو۔ ایسے شخص کے لیے رُخ کعبہ سے انحراف کرنا جائز نہیں ہے۔

یورپین کونسل سے اسی مضمون کا فتویٰ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ (1: 3)

اور اس بنا پر ہم یہ کہیں گے کہ اگر ماہرین فن کے مطابق کعبہ کی عین جہت کا تعین کیا جا سکتا ہے تو آپ لوگوں کے لیے بھی وہی حکم ہے جو اس شخص کا ہے جو کعبہ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہو، لیکن اگر آپ اجتہاد سے کام لے رہے ہیں تو معمولی اختلاف کا اعتبارنہ ہو گا۔ اس لیے بجائے اختلاف کرنے کے اہل علم کی طرف رجوع کریں۔ جیسے اللہ کا حکم ہے:

﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (سورة النحل: 43)

اور بظاہر علماء کا اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ اگر عین کعبہ کی طرف رخ کرنا ممکن نہیں ہے تو اس خیال سے کہ زیادہ سے زیادہ وہ نمازی صفوں میں سما سکیں تو معمولی اختلاف کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نماز پڑھتے وقت بدن کو تھوڑا سا موڑ لیا جائے تاکہ انسان اختلاف سے بھی بچ جائے اور اس کی نماز بھی صحیح رخ پر ادا ہو جائے۔

اب رہا یہ سوال کہ ہماری پچھلی نمازوں کا کیا ہو گا؟

تو جمہور فقہاء کے نزدیک پچھلی ادا کردہ تمام نمازیں درست شمار ہوں گی اور وہ اس بنیاد پر کہ آپ لوگ عین جہت کعبہ کا اندازہ نہ کر سکے تھے۔

اور آپ نے کسی ایک اجتہاد پر عمل کر لیا تھا۔

علامہ ابن عبد البر﷫ کہتے ہیں: ’’ اور جو شخص اپنے اجتہاد سے تھوڑا سا دائیں یا بائیں رخ پر نماز ادا کر لیتا ہے تو اس کے لیے اسی وقت یا بعد میں نماز لوٹانا واجب نہیں ہے۔‘‘ (الکافی لابن عبد البر: 1؍199)

اور آپ کایہ سوال کہ اگر ہم کعبہ کی عین جہت کو اب اختیار کرنے کی کوشش کریں گے تو جماعت میں فتنہ پیدا ہو گا تو ہم آپ لوگوں کو یہی نصیحت کریں کہ کسی حال میں بھی فتنہ کا دروازہ نہ کھولیں۔ آپ جماعت کے علم میں یہ فتویٰ لے آئیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اسے قبول فرما لیں گے اور اس پر علمدرآمد بھی کر لے گیں۔ عام طور پر جماعت کے ذمہ دار افراد نماز جیسے اسلام کے ایک بڑے رکن کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور خاص طور پر جب کہ یہ مسئلہ نماز کی ایک شرط یا ایک قول کے مطابق نماز کے ایک رکن سے متعلق ہے۔

بہر حال یہ بات تو طے ہے کہ لوگوں کا اجتماع ایسی بات پر ہونا چاہیے جو یقینی طور پر معلوم ہو اور اس میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ اور ایسے امر میں اختلاف ایک شر ہے جو قابل مذمت بھی ہے اور اختلاف کرنے والوں کو اس بات سے کوئی خیر حاصل نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾

’’اور ان لوگوں جیسے مت ہو جاؤ جو جدا جدا ہو گئے اور کھلی کھلی نشانیاں آنے کے بعد بھی اختلاف کرتے رہے۔‘‘ (سورة آل عمران: 105)

اور اگر ذمہ دار افراد پھر بھی مذکورہ انحراف پر اصرار کرتے رہے (اور اللہ ایسا نہ ہونے دے) تو ہم یہی نصیحت کریں گے کہ معاملہ ان پر چھوڑ دیا جائے اور ان کے ساتھ جھگڑا نہ کیا جائے، وہ خود اللہ کے ہاں اس بات کے ذمہ دار ہوں گے، ہم اس بات کو جائز نہیں سمجھتے کہ ایسا کوئی بھی اختلاف کیا جائے جس سے مسلمانوں کے درمیان اور خاص طور پر اللہ کے گھر وں میں فتنہ وفساد پیدا ہو، اور بقول ابن مسعود اختلاف شر ہی شر ہے۔ بہر حال ہم دوبارہ پھر تاکید کیے دیتے ہیں کہ نمازی اس وقت تک برئ الذمہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی نماز یقینی طور پر یا ظن غالب کی بنیاد پر صحیح جہت میں ادا نہیں ہوتی۔ ہم آپ سب لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈریں، جماعت کی صفوں کو برقرار رکھنےکی کوشش کریں، فرقہ بندی اور جھگڑے سے پرہیز کریں، ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل دیں جو قبلہ کے بارے میں تحقیق کے بعد اپنی رائے واضح کر دے جو سب کے لیے لازم ہو اور اللہ آپ کا مددگار ہو۔

ریٹائرمنٹ کے بعد موصول شدہ مال پر زکوٰۃ کا حکم

سوال: ریٹائرمنٹ کے بعد جو رقم کمپنی کی طرف سے یا حکومت کی جانب سے دی جاتی ہے وہ ماہانہ تنخواہ کی مانند دی جاتی ہے، یکمشت نہیں دی جاتی۔ تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی کیسے ہو گی؟ اور یہ بات علم میں ہونی چاہیے کہ یہ مال کئی سالوں سے جمع شدہ تھا۔

جواب:ریٹائر منٹ کے بعد دیا جانے والا مال چاہے یکمشت ہو یا ماہانہ بنیاد پر دیا جائے وہ موجود مال کے ساتھ جمع کر لیا جائے اور پھر سال گزر جانے کے بعد نصاب کو پہنچ گیا تو اس پر زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔اسے مال مستفاد کہا جاتا ہے اور اس کا یہی قاعدہ ہے کہ اسے زکوٰۃ ادا کرنے والے شخص کے موجود مال کے ساتھ جمع کیا جاتا ہے اور جونہی وہ سال پورا ہو جاتا ہے تو وہ اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے۔

آلات تنفس کی خرید کےلیے کیا زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

سوال: کورونا کی وبا پھیلنے کےزمانے میں بعض مسلم ممالک میں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہاں ہسپتالوں میں آلات تنفس (Ventilator) کی کمی واقع ہو گئی ہے، تو یورپ کی کئی اسلامی تنظیموں نے زکاۃ کا مال اکٹھا کر کے یہ آلات خریدے اور پھر انہیں ایسے ہسپتالوں میں مفت تقسیم کیا تو کیا ایسا کرنا درست تھا؟

جواب: بہتر تو یہی تھا کہ یہ آلات عمومی صدقات سے خریدے جاتے کیونکہ ان آلات سے استفادہ کرنے والے امیر اور غریب دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ البتہ اگر ان سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر فقراء ہوں تو زکوٰۃ کے مال سے انہیں خریدا جا سکتا ہے، لیکن اُمراء حضرات سے فیس لی جائے اور فیس سے حاصل شدہ رقم کو مزید آلات کے خریدنے یا فقراء کے مفت استعمال کے لیے مخصوص کیا جائے۔

ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ نکاح کا حکم

سوال: کیا ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ رسم نکاح ادا کی جا سکتی ہے؟

جواب: اسلام میں شادی کرنا نہ صرف ایک طبعی ضرورت کو پورا کرنا ہے بلکہ وہ عبادت بھی ہے کہ جس سے ایک مسلمان اپنے نصف دین کو پورا کرتا ہے جیسا کہ سیدنا انس سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَن رَزَقَهُ اللَّهُ امرَأَةً صَالِحَةً فَقَد أَعَانَهُ عَلَى شَطرِ دِينِهِ، فَليَتَّقِ اللَّهَ فِي الشَّطرِ الثَّانِي»(الطبرانی فی الاوسط: 1؍294؛ مستدرک حاکم: 2؍175)

’’اللہ نے جسے ایک نیک خاتون بخشی تو اسے اپنے نصف ایمان (کو مضبوط کرنے) پر مدد دی تو پھر اسے چاہیے کہ وہ باقی نصف ایمان میں بھی اللہ سے ڈرتا رہے۔‘‘

شادی ہی سے ایک معاشرے کے بنیادیں اٹھائی جاتی ہیں۔ شریعت نے اسی لیے شادی کرنے کے لیے وہ احکامات دیے ہیں کہ اگر ان کی پابندی کی جائے تو نکاح درست قرار دیا جا سکتا ہے، یہاں ان کا بیان کرنا مقصود نہیں ہے، کتب فقہ میں ان کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

کورونا کی وبا پھیلنے کے نتیجے میں حفاظت جان کی خاطر لوگ گھروں میں بند ہو کر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے اور جس کی ہدایت حکومت کی جانب سے دی گئی تھی اور حفاظت نفس شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد شمار ہوتا ہے۔

شریعت میں آسانی رکھی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾

’’اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔‘‘ (سورة البقرة: 185)

اور فرمایا:

﴿يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ﴾

’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر نرمی کرے۔‘‘ (سورة النساء: 28)

اور اللہ تعالیٰ ہم سے مشکلات مٹانا چاہتا ہے۔ فرمایا:

﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾

’’اور اللہ نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تکلیف روا نہیں رکھی۔‘‘ (سورة الحج: 78)

فقہی قواعد میں بھی یہی باتیں کہی گئی ہیں:

’’مشقت آسانی لے آتی ہے۔‘‘

’’شرعاًنقصان کو دور کیا جاتا ہے۔‘‘

’’جب کسی معاملہ میں تنگی ہو جائے تو اس میں فراخی آ جاتی ہے۔‘‘

اور اگر صورتحال یہ ہو کہ نکاح کے لیے زوجین، ولی، گواہوں اور لوگوں کے جمع ہونے میں دقّت ہو، مضرّت کا بھی اندیشہ ہو تو ہم ویڈیو کانفرنس کے ذرریعہ نکاح منعقد کرنے کو جائز سمجھتے ہیں، یہ ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے ہم کلام ہو سکتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔

تو بربنائے ضرورت ایسا کرنا جائز ہے، اس بات کا بھی ہونا ضروری ہے کہ نکاح خواں کو پورا اطمینان ہو کہ نکاح کے تمام ارکان اور شرائط موجود ہیں، ملکی قوانین کی بھی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے۔ یہ افضل ہے کہ دفتری کاغذات پر دستخط کرنے کی خاطر شوہر سے اس مجلس میں جہاں بیوی اور اس کا ولی موجود ہے، اپنا کوئی وکیل متعین کر دے تاکہ وہ اس کی طرف سے دستخط کر سکے۔ واللہ اعلم

مفقود کی زوجہ سے شادی کا حکم

سوال: میرا ایک شامی دوست ہے جس نے سویڈن میں ایک شامی پناہ گزین خاتون سے دسمبر 2015ء میں شادی کر لی تھی۔ اس سے اولاد بھی ہے لیکن اس عورت کا اس سے قبل شام میں نکاح ہو چکا تھا، رخصتی نہیں ہوئی تھی، بلکہ دونوں نے ایک دوسرے کو صرف دو مرتبہ ہی دیکھا تھا۔ جون 2013ء میں شوہر لاپتہ ہو گیا۔ گمان غالب ہے کہ داعش ہی نے اسے اغوا کر کے غائب کر دیا ہے اور آج تک اس کا پتہ نہیں چلا ہے، میرے اس دوست اور اس کی بیوی کا خیال تھا کہ لاپتہ شوہر پر دو سال گزر جانے کے بعد خودبخود نکاح ختم ہو جاتا ہے اور جب ان دونوں نے شام کی عدالتوں میں اس نکاح کو فسخ کرانا چاہا تو موجودہ شامی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ، کیونکہ یہ دونوں افراد حکومت کے نزدیک مطلوب افراد میں سے تھے۔ اب یہ د ونوں سویڈن میں مقیم ہیں، دو بچے بھی ہو چکے ہیں، جہاں یہ رہتے ہیں وہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان یا عرب موجود نہیں ہے۔ اب ان دونوں کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ اپنی زوجیت کو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اپنی شادی کو صحیح قرار دینے کے لیے انہیں کیا کرنا پڑے گا؟ طریق کار اور شرائط کیا ہوں گی؟ کوئی جماعت یا قاضی کن صفات کا حامل ہونا چاہیے کہ وہ اس مسئلہ میں فیصلہ دے سکیں؟ اور کیا اس خاتون کو عدت گذارنا ہو گی اور اس کا شمار کب سے ہو گا؟

جواب: جمہور فقہاء کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان شوہر کے مفقود ہونے کی بنا پر 4 سال سے پہلے تفریق کی اجازت نہیں ہے۔ احناف کی رائے بڑی سخت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت تک تفریق نہیں ہو سکتی، جب تک کہ اس شخص کے ہم عمر ساتھی وفات نہ پائیں۔ مالکیہ کے نزدیک حالت امن اور حالت جنگ میں فرق روا رکھا گیا ہے۔امن کی حالت میں چار سال اور حالت جنگ میں ایک سال کی جدائی کا اعتبار کیا گیا ہے اور وہ اس لیے کہ حالت جنگ میں آدمی کے مرنے کا امکان زیادہ ہے۔ اور تفریق کا اختیار قاضی کے پاس ہے، جب کہ زوجہ اپنا معاملہ اس کے سامنے پیش کرے، قاضی پھر تمام تحقیقات کروائے گا اور پھر شوہر کی موت کا حکم جاری کرے گا (یعنی حقیقی موت کا نہیں بلکہ صرف فیصلے کی حد تک)

اب اس مقدمے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کا عقد زواج باطل ہے کیونکہ خاتون ابھی تک اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ہے، اور کسی بھی دوسرے شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سے شادی کرے، الّا یہ کہ قاضی نے نکاح فسخ کر دیا ہو یا پہلے شوہر نے طلاق دی ہو اور پھر اس عورت نے عدت کے ایام بھی پورے کیے ہوں۔

زوجین کے درمیان یہ دوسرا عقد، عقد شبہ ہے جس کی بنا پر بچے اپنے باپ ہی سے منسوب کیے جائیں گے۔ ان دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیں اور اگر اپنے وطن میں عدالت کی طرف رجوع نہیں کر سکتے تو جہاں رہ رہے ہیں وہاں کی عدالتوں کی طرف رجوع کریں اور ان کے فیصلے کا انتظار کریں اور جب یہاں کی عدالت ان کا نکاح فسخ کر دے تو اس خاتون کو پہلے خاوند کے حق کی بنا پر عدّت پورا کرنی ہو گی جو کہ جمہور کے نزدیک تین حیض کے برابر ہے، اور شافعیہ کے نزدیک اگر اس عورت کو حیض آتا ہے تو اس کی عدت ایک حیض کے آنے تک ہو گی جس سے استبراء حمل مقصود ہو گا یعنی یہ معلوم کرنا کہ اسے حمل تو نہیں ہے۔ جمہور کی رائے اس آیت کے مطابق ہے:

﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ (سورة البقرة: 228)

’’اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک انتظار کریں۔‘‘

(قُرْءٌ (جمع قروء) سے حیض یا طہر دونوں مراد لیے جاسکتے ہیں)

عدت گذر جانے کے بعد وہ سویڈن کے سرکاری رجسٹرار نکاح کے سامنے دوبارہ عقد کروا لیں اور بہتر ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ شرعی طور پر بھی نکاح کر لیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں