سوالات کے جوابات-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

سیروسیاحت کاحکم

سوال: سیاحت کے بارے میں ایک مضمون پڑھا جس میں بتا یا گیا ہے کہ سیاحت حرام ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟

جواب : سیاحت ایک دنیوی کاموں میں سے ایک کام ہے، جس میں أصل اس کا جائز ہونا ہے ،الّا یہ کہ اس کام میں کوئی حرمت یا کراہت کا پہلو ہو۔

اس کے مقابلے میں عبادات میں اصل حرمت ہے یعنی انسان اپنی طرف سے ایک طریقہ عبادت مقرر کرے اور کہے کہ اس میں کیا حرج ہے؟ تو کہا جائے گا کہ نہیں! عبادت وہی جائز ہے جواللہ اور اس کے رسول کی طرف سے متعین کی گئی ہو ۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاحت پر احکام خمسہ (واجب، مستحب، مباح ، مکروه ، حرام) میں سے کون سا حکم لاگو ہوتا ہے ؟

جواب یہ ہے کہ سیاحت کی نوعیت اور اس کے مقصد پر موقوف ہے ۔

1۔ اگر ایک جگہ سے دوسری جگہ انسان اپنے دین کی بنا پر ہجرت کرنے پر مجبور ہوا ہے تو وہ واجب کے درجے میں ہوگی،ایسے ہی اگر جہاد فرض ہوجائے یا دعوت الی اللہ کے لئے نکلا جائے جب کہ کوئی بھی یہ واجب ادا نہ کر رہا ہو تو یہ نکلنا بھی فرض کے درجہ میں ہوگا ۔

2۔ بعض ایسے مقاصد بھی ہیں کہ جن کے لئے نکلنا فرض تو نہیں لیکن مستحب کے درجے میں ہے جیسے رزق کی تلاش میں نکلنا۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

﴿ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ﴾ (سورة الملك: 15)

’’ وہی اللہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم ( چلنے اور مکان بنانے کے قابل ) بنا دیا ہے تو پھر اس کی راہوں اور (گھاٹیوں) میں چلو پھرو اور اللہ کے عطا کردہ رزق میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف کا (بروز قیامت اٹھایا جانا ہے۔ )اسی طرح عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لئے نکلنا ۔سورة الروم ہے:

﴿ أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾

کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (بُرا) ہوا؟

اورایسے ہی طالب علم کے لئے کسی دوسری جگہ جانا جہاں بہتر علم سیکھنے کا موقع ہو سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺکا ارشاد ہے :

منْ سَلَكَ طَريقًا يَبْتَغِي فِيهِ علْمًا سهَّل اللَّه لَه طَريقًا إِلَى الجنةِ (ابن ماجہ)

جو شخص ایک ایسا راستہ اختیار کرتا ہے کہ جس میں اس کا مقصود علم کا حصول ہے تو اللہ جنت کا راستہ اس کے لئے آسان کر دے گا۔‘‘

3۔اگر خاص کسی گناہ کے کام کے لئے جاناہوا جیسے جوا کھیلنے کے لئے یا کسی کا نا حق قتل کرنے کے لئے تو قطعاً حرام ہے۔

5۔ ایسا سفر ہو جس میں زیادہ تر کھیل کود ہو ، نمازیں بھی بر وقت ادا نہ ہوتی ہوں تو وہ اگر حرام کے درجے میں نہ بھی پہنچے، کم ازکم مکروہ ضرور قرار دیا جائے گا۔

5۔ تبدیلی ہوا یا کسی نئے شہر یا ملک میں قدرت الٰہی کی صناعی دیکھنے کی غرض سے جانا ہو تو وہ مباح کے درجے نہیں ہوگا، بشرطیکہ اس سفر میں کسی حرام شئے کا ارتکاب نہ ہو رہا ہو ۔

اگر کسی جگہ پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ہو اور دورانِ سفر وہاں سے گزرنا لازم ہو ، تو پھر اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ان عذاب کے مارے لوگوں پرسے گزرو تو روتے ہوئے گزرو تاکہ تم پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان پر نازل ہو چکا ہے۔‘‘

خود نبی ﷺجب دیار ثمود پر سے گزرے تو سواری کو تیز کر دیا اور اور اپنے سر کو ڈھانپ لیا۔

اب آئیے اس حدیث کی طرف جسے سیدنا ابو امامہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سیرو سیاحت کی اجازت چاہی تو انہوں کہا کہ میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ (میں نکلنا) ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد)

جہاں تک اسناد کا تعلق ہے تو اس کی اسناد میں الولید بن مسلم ہیں، جو مدلس راوی ہیں اور پھر انہوں نے اس روایت کو ’عن‘ کے صیغےسے بیان کیا ہے، یہ وہ سبب ہے کہ جس کی وجہ سے شیخ البانی نے اسے ضعیف حدیث قرار دیا ہے۔

بہر حال یہ حدیث جہاد کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہے جیسے ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ۔

جو شخص ا س حالت میں وفات پا جائے کہ نہ اس نے خود کسی غزوہ میں حصہ لیا اور نہ ہی غزوہ میں جانے کی نیت رکھی تو وہ منافقت کی ایک خصلت پر وفات پائے گا۔ (صحیح مسلم)

اس موضوع پر شیخ ابن باز سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا :

’’سیاحت کا ایک مفہوم و مطلب روزہ رکھنا بھی ہے اور مقصود یہ ہے کہ وہ روزے کی مانند اپنے وقت کی حفاظت کا اہتمام کرے ، یعنی اپنے وقت کا بہترین استعمال کرے جیسے جہاد میں شمولیت یا جو شخص جہاد کیلئے نکل رہا ہے، اسکی ضروریات کو پورا کرے اوراس کی غیر حاضری میں اس کے اہل و عیال کا خیال رکھے ، ضرورت مند تو اس کے کفن ودفن میں شریک ہو۔

پھر شیخ سے خاص طور پر دوسرے ممالک کی سیاحت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

’’اصل چیز یہ ہے کہ اس سیاحت سے مقصود کیا ہے؟

اگر ایک انسان کسی شرعی مصلحت کے تقاضے سے کہیں جاتا ہے، جیسے جہاد کی خاطر یا دعوت وتبلیغ کے لیے یا تعلیم وتعلم کے لیے تو اس میں قطعاً کوئی حرج نہیں ہے مگر اس بات کا خیال رکھے کہ کسی حرام چیز کا ارتکاب نہ ہو۔‘‘

شیخ سے خاص طور پر پوچھا گیا کہ اگر اسلامی آثار دیکھنے کی نیت ہو تو؟

شیخ نے جواب دیا کہ اس بات کا خیال رکھے کہ وہ اپنے دینی تشخص کو ظاہر وباہر رکھے جیسے نماز کی محافظت ۔

اور اگر صرف سیاحت مقصود ہو تو بہتر یہی ہے کہ بلادِ اسلامیہ کا رخ کرے ، جہاں ( حلال و حرام کا مسئلہ در پیش نہ ہوگا) لیکن اگر دوسرے ممالک میں جانا ہو تو جیسے پہلے کہا گیا ، وہ اگر اپنے دین کو ، دینی شعائر کو ظاہر کرنے پر قادر ہو تو پھر جا سکتا ہے۔

میں اتنا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ حدیث “إن سياحة أمتى الجهاد فى سبيل الله “حصر کے صیغہ سے تو نہیں ہے یعنی سیاحت صرف جہاد فی سبیل اللہ کا نام ہےتو مطلب یہ ہوا کہ وہ سیاحت جس کا بہت بڑا ثواب ہے، وہ تو جہاد ہ تو جہاد ہے ، لیکن اس کی دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں کہ جنکا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے ۔

بہر حال شیخ کی بات بڑا وزن رکھتی ہے کہ سیاحت کے لئے جانا ہو تو پھر بلاد اسلامیہ کا رخ کرے کہ یہاں وہ سب کچھ سے جو آپ دیار غرب میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ آپ کو حلال کھانا ہر جگہ میسر ہو گا۔ جگہ جگہ مساجد ملیں گی جہاں آپ نماز ادا کر سکیں گے اور پھر نا جائز اور بے ہودہ باتیں بھی دیکھنے کو نہ ملیں گی اور اب تو بلاد مغرب کے بڑے بڑے شہروں میں بھی یہ سہولیات دستیاب ہیں۔ اس لیے اگر دینی اقدار کی پائیداری کے ساتھ وہاں بھی جانا ہو تو مذکوره پابندیوں کے ساتھ جانے میں کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا۔

کیا عورت امام جماعت کروا سکتی ہے؟

یہ ایک تحریر موصول ہوئی ہے۔ جواب مطلوب ہے۔ پہلے تحریر ملاحظہ فرمائیں ۔

عورتوں کا مل کر نماز تراویح یا کوئی بھی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ عورتوں کی جماعت مطلقاً مکروہ تحریمی ہے خواہ وہ فرض نماز ہویا نماز تراویح ہو یا دیگر نوافل ۔

عن عائشة أن رسول الله ﷺ قال لا خير في جماعة النساء إلا في مسجد أو في جنازة قتيل (مسند احمد : 24376)

’’سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کی جماعت میں کوئی بھلائی نہیں ہے سوائے مسجد میں یا میت کے جنازے کے ۔‘‘

اس حدیث مبارکہ میں آپ نے عورتوں کی جماعت کرانے کو ناپسند فرماتے ہوئے لاخیرفى جماعة النساء فرمایا، یعنی عورتوں کے جماعت کرانے میں بھلائی نہیں، لہٰذا اس حدیث مبارک کی روشنی میں عورتوں کا جماعت کرانا منع ہے چاہیے فرض نماز ہویانفل نماز۔

حدیث مبارکہ کے دوسری حصے میں عورت کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن بعد میں یہ اجازت بھی ختم ہوگئی، سیدہ عائشہ نے خود عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع فرمادیا جیساکہ صحیح بخاری میں ہے :

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ الله ﷺ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسَاجِدَ كَمَا مُنِعَهُ نِسَاء بَنِي إسرائيل

’’نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ روایت ہے فرمایا اگر نبی ﷺ ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرمادیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔ ( صحيح البخارى كتاب الاذان باب خروج النساء الى المساجد جلد 1 صفحہ 120 قدیمی کتب خانہ کراچی )

بہار شریعت میں ہے :

عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں، دن کی نماز ہو یا رات کی جمعہ ہو یا عیدین خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھیاں ۔(بہار شریعت:1؍ 584)

اعلاء السنن میں سیدنا علی سے روایت ہے:

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال لا تؤم المرأة قلت رجاله كلهم ثقات

’’سیدنا علی سے روایت ہے فرمایا عورت امامت نہ کرے ۔‘‘(إعلاء السنن:4؍227، دار الکتب العلمیہ بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

ويكره امامة المرءة للنساء في الصلوت كلها من الفرائض والنوافل

یعنی عورت کا امامت کرانا عورتوں کے لیے فرض ونوافل ہر طرح کی نماز میں مکروہ تحریمی ہے۔

( فتاوی ہندیہ: 1؍58)

فتاوی شامی میں ہے :ويكره تحريما جماعة النساء ولو في التراويح. فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت

عورتوں کی جماعت کرانا مکروہ تحریمی ہے اگرچہ تراویح کی نماز ہو۔( فتاوی شامی: 2؍ 305)

ان احادیث مبارکہ اور کتب فقہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ عورت کا امامت کرانا جائز نہیں ہے بلکہ عورت کا تنہا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایاکہ عورت کی اپنے گھر کے کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہےجیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے :

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْعَبْدِ الله، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: «صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا»

’’سیدنا عبد الله بن مسعود کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔‘‘(سنن ابوداؤد :570 )

والله ورسوله أعلم بالصواب

جواب : اس ساری تحریر میں سیدہ عائشہ کی حدیث کو مدار حکم بنایا گیا ہے۔

یہ حدیث مسند احمد اور طبرانی (الأوسط) میں روایت کی گئی ہے ۔ دونوں کی سند ہیں ایک راوی عبداللہ بن لہیعہ ہیں اور ان پر کلام ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف قرار دی گئی ہے۔

اگر اسے قابل قبول بھی قرار دیا جائے تو اس حدیث میں بھی مانعین کے لئے کوئی حجت نہیں ہے،کیونکہ یہاں صرف عورتوں کی جماعت کے بہتر ہونے (یعنی خیریت) کی نفی کی جارہی ہے۔ الّا یہ کہ وہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں یا نماز جنازہ میں حاضر ہوں ۔

سیدہ عائشہ ‎ کی دوسری روایت جو پیش کی کی گئی ہے اور اسے استدلال کیا گیا ہے کہ یہ مسجد میں جانے کی اجازت بھی منع کر دی گئی تھی، یہ استدلال درست نہیں ہے۔ سيدہ عائشہ کی ایک خواہش کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر نبی ﷺوہ چیزیں دیکھتے جو عورتوں نے اب کر رکھی ہیں تو وہ انہیں مسجد کی حاضری سے بھی منع کر دیتے،جیسے بنواسرا ئیل کی عورتوں کو منع کیا تھا ۔

لیکن کیا آپ منع کیا تھا ؟ جواب اس کا برعکس ہے۔ صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عمر کے بیٹے بلال نے اسی خدشے کی بنا پر جس کا اظہار سیدہ عائشہ نے کیا تھا، اپنی بیوی کو مسجد جانے سے روکا تھا ۔ یہ بات اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچی تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کی بات کارد کرتے ہوئے کہا تھا،

لا تمنعوا أماء الله مساجد الله

’’یہ اللہ کی بندیاں ہیں کہ انہیں اللہ کے گھروں (مساجد) سے نہ روکو ۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اب ہم وہ روایات بیان کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اپنی جماعت کرا سکتی ہیں۔ بلکہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت بھی کر سکتی ہیں۔

1۔ ام ورقہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ ان کی زیارت کے لئے ان کے گھر آجاتے ، اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے ان کے لئے ایک آدمی کو مؤذن مقرر کیا جو ان کے لئے اذان دیا کرتا تھا اور ام ورقہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کریں ۔ (سنن ابوداؤد : 591؛ مستدرک الحاکم: 1؍320؛ بیہقی:3؍130)

2۔ ربطۃ الحنفیہ روایت کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ نے ہماری امامت کی اور فرض نماز پڑھائی ، وہ ہمارے درمیان کھڑی رہیں۔ (دار قطنی :1؍405؛ بیہقی: 3؍131)

3۔ حجیرہ روایت کرتی ہیں کہ ام سلمہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور وہ ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں ۔ (دار قطنی: 1؍405؛ بیہقی: 3؍131)

4۔سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ عورت اگر عورتوں کی نماز کی امامت کرے تو وہ ان کے درمیان کھڑی ہو ۔ ( عبد الرزاق : 3؍140؛ بیہقی: 3؍131)

5۔ سیدنا ابن عمر اپنی ایک جاریہ (لونڈی یا بچی ) کو حکم دیتے کہ وہ رمضان کی راتوں میں ان کے گھر کی خواتین کو نماز پڑھائیں ۔ ( ابن حزم المحلی: 3؍128)

اور یہی مذہب ہے، عطاء، الثوری، اوزاعی ، اسحاق اور ابو ثور کا ۔ شوافع کے نزدیک بھی عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنا مستحب ہے، فرض نہیں ۔ (بحوالہ أسنى المطالب تأليف زكريا الأنصارى)

حنابلہ کے نزدیک عورتوں کا جماعت کیسا تھ نماز پڑھنا مسنون ہے چاہے امام مرد ہو یا عورت۔ ( حوالہ شرح منتہى الارادات تاليف البہوتى )

احناف اور مالکیہ کے نزدیک خواتین کی جماعت مکروہ تحریمی کے درجہ میں آتی ہےکہ جس کی تفصیل مذکورہ تحریر میں آچکی ہے۔

اس تحریر میں سیدنا علی کا بھی ایک قول نقل کیا گیا ہے۔ جسے صاحب اعلاء السنن نے بطور دلیل درج کیا ہے اور پھر کہا ہے کہ اس کی سند کے سارے راوی ثقہ ہیں۔

یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس کی سند میں (مولی بنی ہاشم ، یعنی بنو ہاشم کا آزاد کردہ غلام) ایک مجہول راوی ہے تو اس کے راوی ثقہ کیسے ہوگئے ؟ (ابن ابی شیبہ: 1؍537)

فتاوی ہندیہ (یعنی عالمگیری فتاوی) اور فتاوی شامی (یعنی ابن عابدین کی رد المحتار) کی عبارتیں کوئی حدیث یا آثار صحابہ نہیں ہیں بلکہ مصنف نے خواتین کی جماعت پر جو حکم لگایا ہے، اس کا بیان ہے ۔

البتہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی جو صحیح روایت پیش کی گئی ہے، اُسے عورتوں کی جماعت کا انکار ثابت نہیں ہوتا ۔ صرف گھر میں اور گھر کے بھی اس کے خاص الخاص حجرے میں نماز پڑھنے کی افضلیت ثابت ہوتی ہے۔ اگر دو یا تین عورتیں اس گھر کے خاص الخاص حجرے میں جماعت کرالیں تو کیا یہ فضیلت باقی نہ رہے گی ؟

خلاصہ کلام یہ ہو اگر کو خواتین کی نماز گھر میں افضل ہے لیکن اگر وہ مسجد میں پڑھنا چاہیں تو یہ بالکل جائز ہے ۔ اور اگر وہ مسجد میں نماز پٹرھیں گی تو جماعت کے ساتھ ہی پڑھیں گی کہ جس کا امام ایک مرد ہی ہوتا ہے ۔ البتہ ان کی صف مردوں سے پیچھے اور اگر بچے بھی ہوں تو بچوں سے پیچھے ہوگی تاکہ مرد وزن کے اختلاط کی صورت پیدا نہ ہو۔ اور اسی بات کی ہدایت بھی تو اللہ کے رسول ہی نے دی ہے۔

اور اگر وہ کسی جگہ خود اپنی جماعت کرانا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے لیکن عورتوں میں سے ان کی امام خاتون صف کے درمیان کھڑی ہو گی۔ مردوں کی طرح صف کے آگے نہ ہو گی۔ عورتوں کی جماعت کو مکروہ تحریمی کہنا ایک بڑی جسارت ہے جس کا مذکورہ بالا دلائل کے ہوتے ہوئے کوئی جواز نہیں بنتا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں